... loading ...
ریاض احمدچودھری
یوکرینی صدر کے دفتر نے ایسے خطرناک شواہد کا انکشاف کیا ہے کہ یوکرین میں شہری علاقوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزے پائے گئے ہیں جس سے ماسکو کی جنگی مشین کو ایندھن دینے کے حوالے سے بھارت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہو گیا ہے۔یوکرائنی حکام نے کہا کہ ڈرونز جو کہ رہائشی محلوں، نقل و حمل کے مراکز اور توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نے بڑے پیمانے پر تباہی، شہری ہلاکتوں اور انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔ ان مہلک ہتھیاروں میں بھارتی ساختہ پرزوں کی دریافت نے روسـیوکرین تنازعہ میں نئی دہلی کے غیرجانبداری کے دعووں کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔
مودی حکومت روس یوکرین لڑائی میں خود کو غیر جانبدار ظاہر کر رہی ہے تاہم روس کیساتھ اسکی اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری یوکرائن جیسے ایک خودمختار ملک کے خلاف جارحیت کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ڈرون طیاروںمیں بھارتی ساختہ پرزوں کے انکشاف نے مودی حکومت کی ساکھ مزید خراب کر دی ہے ،بھارتی حکومت نے مذکورہ انکشاف پر چپ سادھ رکھی ہے جو اسکے اخلاقی دیوالیہ پن کا عکاس ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف بھارت کی خارجہ پالیسی میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارت کے نزدیک انسانی حقوق اور عالمی اصولوں کی کوئی قدر وقیمت نہیں وہ صرف اور صرف تجارت اور اسٹریٹجک شراکت داری کو ترجیح دیتا ہے۔ ایک سیاسی مبصر کا کہنا ہے کہ روس یوکرین لڑائی بربادی کو جنم دے رہی ہے ، بے گناہ لوگ مر رہے ہیں لیکن بھارت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔اسے تباہی و بربادری اور بے گناہ لوگوں کے مرنے کی کوئی فکر نہیں ، اگر فکر ہے تو صرف اور صرف اپنے حقیر مفادات کی۔
جولائی میں، روسی افواج نے خارکیو پر 103 فضائی حملے کیے تھے، جن میں سے 81 حملے شاہد قسم کے ڈرونز کے ذریعے کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں 164 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں 20 بچے بھی شامل تھے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وشے انٹرٹیکنالوجی اور آورا سیمی کنڈکٹر کے الیکٹرانک پرزے بھارت میں اسمبل یا تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں روس شاہد 136 (Shahed 136) حملہ آور ڈرونز کی تیاری میں استعمال کرتا ہے۔گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے بانی اجے سریواستو نے بتایا کہ یہ پرزے غیر ملکی خریداروں کے ذریعے ایران کو دوسرے ممالک کے راستے منتقل ہو سکتے ہیں، جہاں انہیں ڈرونز میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ بھارت کی حکومت دوہری استعمال کی اشیا کی ممنوعہ مقامات پر برآمد کو سختی سے روکتی ہے۔ تاہم جب ایسی اشیا قانونی تیسرے ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں، تو ان کے استعمال کا پتہ لگانا تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔
یوکرینی انٹیلی جنس نے اپریل میں پہلی بار روسی ہتھیاروں میں بھارتی ساختہ پرزوں کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ روس نے امریکی پرزوں پر اپنی انحصاری کو تقریبا ختم کر دیا ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر بھارت سے درآمدی مال پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا کیونکہ بھارت روسی تیل کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے۔بھارت اور روس کے وزرائے خارجہ نے ماسکو میں ملاقات کے دوران باہمی تجارتی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں جانب سے اس بات کے بہت کم اشارے ملے کہ بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری ٹیرف سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں گے۔مغربی ممالک روسی خام تیل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری ماسکو کی یوکرین میں جاری جنگ کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ تاہم نئی دہلی کا کہنا ہے کہ تیل کی یہ خریداری خالصتاً تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ بھارت نے امریکا اور یورپی یونین پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ وہ خود بھی روس کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ ماسکو میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہائیڈرو کاربن کے شعبے میں، خصوصاً بھارتی مارکیٹ کو روسی تیل کی فراہمی کے حوالے سے تعاون کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہمیں توانائی کے وسائل کی تلاش اور نکالنے سے متعلق مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں باہمی دلچسپی ہے، جن میں روس کے مشرق بعید اور آرکٹک شیلف جیسے خطے بھی شامل ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس موقع پر کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بھارت اور روس کے تعلقات دنیا کی بڑی طاقتوں میں سب سے زیادہ مستحکم رہے ہیں۔ انہوں نے سوویت یونین کے دور سے چلی آنے والی قریبی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تاریخی رشتے کو اجاگر کیا۔ فارماسیوٹیکلز، زراعت اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں بھارت کی برآمدات میں اضافہ موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس نے یورپ کو تیل کی فراہمی محدود کر کے اپنی برآمدات کا رخ چین اور بھارت کی جانب موڑ دیا ہے، جو اس وقت روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ روس کے لیے خام تیل کی فروخت ریاستی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
٭٭٭