... loading ...
چوپال/عظمیٰ نقوی
لواحقین کیلئے دم توڑتی امیدیں ہیں اور معجزات کا انتظار !
گل پلازہ کے ملبے تلے صرف لاشیں نہیں دبی ہوئیں ، مجھے تو لگتا ہے نظام بھی دفن ہو چکا ہے۔ آخر یہ سب ہوا کیسے؟یہی سوال ہے ناں جو ہر ذہن میں طوفان بن کر اُٹھ رہا ہے ۔
یہ ایک دن کی کہانی نہیں، یہ برسوں کی غفلت، فائلوں میں دبے نوٹس، اور رشوت زدہ اجازت ناموں کا انجام !یہ گل پلازہ میں آگ نہیں لگی، ریاستی بے حسی نے شعلے بھڑکائے۔لیکن حکومت کہہ رہی ہے یہ ایک حادثہ تھا؟وہ جو برسوں سے سندھ پر حکمران ہیں ،یہ ان کا مطمع نظر ہے حادثہ؟
یہ 61لاشوں کی راکھ نہیں ۔
جب سینکڑوں انسان جل کر مر جائیں، ایک بڑی تعداد لاپتہ ہو، ایک ہزار سے زائد دکانیں راکھ ہو جائیں اور عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہو جائے تو اسے حادثہ نہیں کہتے، اسے مجرمانہ غفلت کہتے ہیں۔ذمہ دار کون ہے؟ فائر بریگیڈ؟ بلڈنگ کنٹرول؟ یا حکومتِ سندھ؟ذمہ دار ایک نہیں، پوری زنجیر ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جس نے بغیر منظور شدہ نقشے کے عمارت چلنے دی،فائر ڈیپارٹمنٹ جس کے پاس نہ مناسب گاڑیاں تھیں نہ آلات،یہاں بھی اڈیالہ جیل کا قیدی جیت گیا جس نے فائر بریگیڈ کا بڑا یونٹ اپنے دور میں فراہم کیااور حکومتِ سندھ جو ہر سانحے کے بعد صرف کمیٹیاں بناتی ہے۔سنا ہے عمارت میں فائر سیفٹی کا کوئی نظام ہی نہیں تھا؟بالکل نہیں۔
نہ فائر الارم،
نہ ایمرجنسی ایگزٹ،
نہ فائر فائٹنگ سسٹم۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ غیر قانونی تھا تو یہ پلازہ برسوں سے کیسے چلتا رہا؟یعنی سب جانتے تھے، مگر سب خاموش تھے؟خاموش نہیں ، سب شریکِ جرم تھے۔آگ لگی اور بلدیہ فیکٹری سانحے کی طرح پلازے کے سارے گیٹ بند تھے ۔یہاں ضابطے صرف غریب کے لیے ہوتے ہیں، پلازوں اور مافیا کے لیے نہیں۔ریسکیو آپریشن پر بھی شدید سوالات اٹھے ؟اور اُٹھنے چاہئیں ۔جی ہاں۔
آگ لگنے کے بعد گھنٹوں تک مناسب ریسپانس نہیں ملا،سیڑھیاں کم پڑ گئیں،پانی کا دباؤ نہ تھا،اور اندر پھنسے لوگ چیختے رہے… باہر ہم صرف تماشائی بنے رہے۔وزیراعلیٰ نے تو جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے؟کیا ایک کروڑ روپے کسی ماں کا بیٹا واپس لا سکتے ہیں؟اور وہ ڈاکٹر جس کے سامنے اس کا معصوم بیٹا جلتے ہوئے ماں سے کہہ رہا ہوگا مجھے بچائو ،باپ بھی کتنا بے بس ہوگا بیٹے سمیت دونوں میاں بیوی جل گئے ،بیوی جس کے پیٹ میں ایک جان !کیا یہ رقم ان ہزار خاندانوں کا روزگار لوٹا سکتی ہے؟
یہ امداد نہیں، یہ ضمیر کی قیمت لگانے کی کوشش ہے۔
سوال اٹھتا ہے
کیا واقعی کسی کو سزا ملے گی؟
تاریخ گواہ ہے…
سانحہ بلدیہ،
فیکٹری آگ،
عمارتیں گرنے کے واقعات…
سب میں رپورٹس آئیں، فائلیں بند ہوئیں، اور مجرم بچ نکلے۔مجھے ڈر ہے گل پلازہ بھی اسی فہرست میں شامل ہو جائیگا ۔تو پھر امید کہاں ہے؟امید تب ہو گی جب غیر قانونی عمارتیں سیل ہوں، افسران کو جیل بھیجا جائے، فائر سیفٹی آڈٹ ہوگا ،اور کراچی کو لاوارث نہ سمجھا جائیگا ۔ ایک ڈکٹیٹر نے اس شہر سے دارلخلافہ کی چادر چھین لی ،خاموشی پر طرف خاموشی ،احتجاج سے عاری ہجوم ۔۔یعنی فی الحال لوگ معجزات کے منتظر ہیں؟…
اور مسئلہ یہ ہے کہ جب عوام معجزات کے انتظار میں بیٹھ جائیں،تو پھر گل پلازہ جیسے قبرستان بنتے ہیں۔
اختتامیہ
گل پلازہ ایک عمارت نہیں تھی،
یہ اس نظام کا آئینہ تھا!
جس میں انسانی جان سب سے سستی
اور غفلت سب سے مضبوط ہے۔
اگر اب بھی سوال نہ اٹھے،
تو اگلا مکالمہ کسی اور ملبے پر ہو گا،سوال اُٹھنے چاہئیں !
٭٭٭