وجود

... loading ...

وجود

بونوں کا راج

جمعرات 12 فروری 2026 بونوں کا راج

 

بے لگام / ستار چوہدری

پاکستان آئین سے نہیں ، مزاج سے چل رہا۔۔۔ اور مزاج ہمیشہ طاقتور کا ہوتا ہے ۔ہمارے ہاں لوگ عزت نہیں مانگتے ، خوشامد مانگتے ہیں۔ وہ احترام نہیں چاہتے ، جی حضوری چاہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پورا ملک ایک عظیم الشان دربارہو، جہاں ہر شخص نے جیب میں مکھن رکھا ہے اور ہاتھ میں چیری بلاسم، کہ کب، کس کی خوشنودی کا جوتا پالش کرنا پڑ جائے ۔
یہاں اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں نہیں، زبان چاہیے۔ وہ زبان جو ریڑھ کی ہڈی سے الگ ہو، جو ہرطاقتور کے سامنے گول ہو جائے ، جو ہرظالم کے سامنے میٹھی ہو جائے ۔ ہم نے ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جس میں قابل ہونا جرم ہے اورخوددار ہونا خودکشی۔ یہاں جو جتنا جھک سکتا ہے وہ اتنا ہی اوپر جاتا ہے ۔ جو جتنا سیدھا کھڑا رہے وہ اتنا ہی کچلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دفاتر، ہمارا میڈیا، ہمارے ادارے ، ہمارے ایوان بونوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ بونے جن کی قد صلاحیت سے نہیں، خوشامد سے ناپے جاتے ہیں۔ ہمیں بڑے لوگ نہیں ملتے کیونکہ ہم نے بڑے لوگوں کو سزائیں دینا سیکھ لیا ہے ۔۔۔۔ اور چھوٹے لوگوں کو تمغے ۔ یہاں اگر آپ ایماندار ہیں تو آپ ”مسئلہ ” ہیں۔ اگر آپ اصول پرست ہیں تو آپ ” غیر عملی ” ہیں۔ اور اگر آپ خوددار ہیں تو آپ ” فٹ ” نہیں بیٹھتے ۔ فٹ وہی بیٹھتا ہے جو جھوٹ بول سکے ، جو سر ہلا سکے ، جو ہر غلط حکم پر” یس سر” کہہ سکے ۔ تعلیم۔۔۔؟ ہاہ !! یہاں تعلیم اس لیے نہیں کہ سوچ پیدا ہو، بلکہ اس لیے ہے کہ ڈگری کے ساتھ خوشامد زیادہ مؤثرہو جائے ۔ ہم سمجھتے رہے کہ تعلیمی ادارے سوچ پیدا کرتے ہیں،غلطی ہماری تھی۔ یہاں سوچ نہیں، سانچے بنتے ہیں، ایسے سانچے جن میں بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ سوال بدتمیزی ہے ، اختلاف بغاوت ہے ، اور سر جھکانا کامیابی۔ یہاں رٹا سب سے بڑی ذہانت ہے ۔۔۔ اور خاموشی سب سے بڑی قابلیت۔ جو طالبعلم استاد سے سوال کرے وہ ”بدتمیز”،جو لیکچر یاد کر کے اُگل دے وہ ” ذہین ”۔یوں ہم باشعور شہری نہیں، فرماں بردار نوکر تیارکرتے ہیں۔ پھر یہی بچے جب دفتروں میں جاتے ہیں تو انہیں فائل سے زیادہ صاحب عزیزہوتے ہیں۔میرے خیال میں اب ہمارے تعلیمی اداروں کو نئی ڈگریاں متعارف کرانی چاہئیں، بی اے ان مکھن ، ایم اے ان چاپلوسی اور پی ایچ ڈی ان جی حضوری، تاکہ قوم کے نوجوان کم از کم پروفیشنل خوشامدی بن سکیں۔ اور انہیں یہ دکھ نہ رہے کہ وہ بغیر ہنر کے آگے کیسے نکل رہے ہیں۔ کیونکہ اس ملک میں آگے وہی بڑھتا ہے جسے ریڑھ کی ہڈی کے بغیر چلنا آتا ہو۔۔۔ اور پیچھے وہی رہ جاتا ہے جس کے اندر ابھی تک کوئی اصول، کوئی غیرت، کوئی خودداری زندہ ہو۔
یہاں”دربار” کا لکھا ہوا آئین چل رہا، یہاں وفاداری کا مطلب اصول نہیں، شخصیات ہیں۔یہاں لوگ سچ کو نہیں، صاحبِ سچ کو دیکھتے ہیں۔۔۔ اور فوراً اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کہاں سر جھکانا ہے اور کہاں زبان میٹھی کرنی ہے ۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان شہری سے درباری بن جاتا ہے ۔ یوں اداروں میں کام کرنیوالے نہیں،چاپلوس بیٹھ گئے ۔۔۔ اور ملک چلانے والے نہیں، تالیاں بجانے والے ۔یہ ایک عجیب
المیہ ہے کہ اس ملک میں اہم عہدے اہم لوگوں کے پاس نہیں۔ وہ لوگ اوپر بیٹھے ہیں جن کی سب سے بڑی صلاحیت یہ ہے کہ وہ کسی بڑے کے سامنے چھوٹے بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصلے دماغ سے نہیں، انا سے ہوتے ہیں۔”بونا ”ہمیشہ ڈرتا ہے کہ کوئی بڑا آدمی اسے بے نقاب نہ کر دے ، اس لیے وہ ہر بڑے کو کچلتا ہے ۔ یوں ادارے بڑے لوگوں سے خالی اور” چھوٹوں ” سے بھر جاتے ہیں۔اس ملک میں خوددار ہونا ایک جرم ہے ۔ جو آدمی ” ناں” کہنا جانتا ہو وہ ترقی نہیں کرتا، اس کا تبادلہ ہوتا ہے ، وہ نظر انداز ہوتا ہے ، وہ دیوار سے لگا دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ خوددار آدمی آئینہ ہوتا ہے ۔۔۔ اور بونے آئینے سے ڈرتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ کوئی انہیں دکھا دے کہ وہ اصل میں کتنے ”چھوٹے ” ہیں۔یہ نظام کبھی ترقی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ جہاں چاپلوسی ہو وہاں سچ مرجاتا ہے ۔۔۔ اور جہاں سچ مر جائے وہاں قوم مرنے لگتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس وسائل ہیں مگر سمت نہیں، افراد ہیں مگر قیادت نہیں، شور ہے مگر آواز نہیں۔ یہ بونوں کا راج ہے ۔۔۔ اور یہ راج ہم سب کو آہستہ آہستہ بونا بنا رہا ہے ۔ یہ محض رویہ نہیں رہا، یہ ایک باقاعدہ صنعت ہے ۔ یہاں لوگ سی وی میں تجربہ نہیں، تعارف لکھتے ہیں،” فلاں صاحب کے قریبی،صاحب اختیار کے منظور نظر،صاحب کے اعتماد یافتہ ”۔ یہاں سفارش میرٹ سے زیادہ مضبوط دستاویز ہے ۔ اور خوشامد سونے سے زیادہ قیمتی کرنسی۔ ہم سمجھتے ہیں میڈیا سوال کرتا ہے ۔ نہیں۔۔ ہمارا میڈیا تالیاں بجاتا ہے ۔ جو طاقتور بولتا ہے وہی سچ بن جاتا ہے ۔ جو کمزور بولے وہ شور کہلاتا ہے ۔ اینکرز، خبر نہیں بیچتے ، چہرے بیچتے ہیں۔۔۔ اور چہرے وہی چلتے ہیں جو اقتدار کے آئینے میں خوبصورت لگتے ہوں۔
یہ بیماری دفتروں تک محدود نہیں۔ یہ عدالتوں کے دروازوں سے بھی گزرچکی ہے ۔ جہاں دلیل سے زیادہ اثر دیکھا جاتا ہے ، اور انصاف سے زیادہ مقام۔ غریب کا سچ فائل کے نیچے دب جاتا ہے ، طاقتور کی جھوٹی مسکراہٹ فیصلہ بن جاتی ہے ۔یہ صرف حکمرانوں کی کہانی نہیں۔ ہم سب اس جرم میں شامل ہیں۔ ہم بھی طاقتور کے آگے جھکتے ہیں، کمزور پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ہم بھی سچ کی بجائے فائدہ دیکھتے ہیں۔۔۔ اور یہی رویہ بونوں کو تخت دیتا ہے ۔جہاں خوشامد ہو وہاں سچ مر جاتا ہے ۔۔۔۔اور جہاں سچ مر جائے وہاں قوم مرنے لگتی ہے ۔یہی ہے ”بونوں کا راج ”۔۔۔اور یہ راج ہم سب کو آہستہ آہستہ بونا بنا رہا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

بونوں کا راج وجود جمعرات 12 فروری 2026
بونوں کا راج

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق وجود جمعرات 12 فروری 2026
مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر