وجود

... loading ...

وجود

فنا کی کہانی

جمعرات 01 جنوری 2026 فنا کی کہانی

بے لگام / ستار چوہدری

پہلے آپ اللہ تعالیٰ کے اس نظام پرغورکریں۔۔۔!!اس نظام کو ہم ” نظام شمسی ” کہتے ہیں، سورج نظام شمسی کا مرکز، روشنی اورحرارت کا
بنیادی ذریعہ ہے ، یہ ہیں سیارے ،عطارد،زہرہ،زمین،مریخ،مشتری،زحل،یورینس،نیپچون، تمام سیارے بیضوی مدار میں سورج کے گرد
گردش کرتے ہیں، اورہر سیارے کی رفتاراورمدار مختلف ہوتا ہے ۔ نظام شمسی میں سیاروں کی گردش کوئی اتفاقی یا وقتی عمل نہیں بلکہ کائنات کی
عمرجتنا قدیم اور نظم و ضبط سے بندھا ہوا سلسلہ ہے ۔ سائنس کے مطابق نظام شمسی تقریباً ساڑھے چار ارب سال پہلے وجود میں آیا، اور تب
سے لے کر آج تک تمام سیارے سورج کے گرد اپنے اپنے مقررہ مدار میں گردش کر رہے ہیں، یہ اربوں سالہ گردش اس بات کی گواہ ہے کہ
کائنات محض ہنگامہ نہیں بلکہ ایک انتہائی باریک حساب، توازن اورقوانین فطرت کی پابند ہے ۔ سورج، جو نظام شمسی کا مرکز ہے ، اپنی بے پناہ
کمیت کی بدولت کشش ثقل پیدا کرتا ہے ، اور یہی کشش ہر سیارے کو اس کے مدار میں باندھے رکھتی ہے ۔ سیارے نہ سورج میں گرتے ہیں
اور نہ ہی خلا میں بکھر جاتے ہیں، کیونکہ ان کی رفتار اور سورج کی کشش کے درمیان ایک نازک مگر کامل توازن قائم ہے ۔ہرسیارہ اپنے مدار
میں ایک غیر مرئی مگر مضبوط زنجیر سے بندھا محسوس ہوتا ہے ۔ یہ زنجیر کشش ثقل ہے ، جو نظر نہیں آتی مگر اس کے اثرات پورے نظام شمسی پر
حاوی ہیں ۔
زمین، جس پر ہم بستے ہیں، تقریباً ساڑھے چار ارب سال سے اسی رفتاراوراسی فاصلے پر سورج کے گرد گھوم رہی ہے ۔ اگر زمین کا مدار
معمولی سا بھی بدل جائے ، اگر وہ سورج کے ذرا قریب آ جائے توپوری دنیا جل کرراکھ بن جائے ،اگر ذرا دور ہو جائے تو سردی سے سب کچھ منجمد ہوجائے گا۔ یہی حال باقی سیاروں کا ہے ، ہر ایک اپنے مدار میں اپنی بقا کا قرض دار ہے ۔کوئی سیارہ اپنے مدار سے معمولی سا بھی ہٹ جائے توکائنات کا نظام تباہ ہوجائے گا،کیونکہ ایک سیارے کا اگرمدار بگڑتا ہے تو دوسروں سیاروں کا بھی مدار بگڑجائے گا اور پوری دنیا تباہ ہوجائے گی، نظامِ شمسی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے توازن کا نام ہے ۔ یہ اربوں سالہ مسلسل گردش ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات میں استحکام محض طاقت سے نہیں بلکہ توازن سے قائم ہے ۔ سورج اپنی جگہ قائم ہے ، سیارے اپنی حدود میں رواں ہیں، اور یہی پابندی زندگی، وقت اوربقا کی ضامن ہے ۔ اگر یہ نظم ایک لمحے کیلئے بھی ٹوٹ جائے تو دنیا ختم ہوجائے گی، بقا کا راز مدار میں رہنے میں ہے ، حد سے تجاوز میں نہیں۔ کائنات میں جو اپنے دائرے میں رہتا ہے وہ صدیوں نہیں بلکہ اربوں سال زندہ رہتا ہے ، اور جو اپنی راہ سے ہٹتا ہے وہ فنا کی کہانی بن جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کو اتنا پیچیدہ نظام بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ ؟کبھی ہم نے غورکیا۔۔۔؟ بس سیاروں کے نام ہی یاد رکھے ہوئے ،تعلیمی اداروں میں بچے بس نظام شمسی پڑھ لیتے ہیں، ہم سوچتے نہیں،سوچوں پرپہرے لگائے ہوئے ،ہمیں نظام شمسی کیا سبق دے رہا۔۔۔ ؟ بعد میں بات کرتے ہیں۔
اب آپ ”زمینی خدا” کے نظام پرغورکریں۔۔۔!!امریکی فوجی نظام میں کمان اور جنرل سربراہان دو الگ مگر باہم مربوط تصورات ہیں، امریکہ کے پاس اس وقت 11یونیفائیڈ کامبیٹنٹ کمانڈز ہیں۔ یہ وہ اعلیٰ ترین عملی کمانیں ہیں جو دنیا بھر میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ ان میں سے چھ جغرافیائی ہیں اور پانچ فنکشنل۔ ان 11کمانوں میں سے ہر ایک کی سربراہی ایک چار ستارہ جنرل یا ایڈمرل کرتا ہے ،یعنی کہ عملی طور پرامریکی فوج کے 11اعلیٰ ترین جنرل سربراہ ہیں جو براہ راست صدر اور وزیردفاع کو جواب دہ ہوتے ہیں،بات کی جائے فوج کے مرکزی عسکری سربراہان کی، یعنی وہ جرنیل جو پالیسی، مشاورت اور فوجی قیادت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، تو وہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کہلاتے ہیں۔ ان کی تعداد آٹھ ہے ، یہ جرنیل براہ راست جنگی کمان نہیں کرتے بلکہ صدراور وزیردفاع کو عسکری مشورہ دیتے ہیں، امریکی فوجی نظام میں تمام کمانڈرز کا ایک ساتھ بیٹھنا یا آزادانہ آپس میں ملاقات کرنا قانونی اور انتظامی طور پر محدود ہے ، فوجی ڈھانچے کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ طاقت کسی ایک گروہ یا جرنیلوں کے اجتماع میں مرتکز نہ ہو،اس لئے تمام جرنیلوں کا آپس میں کوئی مستقل یا خودمختار فورم نہیں ہے جہاں وہ بغیر سیاسی قیادت کی موجودگی کے فیصلے کر سکیں۔ ان کی براہ راست کمان کی زنجیر صدر اور وزیر دفاع تک جاتی ہے ، نہ کہ ایک دوسرے کے ذریعے ۔ کمان کے سربراہ براہ راست ایک دوسرے کو احکامات نہیں دے سکتے ، نہ ہی اجتماعی طور پر کوئی پالیسی یا جنگی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ امریکی نظام میں فوج، ریاست کے ماتحت ہے ، ریاست فوج کے ماتحت نہیں، اس لیے طاقت کو منتشر رکھا گیا ہے ، رابطے کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے ، اور فیصلہ سازی کو سول قیادت کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے ۔امریکی آئین 1787میں لکھا گیا، 238سال ہوگئے ہیں۔آج تک ایک بار بھی چند لمحوں کیلئے بھی آئین معطل نہیں ہوا اور نہ ہی ان اڑھائی صدیوں میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی ہے ،کسی جنرل نے ایک تک بغاوت نہیں کی، نہ آئین توڑا۔ پوری امریکی تاریخ میں جنرل ڈگلس میک آرتھرنے کوریا کی جنگ کے دوران صدر ہیری ٹرومین کی پالیسیوں پراختلاف کیا تھا،لیکن بغاوت نہیں کی تھی،صدر ہیری نے انہیں برطرف کردیا تھا، امریکی فوج دنیا کی طاقتورترین فوج ہے ،دنیا کا جدید ترین اسلحہ ان کے پاس ،دنیا بھر میں انکے اڈے ،اربوں ڈالرکے فنڈز ہیں۔ 11 کمانوں کے سربراہ،8جوائنٹ چیف آف اسٹاف، صدر کے سامنے ‘بلی ” بن کر کھڑے ہوتے ہیں،کسی کی ہمت نہیں آگے سے کوئی ایک لفظ انکارکا بول لے ،صدر جب چاہے کسی کو برطرف کردے ۔یہ ہے امریکی نظام۔۔۔۔ نظام شمسی کی طرح،ہرجنرل،ہر ادارہ اپنی حدود میں رہتا ہے ،صدیوں سے کوئی ” سیارہ ” اپنے مدار سے ذرا برابر بھی آگے ،پیچھے نہیں ہوا۔
امریکی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتورجنرل بھی آئین سے بڑا نہیں ہوتا،بندوق کبھی آئین کے مقابل نہیں آئی،یہی ہے وہ نظام جس کی بنا کر امریکا پوری دنیا پرحکومت کررہا۔ امریکا نے تو” نظام شمسی ” سے سبق حاصل کرلیا اور پوری دنیا پرحکمرانی کررہا،ہم نے صرف سیاروں کے نام رٹہ لگا کر یاد کئے ہیں۔کائنات میں استحکام طاقت سے نہیں، توازن سے قائم ہے ، جو اپنے دائرے میں رہتے ہیں، وہی زندہ رہتے ہیں ،جو اپنی راہ سے ہٹتے ہیں وہ فنا کی کہانی بن جاتے ہیں۔ہم پاکستان حاصل کرکے 24سال بعد ہی فنا کی کہانی بن گئے تھے ، کیونکہ ہم دائرے میں نہیں رہتے ،طاقت سے استحکام قائم کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ ہی موجودہ پاکستان کوسلامت رکھے ،ہم تو ”دائرے ”میں رہنے والے لوگ نہیں ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

فنا کی کہانی وجود جمعرات 01 جنوری 2026
فنا کی کہانی

آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت وجود بدھ 31 دسمبر 2025
آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت

بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟ وجود بدھ 31 دسمبر 2025
بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر