... loading ...
ریاض احمدچودھری
مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پرتلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی ہے۔ بھارتی فوج نے سندر بنی اور ضلع کے دیگر علاقوں میں مبینہ طورپر نامعلوم افراد کی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات پرمحاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔بھارتی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیاہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور مسلسل نگرانی کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ نتھوا ٹبہ، سندر بنی میں عسکریت پسندوں کی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی تھی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جموں وکشمیر کانگریس کے ارکان اسمبلی عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے بھارتی ریاستوںمیں معصوم کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ہراسانی اورتشددکے واقعات کے خلاف کشمیر اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔ایم ایل اے عرفان لون اورافتخار احمد نے اسمبلی کے باہر ایک بینر اٹھاکر احتجاج ریکارڈ کرایا۔جبکہ جموں یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے طلبا نے نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے کے حق میں جموں میں ایک زبردت احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طلبا نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے قابض حکام کے خلاف احتجاجی مارچ کیا اور توی پل کو بلاک کر دیا جس سے ٹریفک میں خلل پڑا۔مشتعل طلباء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بی جے پی کی ہندوتواحکومت منظم طریقے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کو وحشیانہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ 5اگست 2019کو دفعہ370 اور35A کی منسوخی کے بعد بی جے پی حکومت نے کشمیری عوام کی سیاسی آواز کو دبانے اور خاموش کرانے کے لیے غیر قانونی اور وحشیانہ اقدامات مزید تیز کر دئے ہیں۔
بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں، بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نے پوری وادی کشمیر میں چھاپے مارنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جبکہ مقامی لوگ مسلسل ہراساں کرنے کی شکایات کررہے ہیں۔ این آئی اے کی ٹیموں نے معاون فوجی دستوں کے ساتھ مل کر سری نگر، کپواڑہ، بارہمولہ اور کولگام اضلاع میں کئی علاقوں کی تلاشی لی۔بھارتی حکام نے طویل کارروائیوں کے دوران دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس طرح کے مسلسل چھاپے ایک معمول بن چکے ہیں جس کے تحت مختلف بہانوں سے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان میں خوف کی فضا پیدا کی جاتی ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے جموں خطے کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بھارتی فوجیوں اور پیرا ملٹری اہلکاروں نے دونوں جڑواں اضلاع کے کئی علاقوں کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر کے تلاشی کے عمل میں تیزی لائی ہے۔ قابض بھارتی فورسز اہلکار گھروں میں داخل ہو کر خواتین، بچوں اور معمر افراد سمیت مکینوں کو سخت ہراساں جبکہ نوجوانوں کو فوجی کیمپوں اور تھانوںمیںپیش ہونے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج نوجوانوں پر اپنے لیے بطور مخبر کام کرنے کیلئے بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔
بھارتی فوج کی شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما نے آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے حال ہی میں پونچھ میں شاہستار اور راجوری سیکٹر میں ہنجنوالی کا دورہ بھی کیا۔ پونچھ اور راجوری میں بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے علاقے کے لوگوں کی مشکلا ت اور خوف ودہشت کے ماحول میں اضافہ کر دیاہے۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے کلگام میں بھارتی فوج کا آپریشن بری طرح ناکام ہوگیا،کولگام آپریشن میں بھارتی افواج کو بری طرح ناکامی کا سامنا، 12 دنوں میں 9 بھارتی فوجی ہلاک، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز ناکارہ، بھوکے پیاسے فوجی مٹی کھانے پر مجبور ہو گئے۔ کولگام میں ہونیوالا یہ آ پریشن بھارتی افواج اورکشمیری مزاحمت کاروں کے درمیان طویل ترین لڑا ئی ثابت ہوئی جس میں 12 دنوں میں 9 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز بھی ناکارہ ثا بت ہوئے، آپریشن میں کرنل سمیت بھارتی فوج کے 14 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔کلگام میں 12 روزہ آپریشن کے بعد بھارتی فوج کو خالی ہاتھ پسپائی اختیار کرنا پڑی،ایک بھارتی فوجی نے اپنے آخری پیغام میں کہا 5 دن سے کھانے پینے کو کچھ نہیں، فوجی مٹی کھا کر زندہ ہیں،، ہلاک فوجی کے رشتہ دار نے انکشاف کیا گولہ باری میں گھری بھارتی فوج مدد سے محر و م، اب بچنے کی امید نہیں،ضروری راشن اور سازوسامان پہنچانے میں ناکامی کا سامنا ہے اور بھارتی فوجی قیادت بے بس ہو گئی، مقتول فوجی کے اہلخانہ کا کہنا ہے حکومت اور فوج صر ف دعوؤں کی حد تک بہادر ہیں۔مزاحمت کار آپریشن کے دوران محاصرہ توڑ کر جنگل کی جانب جانے میں کامیاب ہوگئے۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کا کہنا ہے کلگام آپریشن بھارتی فوج کی سب سے بڑی حالیہ شرمناک ناکامی قراردیتے ہوئے کہا ہے مودی حکومت سیاسی ناکامی چھپانے کیلئے کٹھ پتلی فوجی آپریشن کروا رہی ہے۔
٭٭٭