وجود

... loading ...

وجود

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

منگل 07 اپریل 2026 چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

حاصل مطالعہ
عبد الرحیم

امریکہ کے سابق وزیر دفاع چک ہیگل اور سابق ڈائریکٹر سی آئی اے لیون ای پانیٹا کا کہنا ہے کہ امریکہ کو حلیفوں،تجارتی پارٹنرز اور دوستوں کی ضرورت ہے لیکن اب ایک عالمی نظام کو برقرار رکھنے کیلئے جو ہم سب کیلئے حقیقی جیو پولیٹیکل اوراقتصادی فائدہ لایا ہے،ان کے ساتھ اکٹھے کام کرنے کی بجائے ہم اپنے آپ کو تنہا کر رہے ہیں۔ہم پہلے ہی اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔یوکرین میں ہم نے گزشتہ 4 برسوں میںنیٹو کے حلیفوں کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ جنگ عظیم دوم کے بعد سے عالمی امن اور سکیورٹی کو لاحق سب سے سنگین خطرہ کا مقابلہ کر سکیں، لیکن روسی آئل پر پابندیاں اٹھانے کے صدر ٹرمپ کے حالیہ فیصلہ نے روس کے صدر ولاڈی میر پوٹین کی پوزیشن مضبوط کردی ہے جبکہ یوکرین اور ہمارے دوسرے حلیف ان کی سکیورٹی کیلئے ہماری کمٹمنٹ کو مشکوک بناتے ہیں۔ہمارے حلیفوں مثلاً کینیڈا، برطانیہ اور جرمنی میں یہ خیال تقویت پا رہا ہے کہ چین زیادہ اسٹریٹیجک اقتصادی پارٹنرہے اور یہ کہ ان حلیفوں کو ہمارے بجائے چین کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کرنے چاہئیں،خاص طور پر چین جو پہلے ہی ان کا اعلیٰ تجارتی پارٹنر کی حیثیت سے امریکہ کی جگہ لے رہا ہے۔
مزید برآں ہر غیر ضروری حملہ اور اس جنگ کے نتیجہ میں موت سے ہم مشرق وسطیٰ میںاور اس سے آگے لوگوں میں امریکہ کے خلاف جذبات پیدا کررہے ہیں اور ممکنہ طور پر دہشت گردی کی نئی نسل کے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں جو ہمیں اور ہمارے حلیفوں کے ذہنوں میں بار بار لوٹے گا،خطے میںجنگوں کی تعداد بڑھائے گا اور آخر کار ہمارے علاقائی حلیف مثلاً بحرین اور متحدہ عرب امارات اپنی زمینوں سے امریکی فوجی اڈے ہٹا دیں گے تاکہ مستقبل کے حملوں کو روکا جا سکے۔
موجودہ جنگ سے نکلنے کا طریقہ
نیویارک ٹائمزکے کالم نویس تھامس ایل فرائیڈ مین کا کہناہے کہ ٹرمپ اپنا15نکاتی امن پلان ترک کرکے2 نکاتی منصوبے پر آ جائیںجس کے مطابق ایران تقریباً بم درجے کا950 پائونڈ کا انتہائی افزودہ یورینیم ترک کردے اور اس کے بدلے میں امریکہ ایران میں حکومت میں تبدیلی کا ارادہ ترک کردے۔دونوں فریق تمام جنگیں ختم کرنے پر راضی ہونگیں۔امریکہ اوراسرائیل بمباری نہیں کریں گے۔ ایران اور حزب اللہ راکٹ نہیں پھینکیں گے،آبنائے ہرمز بند نہیں ہوگی اور ایران میں فوجی دستے نہیں اتریں گے۔
نیول پوسٹ گریجویٹ اسکول میں دفاعی تجزیہ کے سابق پروفیسر جان ارکوئیلہ کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ ایرانی حکومت سب سے زیادہ یہ چاہتی ہے کہ وہ اقتدار میں رہے اور امریکہ اور اسرائیل سب سے زیادہ یہ چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس بم نہ ہوں۔ دونوں فریق حاصل کر سکتے ہیں جو وہ سب سے زیادہ چاہتے ہیں بشرطیکہ وہ چھوڑنے کیلئے تیار ہوں جو وہ دوسرے درجے پر سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل کیلئے ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم ختم کرنے کے بعد دوسرا انعام حکومت میں تبدیلی ہوگی جو اب ہوتی نظر نہیں آرہی اور ٹرمپ نے یہ مقصد چھوڑنے کیلئے پہلے ہی زمین ہموار کرنا شروع کردی ہے۔
اسرائیلی اور امریکیوں کی جنگی حکمت عملی میں کیا فرق ہے؟
اسرائیلی فوج کئی نسلوں سے جنگی محاذپر عمل پیرا ہے۔اس کے فوجی بعض اوقات انہی اہداف پر حملے کرتے ہیں جو ان کے آبائو اجداد کرتے آئے ہیں،وجہ صاف ظاہر ہے۔ اسرائیل کے سیاسی اور فوجی رہنما ئوں نے عشروں تک ایک ہی قسم کے چیلنجوں پر توجہ مرکوز کی ہے اور اکثر طاقت کو واحد دستیاب آپشن کے طور پر دیکھا ہے۔حل نزدیک نظر نہ آنے پر اسرائیل کے سیاسی اور فوجی رہنمائوں نے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جسے وہ گھاسمشین سے کاٹناکہتے ہیں یعنی وہ دشمنوںپر حملہ کرتے ہیں اور جب دشمن تعمیر نو کرتا ہے تو اسرائیل اس پر دوبارہ حملہ کرتا ہے۔امریکہ کا طریق کار مختلف ہے۔امریکی اپنے آپ کو مسئلہ حل کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں اورہمیشہ کیلئے اپنے ملک کی طاقت کو معاملات کو سلجھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔وہ مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے نہ ختم ہونے والی جنگوں کے دوعشرے سے زیادہ عرصے کے بعدخاص طور پر بیرون ملک جنگ روکنے کیلئے تیار ہیںاور ملک کے اندر مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ تاہم ایران کے معاملے میں صدر ٹرمپ نے اسرائیلی طریق کار کواپنایا ہے۔وہ اس ملک کی طرف واپس آئے ہیں جس کی انہوں نے جون میں حملے میں مدد کی تھی اور تسلیم کیا کہ موجودہ کارروائیوں کے ختم ہونے کے بعد انہیں باربار آنے کی ضرورت پڑے گی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر