... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
پاکستان آئین سے نہیں ، مزاج سے چل رہا۔۔۔ اور مزاج ہمیشہ طاقتور کا ہوتا ہے ۔ہمارے ہاں لوگ عزت نہیں مانگتے ، خوشامد مانگتے ہیں۔ وہ احترام نہیں چاہتے ، جی حضوری چاہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پورا ملک ایک عظیم الشان دربارہو، جہاں ہر شخص نے جیب میں مکھن رکھا ہے اور ہاتھ میں چیری بلاسم، کہ کب، کس کی خوشنودی کا جوتا پالش کرنا پڑ جائے ۔
یہاں اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں نہیں، زبان چاہیے۔ وہ زبان جو ریڑھ کی ہڈی سے الگ ہو، جو ہرطاقتور کے سامنے گول ہو جائے ، جو ہرظالم کے سامنے میٹھی ہو جائے ۔ ہم نے ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جس میں قابل ہونا جرم ہے اورخوددار ہونا خودکشی۔ یہاں جو جتنا جھک سکتا ہے وہ اتنا ہی اوپر جاتا ہے ۔ جو جتنا سیدھا کھڑا رہے وہ اتنا ہی کچلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دفاتر، ہمارا میڈیا، ہمارے ادارے ، ہمارے ایوان بونوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ بونے جن کی قد صلاحیت سے نہیں، خوشامد سے ناپے جاتے ہیں۔ ہمیں بڑے لوگ نہیں ملتے کیونکہ ہم نے بڑے لوگوں کو سزائیں دینا سیکھ لیا ہے ۔۔۔۔ اور چھوٹے لوگوں کو تمغے ۔ یہاں اگر آپ ایماندار ہیں تو آپ ”مسئلہ ” ہیں۔ اگر آپ اصول پرست ہیں تو آپ ” غیر عملی ” ہیں۔ اور اگر آپ خوددار ہیں تو آپ ” فٹ ” نہیں بیٹھتے ۔ فٹ وہی بیٹھتا ہے جو جھوٹ بول سکے ، جو سر ہلا سکے ، جو ہر غلط حکم پر” یس سر” کہہ سکے ۔ تعلیم۔۔۔؟ ہاہ !! یہاں تعلیم اس لیے نہیں کہ سوچ پیدا ہو، بلکہ اس لیے ہے کہ ڈگری کے ساتھ خوشامد زیادہ مؤثرہو جائے ۔ ہم سمجھتے رہے کہ تعلیمی ادارے سوچ پیدا کرتے ہیں،غلطی ہماری تھی۔ یہاں سوچ نہیں، سانچے بنتے ہیں، ایسے سانچے جن میں بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ سوال بدتمیزی ہے ، اختلاف بغاوت ہے ، اور سر جھکانا کامیابی۔ یہاں رٹا سب سے بڑی ذہانت ہے ۔۔۔ اور خاموشی سب سے بڑی قابلیت۔ جو طالبعلم استاد سے سوال کرے وہ ”بدتمیز”،جو لیکچر یاد کر کے اُگل دے وہ ” ذہین ”۔یوں ہم باشعور شہری نہیں، فرماں بردار نوکر تیارکرتے ہیں۔ پھر یہی بچے جب دفتروں میں جاتے ہیں تو انہیں فائل سے زیادہ صاحب عزیزہوتے ہیں۔میرے خیال میں اب ہمارے تعلیمی اداروں کو نئی ڈگریاں متعارف کرانی چاہئیں، بی اے ان مکھن ، ایم اے ان چاپلوسی اور پی ایچ ڈی ان جی حضوری، تاکہ قوم کے نوجوان کم از کم پروفیشنل خوشامدی بن سکیں۔ اور انہیں یہ دکھ نہ رہے کہ وہ بغیر ہنر کے آگے کیسے نکل رہے ہیں۔ کیونکہ اس ملک میں آگے وہی بڑھتا ہے جسے ریڑھ کی ہڈی کے بغیر چلنا آتا ہو۔۔۔ اور پیچھے وہی رہ جاتا ہے جس کے اندر ابھی تک کوئی اصول، کوئی غیرت، کوئی خودداری زندہ ہو۔
یہاں”دربار” کا لکھا ہوا آئین چل رہا، یہاں وفاداری کا مطلب اصول نہیں، شخصیات ہیں۔یہاں لوگ سچ کو نہیں، صاحبِ سچ کو دیکھتے ہیں۔۔۔ اور فوراً اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کہاں سر جھکانا ہے اور کہاں زبان میٹھی کرنی ہے ۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان شہری سے درباری بن جاتا ہے ۔ یوں اداروں میں کام کرنیوالے نہیں،چاپلوس بیٹھ گئے ۔۔۔ اور ملک چلانے والے نہیں، تالیاں بجانے والے ۔یہ ایک عجیب
المیہ ہے کہ اس ملک میں اہم عہدے اہم لوگوں کے پاس نہیں۔ وہ لوگ اوپر بیٹھے ہیں جن کی سب سے بڑی صلاحیت یہ ہے کہ وہ کسی بڑے کے سامنے چھوٹے بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصلے دماغ سے نہیں، انا سے ہوتے ہیں۔”بونا ”ہمیشہ ڈرتا ہے کہ کوئی بڑا آدمی اسے بے نقاب نہ کر دے ، اس لیے وہ ہر بڑے کو کچلتا ہے ۔ یوں ادارے بڑے لوگوں سے خالی اور” چھوٹوں ” سے بھر جاتے ہیں۔اس ملک میں خوددار ہونا ایک جرم ہے ۔ جو آدمی ” ناں” کہنا جانتا ہو وہ ترقی نہیں کرتا، اس کا تبادلہ ہوتا ہے ، وہ نظر انداز ہوتا ہے ، وہ دیوار سے لگا دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ خوددار آدمی آئینہ ہوتا ہے ۔۔۔ اور بونے آئینے سے ڈرتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ کوئی انہیں دکھا دے کہ وہ اصل میں کتنے ”چھوٹے ” ہیں۔یہ نظام کبھی ترقی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ جہاں چاپلوسی ہو وہاں سچ مرجاتا ہے ۔۔۔ اور جہاں سچ مر جائے وہاں قوم مرنے لگتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس وسائل ہیں مگر سمت نہیں، افراد ہیں مگر قیادت نہیں، شور ہے مگر آواز نہیں۔ یہ بونوں کا راج ہے ۔۔۔ اور یہ راج ہم سب کو آہستہ آہستہ بونا بنا رہا ہے ۔ یہ محض رویہ نہیں رہا، یہ ایک باقاعدہ صنعت ہے ۔ یہاں لوگ سی وی میں تجربہ نہیں، تعارف لکھتے ہیں،” فلاں صاحب کے قریبی،صاحب اختیار کے منظور نظر،صاحب کے اعتماد یافتہ ”۔ یہاں سفارش میرٹ سے زیادہ مضبوط دستاویز ہے ۔ اور خوشامد سونے سے زیادہ قیمتی کرنسی۔ ہم سمجھتے ہیں میڈیا سوال کرتا ہے ۔ نہیں۔۔ ہمارا میڈیا تالیاں بجاتا ہے ۔ جو طاقتور بولتا ہے وہی سچ بن جاتا ہے ۔ جو کمزور بولے وہ شور کہلاتا ہے ۔ اینکرز، خبر نہیں بیچتے ، چہرے بیچتے ہیں۔۔۔ اور چہرے وہی چلتے ہیں جو اقتدار کے آئینے میں خوبصورت لگتے ہوں۔
یہ بیماری دفتروں تک محدود نہیں۔ یہ عدالتوں کے دروازوں سے بھی گزرچکی ہے ۔ جہاں دلیل سے زیادہ اثر دیکھا جاتا ہے ، اور انصاف سے زیادہ مقام۔ غریب کا سچ فائل کے نیچے دب جاتا ہے ، طاقتور کی جھوٹی مسکراہٹ فیصلہ بن جاتی ہے ۔یہ صرف حکمرانوں کی کہانی نہیں۔ ہم سب اس جرم میں شامل ہیں۔ ہم بھی طاقتور کے آگے جھکتے ہیں، کمزور پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ہم بھی سچ کی بجائے فائدہ دیکھتے ہیں۔۔۔ اور یہی رویہ بونوں کو تخت دیتا ہے ۔جہاں خوشامد ہو وہاں سچ مر جاتا ہے ۔۔۔۔اور جہاں سچ مر جائے وہاں قوم مرنے لگتی ہے ۔یہی ہے ”بونوں کا راج ”۔۔۔اور یہ راج ہم سب کو آہستہ آہستہ بونا بنا رہا ہے ۔
٭٭٭