وجود

... loading ...

وجود

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

اتوار 25 جنوری 2026 بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

حمیداللہ بھٹی

کیاوینزویلا میں امریکی کارروائی سے براعظم امریکہ میں چین کی تجارتی پیش قدمی رُک گئی ہے؟اِس کے جواب میں ہاں نہیں کہہ سکتے بلکہ اِس واقعہ نے دنیا کوجھنجوڑ اہے اور عالمی تبدیلیوں کو تیز تر کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حامی اور مخالف دونوں کو زچ کررکھا ہے جس کی وجہ سے کئی ایسے ممالک بھی چین کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں جو کئی عشرے امریکہ کے ساتھ رہے ۔اِن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ بظاہر وینزویلا سمیت کسی بھی ملک کے خلاف امریکی کارروائی کے خلاف چین نے ہمیشہ شدید عملی ردِ عمل دینے سے گریز کیالیکن اب احتیاط پسندی پر حقیقت پسندی غالب ہے ۔ایران امریکہ کشیدگی میں بھی چینی ردِ عمل سفارتی رہالیکن کچھ شدت محسوس کی گئی جس سے کمزور ممالک کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اوروہ سرمایہ کاری اور متبادل سمجھ کر چین کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔
کینیڈا کو 51واں صوبہ بننے کی پیشکش اورگرین لینڈ کوحصہ بنانے کا ٹرمپ اعلان دنیا نے مسترد کردیاہے حالانکہ ڈنمارک کا شمارنیٹو دفاعی اتحاد کے بانیوںمیں ہوتا ہے جس کی ایک شق یہ ہے کہ اِس تنظیم میں شامل کسی ملک پر ہونے والا حملہ تمام رُکن ممالک پر تصور ہوگا۔ ویسے بھی ٹرمپ کونسا کسی کی سُنتے ہیں جوقوانین، اخلاق یا اصول کی بات کریں مگر اُن کے اقدامات نے عالمی تبدیلیوں کواِس حدتک ناگزیر بنا دیا ہے کہ کینیڈاجیساہمسایہ بھی متبادل کی طرف راغب ہے اوروہ روایتی پالیسی ترک کرتے ہوئے چین کی طرف دیکھنے لگا ہے جس کاچینی قیادت نہ صرف گرمجوشی سے خیر مقدم کررہی ہے بلکہ اِس تبدیلی کامثبت جواب دے رہی ہے ۔غالب اِمکان ہے کہ چین و کینیڈا شراکت داری سے براعظم امریکہ میں چینی رسوخ میں تیزی سے اضافہ ہوسکتاہے۔
کینیڈا سے چین کے سفارتی تعلقات میں برسوں تک کشیدگی کا عنصر غالب رہا جس کی اہم وجہ امریکہ جیسے تحادی کوخوش رکھناتھا۔ کینیڈا نے چینی سامان تجارت پر سوفیصد محصولات لگائے توجواب میں چین نے بھی محصولات بڑھا دیے جس سے باہمی تجارت شدید متاثر ہوئی لیکن کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کا ایک ہی جست میں برسوں کی کشیدگی ختم کرنے سے لگتا ہے کہ دونوں طرف ہی قریب آنے کی خواہش تھی جسے پوراکرنے کے ٹرمپ نے اسباب پیداکردیے کینیڈا نے چین کو سب سے پسندید ہ ملک درجہ دیکراُس کی الیکٹرک گاڑیوں پرنہ صرف کم ترین محصول چھ فیصد لاگوکردیاہے بلکہ سالانہ 49000گاڑیوں کا کوٹہ بھی دیاہے چین نے بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینیڈین کینولا پرمحصولات 85 سے پندرہ فیصدکردیاہے جس سے طویل عرصہ بعد کینیڈین زرعی مصنوعات کی برآمد کاراستہ ہموار ہو گیا ہے دونوں ممالک نے زراعت ،توانائی ،ثقافت کے ساتھ زرعی خوراک جیسے شعبوں میں جامع تعاون کے تحریری معاہدے بھی کیے ہیں۔ دو کھرب یوان کامقامی کرنسی کامالیاتی معاہدہ دوطرفہ تجارت واقتصادیات کی بنیادبن سکتاہے اِس سے نہ صرف دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھے گا اور ڈالرسے منسلک تجارت میں کمی کے ساتھ بااعتماد شراکت داری کو فروغ ملے گا یہ فیصلے براعظم امریکہ میںچین کے لیے بڑا دروازہ کھولیں گے یہ وینزویلا میں امریکی کاروائی کے بعدایک اہم ترین تبدیلی ہوگی ۔
2017میں آخری بار جسٹن ٹروڈو چین گئے جس کے بعد کسی کینیڈین وزیرِ اعظم نے چینی دورے سے اجتنا ب کیاکینیڈا نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے معروف الیکٹرانک کمپنی ہواوے کے چیف فنانشل آفیسر مینگ وائزو کو 2018 میں وینکوورمیں گرفتارکر لیاجس سے دونوں ممالک کے تعلقات اِس حدتک کشیدہ ہوگئے کہ نہ صرف جوابی گرفتاریاں ہوئیں بلکہ باہمی محصولات میںاضافہ ہوا دونوں نے ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے اور انتخابی مداخلت میں ملوث قراردیاگیا مگر گزشتہ برس کی سفارتی کوششوں سے نہ صرف مارک کارنی کارواں ماہ جنوری میں چارروزہ دورہ ممکن ہوا بلکہ یہ دورہ تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کا باعث بنا ہے دونوں ممالک کی گرمجوشی لگتا ہے کہ کینیڈا تجارت کو متنوع بناکر امریکہ پر انحصار کم کرناچاہتا ہے یہ دورہ دونوں ممالک کے عالمی تنازعات میں مشترکہ موقف اور دفاعی تعاون کی طرف بھی جا سکتا ہے۔
دنیا کی طرح چین اور کینیڈا بھی امریکی محصولات سے پریشان ہیں اور متاثرہ ممالک کو اشتراکِ کارکی راہ دکھائی ہے چین جس نے اپنی معیشت کوتجارت سے تقویت دی اور وہ اب ایک بڑی دفاعی طاقت بننے کے لیے کوشاں ہے تاکہ عالمی امن ،استحکام ،ترقی اور خوشحالی میں
قائدانہ کردار اداسکے اب جبکہ امریکی معیشت دبائو کا شکار ہے اور اُسے سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے زائد رقم قرضوں کے سود کی مدمیں ادا کرنا
ہوتی ہے مگرٹرمپ خراب معاشی حالت کو سُدھارنے کے لیے نئی معاشی پالیسی بنانے کی بجائے حامی ممالک پر دبائو ڈال کررقوم چھین رہے
ہیں۔ حالانکہ کسادبازاری کا شکاردنیا کی معیشت ایسے اقدامات کی متحمل نہیں سوچ کا یہ فرق ہی دنیا کا منظر نامہ بدل رہا ہے اور چین کسی نوعیت کی فوجی کاروائی نہ کرنے کے باوجو د اپنے عالمی کردار کو وسعت دے کردنیاکی مجبوری بن رہا ہے چین اور کینیڈاکی طرف سے باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ اور ٹھوس اقدامات سے اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ امریکہ کے ستائے ممالک چینی چھتری تلے سستانے کی کوشش میں ہیں۔
امریکی پیداکردہ حالات سے دنیامیں آنے والی تبدیلی میں جہاں کئی خرابیاں ہیں وہیں مثبت پہلو بھی ہیں دنیا کو یہ سبق ملا ہے کہ کسی
ایک ملک پر ہی مکمل طورپر انحصار کر نا درست نہیں بلکہ دانشمندی اِس میں ہے کہ معیشت اور تجارت متنوع ہو یہاں تک کہ جرمنی اور فرانس
جیسے طاقتور یورپی ممالک بھی نئی حکمتِ عملی اختیارکر رہے ہیں 2024 میں امریکی ایما پرہی کینیڈانے چینی الیکٹرک کاروں پر سوفیصد
محصولات لگا کر درآمد روک بندکرنے کی کوشش کی مگرحالیہ چین و کینیڈامفاہمت کے نتائج کا ٹیسلا جیسی کمپنی سامنا کرنا ہوگاجس کے تناظر
میں کہا جا سکتا ہے کہ امریکی پالیسی اسی کے لیے نقصان دہ ہے۔
گزشتہ برس اکتوبرمیں کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیرِ اعظم نے ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر بات کی کیسی تعجب کی
بات ہے کہ جس چین کو براعظم امریکہ اور یورپ سے بے دخل کرنے کے لیے امریکہ نے ہزار کلو میٹر سے زائد دوری پر واقع ملک وینزویلا
کے خلاف فوجی کاروائی کی اسی امریکہ کا ہمسایہ کینیڈا نہ صرف چین کی طرف دستِ تعاون بڑھا کرماضی کی غلطیوں کی تلافی کرنے کی کوشش
میں ہے بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی تعاون کی طرف بھی آنے والے ہیں یہ تعاون عالمی
تبدیلی کا عکاس ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر