... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
آپ دی برتھ آف ٹریجڈی اس لیے نہیں پڑھتے کہ آپ کو تسلی دی جائے بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ آپ کے اندر کوئی
ستون ہل جائے، جیسے تہذیب، اخلاقیات اور فن کی عمارت کے نیچے کی زمین خاموشی سے سرک چکی ہو اور آپ نے
محسوس بھی نہ کیا ہو، نطشے کتاب نہیں لکھتا وہ زلزلہ رکھ دیتا ہے، وہ آغاز ہی فریکچر سے کرتا ہے، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی
وجود ہمیشہ دو قوتوں کے درمیان معلق رہا ہے، اپولونیائی ترتیب اور ڈیونیشیائی سرمستی، صورت اور تحلیل، حد اور بے حد،
اپالو ہمیں وہم دیتا ہے، خوبصورت وہم، سقراطی شفافیت کا وہم، اور ڈیونیسس ان وہموں کو چیر کر ہمیں زندگی کے خام
بہاؤ میں پھینک دیتا ہے جہاں جیسا کہ ہیرقلیطس نے کہا تھا کہ”سب کچھ بہہ رہا ہے، تم ایک ہی دریا میں دو بار قدم نہیں
رکھ سکتے”، نطشے کہتا ہے کہ تہذیبیں اس وقت پیدا نہیں ہوتیں جب ایک قوت دوسری کو شکست دے بلکہ اس لمحے جنم لیتی
ہیں جب دونوں ایک خطرناک توازن میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوں، اسی تناؤ سے یونانی المیہ پیدا ہوا، یہ
تفریح نہیں تھا یہ بقا تھا، یہ انسان کی روح کا حفاظتی والو تھا، المناک کورس درد کی توجیہ نہیں دیتا تھا وہ درد کے اندر سے گاتا
تھا، اور اسی لیے اس میں وہ صداقت تھی جسے بعد میں دوستوفسکی نے اپنے الفاظ میں یوں کہا کہ”درد ہی وہ واحد سبب ہے
جس کے بغیر انسان کو اپنی انسانیت کا احساس نہیں ہوتا”، مگر سقراط کے ساتھ عقل نے تخت پر قبضہ کیا، جبلت کو تخت سے
اتار دیا گیا، وضاحت تجربے کی جگہ لینے لگی، منطق کو نجات دہندہ بنا دیا گیا، اور جیسا کہ پاسکل نے کہا تھا کہ”انسان اپنی
سوچ کی وجہ سے عظیم نہیں بلکہ اپنی کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے”، مگر ہم نے کمزوری کو بیماری سمجھ لیا، ہم نے مان لیا کہ جو
چیز سمجھی جا سکے وہ جائز ہے اور جو نہ سمجھی جا سکے وہ غیر ضروری ہے، یوں دنیا صاف ہو گئی مگر اندر سے کھوکھلی ہو گئی، جدید
انسان اسی کھوکھلے پن کا وارث ہے، ہم دکھ کو پیداواریت، مصروفیت اور جعلی رجائیت سے بے ہوش کرتے ہیں، ہم
مطالبہ کرتے ہیں کہ مصائب کا کوئی مقصد ہو تب ہی ہم اسے قبول کریں، مگر نطشے چیختا ہے کہ جو تہذیب ڈیونیشیائی پہلو
سے انکار کرتی ہے وہ صحت مند نہیں رہتی وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے، وہ افراتفری کے ساتھ رقص کرنا بھول جاتی ہے، وہ
موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی جرات کھو دیتی ہے، اور جیسا کہ کیرکیگارڈ نے کہا تھا کہ”مایوسی موت نہیں
بلکہ موت کی بیماری ہے” ہم زندہ رہتے ہوئے مرنے لگتے ہیں، دی برتھ آف ٹریجڈی یونان کی یاد میں لکھی گئی کوئی
رومانوی کتاب نہیں یہ جدیدیت کے خلاف ایک فردِ جرم ہے، یہ ہم سے پوچھتی ہے کہ کیا ہمارا فن اب بھی خون بہانا جانتا
ہے، کیا ہماری خوشی اتنی گہری ہے کہ مایوسی کو سہہ سکے، کیا ہم نے سکون کے بدلے سچائی بیچ دی ہے اور اسے ترقی کا نام
دے دیا ہے، نطشے نجات نہیں دیتا وہ چیلنج دیتا ہے، وہ کہتا ہے جیسا کہ اس نے خود لکھا کہ”جو مجھے مار نہیں سکتا وہ مجھے مضبوط
بناتا ہے”، وہم کے بغیر جینے کا چیلنج، نفرت کے بغیر سچائی کا سامنا کرنے کا چیلنج، زندگی کو اس لیے ہاں کہنے کا چیلنج کہ وہ
ہماری ہے نہ کہ اس لیے کہ وہ منصفانہ ہے، اس کے نزدیک المیہ شکست نہیں بلکہ اثبات کی بلند ترین صورت ہے، آنکھیں
بند کرنے سے انکار، اور شاید اسی لیے یہ کتاب آج بھی ہمیں بے چین کرتی ہے کیونکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ معنی دکھ سے
بھاگنے میں نہیں بلکہ دکھ کے اندر کھڑے ہو کر گانا سیکھنے میں ملتے ہیں۔ادھر دوسری طرف پاکستان ایک عجیب تہذیبی خلا
میں کھڑا ہے، نہ وہ مکمل طور پر اپولونیائی ترتیب کا حامل ہے اور نہ ہی اس کے پاس ڈیونیشیائی سرمستی کی جرات باقی ہے، وہ
ایک ایسی قوم ہے جو نہ رقص کر سکتی ہے نہ رو سکتی ہے، جو نہ اپنی اذیت کو مانتی ہے نہ اس کے ساتھ جینا جانتی ہے، وہ درد کو یا
تو مقدس قرار دے کر دفنا دیتی ہے یا شرمناک سمجھ کر چھپا دیتی ہے، نطشے اگر آج یہاں آ جائے تو وہ یہی کہے گا کہ یہ ایک
ایسی تہذیب ہے جو اپنے المیے سے بھاگ رہی ہے، جو اپنی افراتفری سے انکار کر رہی ہے، اور جو اس انکار کو ایمان، نظم یا
حب الوطنی کا نام دے رہی ہے، یہاں ریاست اپالو کی طرح ترتیب کا دعویٰ کرتی ہے مگر ڈیونیسس کے بغیر، یہاں
قانون ہے مگر زندگی نہیں، آئین ہے مگر روح نہیں، اخلاقیات ہیں مگر صداقت نہیں، اور جیسا کہ ہنّا آرنٹ نے کہا تھا
کہ”سب سے بڑا شر چیخ کر نہیں آتا، وہ معمول بن کر آتا ہے”، اور یہی معمول یہاں ریاستی ضمیر کو چاٹ رہا ہے۔
ہم نے یہاں درد کو مذہبی استعاروں میں قید کر دیا ہے، اسے ثواب کے سانچوں میں ڈال دیا ہے، اسے سوال بننے
سے پہلے جواب بنا دیا ہے، جبکہ کیرکیگارڈ نے کہا تھا کہ”ایمان سوال سے پیدا ہوتا ہے، اطاعت سے نہیں” مگر ہم نے
سوال کو بغاوت بنا دیا ہے، اور بغاوت کو غداری، اور غداری کو جرم، یوں ہماری روح کو قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے، ہم
نے وہ المیہ مار دیا ہے جس کے بارے میں نطشے کہتا ہے کہ وہ تہذیب کو سچائی کے قابل بناتا ہے، یہاں کوئی کورس باقی
نہیں جو درد کے اندر سے گائے، یہاں صرف نعرے ہیں جو درد پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ہم نے اپالو کو وردی پہنا دی ہے
اور ڈیونیسس کو فحاشی کا نام دے کر نکال دیا ہے، ہم نے ترتیب کو عبادت بنا دیا ہے اور سرمستی کو گناہ، نتیجہ یہ ہے کہ ہماری
خوشی کھوکھلی ہے اور ہماری اداسی خطرناک، اور جیسا کہ دوستوفسکی نے کہا تھا کہ ”وہ قوم جو اپنی اذیت کو نہیں سمجھتی وہ اپنی
اذیت کو دوسروں پر مسلط کرتی ہے”، ہم نے بھی یہی کیا، ہم نے اپنی شکست کو تشدد میں بدلا، اپنی محرومی کو نفرت میں، اور
اپنی خاموشی کو ہجوم میں۔ہم ایک ایسی ریاست بن چکے ہیں جو آئین سے زیادہ خوف پر کھڑی ہے، جو سوال سے زیادہ
لاٹھی پر یقین رکھتی ہے، اور جو دلیل سے زیادہ الزام پر زندہ ہے، یہاں انصاف نہیں تاخیر کی صورت میں نہیں بلکہ انکار کی
صورت میں دفن ہے، یہاں سچائی فائلوں میں نہیں بلکہ قبروں میں ملتی ہے، یہاں گمشدہ افراد صرف جسم نہیں ہوتے وہ
اجتماعی ضمیر کی قبریں ہوتے ہیں، اور جیسا کہ فوکو نے کہا تھا کہ”طاقت سب سے پہلے جسم نہیں روح کو قید کرتی ہے”، ہم
ایک قید خانہ معاشرہ بن چکے ہیں جہاں لوگ زندہ ہیں مگر اپنے وجود سے کٹے ہوئے۔یہی وہ مقام ہے جہاں نطشے کا انتباہ
ہمیں ڈھونڈ لیتا ہے، جو تہذیب ڈیونیشیائی قوت سے انکار کرتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے، وہ سچائی کے ساتھ ناچنے کی ہمت
کھو دیتی ہے، وہ زندگی کو نظم میں تو قید کر لیتی ہے مگر معنی سے خالی کر دیتی ہے، ہم نے سکون کے بدلے سچائی بیچ دی ہے،
ہم نے خاموشی کے بدلے آزادی بیچ دی ہے، اور اسے استحکام کا نام دیا ہے۔اور شاید اسی لیے ہماری خوشی میں ہنسی نہیں،
ہمارے مذہب میں رحم نہیں، ہماری سیاست میں ضمیر نہیں، ہماری تعلیم میں سوال نہیں، ہماری عدالت میں وقت نہیں،
ہماری گلیوں میں امید نہیں، ہم زندہ ہیں مگر جیسا کہ کیرکیگارڈ نے کہا تھا”مایوسی موت نہیں بلکہ زندہ رہنے کی بیماری ہے”،
ہم زندہ رہنے کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔یہ قوم کسی دشمن سے نہیں ٹوٹ رہی، یہ اپنے المیے سے بھاگ کر ٹوٹ رہی
ہے، کیونکہ المیہ شکست نہیں ہوتا، المیہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی اذیت کو دیکھ کر بھی زندگی کو ہاں کہتا ہے، اور جب
کوئی قوم المیے کو مار دیتی ہے تو وہ سچائی کو بھی دفن کر دیتی ہے۔یہ وہ قبریں ہیں جن پر ہماری تہذیب کھڑی ہے۔
٭٭٭