وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

اتوار 25 جنوری 2026 بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ریاض احمدچودھری

بھارت میں ہر برس 26 جنوری کو یوم ِ جمہوریہ منا یا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ بھارتی جمہوری نظام میں مختلف مذاہب، نسل اور مختلف زبانیں بولنے والے کو کس قدر آزادی حاصل ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس روز اس بارے میں جھوٹا پروپیگنڈہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچ کا گمان ہونے لگے۔
ہندو قوم کی اکثریت کے اِس دیش میں ہندوؤں میں دوتہائی سے زیادہ تعداد دلتوں کی ہے جنہیں بھارت بھر میں اچھوت کہا جاتا ہے۔ ہندوبراہمنوں نے گزشتہ 67 برسوں سے سیکولرازم کی آڑمیں جمہوری چالبازیوں کا ڈرامہ رچا نے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ مودی سرکار کے آنے کے بعد سیکولر ازم کا نقاب بھی اتر گیا اور اب بھارت کا اصل بھیانک روپ سامنے آگیا ہے۔ طاقت و قوت کے زور پر بھارتی عیسائیوں ‘ بھارتی مسلمانوں ‘ بھارتی سکھوں اور بدھسٹ اقلیتوں کو ہندو بنایا جارہا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کو بزور ِ قوت نئی دہلی کے زیر تسلط رکھنے کا منصوبہ کیا جمہوریت ہے۔ کشمیری عوام آج بھی69 برسوں کی طرح بھارت کے یوم ِ جمہوریہ کو ‘یوم سیاہ ‘ کے طور پر منا کر اَمن پسند دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہیں۔ بھارت فوجی برتری کے زعم میں لاکھوں کی تعداد اپنی فوجی دستے کشمیر میں داخل کر کے نہ و ہ کشمیریوں کے دِل ودماغ پر قابض ہوسکا وہ نہ سرزمین ِ کشمیر پر اپنا ا خلاقی جواز دنیا کے سامنے پیش کرپا یا۔
بھارت نے مذاکرات اور امن کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر روز نہتے کشمیریوں کو فوجی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو ابھی تک ختم نہیں کیا اور بھارت نے دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کیلئے نئے ڈرامے شروع کر دیئے ہیں۔ بھارت کا گھناؤنا کردارکھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے۔ کشمیری عوام نے بھارت کے ظلم کے خلاف آزادی کی جدوجہد شروع کی ہے۔ بھارت کا یوم جمہوریہ، یوم سیاہ کے طور پر منانا بھارت کا اصل روپ اور کردار دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے کسی وعدے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے وقت حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہمیشہ پیش رفت ہوئی ہے مگر بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے طرز عمل کو کمزوری سمجھ کر نئی شرائط سامنے رکھ دیتاہے کیونکہ بھارتی حکومت مسائل کو پر امن طور پر حل کرنے میں بھی مخلص نہیں۔ 15 اگست 1947ء کو بھارت برطانوی اقتدار سے آزاد ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ چونکہ ہندوستان صدیوں تک خود غلام رہا ہے لہذا اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ محکوم قوموں کی نفسیات کیا ہوتی ہے اور وہ کس قدر احساس محرومی کا شکار ہوتی ہیں۔ ایسے میں شائد بھارت دنیا بھر میں امن و آتشی کے فروغ کیلئے کام کر سکے۔ مگر آزادا ہوتے ہی بھارتی حکمرانوں نے انسانیت دوست حلقوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور جوناگڑھ، منادو اور حیدرآباد دکن پر اپنے غیر قانونی تسلط کے فوراً بعد مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کر کے اپنی نام نہاد جمہوریت اور امن پسندی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ دوسری طرف بھارت کی آئین ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1949ء کو آئین کی منظور دی جس کے تحت 1952ء میں پہلی بھارتی لوک سبھا کا چناؤ ہوا۔ اس کے بعد سے لیکراب تک لوک سبھا کے چناؤ مخصوص وقفوں سے ہوتے رہے اور بھارت یہ دعویٰ کرتا رہا کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ مگر اس نام نہاد جموری ملک نے کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد عوام کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ایسا مکروہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی بھینٹ اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری چڑھ چکے ہیں۔ تمام انصاف پسند کشمیری اور عالمی برادری ان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ اس موقع پر بھارت کو مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کے ساتھ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے اپنے کئے وعدے یاد دلائے اور اسے کشمیر میں برسوں سے جاری فوجی ایکشن بند کرنے اور وہاں کے عوام کو حق خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔یہ مسئلہ اس وقت دنیا کے چند بڑے بڑے سلگتے مسائل میں سے ایک ہے جسکی وجہ سے دو بڑی اہم اور متحارب ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
امریکہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر محاذ گرم ہے۔ یہ ایک لحاظ سے میدان جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جہاں آئے روز گولہ باری اور ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اب صدر ٹرمپ کے دور میں بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ سرحدوں پر ایسی صورتحال پیدا کرے جو خطرناک حالت جنگ کے قریب لے جائے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی اور عالمی برادری کی تشویش کو پس پشت ڈال کر وہاں اپنی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالے رکھے۔بھارت اگر جمہوری ملک ہونے کا دعویدارہے تو پھر کشمیریوں کے جمہوری حقوق کا بھی احترام کرے۔ ان کی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کرے بلکہ کشمیریوں کی امنگوں کو سمجھے اور ان کی تکمیل کیلئے جمہوری رویہ اختیار کرے۔ بھارت جمہوریت کا دعویدار ہے تو پھر کشمیریوں کے جمہوری حقوق کیوں سلب کیے بیٹھا ہے؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر