... loading ...
محمد آصف
پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ دوبارہ ابھرنا اچانک نہیں بلکہ خارجہ پالیسی میں تدریجی تبدیلیوں، علاقائی روابط کے فروغ، معاشی سفارت کاری اور کثیرالجہتی عالمی فورمز میں فعال شرکت کا نتیجہ ہے ۔ ایک ایسے عالمی نظام میں جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور علاقائی صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں، پاکستان کا کردار بھی نئی صورت اختیار کر رہا ہے ، جو اس کی مجبوریوں اور دیرپا تزویراتی اہمیت دونوں کی عکاسی کرتا ہے ۔
آپریشن بنیانُ المرصوص پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر سامنے آیا ہے ، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے تاثر میں بھی نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے ۔ اس آپریشن ریاستی عزم کو ایک واضح اور منظم شکل دی، جس کے اثرات سکیورٹی، سیاست، معیشت اور سماجی نفسیات تک پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بجا ہے کہ آپریشن بنیانُ المرصوص کے بعد پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے ۔ریاست کی جانب سے یہ پیغام واضح تھا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی سطح پر بھی آپریشن بنیانُ المرصوص کے اثرات نمایاں ہیں۔ قومی سلامتی کے بیانیے نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اتفاقِ رائے کو جنم دیا۔ آپریشن بنیانُ المرصوص کے بعد پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں امکانات اور ذمہ داریاں دونوں بڑھ گئی ہیں۔ یہ آپریشن ریاستی عزم، قومی اتحاد اور قربانی کی علامت بن چکا ہے ۔ بدلتا ہوا پاکستان اب اس بات کا متقاضی ہے کہ امن، استحکام اور ترقی کو ایک جامع قومی وژن کے تحت آگے بڑھایا جائے ۔ اگر یہ وژن مستقل مزاجی اور دیانت داری کے ساتھ نافذ کیا گیا تو پاکستان نہ صرف داخلی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار، مستحکم اور پر اعتماد ریاست کے طور پر جو مقام حاصل کیا ہے اس میں مزید بہتری آئے گی۔آپریشن بنیان المرصوص کے بعد کا پاکستان اور پہلے کے پاکستان میں بہت فرق ہے ۔ اب پاکستان کے لئے عالمی طاقتیوں کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے جس کے کچھ دیگر فیکٹر بھی ہیں لیکن سب سے بڑا فیکٹر اپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی ہے اور بھارت کا گمنڈ غرور خاک میں ملانا پاکستان کو ممتاز بناتا ہے ۔
پاکستان کی عالمی اہمیت کے دوبارہ ابھرنے کی ایک بڑی وجہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے ۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث پاکستان مختلف خطوں کو آپس میں جوڑنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے ۔ بحیرۂ عرب تک رسائی، خصوصاً گوادر بندرگاہ کے ذریعے ، پاکستان کو عالمی تجارتی راستوں میں نمایاں حیثیت دیتی ہے ۔ جب دنیا میں روابط، توانائی کے راستوں اور سپلائی چین کے تنوع کو بڑھتی ہوئی اہمیت دی جا رہی ہے ، تو پاکستان کا جغرافیہ ایک بار پھر اسے علاقائی اور عالمی منصوبہ بندی کے مرکز میں لے آتا ہے ۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی بھی اس کے عالمی کردار کی بحالی کی عکاس ہے ۔ حالیہ برسوں میں اسلام آباد نے خالصتاً سلامتی پر مبنی نقطۂ نظر سے ہٹ کر ایک متوازن اور متنوع سفارت کاری اپنانے کی کوشش کی ہے ۔ ”جیو اکنامکس” کو رہنما اصول بنانے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی معاشی انضمام کو ترجیح دینا ہے ۔ یہ رجحان ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوششوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ معاشی روابط کو تصادم کی سیاست پر فوقیت دے کر پاکستان خود کو علاقائی استحکام کا سہولت کار ثابت کرنا چاہتا ہے ، نہ کہ محض عالمی تنازعات میں ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر۔
چین پاکستان کے عالمی کردار کے دوبارہ ابھرنے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ، خاص طور پر چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ایک اہم منصوبے کے طور پر سی پیک نے پاکستان کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ کیا اور عالمی توجہ حاصل کی۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے علاوہ یہ منصوبہ پاکستان کے وسیع تر یوریشیائی معاشی نیٹ ورکس میں انضمام کی علامت بھی ہے ۔ اگرچہ قرضوں، سلامتی اور عملدرآمد سے متعلق مسائل موجود ہیں، تاہم سی پیک نے پاکستان کو علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبوں میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر نمایاں کیا ہے ۔ اسی دوران پاکستان نے بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال اور وسعت دینے کی کوشش کی ہے ۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات اگرچہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم تجارت، ماحولیاتی تعاون اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں یہ تعلقات اب بھی اہم ہیں۔ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں، خاص طور پر جی ایس پی پلس جیسے تجارتی انتظامات کے ذریعے ، معاشی روابط کو مضبوط بنانے اور عالمی سپلائی چین میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ روس کے ساتھ تعلقات میں بھی محتاط بہتری دیکھی جا رہی ہے ، جو بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن کے مطابق پاکستان کی کثیر القطبی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے ۔
بین الاقوامی تنظیموں میں پاکستان کی فعال شرکت بھی اس کے عالمی کردار کی بحالی کو نمایاں کرتی ہے ۔ اقوامِ متحدہ، تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں پاکستان کا کردار اسے عالمی امور پر اپنی رائے پیش کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ، چاہے وہ تنازعات کے حل ہوں یا معاشی ترقی کے مسائل۔ کثیرالجہتی مکالموں کی میزبانی اور ان میں شرکت کے ذریعے پاکستان خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جو بین الاقوامی تعاون اور اجتماعی مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے ۔عالمی امن و سلامتی میں پاکستان کی شراکت بھی اس کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کا ایک اہم پہلو ہے ۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں سب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے ، جس پر اسے پیشہ ورانہ مہارت اور وابستگی کے اعتراف کے طور پر سراہا گیا ہے ۔ یہ کردار پاکستان کی سافٹ پاور میں اضافہ کرتا ہے اور اسے عالمی استحکام کے لیے سرگرم ملک کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملی بھی عالمی سطح پر اس کے تزویراتی کردار کو متاثر کرتی ہے ۔ معاشی استحکام اور اصلاحات پاکستان کے عالمی عزائم کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ ملک کو اب بھی قرضوں، مہنگائی اور ساختی کمزوریوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ، تاہم معاشی استحکام کے لیے حالیہ اقدامات عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی علامت ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پائیدار معاشی ترقی کے بغیر عالمی اثر و رسوخ ممکن نہیں۔
ماحولیاتی سفارت کاری بھی ایک نیا میدان بن کر ابھری ہے جس میں پاکستان عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کر رہا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کے باعث پاکستان نے ماحولیاتی ناانصافی اور موافقت کے عالمی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تباہ کن سیلابوں کے بعد بین الاقوامی ماحولیاتی فورمز پر پاکستان کی وکالت نے عالمی توجہ حاصل کی اور ماحولیاتی مذاکرات میں اس کی اخلاقی حیثیت کو مضبوط کیا۔ خود کو ایک متاثرہ ملک اور ایک فعال شراکت دار کے طور پر پیش کر کے پاکستان اپنے عالمی کردار کے دائرے کو وسعت دے رہا ہے ۔یوں پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا ایک یک رُخی یا اچانک تبدیلی نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی عمل ہے ۔ اس میں سفارتی حکمتِ عملی کی ازسرِ نو تشکیل، تزویراتی شراکت داریاں، معاشی روابط اور عالمی نظامِ حکمرانی میں فعال شرکت شامل ہے ۔ اگرچہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے اپنے کردار کی نئی تعریف ایک سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرتی ہے جو اسے عالمی سیاست کے حاشیے سے مرکز کی طرف لے جا سکتی ہے ۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی دنیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی شمولیت ضرورت اور موقع دونوں کا نتیجہ ہے ۔ عالمی غیر یقینی صورتِ حال اور علاقائی تبدیلیوں کے اس دور میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، سفارتی توازن، اور معاشی و ماحولیاتی سفارت کاری پر بڑھتا ہوا زور اسے عالمی سطح پر زیادہ نمایاں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ دوبارہ ابھرنا کس حد تک پائیدار اثر و رسوخ میں تبدیل ہوتا ہے ، اس کا انحصار داخلی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور اندرونی اصلاحات کو عالمی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر ہوگا۔ تاہم پاکستان کے عالمی منظرنامے پر دوبارہ متحرک ہونے کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں، جو اس کی بین الاقوامی اہمیت میں محتاط مگر بامعنی واپسی کی علامت ہیں۔ اگر پاکستان اپریشن بنیان المرصوص میں انڈیا کو زلت آمیز شکست نہ دیتا تو شائد آج پاکستان اس انداز میں نہ ہوتا جو اب دنیا اور عالمی طاقتوں کی نظر میں ہے ۔ اللہ پاکستان کو دشمن پر ہمیشہ غالب رکھے ۔
٭٭٭
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...