... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
رابرٹ لوئس اسٹیونسن(Robert Louis Stevenson )نے 1886 میں ناولDr Jekyll and Mr Hyde تحریر کیا ۔ کہانی کے مطابق لندن کی دھند آلود گلیوں میں ایک معزز نام گونجتا تھا۔ڈاکٹر ہنری جیکل۔ وہ علم، شائستگی اور اخلاقیات کا نمائندہ تھا۔ سوسائٹی میں اس کی عزت تھی، دروازے اس کے لیے کھلتے تھے، اور لوگ اسے انسانیت کا محسن سمجھتے تھے۔ مگر اس روشن چہرے کے پیچھے ایک اندھیرا تھا، ایسا اندھیرا جو خود جیکل کی روح میں چھپا ہوا تھا۔
ڈاکٹر جیکل ایک سوال سے پریشان تھا:”کیا انسان واقعی ایک ہی وجود ہے؟ یا وہ بیک وقت نیکی اور بدی کا مجموعہ ہے؟” وہ جانتا تھا کہ جس طرح دن کے ساتھ رات جڑی ہے، اسی طرح اخلاق کے ساتھ خواہش، اور تہذیب کے ساتھ وحشت بھی موجود ہے۔ مگر معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی بدی کو دفن کر دیں، چھپا دیں، جھوٹے اخلاق کا لبادہ اوڑھ لیں۔جیکل نے اسی جھوٹ سے بغاوت کی۔ مگر عقل کے بجائے تجربے کے ذریعے۔اپنی لیبارٹری میں اس نے ایک دوا تیار کی۔اس کا مقصد بدی کو ختم کرنا نہیں تھا، بلکہ اسے الگ کرنا تھا۔پہلی بار جب اس نے وہ محلول پیا، تو اس کے جسم میں درد کی لہر دوڑ گئی۔ ہڈیاں مڑنے لگیں، قد گھٹ گیا، چہرہ بگڑ گیا، آنکھوں میں وحشت بھر گئی۔اور تب مسٹر ایڈورڈ ہائڈ پیدا ہوا۔ہائڈ وہ تھا جو جیکل کبھی بننے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ وہ نہ ضمیر کا پابند تھا، نہ مذہب کا، نہ سماج کا۔ وہ آزاد تھا — مگر یہ آزادی اندھی تھی۔جہاں جیکل دلیل سے سوچتا تھا، ہائڈ جبلت سے جیتا تھا۔جہاں جیکل شرم محسوس کرتا تھا، ہائڈ لذت پاتا تھا۔جہاں جیکل رک جاتا تھا، ہائڈ آگے بڑھتا تھا۔شروع میں جیکل کو یہ تجربہ کامیاب لگا۔دن میں وہ جیکل بنتا۔شرافت، وقار، نیکی۔رات میں ہائڈ۔خواہش، تشدد، غرور۔جیکل نے سوچا:”اب میں گناہ بھی کر سکتا ہوں، اور بے گناہ بھی رہ سکتا ہوں۔”مگر یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ہائڈ صرف الگ نہیں تھا۔وہ طاقتور تھا۔وہ کمزور نہیں پڑتا، وہ سوال نہیں کرتا، وہ معافی نہیں مانگتا۔رفتہ رفتہ، ہائڈ بغیر دوا کے ظاہر ہونے لگا۔جیکل کی مرضی ختم ہو رہی تھی۔ایک رات، ہائڈ نے ایک معزز شخص کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔یہ قتل صرف ایک انسان کا نہیں تھا۔یہ جیکل کے اس وہم کا قتل تھا کہ بدی کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔اب جیکل خوفزدہ تھا۔وہ آئینے میں خود کو دیکھتا تو اپنا چہرہ پہچان نہیں پاتا۔جیکل نے ہائڈ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔مگر وہ بھول چکا تھا:بدی باہر سے نہیں آتی۔وہ اندر سے جنم لیتی ہے۔وہی ہاتھ جو نیکی لکھتے تھے، قتل بھی کر سکتے تھے۔وہی دل جو عبادت میں جھکتا تھا، ظلم میں بھی دھڑک سکتا تھا۔آخرکار، ہائڈ مکمل طور پر غالب آ گیا۔جیکل کی آواز کمزور پڑ گئی۔ضمیر خاموش ہو گیا۔جب راز کھلا، تو یہ معلوم ہوا کہ جیکل اور ہائڈ دو لوگ نہیں تھے۔بلکہ ایک ہی انسان کے دو چہرے تھے۔آخر میں، جیکل نے خود کو ختم کر لیا۔نہ اس لیے کہ ہائڈ مر جائے،بلکہ اس لیے کہ وہ سچ اب برداشت کے قابل نہیں رہا تھا۔
یہ کہانی کسی دوا یا سائنس کی نہیں۔یہ انسان کی کہانی ہے۔ہر انسان میں ایک جیکل ہے۔اور ایک ہائڈ بھی۔فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ ہائڈ کو پہچان لیتے ہیں،اور کچھ اسے نیکی کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔جب ہم اپنی بدی کو ماننے سے انکار کرتے ہیں،تو وہ ہمیں نگل لیتی ہے۔ہم صدیوں سے شیطان کو کہیں اور تلاش کرتے آئے ہیں۔کبھی تاریخ میں، کبھی سیاست میں، کبھی کسی دشمن قوم یا مذہب میں۔مگر کارل ینگ نے ایک بے چین کر دینے والا سوال اٹھایا:اگر شیطان باہر نہیں، تو پھر کہاں ہے؟ینگ کے مطابق شیطان کوئی خارجی مخلوق نہیں بلکہ انسان کے اپنے لاشعور کا وہ حصہ ہے جسے وہ تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔ ینگ اسے The Shadowکہتا ہے۔یعنی ہماری شخصیت کی وہ پرچھائیں جسے ہم نے ”اچھا”بننے کی کوشش میں دبا دیا۔بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ غصہ برا ہے، خواہش شرم کی بات ہے، خودغرضی گناہ ہے۔ چنانچہ ہم ان فطری جذبات کو مار نہیں دیتے بلکہ لاشعور میں دفن کر دیتے ہیں۔ مگر نفسیات کا اصول ہے: جو دبایا جاتا ہے، وہ ختم نہیں ہوتا۔وہ طاقت پکڑ لیتا ہے۔ جب انسان یہ ماننے سے انکار کرتا ہے کہ میرے اندر بھی ظلم، حسد اور تشدد کی صلاحیت موجود ہے، تو وہ ایک دفاعی عمل اختیار کرتا ہے جسے پروجیکشن کہتے ہیں۔ وہ اپنی اندرونی تاریکی کو دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ یوں”برا انسان”ہمیشہ کوئی اور ہوتا ہے۔ مذہبی سطح پر یہی عمل”یہ میرا نہیں، شیطان کا وسوسہ ہے”کہہ کر مکمل ہو جاتا ہے۔کارل ینگ کے نزدیک شیطان دراصل انسانیت کا اجتماعی سایہ ہے۔ وہ تمام برائیاں جنہیں انسان نے ماننے سے انکار کیا، اس نے ایک اساطیری کردار میں جمع کر دیں۔ اور یوں ابلیس وجود میں آیا۔ادب اس حقیقت کو ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ کی کہانی میں پہلے ہی بیان کر چکا تھا۔ ڈاکٹر جیکل نیکی کی انتہا چاہتا تھا، مگر اس کی دبی ہوئی برائیاں مسٹر ہائیڈ بن کر اور زیادہ وحشی انداز میں واپس آئیں۔ ینگ کا کہنا درست ثابت ہوا: جتنا اونچا مینار، اتنی ہی گہری اس کی پرچھائیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثر حد سے زیادہ پاکیزگی کے دعوے کرنے والے لوگ بڑے اخلاقی اسکینڈلز کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ان کا سایہ ہوتا ہے جو آخرکار بغاوت کر دیتا ہے۔تو حل کیا ہے؟ ینگ کا حل Shadow Work ہے۔یعنی اپنے اندر کی تاریکی کو تسلیم کرنا۔ یہ مان لینا کہ اگر حالات اجازت دیں تو میں بھی وہ سب کچھ کر سکتا ہوں جس کا الزام میں دوسروں پر لگاتا ہوں۔اس اعتراف سے انسان نیک نہیں بلکہ سالم بنتا ہے۔ سالم انسان اپنی روشنی اور تاریکی دونوں کو پہچانتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں پر پتھر نہیں پھینکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر گناہ کا بیج اس کے اپنے دل میں بھی موجود ہے۔شیطان سے جنگ کا واحد راستہ خود شناسی ہے۔جس دن انسان اپنے اندر کے اندھیرے کو پہچان لیتا ہے،اسی دن باہر کا شیطان مر جاتا ہے۔
ریاستیں بھی ہمیشہ انسانوں کی طرح باہر کے دشمنوں سے نہیں گرتیں۔ اکثر ان کی موت اندر سے شروع ہوتی ہے ۔ خاموش، آہستہ اور بڑی شائستگی کے ساتھ ۔ پاکستان کی تاریخ بھی کسی ایک حملہ آور، کسی ایک سازش یاکسی ایک دن کی کہانی نہیں ، یہ اندر کے شیطانوں کی طویل یلغا کا نوحہ ہے۔ یہ شیطان سینگوں والے نہیں تھے اصل المیہ یہ ہے کہ انہوں نے ریاست پر بندو ق سے نہیں بلکہ اخلاقی زوال ، فکری قبضے اور ادارہ جاتی گل سٹر سے قبضہ کیا ۔یہ ایک اجتماعی ناکامی تھی اس لیے کہ عوام نے تھکن کے عالم میں آنکھیں بند کرلیں تھیں۔ اندر کے شیطان کامیاب اس لیے ہوئے کیونکہ لوگوں نے انہیں پہچاننے سے انکار کیا۔ لہٰذا جب تک سماج اپنے اندر کے شیطان کو تسلیم نہیں کرے گا نہ کوئی انقلاب آئے گا، نہ کوئی نجات ۔ کیونکہ اصل جنگ اقتدار کی نہیں ، ضمیر کی ہے ۔ ذہن میں رہے ہر انسان کے اندر ایک شیطان بستا ہے ۔ خواہش ، خوف ،انا اور طاقت کی بھوک کا مجموعہ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موجود ہے مسئلہ یہ ہے کہ اسے روکنے والا ضمیر کتنامضبوط ہے ۔
٭٭٭