... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارت میں ہر برس 26 جنوری کو یوم ِ جمہوریہ منا یا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ بھارتی جمہوری نظام میں مختلف مذاہب، نسل اور مختلف زبانیں بولنے والے کو کس قدر آزادی حاصل ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس روز اس بارے میں جھوٹا پروپیگنڈہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچ کا گمان ہونے لگے۔
ہندو قوم کی اکثریت کے اِس دیش میں ہندوؤں میں دوتہائی سے زیادہ تعداد دلتوں کی ہے جنہیں بھارت بھر میں اچھوت کہا جاتا ہے۔ ہندوبراہمنوں نے گزشتہ 67 برسوں سے سیکولرازم کی آڑمیں جمہوری چالبازیوں کا ڈرامہ رچا نے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ مودی سرکار کے آنے کے بعد سیکولر ازم کا نقاب بھی اتر گیا اور اب بھارت کا اصل بھیانک روپ سامنے آگیا ہے۔ طاقت و قوت کے زور پر بھارتی عیسائیوں ‘ بھارتی مسلمانوں ‘ بھارتی سکھوں اور بدھسٹ اقلیتوں کو ہندو بنایا جارہا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کو بزور ِ قوت نئی دہلی کے زیر تسلط رکھنے کا منصوبہ کیا جمہوریت ہے۔ کشمیری عوام آج بھی69 برسوں کی طرح بھارت کے یوم ِ جمہوریہ کو ‘یوم سیاہ ‘ کے طور پر منا کر اَمن پسند دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہیں۔ بھارت فوجی برتری کے زعم میں لاکھوں کی تعداد اپنی فوجی دستے کشمیر میں داخل کر کے نہ و ہ کشمیریوں کے دِل ودماغ پر قابض ہوسکا وہ نہ سرزمین ِ کشمیر پر اپنا ا خلاقی جواز دنیا کے سامنے پیش کرپا یا۔
بھارت نے مذاکرات اور امن کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر روز نہتے کشمیریوں کو فوجی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو ابھی تک ختم نہیں کیا اور بھارت نے دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کیلئے نئے ڈرامے شروع کر دیئے ہیں۔ بھارت کا گھناؤنا کردارکھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے۔ کشمیری عوام نے بھارت کے ظلم کے خلاف آزادی کی جدوجہد شروع کی ہے۔ بھارت کا یوم جمہوریہ، یوم سیاہ کے طور پر منانا بھارت کا اصل روپ اور کردار دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے کسی وعدے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے وقت حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہمیشہ پیش رفت ہوئی ہے مگر بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے طرز عمل کو کمزوری سمجھ کر نئی شرائط سامنے رکھ دیتاہے کیونکہ بھارتی حکومت مسائل کو پر امن طور پر حل کرنے میں بھی مخلص نہیں۔ 15 اگست 1947ء کو بھارت برطانوی اقتدار سے آزاد ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ چونکہ ہندوستان صدیوں تک خود غلام رہا ہے لہذا اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ محکوم قوموں کی نفسیات کیا ہوتی ہے اور وہ کس قدر احساس محرومی کا شکار ہوتی ہیں۔ ایسے میں شائد بھارت دنیا بھر میں امن و آتشی کے فروغ کیلئے کام کر سکے۔ مگر آزادا ہوتے ہی بھارتی حکمرانوں نے انسانیت دوست حلقوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور جوناگڑھ، منادو اور حیدرآباد دکن پر اپنے غیر قانونی تسلط کے فوراً بعد مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کر کے اپنی نام نہاد جمہوریت اور امن پسندی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ دوسری طرف بھارت کی آئین ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1949ء کو آئین کی منظور دی جس کے تحت 1952ء میں پہلی بھارتی لوک سبھا کا چناؤ ہوا۔ اس کے بعد سے لیکراب تک لوک سبھا کے چناؤ مخصوص وقفوں سے ہوتے رہے اور بھارت یہ دعویٰ کرتا رہا کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ مگر اس نام نہاد جموری ملک نے کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد عوام کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ایسا مکروہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی بھینٹ اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری چڑھ چکے ہیں۔ تمام انصاف پسند کشمیری اور عالمی برادری ان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ اس موقع پر بھارت کو مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کے ساتھ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے اپنے کئے وعدے یاد دلائے اور اسے کشمیر میں برسوں سے جاری فوجی ایکشن بند کرنے اور وہاں کے عوام کو حق خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔یہ مسئلہ اس وقت دنیا کے چند بڑے بڑے سلگتے مسائل میں سے ایک ہے جسکی وجہ سے دو بڑی اہم اور متحارب ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
امریکہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر محاذ گرم ہے۔ یہ ایک لحاظ سے میدان جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جہاں آئے روز گولہ باری اور ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اب صدر ٹرمپ کے دور میں بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ سرحدوں پر ایسی صورتحال پیدا کرے جو خطرناک حالت جنگ کے قریب لے جائے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی اور عالمی برادری کی تشویش کو پس پشت ڈال کر وہاں اپنی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالے رکھے۔بھارت اگر جمہوری ملک ہونے کا دعویدارہے تو پھر کشمیریوں کے جمہوری حقوق کا بھی احترام کرے۔ ان کی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کرے بلکہ کشمیریوں کی امنگوں کو سمجھے اور ان کی تکمیل کیلئے جمہوری رویہ اختیار کرے۔ بھارت جمہوریت کا دعویدار ہے تو پھر کشمیریوں کے جمہوری حقوق کیوں سلب کیے بیٹھا ہے؟
٭٭٭