وجود

... loading ...

وجود

بھارت کا آبی حملہ۔۔ ریاستی کمزوری، سفارتی ناکامی

هفته 30 اگست 2025 بھارت کا آبی حملہ۔۔ ریاستی کمزوری، سفارتی ناکامی

محمد آصف

دنیا کے بیشتر خطوں میں پانی کے ذخائر پر قبضہ یا ان کے استعمال میں بالا دستی حاصل کرنا اب ایک اہم جغرافیائی و سیاسی ہتھیار بن چکا ہے ۔ جنوبی ایشیا میں یہ مسئلہ اور بھی زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہاں کے بڑے دریا سرحد پار سے آتے ہیں اور ان پر مختلف ریاستوں کا انحصار ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازع کی جڑیں قیامِ پاکستان کے وقت سے موجود ہیں، جب مشرقی پنجاب سے پاکستان کی نہروں کا پانی کاٹ دیا گیا تھا۔ اگرچہ 1960ء میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بھارت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریاؤں پر ڈیم اور بیراج تعمیر کیے ، جس سے پاکستان کے حصے کے پانی میں کمی واقع ہوئی۔ یہ صورتحال نہ صرف ہمارے لیے ماحولیاتی اور زرعی بحران کا سبب بنی بلکہ ایک ”آبی حملہ” کی صورت اختیار کر گئی۔ پاکستان کے لیے پانی زندگی اور معیشت کا بنیادی ذریعہ ہے کیونکہ ہماری زراعت، صنعت اور توانائی کا انحصار اسی پر ہے ۔ بھارت نے دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر مختلف منصوبے شروع کر کے پاکستان کے پانی کو روکنے کی پالیسی اپنائی ہے ۔ ان منصوبوں میں بگلیہار ڈیم، کشن گنگا اور رتلے منصوبہ شامل ہیں۔ بھارت ان ڈیموں کے ذریعے نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے بھی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے ۔ پاکستان بارہا ان خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے کہ بھارت کی یہ حکمت عملی ہمارے لیے ایک وجودی خطرہ ہے، مگر ہماری کمزور خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاسی عدم استحکام نے ان خدشات کو مؤثر انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ناکامی دکھائی۔
یہ حقیقت ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک متوازن حل کے طور پر سامنے آیا تھا، جس کے تحت تین مشرقی دریا (بیاس، ستلج اور راوی) بھارت کے حصے میں اور تین مغربی دریا (سندھ، جہلم اور چناب) پاکستان کے حصے میں آئے ۔ مگر وقت کے ساتھ بھارت نے مغربی دریاؤں پر بھی ڈیم اور بجلی گھروں کی تعمیر شروع کر دی۔ اگرچہ یہ منصوبے تکنیکی طور پر ”رن آف دی ریور”کہلاتے ہیں، لیکن ان سے پانی کے بہاؤ پر براہِ راست اثر پڑتا ہے ۔ پاکستان بارہا عالمی ثالثی عدالت اور عالمی بینک سے رجوع کر چکا ہے مگر بھارت کی لابنگ، ہماری سفارتی کمزوری اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے بھارت کے ساتھ معاشی مفادات کی وجہ سے پاکستان کے موقف کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔
ریاستی سطح پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ہمیشہ وقتی ردعمل دیا ہے ۔ بھارت کی طرف سے کسی نئے منصوبے کا اعلان ہوتے ہی ہمارے حکام میڈیا پر شور مچاتے ہیں، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر رہتے ہیں۔ نہ ہی پاکستان نے اپنی آبی سفارت کاری کو مؤثر بنایا اور نہ ہی عالمی فورمز پر مستقل حکمت عملی اختیار کی۔ اس کے برعکس بھارت نے بڑی مہارت کے ساتھ دنیا کو یہ باور کرایا کہ اس کے منصوبے صرف توانائی کے لیے ہیں اور پاکستان کا اعتراض بلاجواز ہے ۔ یہ وہ نکتہ ہے جو ہماری سفارتی ناکامی کو نمایاں کرتا ہے ۔ پاکستان کی ایک اور بڑی کمزوری اپنی اندرونی آبی پالیسی کا فقدان ہے ۔ ہمارے پاس نہ جامع ”واٹر پالیسی”ہے اور نہ ہی پانی کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے کوئی بڑے منصوبے بروقت مکمل کیے گئے ۔ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے کو سیاسی تنازعات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اسی طرح دیگر ڈیموں اور ذخائر کی تعمیر پر بھی عدم اتفاق اور سیاسی عدم استحکام نے ترقی کی رفتار سست کر دی۔
بھارت نے جہاں اپنی آبی انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا، وہیں ہم نے اپنی صلاحیتیں صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رکھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان آج پانی کی شدید قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ۔ آبی بحران کے اسباب میں آبادی کا بڑھنا، بارشوں کے غیر متوازن پیٹرن، گلیشیئرز کے پگھلنے اور ماحولیاتی تبدیلی کا کردار بھی ہے ، لیکن اس بحران کو شدت دینے میں بھارت کی آبی جارحیت بنیادی عنصر ہے ۔ اگر پاکستان کے پاس اپنی آبی پالیسی، مضبوط ذخائر اور سفارتی قوت ہوتی تو بھارت کے لیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ ہماری ریاستی کمزوریوں نے دشمن کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ہمیں ہماری ہی زمین پر پانی کی بوند بوند کو ترسا دے ۔ سفارتی سطح پر پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ سارک، او آئی سی اور دیگر علاقائی و عالمی فورمز پر بھارت کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتا۔ ہمیں چاہیے تھا کہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ بھارت کی آبی جارحیت خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے ، کیونکہ پانی کی جنگ کسی بھی وقت روایتی جنگ کو جنم دے سکتی ہے ۔ بدقسمتی سے ہماری خارجہ پالیسی زیادہ تر دفاعی نوعیت کی رہی اور ہم نے اس مسئلے کو عالمی ترجیحات میں شامل کرانے کے لیے کوئی بڑی مہم نہیں چلائی۔ اس تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے اندر بھی پانی کے انتظام میں سنگین غفلت برتی جاتی ہے ۔ ہماری نہریں پرانی ہیں، جن میں پانی کا زیاں 40 فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔ پانی کی تقسیم میں صوبائی اختلافات بھی موجود ہیں، جس سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے ۔ جب اندرونی سطح پر ہم پانی کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں ناکام رہیں گے تو بھارت کے سامنے ہمارا مقدمہ خود بخود کمزور پڑ جائے گا۔ اگر آج ڈیم ہوتے تو دریاؤں کا پانی روک لیا جاتا اور پھر دریا اتنی تباہی نہ کرتے جو ابھی پنجاب اور سندھ میں ہورہی ہے ۔ آج پھر پنجاب اور سندھ کے کئی علاقے طوفانی سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، ہزاروں گھر تباہ، کھیت ڈوب گئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ بچایا جا سکتا تھا؟جی ہاں! اگر کالا باغ ڈیم کے ساتھ کچھ مذید ڈیم بھی بن چکے ہوتے تو یہی پانی ہمارے لیے تباہی نہیں بلکہ برکت بن جاتا۔ ہم اس پانی کو تھل کے صحرا کی طرف موڑ کر لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو سرسبز کر سکتے تھے ۔ یہی پانی ہماری زراعت کو طاقت دیتا، کسان خوشحال ہوتا، اور ملک خوراک میں خود کفیل ہو جاتا۔ نہ سندھ کو نقصان ہونا تھا، نہ پنجاب کو، نہ خیبر پختونخوا کو۔ کالا باغ ڈیم صرف سیلاب سے بچاؤ ہی نہیں بلکہ بجلی کا سب سے سستا ذریعہ بھی ہے ۔ یہ منصوبہ ملک کو توانائی بحران سے نکال سکتا ہے اور ہمیں بیرونی قرضوں سے آزاد کر سکتا ہے ۔لیکن افسوس! سیاست اور اختلافات نے اسے صرف ایک تنازع بنا دیا۔ اب وقت ہے کہ ہم بطور قوم اپنی آواز بلند کریں اور قومی پالیسی کا مطالبہ کریں تاکہ یہ خواب حقیقت بنے ۔ ڈیم بنانا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے ۔ اگر آج فیصلہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ آج پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانی کے مسئلے کو قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھے ۔ اس کے لیے ہمیں تین سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے : اول، ایک جامع اور مؤثر آبی پالیسی بنائی جائے جس میں ڈیموں کی تعمیر، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے ، اور زراعت میں جدید طریقوں کو اپنانے کی حکمت عملی شامل ہو۔ دوم، سفارتی سطح پر بھارت کی آبی جارحیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مستقل مہم چلائی جائے ، جس میں عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس کو شامل کیا جائے ۔ سوم، عوامی سطح پر پانی کے مؤثر استعمال اور بچت کی آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ اندرونی سطح پر ہماری کمزوریاں کم ہو سکیں۔ اختتامیہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کا آبی حملہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے ، مگر یہ ہمارے اندرونی کمزوریوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے ۔ اگر ہم نے اپنی ریاستی پالیسیوں کو مضبوط نہ کیا، سفارتی محاذ پر مؤثر کردار ادا نہ کیا، اور پانی کے انتظام میں اصلاحات نہ لائے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ ہماری بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جائے گا۔ پانی اب صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھیار ہے ، اور اس کے مقابلے کے لیے ہمیں متحد، مضبوط اور بصیرت افروز حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کا آبی حملہ۔۔ ریاستی کمزوری، سفارتی ناکامی وجود هفته 30 اگست 2025
بھارت کا آبی حملہ۔۔ ریاستی کمزوری، سفارتی ناکامی

بھارتی سپریم کورٹ کا کشمیری ریاست بحال کرنے سے انکار وجود هفته 30 اگست 2025
بھارتی سپریم کورٹ کا کشمیری ریاست بحال کرنے سے انکار

روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف وجود جمعه 29 اگست 2025
روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف

طاقت کا زعم وجود جمعه 29 اگست 2025
طاقت کا زعم

سوشل میڈیا کا مفید استعمال، ریاستی ذمہ داریاں، سیرت النبی ۖکی روشنی میں وجود جمعه 29 اگست 2025
سوشل میڈیا کا مفید استعمال، ریاستی ذمہ داریاں، سیرت النبی ۖکی روشنی میں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر