... loading ...
ریاض احمدچودھری
اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد پر اکسانے، معاشی بائیکاٹ اور منظم ہراسانی کے واقعات پر مبنی ایک چشم کشا اور تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بدھ کے روز دہلی میں ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے جاری کی گئی۔
واشنگٹن ڈی سی کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کے تحقیقی منصوبے انڈیا ہیٹ لیب (IHL) نے 13 جنوری 2026 کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی جس کا عنوان تھا: ”ہندوستان میں نفرت انگیز تقاریر: رپورٹ 2025”۔یہ 100 صفحات پر مشتمل دستاویز ملک بھر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والی مصدقہ نفرت انگیز تقاریر کا سخت سائنسی و عدالتی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 بھارت میں ایسی 1,318 وارداتیں ریکارڈ ہوئیںجو 2024 کے مقابلے میں 13% اور 2023 کے مقابلے میں حیران کن 97% اضافہ ہے۔ یہ واقعات 21 ریاستوں،مقبوضہ جموں و کشمیر، اور دہلی میں پائے گئے، یعنی روزانہ اوسطاً چار نفرت انگیز تقریریں۔ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے ذریعے جاری ریلیز کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری کے لئے اے پی سی آر کی ٹیم نے ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا ، متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر شواہد جمع کیے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں خوف، عدم تحفظ اور عدم رواداری کی فضا مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دینے، روزگار اور تجارت کے بائیکاٹ اور نفرت پر مبنی مہم کے واقعات ایک تشویشناک معمول بنتے جا رہے ہیں۔
دسمبر 2021 میں ہری دوار میں منعقد ہونے والی نام نہاد ”دھرم سنسد” اس انتہا پسندانہ رجحان کی ایک واضح مثال ہے، جہاں متعدد مقررین نے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، تشدد پر اکسانے والے بیانات دیے اور آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی کی۔ ان تقاریر میں مسلمانوں کے قتل کی ترغیب، ہندو راشٹر کے قیام کے مطالبات اور اسلام و عیسائیت کے خلاف شدید نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی، جس کی ملک بھر میں سیول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور جمہوری حلقوں نے سخت مذمت کی۔اے پی سی آر نے رپورٹ میں اس امر پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے اجتماعات میں شریک بعض مذہبی و سیاسی شخصیات نے قانون کی عملداری کو کھلے عام چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں سماج میں نفرت کے بیج بوئے گئے اور مسلمانوں کے خلاف ہراسانی، تشدد اور معاشی دباؤ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف آئینِ ہند کی روح اور اس کے سیکولر کردار کے منافی ہے بلکہ ریاست کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داریوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر اور سینئر سابق آئی۔ اے۔ ایس افسر نجیب جنگ نے کہا کہ ”یہ رپورٹ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک سنگین وارننگ ہے۔ اگر نفرت اور تشدد کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو اس کے نتائج جمہوریت، آئین اور سماجی یکجہتی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوں گے۔ ریاستی اداروں کو فوری طور پر غیر جانبدارانہ کارروائی کرنی ہوگی۔” سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ”رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق آئینِ ہند کی کھلی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والے عناصر کے خلاف کارروائی نہ ہونا قانون کی بالادستی کو کمزور کرتا ہے۔ انصاف اور برابری کے اصولوں کا نفاذ ہی اس بحران کا واحد حل ہے۔”
بھارت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منافرت کی مہم چلانے والے ملک، سماج اور آئین کے دشمن ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف 1,300 سے زائد نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔رپورٹ میں 21 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 1,318 براہ راست نفرت انگیز تقاریر کے واقعات درج کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جب 668 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ محققین کے مطابق یہ اعداد و شمار وقتی یا الگ تھلگ واقعات کے بجائے نفرت کے ایک مسلسل اور پھیلتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 98 فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے 1,156 تقاریر براہِ راست مسلمانوں کے خلاف تھیں، جبکہ 133 میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر 162 واقعات میں سامنے آئیں، جو مجموعی واقعات کا 12 فیصد ہیں اور 2024 کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکن اور سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن بھی ہرش مندر کے خیال سے متفق نظر آتے ہیں۔ بی جے پی کا کام ہی سماج میں ہندو مسلم صف بندی کرنا ہے، تاکہ فساد ہو اور ہندو متحد ہوں، چونکہ ہندو اکثریت میں ہیں اس لیے ہندو ووٹ کی بنیاد پر وہ اقتدار میں ا?جائے اور اقتدار پر برقرار رہے۔حکومت تاہم اس طرح کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سماج میں منافرت پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔
٭٭٭