وجود

... loading ...

وجود

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

پیر 13 اپریل 2026 انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

آپ دی برتھ آف ٹریجڈی اس لیے نہیں پڑھتے کہ آپ کو تسلی دی جائے بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ آپ کے اندر کوئی
ستون ہل جائے، جیسے تہذیب، اخلاقیات اور فن کی عمارت کے نیچے کی زمین خاموشی سے سرک چکی ہو اور آپ نے
محسوس بھی نہ کیا ہو، نطشے کتاب نہیں لکھتا وہ زلزلہ رکھ دیتا ہے، وہ آغاز ہی فریکچر سے کرتا ہے، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی
وجود ہمیشہ دو قوتوں کے درمیان معلق رہا ہے، اپولونیائی ترتیب اور ڈیونیشیائی سرمستی، صورت اور تحلیل، حد اور بے حد،
اپالو ہمیں وہم دیتا ہے، خوبصورت وہم، سقراطی شفافیت کا وہم، اور ڈیونیسس ان وہموں کو چیر کر ہمیں زندگی کے خام
بہاؤ میں پھینک دیتا ہے جہاں جیسا کہ ہیرقلیطس نے کہا تھا کہ”سب کچھ بہہ رہا ہے، تم ایک ہی دریا میں دو بار قدم نہیں
رکھ سکتے”، نطشے کہتا ہے کہ تہذیبیں اس وقت پیدا نہیں ہوتیں جب ایک قوت دوسری کو شکست دے بلکہ اس لمحے جنم لیتی
ہیں جب دونوں ایک خطرناک توازن میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوں، اسی تناؤ سے یونانی المیہ پیدا ہوا، یہ
تفریح نہیں تھا یہ بقا تھا، یہ انسان کی روح کا حفاظتی والو تھا، المناک کورس درد کی توجیہ نہیں دیتا تھا وہ درد کے اندر سے گاتا
تھا، اور اسی لیے اس میں وہ صداقت تھی جسے بعد میں دوستوفسکی نے اپنے الفاظ میں یوں کہا کہ”درد ہی وہ واحد سبب ہے
جس کے بغیر انسان کو اپنی انسانیت کا احساس نہیں ہوتا”، مگر سقراط کے ساتھ عقل نے تخت پر قبضہ کیا، جبلت کو تخت سے
اتار دیا گیا، وضاحت تجربے کی جگہ لینے لگی، منطق کو نجات دہندہ بنا دیا گیا، اور جیسا کہ پاسکل نے کہا تھا کہ”انسان اپنی
سوچ کی وجہ سے عظیم نہیں بلکہ اپنی کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے”، مگر ہم نے کمزوری کو بیماری سمجھ لیا، ہم نے مان لیا کہ جو
چیز سمجھی جا سکے وہ جائز ہے اور جو نہ سمجھی جا سکے وہ غیر ضروری ہے، یوں دنیا صاف ہو گئی مگر اندر سے کھوکھلی ہو گئی، جدید
انسان اسی کھوکھلے پن کا وارث ہے، ہم دکھ کو پیداواریت، مصروفیت اور جعلی رجائیت سے بے ہوش کرتے ہیں، ہم
مطالبہ کرتے ہیں کہ مصائب کا کوئی مقصد ہو تب ہی ہم اسے قبول کریں، مگر نطشے چیختا ہے کہ جو تہذیب ڈیونیشیائی پہلو
سے انکار کرتی ہے وہ صحت مند نہیں رہتی وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے، وہ افراتفری کے ساتھ رقص کرنا بھول جاتی ہے، وہ
موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی جرات کھو دیتی ہے، اور جیسا کہ کیرکیگارڈ نے کہا تھا کہ”مایوسی موت نہیں
بلکہ موت کی بیماری ہے” ہم زندہ رہتے ہوئے مرنے لگتے ہیں، دی برتھ آف ٹریجڈی یونان کی یاد میں لکھی گئی کوئی
رومانوی کتاب نہیں یہ جدیدیت کے خلاف ایک فردِ جرم ہے، یہ ہم سے پوچھتی ہے کہ کیا ہمارا فن اب بھی خون بہانا جانتا
ہے، کیا ہماری خوشی اتنی گہری ہے کہ مایوسی کو سہہ سکے، کیا ہم نے سکون کے بدلے سچائی بیچ دی ہے اور اسے ترقی کا نام
دے دیا ہے، نطشے نجات نہیں دیتا وہ چیلنج دیتا ہے، وہ کہتا ہے جیسا کہ اس نے خود لکھا کہ”جو مجھے مار نہیں سکتا وہ مجھے مضبوط
بناتا ہے”، وہم کے بغیر جینے کا چیلنج، نفرت کے بغیر سچائی کا سامنا کرنے کا چیلنج، زندگی کو اس لیے ہاں کہنے کا چیلنج کہ وہ
ہماری ہے نہ کہ اس لیے کہ وہ منصفانہ ہے، اس کے نزدیک المیہ شکست نہیں بلکہ اثبات کی بلند ترین صورت ہے، آنکھیں
بند کرنے سے انکار، اور شاید اسی لیے یہ کتاب آج بھی ہمیں بے چین کرتی ہے کیونکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ معنی دکھ سے
بھاگنے میں نہیں بلکہ دکھ کے اندر کھڑے ہو کر گانا سیکھنے میں ملتے ہیں۔ادھر دوسری طرف پاکستان ایک عجیب تہذیبی خلا
میں کھڑا ہے، نہ وہ مکمل طور پر اپولونیائی ترتیب کا حامل ہے اور نہ ہی اس کے پاس ڈیونیشیائی سرمستی کی جرات باقی ہے، وہ
ایک ایسی قوم ہے جو نہ رقص کر سکتی ہے نہ رو سکتی ہے، جو نہ اپنی اذیت کو مانتی ہے نہ اس کے ساتھ جینا جانتی ہے، وہ درد کو یا
تو مقدس قرار دے کر دفنا دیتی ہے یا شرمناک سمجھ کر چھپا دیتی ہے، نطشے اگر آج یہاں آ جائے تو وہ یہی کہے گا کہ یہ ایک
ایسی تہذیب ہے جو اپنے المیے سے بھاگ رہی ہے، جو اپنی افراتفری سے انکار کر رہی ہے، اور جو اس انکار کو ایمان، نظم یا
حب الوطنی کا نام دے رہی ہے، یہاں ریاست اپالو کی طرح ترتیب کا دعویٰ کرتی ہے مگر ڈیونیسس کے بغیر، یہاں
قانون ہے مگر زندگی نہیں، آئین ہے مگر روح نہیں، اخلاقیات ہیں مگر صداقت نہیں، اور جیسا کہ ہنّا آرنٹ نے کہا تھا
کہ”سب سے بڑا شر چیخ کر نہیں آتا، وہ معمول بن کر آتا ہے”، اور یہی معمول یہاں ریاستی ضمیر کو چاٹ رہا ہے۔
ہم نے یہاں درد کو مذہبی استعاروں میں قید کر دیا ہے، اسے ثواب کے سانچوں میں ڈال دیا ہے، اسے سوال بننے
سے پہلے جواب بنا دیا ہے، جبکہ کیرکیگارڈ نے کہا تھا کہ”ایمان سوال سے پیدا ہوتا ہے، اطاعت سے نہیں” مگر ہم نے
سوال کو بغاوت بنا دیا ہے، اور بغاوت کو غداری، اور غداری کو جرم، یوں ہماری روح کو قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے، ہم
نے وہ المیہ مار دیا ہے جس کے بارے میں نطشے کہتا ہے کہ وہ تہذیب کو سچائی کے قابل بناتا ہے، یہاں کوئی کورس باقی
نہیں جو درد کے اندر سے گائے، یہاں صرف نعرے ہیں جو درد پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ہم نے اپالو کو وردی پہنا دی ہے
اور ڈیونیسس کو فحاشی کا نام دے کر نکال دیا ہے، ہم نے ترتیب کو عبادت بنا دیا ہے اور سرمستی کو گناہ، نتیجہ یہ ہے کہ ہماری
خوشی کھوکھلی ہے اور ہماری اداسی خطرناک، اور جیسا کہ دوستوفسکی نے کہا تھا کہ ”وہ قوم جو اپنی اذیت کو نہیں سمجھتی وہ اپنی
اذیت کو دوسروں پر مسلط کرتی ہے”، ہم نے بھی یہی کیا، ہم نے اپنی شکست کو تشدد میں بدلا، اپنی محرومی کو نفرت میں، اور
اپنی خاموشی کو ہجوم میں۔ہم ایک ایسی ریاست بن چکے ہیں جو آئین سے زیادہ خوف پر کھڑی ہے، جو سوال سے زیادہ
لاٹھی پر یقین رکھتی ہے، اور جو دلیل سے زیادہ الزام پر زندہ ہے، یہاں انصاف نہیں تاخیر کی صورت میں نہیں بلکہ انکار کی
صورت میں دفن ہے، یہاں سچائی فائلوں میں نہیں بلکہ قبروں میں ملتی ہے، یہاں گمشدہ افراد صرف جسم نہیں ہوتے وہ
اجتماعی ضمیر کی قبریں ہوتے ہیں، اور جیسا کہ فوکو نے کہا تھا کہ”طاقت سب سے پہلے جسم نہیں روح کو قید کرتی ہے”، ہم
ایک قید خانہ معاشرہ بن چکے ہیں جہاں لوگ زندہ ہیں مگر اپنے وجود سے کٹے ہوئے۔یہی وہ مقام ہے جہاں نطشے کا انتباہ
ہمیں ڈھونڈ لیتا ہے، جو تہذیب ڈیونیشیائی قوت سے انکار کرتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے، وہ سچائی کے ساتھ ناچنے کی ہمت
کھو دیتی ہے، وہ زندگی کو نظم میں تو قید کر لیتی ہے مگر معنی سے خالی کر دیتی ہے، ہم نے سکون کے بدلے سچائی بیچ دی ہے،
ہم نے خاموشی کے بدلے آزادی بیچ دی ہے، اور اسے استحکام کا نام دیا ہے۔اور شاید اسی لیے ہماری خوشی میں ہنسی نہیں،
ہمارے مذہب میں رحم نہیں، ہماری سیاست میں ضمیر نہیں، ہماری تعلیم میں سوال نہیں، ہماری عدالت میں وقت نہیں،
ہماری گلیوں میں امید نہیں، ہم زندہ ہیں مگر جیسا کہ کیرکیگارڈ نے کہا تھا”مایوسی موت نہیں بلکہ زندہ رہنے کی بیماری ہے”،
ہم زندہ رہنے کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔یہ قوم کسی دشمن سے نہیں ٹوٹ رہی، یہ اپنے المیے سے بھاگ کر ٹوٹ رہی
ہے، کیونکہ المیہ شکست نہیں ہوتا، المیہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی اذیت کو دیکھ کر بھی زندگی کو ہاں کہتا ہے، اور جب
کوئی قوم المیے کو مار دیتی ہے تو وہ سچائی کو بھی دفن کر دیتی ہے۔یہ وہ قبریں ہیں جن پر ہماری تہذیب کھڑی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر