وجود

... loading ...

وجود

مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

جمعرات 01 جنوری 2026 مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز نتن یاہو سے ملاقات کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار نہیں ڈالے تو 59ممالک انہیں غزہ سے مٹا دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہمارے پاس کچھ ایسے ملک ہیں جوغزہ جا کر ایسا کروا لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک نے ہمیں کہا کہ آپ ہمیں یہ کرنے دیں۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان میں پاکستان بھی شامل ہے ۔واضح رہے کہ دوسری طرف امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر غور کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ تعمیر نو اور روزگار کے مواقع ایک اقتصادی محرک ثابت ہوں گے جو فرقین کو طویل مدتی امن کی طرف راغب کریں گے ۔ اس وژن کا مقصد غزہ کو ایک سرمایہ کاری اورسیاحتی مرکز بنانا ہے۔ غزہ کی پٹی روئے زمین پر سب سے گنجان آباد اور غربت زدہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ عزہ کی تاریخ ایسے متعدد مسلح تنازعات سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے اس خطے کی حالیہ تاریخ تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس چھوٹی سی پٹی کی اپنی تاریخ کیا ہے جسے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور خود فلسطینی بھی دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل قرار دیتے ہیں۔
ستمبر 1992میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن نے ایک امریکی وفد سے ملاقات میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غزہ سمندر میں غرق ہو جائے لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ناممکن ہے۔ چنانچہ ہمیں کوئی حل نکالنا ہوگا ۔غزہ کی تاریخ تقریبا چار ہزار سال پرانی ہے اور اس کی کہانی بیرونی حملوں آور قبضوں سے بھری ہوئی ہے۔ مختلف زمانوں میں مختلف سلطنتوں نے اس پر حکومت بھی کی اور اسے تاراج بھی کیا جس میں قدیم مصر سے لے کرسلطنت عثمانیہ تک دنیا کی طاقتور حکومتیں شامل رہیں۔ غزہ کو سکندر اعظم رومیو اور پھر مسلمانوں نے حضرت عمر بن العاص کی سربراہی میں فتح کیا ۔ یوں ترقی اور تباہی کے اس سفر میں غزہ میں آباد ہونے والوں اور ان کی مذہبی شناخت بھی وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی۔ 1917 تک غزہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا جس کی پہلی عالمی جنگ میں شکست کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے زیر ِ اثر آیا۔ 1919کی پیرس امن کانفرنس میں فاتح یورپی طاقتوں نے ایک متحدہ عرب سلطنت کے قیام کو روکنے کے لیے پورے خطے کو تقسیم کر دیا۔ 1947میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے فیصلہ کیا کہ فلسطین کو تین حصوں میں بانٹ دیا جائے۔ 55فیصد علاقے میں یہودی اپنی ریاست بنا لیں۔ بیت المقدس کو عالمی مینڈیٹ کے زیر اثر رکھا جائے اور باقی ماندہ حصہ بشمول غزہ مقامی عرب باشندوں کے حصے میں چلا جائے ۔1948کو جب اس قرارداد نے فلسطین سے برطانوی راج کا خاتمہ کیا تو اسی دن اسرائیل کی آزاد ریاست قائم کر لی گئی اور یوں پہلی عرب اسرائیل جنگ کا بھی آغاز ہوا ،جس میں لاکھوں مقامی فلسطینی بے گھر ہونے اور غزہ کی پٹی میں بس گئے۔ پہلی عرب اسرائیل جنگ کا خاتمہ ہوا تو غزہ کی پٹی پر مصر کا قبضہ ہو چکا تھا جو 1967تک برقرار رہا ۔1967کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مصر اور شام پر مشتمل متحدہ عرب ریپبلک سمیت اردن اور عراق کو شکست دی اور غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں غزہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ اسرائیل کی فتح نے پرتشدد واقعات کے ایک ایسے تسلسل کو جنم دیا جو آج تک رک نہیں سکا ۔اسرائیل کے خلاف پہلی فلسطینی انتفادہ تحریک کا آغاز 1987میں غزہ سے ہی ہوا اوراسی سال حماس وجود میں آئی تھی۔ 1993میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امریکی ثالثی میں اوسلو معاہدہ ہوا تو فلسطین نیشنل اتھارٹی کا قیام ہوا جسے غزہ کی پٹی اور غرب اردن کے درمیان چند علاقوں میں محدود خود مختاری دی گئی۔ اسرائیل نے 2005میں دوسری اور پہلے سے زیادہ پرتشدد انتفادہ تحریک کے بعد غزہ کی پٹی سے فوج اور 7000یہودی اہلکاروں کا انخلا کیا۔ ایک ہی سال بعد حماس نے انتخابات میں فلسطینیوں کی دوسری تنظیم فتح کو شکست دی اور یوں دونوں کے درمیان طاقت کی جنگ کا آغاز ہو گیا جس میں ایک جانب فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کی فتح جماعت تھی تو دوسری جانب حماس ،تا ہم حماس تین جنگوں اور 16سال کے اسرائیلی محاصرے کے باوجود اب تک غزہ میں برسراقتدار ہے۔ اسرائیل ،امریکہ ،یورپی یونین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک حماس یا اس کے عسکری ونگ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں تاہم اسے ایران کی حمایت اور معاشی مدد حاصل ہے جو اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔ حماس کے برسر اقتدار آنے کے بعد اسرائیل اور مصر نے غزہ کا زمینی فضائی اور سمندری محاصرہ کر لیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مطالبے کے باوجود اسرائیل نے 2007سے اس محاصرے کو ختم نہیں کیا ۔اس محاصرے کی وجہ سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت پرپابندیاں لگ گئیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے باہر نکلنے پر پابندی عائد ہے اور صرف طبی ایمرجنسی میں ہی کسی کو باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اسرائیل کے 16سالہ محاصرے نے غزہ کی پٹی میں معیشت کو تباہ کر دیا۔ عالمی بینک کے مطابق اس علاقے میں بے روزگاری کا تناسب 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہاں کی 65فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 63فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ یہاں کی نصف آبادی 19 سال سے کم عمر ہے لیکن ان کے پاس معاشی ترقی کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی بیرونی دنیا تک رسائی کا کوئی ذریعہ ۔اقوام متحدہ کے مطابق مسلسل تشدد کا سامنا کرنے کی وجہ سے یہاں بچوں کی ایک پوری نسل آباد ہے جسے طویل المدتی نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے لیکن انہیں کسی قسم کی مدد حاصل نہیں۔ یہاں کی آبادی خصوصا نوجوانوں میں اقوام متحدہ کی ہی رپورٹ کے مطابق ذہنی صحت سے جڑے مسائل بشمول ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل کی ہی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق 23لاکھ لوگوں کی یہ آبادی دنیا میں سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسی علاقے میں قائم آٹھ کیمپوں میں تقریباً چھ لاکھ پناہ گزین بھی رہائش پذیر ہیں۔ واضح رہے کہ لندن جیسے شہر میں فی اسکوائر کلومیٹر علاقے میں 5700لوگ رہتے ہیں لیکن غزہ میں اتنے ہی علاقے میں یہ اعداد و شمار 9000 تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں بجلی کی دستیابی بھی ہر وقت نہیں ہوتی ۔اقوام متحدہ کے مطابق زیادہ تر گھروں میں دن میں صرف تین گھنٹے بجلی میسر ہوتی ہے جو اسرائیل فراہم کرتا ہے۔ غزہ میں صرف ایک بجلی کا پلانٹ ہے جبکہ کچھ مقدار میں بجلی مصر سے ملتی ہے۔ زیادہ تر رہائشیوں کو پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے بیشتر ہسپتال اور طبی مراکز ماضی کی لڑائیوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یہاں 22 طبی مراکز چلانے میں مدد دی جاتی ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے حالیہ بمباری کے بعد یہاں کی آبادی کے حالات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ میں دو لاکھ سے زیادہ فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے جن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو چکے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ غزہ میں فلسطینی جس طرح سسک سسک کرزندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی اور ان حالات میں اسلامی ممالک کی مدد سے حماس کی آڑ میں سب کا صفایا کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ کیا اسے انسانیت کہتے ہیں ؟کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ اسلامی ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے یہ سوال کرنا چاہیے اگر وہ زندہ ہے!
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

فنا کی کہانی وجود جمعرات 01 جنوری 2026
فنا کی کہانی

آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت وجود بدھ 31 دسمبر 2025
آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت

بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟ وجود بدھ 31 دسمبر 2025
بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر