... loading ...
باسمہ تعالیٰ
۔۔۔۔۔۔۔
ماجرا/ محمد طاہر
۔۔۔۔۔۔
فلسطینیوں کی نسل کشی کے سہولت کار ٹرمپ نے بآلاخر اپنا’ پراجیکٹ سن رائز’ لانچ کردیا۔ یہ کسی قلوپطرہ کی چھب دیکھنے کی طرح ہے۔ کچھ دیر کے لیے عالمی ضمیر شرما بھی سکتا ہے۔ کیونکہ اس سے ٹرمپ کے عزائم کا ”حسن ” پوری طرح عریاں ہوا ہے۔ یہ سب کتنا خوب صورت ہے، یعنی ‘بورڈ آف پیس’ وغیرہ میں شمولیت۔ آپ ‘وغیرہ’ پر حیران نہ ہوں،اس میں اہم بات ‘وغیرہ’ ہی ہے۔ حماس کو غیر مسلح کرنا اسی ”وغیرہ’ میں ہی آتا ہے۔ البتہ انگریزی کا لفظ ‘ پیس’ عملی طور پر اردو کے پیس (ٹکڑے ٹکڑے )کے معنی میں ہے۔ پیس یعنی امن!!!امن کیا مطلب ، فلسطینیوں کے لیے امن،ویسے آخری باریہ بات دنیا نے کب سنی ہوگی؟ فلسطینیوں کے لیے یہ لفظ پیسنے کے معنی میں ہے۔ ہم ‘ بورڈ آف پیس ‘کے اب زیر دستخطی ہیں۔ پاکستان نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیوس میں اس پر اپنے انگوٹھے لگائے۔ جو پہلے سے ہی کٹے ہوئے ٹرمپ کی جیب میں پڑے تھے۔
کراچی یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے ہمارے استاد ڈاکٹر اظہر علی(مرحوم) اسی لفظ ”پیس” کو انگریزی اور اردو میں اپنی ایک نظم میں برتا کرتے تھے:
غلغلہ ‘پیس ‘کا ہے بحر کی ٹھاٹھوں کی طرح
‘پیس’ دیتے ہی مگر چکی کے پاٹوں کی طرح
ہمیں اس بورڈ میں”پیس” نام کی واحد ضمانت اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مددگار امریکی صدر ٹرمپ دیتے ہیں۔ وہی ٹرمپ جو چند روز قبل ایک آزاد ملک وینز ویلا کے صدر”مادورو ‘کو اغوا کرکے لائے ہیں۔ گرین لینڈ کو ہتھیانے کے لیے روز ایک نئی دھمکی ڈنمارک کو دیتے ہیں۔ یورپ جس سے سہما ہوا ہے ، جبکہ نیٹو گرین لینڈ کا کچھ حصہ نرم شرائط کے ساتھ دینے پر مجبور ہو گیاہے۔گرین لینڈ کی نایاب معدنیات اب دنیا کے طاقت ور امیروں کے ہاتھ میں ہیںجو جنگ کا کاروبار کرتے ہیں۔ امریکا کی ‘ڈیپ اسٹیٹ’ کو یہ مخلوق سازگار ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے شہباز شریف ، پاکستان کی طاقت ور اشرافیہ کو اِن دنوں موزوں آتے ہیں۔شہبا زشریف پاکستان میں جمہوریت کی جیسی ‘ضمانت’ ہے، ٹھیک اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ ‘بورڈ آف پیس’ کے تاحیات چیئر مین کی حیثیت میں ‘امن’ کی ضمانت دیتے ہیں۔ ڈیوس پہنچنے سے ایک روز قبل امریکی صدر کا ایک خط منظر عام پر آیا ہے جو انہوں نے ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار اسٹورے کو لکھا ہے، جس میں اُن کا باطن پوری طرح آشکار ہے۔ ٹرمپ نے لکھا ہے کہ’ نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد اب وہ خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتے ‘۔ خط کے مندرجات سامنے آنے کے دو روز بعدامریکی صدر’ بورڈ آف پیس’ کا باضابطہ اعلان کر رہے تھے اور دستخط کرنے والے ممالک کے حکمران اپنے اپنے عوام کو فلسطین میں قیام امن کی کوششوں میں شمولیت کے نام پر دھوکے دے رہے تھے۔
بورڈ آف پیس کے نام پر یہ سارا کھیل شاندار ہے بظاہر بورڈ ایک ایگزیکٹو کمیٹی کی نگرانی میں کام کرے گا۔ مگر درحقیقت یہ ایگزیکٹو کمیٹی امریکی قومی کمیٹی کے زیر نگرانی رہے گی۔ ایگزیکٹو کمیٹی میں ترک وزیر خارجہ حکان فدان، قطری سفارت کار علی التھوادی،مصری جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل حسن رشاد، متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی اور برطانیا کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر شامل ہیں۔ ٹونی بلیئر کا نام آخری مرتبہ عراق کے خلاف ایک جعلی مقدمہ ‘وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار’ (ڈبلیو ایم ڈی) گھڑنے میں آیا تھا، انہیں خود برطانوی اخبارات نے سابق امریکی صدر بش کے پوڈل کے طور پر یاد رکھا ہے۔ ایگزیکٹو کے باقی رکن ممالک کا حال بلیئر سے زیادہ ابتر ہے۔اگر چہ یہ مسلم ممالک کے حکمران ہیں مگر عالمی بساط پر امریکی کٹھ پتلیاں بن کر ناچتے ہیں۔ مسلم تحریکوں کے ساتھ حالیہ برسوں کا سب سے بڑا پرینک (مسخرہ پن)ترکی میں اردوغان کی جماعت اے کے پارٹی نے کیا ہے جن کے متعلق سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن کے مسکراتے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں: ” یہ ترکی میںمسلم لیگ نون کا ذرا بہتر ورژن ہے”۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ العدید ایئر بیس قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب واقع ہے۔ مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کو دیکھ کر قدم زمانے کے فرعون ذہنوں میںتازہ ہو جاتے ہیں۔ جہاں2013میں فوجی بغاوت کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا، صدر محمد مرسی کو پھانسی دے دی گئی، ہزاروں کارکنوں کو گرفتار اور قتل کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات بتدریج اسرائیل کی ایک پناہ گاہ بن رہا ہے، یہ واحد ملک ہے جسے دیکھ کر یہ فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ اسرائیل کا زیادہ خیرخواہ ملک امریکا ہے یا عرب امارات؟ان مسلم ملکوں کے حکمرانوں کے اعمال کی تاریکیاں دیکھ کر یہ اندازا لگانا دشوار ہے کہ اس فہرست میں بلیئر، ٹرمپ کے پوڈل کہلانے کے زیادہ مستحق ہوں گے یا پھرباقی ارکان۔ مگر امریکا کو یہ بھی گوارا نہیں۔ چنانچہ اس پر ایک اور نگراں قومی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو دراصل ٹرمپ کی زیر صدارت ارکان پر مشتمل ہیں۔ جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی نمائندہ برائے غزہ سٹیو وِٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، اسرائیلی کرپٹو بزنس مین یاکر گابے، امریکی ارب پتی سرمایہ کار مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اورٹرمپ کے وفادار معاون رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کا کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کو مقرر کیا گیاہے، مگر یہ اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کے ساتھ کام کرے گی۔ یعنی فلسطینوں کو جن سے بچانا ہے وہی اُن کو بچانے پر مامور ہیں۔ بس اس بات کو الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ڈاکوؤں کی نفسیات رکھنے والے اس ٹیڑھے میڑھے ڈھانچے کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟
یہ امریکی صدر کی اسرائیل حامی یکطرفہ پالیسیوں کا ایک چہرہ ہے، یعنی بورڈ آف پیس۔ جو دراصل عالمی فرمان (نیو ورلڈ آرڈر)کی ایک نئی تشکیل چاہتے ہیں۔ اس کے لیے امریکا کو اب موجودہ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی ادارے موثر دکھائی نہیں دیتے۔ یورپ جس خطرے کو محسوس کر رہا ہے، وہ اتنا غیر متعلق نہیں کہ یہ متوازی نظام کی داغ بیل ہے جس میں سارے ایگزیکٹو کمیٹی سے لے کر قومی کمیٹی تک سارے تکلفات دراصل ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلوں پر انگوٹھے لگانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ مگر یہاں مسلم شعور کا زوال اپنی آخری حدوں کو چھورہا ہے ۔ یہ سب کچھ کتنا ‘خوب صورت’ ہے کہ مسلم دنیا کے خلاف کارروائیاں مسلم ملکوں کے حکمرانوں کے ساتھ کی جائیں اور کارروائیاں کرنے اور کرانے والے ان عالمی غنڈوں کو کارروائیاں سہنے اور جھیلنے والے ملکوں کے حکمرانوں کے ساتھ بٹھایا جائے۔ پھر ایک ہی کام باقی رہتا ہے مسلم دنیا کے عوام کو باور کرانا کہ جو کچھ ہورہا ہے اُ ن کے مفاد میں ہیں۔اس میں پاکستانی حکمران زیادہ تکلیف محسوس نہیں کریں گے کیونکہ یہاں منیب فاروق ایسے بچے جمہورے سے لے کسی چڑیا گھر کے سارے جانور پالنے کے شوقین نجم سیٹھی تک متعدد تجزیہ کار موجود ہیں۔ یہاں سہیل وڑائچ سے لے کر طلعت حسین تک نہ جانے کون کون اس کی تائید و تکریم میں اپنے دلائل صرف کرتے نظر آئیں گے؟ سو ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم عالمی منچ پر حکمرانوں کی ملاقاتوں سے اپنے بونوں کو ملنے والی توجہ پر بغلیں بجائیں۔ اور اسرائیل کے لیے قابل قبول فلسطین اتھارٹی کے وزیراعظم کی طرف سے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر شکریے کے پیغامات سے اعتبار کی دھندے بازی کریں۔ یہ ٹرمپ کا’ پراجیکٹ طلوع آفتاب ‘ ہو یا نہ ہو مگر مسلم شعور کے غروب کا لمحۂ خجالت ضرور ہے۔
٭٭٭