وجود

... loading ...

وجود

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

اتوار 25 جنوری 2026 ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

چوپال/عظمیٰ نقوی

لواحقین کیلئے دم توڑتی امیدیں ہیں اور معجزات کا انتظار !
گل پلازہ کے ملبے تلے صرف لاشیں نہیں دبی ہوئیں ، مجھے تو لگتا ہے نظام بھی دفن ہو چکا ہے۔ آخر یہ سب ہوا کیسے؟یہی سوال ہے ناں جو ہر ذہن میں طوفان بن کر اُٹھ رہا ہے ۔
یہ ایک دن کی کہانی نہیں، یہ برسوں کی غفلت، فائلوں میں دبے نوٹس، اور رشوت زدہ اجازت ناموں کا انجام !یہ گل پلازہ میں آگ نہیں لگی، ریاستی بے حسی نے شعلے بھڑکائے۔لیکن حکومت کہہ رہی ہے یہ ایک حادثہ تھا؟وہ جو برسوں سے سندھ پر حکمران ہیں ،یہ ان کا مطمع نظر ہے حادثہ؟
یہ 61لاشوں کی راکھ نہیں ۔
جب سینکڑوں انسان جل کر مر جائیں، ایک بڑی تعداد لاپتہ ہو، ایک ہزار سے زائد دکانیں راکھ ہو جائیں اور عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہو جائے تو اسے حادثہ نہیں کہتے، اسے مجرمانہ غفلت کہتے ہیں۔ذمہ دار کون ہے؟ فائر بریگیڈ؟ بلڈنگ کنٹرول؟ یا حکومتِ سندھ؟ذمہ دار ایک نہیں، پوری زنجیر ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جس نے بغیر منظور شدہ نقشے کے عمارت چلنے دی،فائر ڈیپارٹمنٹ جس کے پاس نہ مناسب گاڑیاں تھیں نہ آلات،یہاں بھی اڈیالہ جیل کا قیدی جیت گیا جس نے فائر بریگیڈ کا بڑا یونٹ اپنے دور میں فراہم کیااور حکومتِ سندھ جو ہر سانحے کے بعد صرف کمیٹیاں بناتی ہے۔سنا ہے عمارت میں فائر سیفٹی کا کوئی نظام ہی نہیں تھا؟بالکل نہیں۔
نہ فائر الارم،
نہ ایمرجنسی ایگزٹ،
نہ فائر فائٹنگ سسٹم۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ غیر قانونی تھا تو یہ پلازہ برسوں سے کیسے چلتا رہا؟یعنی سب جانتے تھے، مگر سب خاموش تھے؟خاموش نہیں ، سب شریکِ جرم تھے۔آگ لگی اور بلدیہ فیکٹری سانحے کی طرح پلازے کے سارے گیٹ بند تھے ۔یہاں ضابطے صرف غریب کے لیے ہوتے ہیں، پلازوں اور مافیا کے لیے نہیں۔ریسکیو آپریشن پر بھی شدید سوالات اٹھے ؟اور اُٹھنے چاہئیں ۔جی ہاں۔
آگ لگنے کے بعد گھنٹوں تک مناسب ریسپانس نہیں ملا،سیڑھیاں کم پڑ گئیں،پانی کا دباؤ نہ تھا،اور اندر پھنسے لوگ چیختے رہے… باہر ہم صرف تماشائی بنے رہے۔وزیراعلیٰ نے تو جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے؟کیا ایک کروڑ روپے کسی ماں کا بیٹا واپس لا سکتے ہیں؟اور وہ ڈاکٹر جس کے سامنے اس کا معصوم بیٹا جلتے ہوئے ماں سے کہہ رہا ہوگا مجھے بچائو ،باپ بھی کتنا بے بس ہوگا بیٹے سمیت دونوں میاں بیوی جل گئے ،بیوی جس کے پیٹ میں ایک جان !کیا یہ رقم ان ہزار خاندانوں کا روزگار لوٹا سکتی ہے؟
یہ امداد نہیں، یہ ضمیر کی قیمت لگانے کی کوشش ہے۔
سوال اٹھتا ہے
کیا واقعی کسی کو سزا ملے گی؟
تاریخ گواہ ہے…
سانحہ بلدیہ،
فیکٹری آگ،
عمارتیں گرنے کے واقعات…
سب میں رپورٹس آئیں، فائلیں بند ہوئیں، اور مجرم بچ نکلے۔مجھے ڈر ہے گل پلازہ بھی اسی فہرست میں شامل ہو جائیگا ۔تو پھر امید کہاں ہے؟امید تب ہو گی جب غیر قانونی عمارتیں سیل ہوں، افسران کو جیل بھیجا جائے، فائر سیفٹی آڈٹ ہوگا ،اور کراچی کو لاوارث نہ سمجھا جائیگا ۔ ایک ڈکٹیٹر نے اس شہر سے دارلخلافہ کی چادر چھین لی ،خاموشی پر طرف خاموشی ،احتجاج سے عاری ہجوم ۔۔یعنی فی الحال لوگ معجزات کے منتظر ہیں؟…
اور مسئلہ یہ ہے کہ جب عوام معجزات کے انتظار میں بیٹھ جائیں،تو پھر گل پلازہ جیسے قبرستان بنتے ہیں۔
اختتامیہ
گل پلازہ ایک عمارت نہیں تھی،
یہ اس نظام کا آئینہ تھا!
جس میں انسانی جان سب سے سستی
اور غفلت سب سے مضبوط ہے۔
اگر اب بھی سوال نہ اٹھے،
تو اگلا مکالمہ کسی اور ملبے پر ہو گا،سوال اُٹھنے چاہئیں !
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر