وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

جمعه 23 جنوری 2026 پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

محمد آصف

پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ دوبارہ ابھرنا اچانک نہیں بلکہ خارجہ پالیسی میں تدریجی تبدیلیوں، علاقائی روابط کے فروغ، معاشی سفارت کاری اور کثیرالجہتی عالمی فورمز میں فعال شرکت کا نتیجہ ہے ۔ ایک ایسے عالمی نظام میں جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور علاقائی صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں، پاکستان کا کردار بھی نئی صورت اختیار کر رہا ہے ، جو اس کی مجبوریوں اور دیرپا تزویراتی اہمیت دونوں کی عکاسی کرتا ہے ۔
آپریشن بنیانُ المرصوص پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر سامنے آیا ہے ، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے تاثر میں بھی نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے ۔ اس آپریشن ریاستی عزم کو ایک واضح اور منظم شکل دی، جس کے اثرات سکیورٹی، سیاست، معیشت اور سماجی نفسیات تک پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بجا ہے کہ آپریشن بنیانُ المرصوص کے بعد پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے ۔ریاست کی جانب سے یہ پیغام واضح تھا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی سطح پر بھی آپریشن بنیانُ المرصوص کے اثرات نمایاں ہیں۔ قومی سلامتی کے بیانیے نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اتفاقِ رائے کو جنم دیا۔ آپریشن بنیانُ المرصوص کے بعد پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں امکانات اور ذمہ داریاں دونوں بڑھ گئی ہیں۔ یہ آپریشن ریاستی عزم، قومی اتحاد اور قربانی کی علامت بن چکا ہے ۔ بدلتا ہوا پاکستان اب اس بات کا متقاضی ہے کہ امن، استحکام اور ترقی کو ایک جامع قومی وژن کے تحت آگے بڑھایا جائے ۔ اگر یہ وژن مستقل مزاجی اور دیانت داری کے ساتھ نافذ کیا گیا تو پاکستان نہ صرف داخلی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار، مستحکم اور پر اعتماد ریاست کے طور پر جو مقام حاصل کیا ہے اس میں مزید بہتری آئے گی۔آپریشن بنیان المرصوص کے بعد کا پاکستان اور پہلے کے پاکستان میں بہت فرق ہے ۔ اب پاکستان کے لئے عالمی طاقتیوں کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے جس کے کچھ دیگر فیکٹر بھی ہیں لیکن سب سے بڑا فیکٹر اپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی ہے اور بھارت کا گمنڈ غرور خاک میں ملانا پاکستان کو ممتاز بناتا ہے ۔
پاکستان کی عالمی اہمیت کے دوبارہ ابھرنے کی ایک بڑی وجہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے ۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث پاکستان مختلف خطوں کو آپس میں جوڑنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے ۔ بحیرۂ عرب تک رسائی، خصوصاً گوادر بندرگاہ کے ذریعے ، پاکستان کو عالمی تجارتی راستوں میں نمایاں حیثیت دیتی ہے ۔ جب دنیا میں روابط، توانائی کے راستوں اور سپلائی چین کے تنوع کو بڑھتی ہوئی اہمیت دی جا رہی ہے ، تو پاکستان کا جغرافیہ ایک بار پھر اسے علاقائی اور عالمی منصوبہ بندی کے مرکز میں لے آتا ہے ۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی بھی اس کے عالمی کردار کی بحالی کی عکاس ہے ۔ حالیہ برسوں میں اسلام آباد نے خالصتاً سلامتی پر مبنی نقطۂ نظر سے ہٹ کر ایک متوازن اور متنوع سفارت کاری اپنانے کی کوشش کی ہے ۔ ”جیو اکنامکس” کو رہنما اصول بنانے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی معاشی انضمام کو ترجیح دینا ہے ۔ یہ رجحان ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوششوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ معاشی روابط کو تصادم کی سیاست پر فوقیت دے کر پاکستان خود کو علاقائی استحکام کا سہولت کار ثابت کرنا چاہتا ہے ، نہ کہ محض عالمی تنازعات میں ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر۔
چین پاکستان کے عالمی کردار کے دوبارہ ابھرنے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ، خاص طور پر چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ایک اہم منصوبے کے طور پر سی پیک نے پاکستان کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ کیا اور عالمی توجہ حاصل کی۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے علاوہ یہ منصوبہ پاکستان کے وسیع تر یوریشیائی معاشی نیٹ ورکس میں انضمام کی علامت بھی ہے ۔ اگرچہ قرضوں، سلامتی اور عملدرآمد سے متعلق مسائل موجود ہیں، تاہم سی پیک نے پاکستان کو علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبوں میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر نمایاں کیا ہے ۔ اسی دوران پاکستان نے بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال اور وسعت دینے کی کوشش کی ہے ۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات اگرچہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم تجارت، ماحولیاتی تعاون اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں یہ تعلقات اب بھی اہم ہیں۔ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں، خاص طور پر جی ایس پی پلس جیسے تجارتی انتظامات کے ذریعے ، معاشی روابط کو مضبوط بنانے اور عالمی سپلائی چین میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ روس کے ساتھ تعلقات میں بھی محتاط بہتری دیکھی جا رہی ہے ، جو بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن کے مطابق پاکستان کی کثیر القطبی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے ۔
بین الاقوامی تنظیموں میں پاکستان کی فعال شرکت بھی اس کے عالمی کردار کی بحالی کو نمایاں کرتی ہے ۔ اقوامِ متحدہ، تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں پاکستان کا کردار اسے عالمی امور پر اپنی رائے پیش کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ، چاہے وہ تنازعات کے حل ہوں یا معاشی ترقی کے مسائل۔ کثیرالجہتی مکالموں کی میزبانی اور ان میں شرکت کے ذریعے پاکستان خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جو بین الاقوامی تعاون اور اجتماعی مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے ۔عالمی امن و سلامتی میں پاکستان کی شراکت بھی اس کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کا ایک اہم پہلو ہے ۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں سب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے ، جس پر اسے پیشہ ورانہ مہارت اور وابستگی کے اعتراف کے طور پر سراہا گیا ہے ۔ یہ کردار پاکستان کی سافٹ پاور میں اضافہ کرتا ہے اور اسے عالمی استحکام کے لیے سرگرم ملک کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملی بھی عالمی سطح پر اس کے تزویراتی کردار کو متاثر کرتی ہے ۔ معاشی استحکام اور اصلاحات پاکستان کے عالمی عزائم کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ ملک کو اب بھی قرضوں، مہنگائی اور ساختی کمزوریوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ، تاہم معاشی استحکام کے لیے حالیہ اقدامات عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی علامت ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پائیدار معاشی ترقی کے بغیر عالمی اثر و رسوخ ممکن نہیں۔
ماحولیاتی سفارت کاری بھی ایک نیا میدان بن کر ابھری ہے جس میں پاکستان عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کر رہا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کے باعث پاکستان نے ماحولیاتی ناانصافی اور موافقت کے عالمی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تباہ کن سیلابوں کے بعد بین الاقوامی ماحولیاتی فورمز پر پاکستان کی وکالت نے عالمی توجہ حاصل کی اور ماحولیاتی مذاکرات میں اس کی اخلاقی حیثیت کو مضبوط کیا۔ خود کو ایک متاثرہ ملک اور ایک فعال شراکت دار کے طور پر پیش کر کے پاکستان اپنے عالمی کردار کے دائرے کو وسعت دے رہا ہے ۔یوں پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا ایک یک رُخی یا اچانک تبدیلی نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی عمل ہے ۔ اس میں سفارتی حکمتِ عملی کی ازسرِ نو تشکیل، تزویراتی شراکت داریاں، معاشی روابط اور عالمی نظامِ حکمرانی میں فعال شرکت شامل ہے ۔ اگرچہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے اپنے کردار کی نئی تعریف ایک سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرتی ہے جو اسے عالمی سیاست کے حاشیے سے مرکز کی طرف لے جا سکتی ہے ۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی دنیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی شمولیت ضرورت اور موقع دونوں کا نتیجہ ہے ۔ عالمی غیر یقینی صورتِ حال اور علاقائی تبدیلیوں کے اس دور میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، سفارتی توازن، اور معاشی و ماحولیاتی سفارت کاری پر بڑھتا ہوا زور اسے عالمی سطح پر زیادہ نمایاں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ دوبارہ ابھرنا کس حد تک پائیدار اثر و رسوخ میں تبدیل ہوتا ہے ، اس کا انحصار داخلی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور اندرونی اصلاحات کو عالمی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر ہوگا۔ تاہم پاکستان کے عالمی منظرنامے پر دوبارہ متحرک ہونے کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں، جو اس کی بین الاقوامی اہمیت میں محتاط مگر بامعنی واپسی کی علامت ہیں۔ اگر پاکستان اپریشن بنیان المرصوص میں انڈیا کو زلت آمیز شکست نہ دیتا تو شائد آج پاکستان اس انداز میں نہ ہوتا جو اب دنیا اور عالمی طاقتوں کی نظر میں ہے ۔ اللہ پاکستان کو دشمن پر ہمیشہ غالب رکھے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر