... loading ...
ریاض احمدچودھری
سپریم کورٹ نے مقررہ تاریخ سے پہلے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی 10 اکتوبر کو درج ہے۔ایک وکیل نے یہ معاملہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس این وی انجاریا کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اٹھایاکہ وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی جلد فہرست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ”جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دیا جانا تھا۔۔۔” چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی 10 اکتوبر کو سماعت کے لیے درج ہے۔ بنچ نے وکیل کو اشارہ کیا کہ وہ معاملے کی سماعت کو آگے بڑھانے کے لیے مائل نہیں ہے۔ سی جے آئی گوائی نے کہا، ہم ایک آئینی بنچ کی سماعت کے بیچ میں ہیں (بنچ گورنروں اور صدر کے لیے ٹائم لائنز طے کرنے پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے)”۔
سپریم کورٹ نے 14 اگست کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کی ایک الگ درخواست پر مرکزی حکومت سے آٹھ ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا تھا۔ 14 اگست کو، جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ زمینی حقائق کو دھیان میں رکھنا ہوگا اور پہلگام میں جو کچھ ہوا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سی جے آئی کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا، “آپ کو زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ آپ پہلگام میں جو کچھ ہوا اسے نظر انداز نہیں کر سکتے…” سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ سے درخواست کی، جس میں جسٹس کے ونود چندرن بھی شامل تھے، آٹھ ہفتوں کے بعد اس معاملے کی سماعت کریں۔ بنچ نے آٹھ ہفتے بعد اس معاملے کی سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔دسمبر 2023 میں، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو متفقہ طور پر برقرار رکھا۔ اس نے یہ بھی حکم دیا کہ جموں و کشمیر میں ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کرائے جائیں اور اس کی ریاستی حیثیت کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔پچھلے سال سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی جس میں مرکز کو دو ماہ کے اندر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست ماہر تعلیم ظہور احمد بھٹ اور سماجی و سیاسی کارکن خورشید احمد ملک نے دائر کی تھی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کرنے میں تاخیر جموں و کشمیر میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کے کام کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرے گی، اس طرح وفاقیت کے نظریے کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، جو کہ آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ “درخواست میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات اور لوک سبھا انتخابات پرامن طریقے سے ہوئے، اور تشدد، بدامنی یا سیکورٹی سے متعلق تشویش کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف اب تو خود بھارت سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور عالمی دنیا بھی اس جانب توجہ مبذول کیے ہوئے ہے۔مظلوم کشمیریوں نے اب تک اپنی زندگی کا ہر پل خوف کے سائے میں اپنی زندگی کی امید میں گزارا ہے جن کیلئے کھانے پینے کی اشیاء اور جان بچانے والی ادویات تک رسائی بھی ممکن نہیں رہی۔ انکے روزگار چھن چکے ہیں’ کاروبار تباہ ہوچکے ہیں اور تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث انکے بچوں کا مستقبل بھی دائو پر لگ چکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں اپنی مذہبی عبادات کی بھی آزادی نہیں۔ وہ مساجد میں جاکر نماز جمعہ تک ادا نہیں کرسکے۔ جب آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیری کرفیو کی پابندیاں توڑ کر باہر نکلتے ہیں تو انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ مودی سرکار کے مظالم بڑھتے چلے ہی جارہے ہیں جو کشمیر میں ہندو راج کی منصوبہ بندی کئے بیٹھی ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے نمائندوں مختلف ملکوں کی پارلیمنٹ کے، زمینی حقائق جاننے کے خواہاں ارکان پر مقبوضہ کشمیر کے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ بھارت کے اس طرزِ عمل اور رویے نے دْنیا پر وہ سب کچھ عیاں کر دیا ہے جسے وہ چھپانا چاہتا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اور مغربی ممالک کے سیاستدان پاکستان کے اس مئوقف کی تائید کر رہے ہیں کہ بھارت دْنیا کو بتائے کہ ایک نارمل ریاست میں 80 لاکھ افراد محصور کیوں رکھے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں افراد کھلے پنجرے میں بند کر کے ہر چیز ٹھیک ہے کا تاثر اور دعویٰ کس کو دکھانے کیلئے ہے؟ مقبوضہ کشمیر میں خواتین پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اْس کی گواہی کسی اور نے نہیں بلکہ بھارت میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کے وفد نے دی ہے، جس نے حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا چھ روزہ دورہ کیا ہے۔ وفد نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ وادی پر اک سکوت کی کیفیت طاری ہے۔ آزادی اظہار مکمل پابند ہے۔ کشمیری خواتین ہر وقت آبروریزی اور چھیڑ چھاڑ کے خطرے سے دوچار رہتی ہیں۔ مودی سرکار کی ڈھٹائی کی حد ہو گئی ہے کہ عالمی رائے عامہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی روش پر ڈٹا ہوا ہے۔
٭٭ ٭