... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
یوں لگتا ہے پاکستان ایک ملک نہیں، ایک تجربہ گاہ ہے ، جہاں ہربحران کا تجربہ بچوں کے مستقبل پر کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ تعلیمی اداروں میں
یہ چھٹیاں نہیں، یہ نسلوں کی قبریں کھودی جا رہی ہیں ۔۔۔یہ مجبوری نہیں،نااہلی ہے ۔۔۔ فیصلہ کرنے والوں نے شاید کبھی یہ سوچنے کی زحمت
نہیں کی کہ ہر بند ہونے والا اسکول دراصل ایک بند ہوتا ہوا مستقبل ہے ۔۔۔تاریخ جب فیصلہ سنائے گی، تو وہ موسموں اور بحرانوں کا ذکر نہیں کرے گی، وہ سیدھا یہ لکھے گی۔۔۔۔ ” یہ وہ حکمران تھے جنہوں نے اپنی نااہلی چھپانے کیلئے قوم کے بچوں کو جہالت کے اندھے کنویں میں دھکیل دیا اور پھر اسے پالیسی کا نام دے دیا ” ۔۔۔۔
پاکستان میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے ، سب سے پہلے جس چیز کا گلا گھونٹا جاتا ہے ، وہ ہے تعلیم۔۔۔۔ یہ اب اتفاق نہیں رہا، یہ پالیسی بن چکی ہے ۔۔۔سموگ آئے ،اسکول بند۔۔۔ گرمی بڑھے ، اسکول بند۔۔۔ سردی بڑھے ،اسکول بند۔۔۔ دہشت گردی ہو،اسکول بند ۔۔۔۔ سیاسی کشیدگی ہو،اسکول بند۔۔۔۔ اوراب تو ممکنہ بحران بھی کافی ہے ،اسکول بند۔۔۔یوں لگتا ہے جیسے یہ ملک نہیں، ایک تجربہ گاہ ہے جہاں ہر بحران کا تجربہ بچوں کے مستقبل پر کیا جاتا ہے ۔۔۔ یہ اب پالیسی نہیں رہی،یہ ایک خاموش جرم ہے ۔ریاست جب بار بار تعلیمی ادارے بند کرتی ہے ، تو وہ صرف دروازے نہیں بند کرتی،وہ ذہنوں پر تالے لگا دیتی ہے ۔۔۔اور سب سے خطرناک بات۔۔۔؟یہ سب کچھ اتنی خاموشی سے ہوتا ہے کہ کسی عدالت میں کیس بھی نہیں بنتا،کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی،مگر ہر دن ہزاروں خواب قتل ہو جاتے ہیں۔۔۔آپ اسے چھٹی کہتے ہیں۔۔۔؟یہ چھٹی نہیں، یہ چوری ہے ،مستقبل کی چوری ۔۔۔ہربندا سکول ایک ایسے بچے کو پیچھے دھکیل دیتا ہے جو پہلے ہی کمزور نظام کا قیدی ہے ۔۔۔وہ بچہ جو کتاب سے جڑنے ہی لگا تھا، وہ پھر سے ٹوٹ جاتا ہے ۔کورونا کے ڈیڑھ سال نے جو نقصان کیا، وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔۔۔اور آپ پھر وہی کھیل باربار کھیلا جا رہا ہے ۔۔۔کسی ایوان میں بیٹھ کر کبھی یہ حساب لگایا گیا کہ کتنے بچے ہمیشہ کے لیے تعلیم چھوڑ گئے ۔۔۔؟کتنے چائلڈ لیبر میں چلے گئے ۔۔۔؟کتنی بچیوں کی شادیاں ہوگئیں کیونکہ ”اب تو اسکول بند ہیں”۔۔۔؟یہ چھٹیاں نہیں، یہ نسلوں کی قبریں کھودی جا رہی ہیں۔۔۔ہمارا تو دین ”اقرا” سے شروع ہوتا ہے ، پڑھو۔ مگر یہاں حکم بدل چکا ہے ”بند کرو”۔۔۔۔ یہ صرف تضاد نہیں، یہ ایک اجتماعی منافقت ہے ۔ ہم تقریروں میں تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہیں، اور فیصلوں میں اسے دفن کر دیتے ہیں۔ سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ ،وہ ممالک جنہیں ہم کبھی سنجیدہ نہیں لیتے ، تعلیم میں ہم سے آگے کھڑے ہیں۔۔۔ اور ہم ۔۔۔؟ ہم ابھی تک چھٹیوں کی گنتی کررہے ہیں۔۔۔اب یہ کہنا کہ مجبوری تھی ایک مذاق لگتا ہے ،یہ کہنا کہ صورتحال مشکل تھی ،اب ایک گھسا پٹا بہانہ بن چکا، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران مشکل فیصلے کرنے سے ڈرتے ہیں، اس لیے وہ آسان ترین راستہ چنتے
ہیں ۔۔۔ بچوں کو گھر بٹھا دو۔۔۔ نہ کوئی پلان، نہ کوئی متبادل، نہ کوئی فکر۔ یہ حکمرانی نہیں،یہ سہولت پسندی کی انتہا ہے ۔۔۔ اور اس سہولت کی قیمت قوم کی اگلی نسل ادا کرے گی۔۔۔دنیا جنگوں میں بھی تعلیم جاری رکھتی ہے ،بمباری کے سائے میں کلاسز ہوتی ہیں ،ایران میں جنگ کے باوجود تعلیمی ادارے کھلے ہیں،پورے مشرق وسطیٰ میں بچے سکول جارہے ہیں،یوکرین میں تعلیمی ادارے بند نہیں ہوئے ۔۔۔ اور ہمارے ہاں ”ممکنہ تیل بحران ” نے بچوں کی کتابیں بند کی ہوئی ہیں۔۔۔مزید بیس دن چھٹیاں ہونے کا امکان ہے ، یہ نااہلی نہیں رہی ،یہ ترجیح ہے ۔۔۔ اور ترجیح صاف ہے ،تعلیم اہم نہیں۔۔۔
اب اصل بات سنیں، جو شاید ایک طبقے کو بری لگے ، ایک باشعور، تعلیم یافتہ قوم حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے ۔۔۔ کیونکہ تعلیم سوال پیدا کرتی ہے ۔۔۔ اور سوال اقتدار کے لیے زہر ہوتے ہیں ،ایک پڑھی لکھی قوم کبھی ایک پلیٹ بریانی یا قیمے والے نان پرنہیں بکتی۔۔۔ وہ کارکردگی مانگتی ہے ، وہ حساب مانگتی ہے ، وہ پوچھتی ہے کہ آپ نے کیا کیا ۔۔۔۔؟ اور شاید اسی سوال سے بچنے کیلئے کتابوں کو بند رکھا جاتا ہے ۔ اب سچ یہ ہے کہ فیصلہ ہو چکا ہے ،بس اس کا اعلان باقی ہے ، یہ فیصلہ کہ اس قوم کو کتنا پڑھنا ہے ، کتنا سوچنا ہے ۔۔۔ اور کتنا سمجھنا ہے ، ہر بند سکول اس فیصلے پر مہر ثبت کررہا۔ آپ سڑکیں بنا سکتے ہیں، عمارتیں کھڑی کر سکتے ہیں، مگر ایک جاہل قوم کے ساتھ آپ صرف ہجوم کھڑا کرتے ہیں،قوم نہیں۔۔۔ اور جب ہجوم فیصلے کرتا ہے ، تو تاریخ نہیں بنتی، سانحات بنتے ہیں۔۔۔کسی دن، جب یہ بچے بڑے ہوں گے ۔۔۔ اور ان کے ہاتھ میں ڈگری نہیں، محرومی ہوگی، تو وہ ہم سے سوال کریں گے ۔۔۔ مگر افسوس، تب ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ صرف ایک خاموشی ہوگی، اور اس خاموشی میں ایک جملہ گونجے گا۔۔۔ہم نے اپنے ہی بچوں سے ان کا حق چھین لیا تھا ۔۔۔ اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوا۔۔۔تاریخ جب فیصلہ سنائے گی، تو اس میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ ا سموگ تھی، گرمی تھی، یا کوئی بحران تھا ۔۔۔تاریخ صرف یہ لکھے گی ” یہ وہ حکمران تھے جنہوں نے اپنی نااہلی چھپانے کیلئے قوم کے بچوں کو جہالت کے اندھے کنویں میں دھکیل دیا اور پھر اسے پالیسی کا نام دے دیا ” ۔۔۔ اور یہ سطر کسی ایک حکومت کی نہیں ہوگی،یہ پوری حکمران نسل کے ماتھے پر ایسا داغ ہوگی،جسے کوئی
وقت، کوئی دلیل، کوئی صفائی مٹا نہیں سکے گی،یہ جملہ بے حسی کے خلاف آخری گواہی ہوگا۔۔۔
٭٭٭