... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
پہلے آپ اللہ تعالیٰ کے اس نظام پرغورکریں۔۔۔!!اس نظام کو ہم ” نظام شمسی ” کہتے ہیں، سورج نظام شمسی کا مرکز، روشنی اورحرارت کا
بنیادی ذریعہ ہے ، یہ ہیں سیارے ،عطارد،زہرہ،زمین،مریخ،مشتری،زحل،یورینس،نیپچون، تمام سیارے بیضوی مدار میں سورج کے گرد
گردش کرتے ہیں، اورہر سیارے کی رفتاراورمدار مختلف ہوتا ہے ۔ نظام شمسی میں سیاروں کی گردش کوئی اتفاقی یا وقتی عمل نہیں بلکہ کائنات کی
عمرجتنا قدیم اور نظم و ضبط سے بندھا ہوا سلسلہ ہے ۔ سائنس کے مطابق نظام شمسی تقریباً ساڑھے چار ارب سال پہلے وجود میں آیا، اور تب
سے لے کر آج تک تمام سیارے سورج کے گرد اپنے اپنے مقررہ مدار میں گردش کر رہے ہیں، یہ اربوں سالہ گردش اس بات کی گواہ ہے کہ
کائنات محض ہنگامہ نہیں بلکہ ایک انتہائی باریک حساب، توازن اورقوانین فطرت کی پابند ہے ۔ سورج، جو نظام شمسی کا مرکز ہے ، اپنی بے پناہ
کمیت کی بدولت کشش ثقل پیدا کرتا ہے ، اور یہی کشش ہر سیارے کو اس کے مدار میں باندھے رکھتی ہے ۔ سیارے نہ سورج میں گرتے ہیں
اور نہ ہی خلا میں بکھر جاتے ہیں، کیونکہ ان کی رفتار اور سورج کی کشش کے درمیان ایک نازک مگر کامل توازن قائم ہے ۔ہرسیارہ اپنے مدار
میں ایک غیر مرئی مگر مضبوط زنجیر سے بندھا محسوس ہوتا ہے ۔ یہ زنجیر کشش ثقل ہے ، جو نظر نہیں آتی مگر اس کے اثرات پورے نظام شمسی پر
حاوی ہیں ۔
زمین، جس پر ہم بستے ہیں، تقریباً ساڑھے چار ارب سال سے اسی رفتاراوراسی فاصلے پر سورج کے گرد گھوم رہی ہے ۔ اگر زمین کا مدار
معمولی سا بھی بدل جائے ، اگر وہ سورج کے ذرا قریب آ جائے توپوری دنیا جل کرراکھ بن جائے ،اگر ذرا دور ہو جائے تو سردی سے سب کچھ منجمد ہوجائے گا۔ یہی حال باقی سیاروں کا ہے ، ہر ایک اپنے مدار میں اپنی بقا کا قرض دار ہے ۔کوئی سیارہ اپنے مدار سے معمولی سا بھی ہٹ جائے توکائنات کا نظام تباہ ہوجائے گا،کیونکہ ایک سیارے کا اگرمدار بگڑتا ہے تو دوسروں سیاروں کا بھی مدار بگڑجائے گا اور پوری دنیا تباہ ہوجائے گی، نظامِ شمسی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے توازن کا نام ہے ۔ یہ اربوں سالہ مسلسل گردش ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات میں استحکام محض طاقت سے نہیں بلکہ توازن سے قائم ہے ۔ سورج اپنی جگہ قائم ہے ، سیارے اپنی حدود میں رواں ہیں، اور یہی پابندی زندگی، وقت اوربقا کی ضامن ہے ۔ اگر یہ نظم ایک لمحے کیلئے بھی ٹوٹ جائے تو دنیا ختم ہوجائے گی، بقا کا راز مدار میں رہنے میں ہے ، حد سے تجاوز میں نہیں۔ کائنات میں جو اپنے دائرے میں رہتا ہے وہ صدیوں نہیں بلکہ اربوں سال زندہ رہتا ہے ، اور جو اپنی راہ سے ہٹتا ہے وہ فنا کی کہانی بن جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کو اتنا پیچیدہ نظام بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ ؟کبھی ہم نے غورکیا۔۔۔؟ بس سیاروں کے نام ہی یاد رکھے ہوئے ،تعلیمی اداروں میں بچے بس نظام شمسی پڑھ لیتے ہیں، ہم سوچتے نہیں،سوچوں پرپہرے لگائے ہوئے ،ہمیں نظام شمسی کیا سبق دے رہا۔۔۔ ؟ بعد میں بات کرتے ہیں۔
اب آپ ”زمینی خدا” کے نظام پرغورکریں۔۔۔!!امریکی فوجی نظام میں کمان اور جنرل سربراہان دو الگ مگر باہم مربوط تصورات ہیں، امریکہ کے پاس اس وقت 11یونیفائیڈ کامبیٹنٹ کمانڈز ہیں۔ یہ وہ اعلیٰ ترین عملی کمانیں ہیں جو دنیا بھر میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ ان میں سے چھ جغرافیائی ہیں اور پانچ فنکشنل۔ ان 11کمانوں میں سے ہر ایک کی سربراہی ایک چار ستارہ جنرل یا ایڈمرل کرتا ہے ،یعنی کہ عملی طور پرامریکی فوج کے 11اعلیٰ ترین جنرل سربراہ ہیں جو براہ راست صدر اور وزیردفاع کو جواب دہ ہوتے ہیں،بات کی جائے فوج کے مرکزی عسکری سربراہان کی، یعنی وہ جرنیل جو پالیسی، مشاورت اور فوجی قیادت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، تو وہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کہلاتے ہیں۔ ان کی تعداد آٹھ ہے ، یہ جرنیل براہ راست جنگی کمان نہیں کرتے بلکہ صدراور وزیردفاع کو عسکری مشورہ دیتے ہیں، امریکی فوجی نظام میں تمام کمانڈرز کا ایک ساتھ بیٹھنا یا آزادانہ آپس میں ملاقات کرنا قانونی اور انتظامی طور پر محدود ہے ، فوجی ڈھانچے کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ طاقت کسی ایک گروہ یا جرنیلوں کے اجتماع میں مرتکز نہ ہو،اس لئے تمام جرنیلوں کا آپس میں کوئی مستقل یا خودمختار فورم نہیں ہے جہاں وہ بغیر سیاسی قیادت کی موجودگی کے فیصلے کر سکیں۔ ان کی براہ راست کمان کی زنجیر صدر اور وزیر دفاع تک جاتی ہے ، نہ کہ ایک دوسرے کے ذریعے ۔ کمان کے سربراہ براہ راست ایک دوسرے کو احکامات نہیں دے سکتے ، نہ ہی اجتماعی طور پر کوئی پالیسی یا جنگی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ امریکی نظام میں فوج، ریاست کے ماتحت ہے ، ریاست فوج کے ماتحت نہیں، اس لیے طاقت کو منتشر رکھا گیا ہے ، رابطے کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے ، اور فیصلہ سازی کو سول قیادت کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے ۔امریکی آئین 1787میں لکھا گیا، 238سال ہوگئے ہیں۔آج تک ایک بار بھی چند لمحوں کیلئے بھی آئین معطل نہیں ہوا اور نہ ہی ان اڑھائی صدیوں میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی ہے ،کسی جنرل نے ایک تک بغاوت نہیں کی، نہ آئین توڑا۔ پوری امریکی تاریخ میں جنرل ڈگلس میک آرتھرنے کوریا کی جنگ کے دوران صدر ہیری ٹرومین کی پالیسیوں پراختلاف کیا تھا،لیکن بغاوت نہیں کی تھی،صدر ہیری نے انہیں برطرف کردیا تھا، امریکی فوج دنیا کی طاقتورترین فوج ہے ،دنیا کا جدید ترین اسلحہ ان کے پاس ،دنیا بھر میں انکے اڈے ،اربوں ڈالرکے فنڈز ہیں۔ 11 کمانوں کے سربراہ،8جوائنٹ چیف آف اسٹاف، صدر کے سامنے ‘بلی ” بن کر کھڑے ہوتے ہیں،کسی کی ہمت نہیں آگے سے کوئی ایک لفظ انکارکا بول لے ،صدر جب چاہے کسی کو برطرف کردے ۔یہ ہے امریکی نظام۔۔۔۔ نظام شمسی کی طرح،ہرجنرل،ہر ادارہ اپنی حدود میں رہتا ہے ،صدیوں سے کوئی ” سیارہ ” اپنے مدار سے ذرا برابر بھی آگے ،پیچھے نہیں ہوا۔
امریکی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتورجنرل بھی آئین سے بڑا نہیں ہوتا،بندوق کبھی آئین کے مقابل نہیں آئی،یہی ہے وہ نظام جس کی بنا کر امریکا پوری دنیا پرحکومت کررہا۔ امریکا نے تو” نظام شمسی ” سے سبق حاصل کرلیا اور پوری دنیا پرحکمرانی کررہا،ہم نے صرف سیاروں کے نام رٹہ لگا کر یاد کئے ہیں۔کائنات میں استحکام طاقت سے نہیں، توازن سے قائم ہے ، جو اپنے دائرے میں رہتے ہیں، وہی زندہ رہتے ہیں ،جو اپنی راہ سے ہٹتے ہیں وہ فنا کی کہانی بن جاتے ہیں۔ہم پاکستان حاصل کرکے 24سال بعد ہی فنا کی کہانی بن گئے تھے ، کیونکہ ہم دائرے میں نہیں رہتے ،طاقت سے استحکام قائم کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ ہی موجودہ پاکستان کوسلامت رکھے ،ہم تو ”دائرے ”میں رہنے والے لوگ نہیں ہے ۔
٭٭٭