وجود

... loading ...

وجود

طاقت کا زعم

جمعه 29 اگست 2025 طاقت کا زعم

ب نقاب /ایم آر ملک

طاقت، جب تک آزمائی نہ جائے، مقدس سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب اسے بلا ضرورت دکھایا جائے، تو یہ اس کی حدود کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ یہی اندھی طاقت کا بنیادی اصول ہے: ایک مضبوط قیادت کا زعم خود طاقت کا زوال ہوتا ہے ، رانا ثنا اللہ کا ڈیرہ بھی اب ”جناح ہائوس ” جتنا مقدس ٹھہرا ۔
پنجاب پولیس نے قانون پر عمل درآمد کرنے کے بجائے ہمیشہ برسراقتدار طبقہ کیلئے اپنی چھڑی مخالفین پر بطور انتقام استعمال کی ۔ ابہام کا فائدہ شاید یہ ہوتا ہے کہ زبردست طاقت کا خوف، اور ابھرتی ہوئی شبیہ مد نظر رہتی ہے مگر اس کا استعمال کیاگیا بے محابا اور بے دریغ — درست ضرب لگانے کے لیے نہیں ، محض بہادری کا مظاہرہ کرنے کے لیے۔ اور اسی میں طاقت کا کھوکھلاپن ظاہر ہوا ۔اب عوام کو اس اندھی طاقت کے زعم سے خوف نہیں۔
اب عوام نے دیکھ لیا ہے کہ خوف سے وفا اور جذباتی لگائو کو روکا نہیں جا سکتا ۔اور پاکستان تحریک انصاف جسے طاقت کی حکمت عملی مٹانے کے درپے تھی ، وہ کمزور ہو کر نہیں، بلکہ بیدار ہو کر اُبھری ہے۔حکومت اور مقتدرہ کی یہ صرف ایک تزویراتی ناکامی نہیں، بلکہ تاریخ میں یاد رکھا جانے والا لمحہ ہے: جب طاقت کے ذریعے نہیں، بلکہ حد سے تجاوزنے برتری کو مات دی ۔
9مئی کے بعد یہ محض طاقت کا اظہار نہ تھا یہ طاقت اور تاثر کا نقشہ کھینچنے کی کوشش تھی۔ مگر طاقت کی حکمت عملی جس کا مقصد غلبہ حاصل کرنا تھا ۔۔ اپنی حدود ظاہر کرنے پر ختم ہوئی۔طاقت کا زعم جسے طویل عرصے سے برتر سمجھا جاتا تھا، آزمائی گئی ۔۔ اور روک دی گئی۔ چھڑی پاکستان کو توڑنے کے لیے گھمائی گئی۔ لیکن وہ ہوا میں ہی ٹوٹ گئی۔
مہروں کی گہری چال واضح تھی،9مئی ایک خودساختہ واقعے کے ذریعے اشتعال دلا کر جوابی کارروائی پر مجبور کرنے کا عمل ،عوامی رد عمل کی توقع کی راکھ پر کھڑے ہو کر ایک بڑی پارٹی کو تنہائی میں ڈالنا،ایک بڑی سیاسی جماعت کی ساکھ کو تباہ کرنے کا پیش منظر ۔مگرکپتان نے پلک نہ جھپکی۔اس نے تحمل، درستگی، اور حکمتِ عملی کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہو کر مستقل مزاجی دکھائی ۔ جو ممکنہ شکست ہو سکتی تھی، اسے عوامی طاقت کے توازن میں بدل دیا۔
افسانہ مٹ گیا۔ نفسیاتی برتری ۔۔۔ جومقتدرہ کا سب سے بڑا ہتھیار تھا ۔۔۔ کھو دی گئی۔9مئی کی خاک پہ طاقت کو آزمانے کا عمل۔ اور اس میں مقتدرہ نے اپنا ہاتھ ظاہر کر دیا اور برتری کا طلسم توڑ دیا۔
روایتی برتری کا پورا فریم ورک ۔۔۔۔ جسے ایسے ہی دن کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔۔۔۔ عوام کے سامنے بکھر گیا۔اب افسانہ چکنا چور ہو چکا ہے۔ نفسیاتی برتری ختم ہو چکی ہے۔
کپتان کی تاریخ سے ملاقات: حکمت کی طرف گامزن ،
: ایک وجودی لمحہ، جسے وقار اور درستگی سے نبھایا گیا۔
سیالکوٹ کی ماں جس کا خواجہ صفدر کا بیٹا مذاق اڑاتا تھا، اس نے باز رکھنے کی نئی تعریف پیش کی۔پاکستان تحریک انصاف نے تاریخ کی سب سے مربوط دفاعی حکمت عملی اور حقیقی وقت میں ہم آہنگی کا مظاہرہ پیش کیا۔
تزویراتی نقشہ بدل چکا ہے ۔۔۔ماضی کی روایت دم توڑ چکی اور عوام کی نظر کا زاویہ بھی۔
تزویراتی پیش گوئی: نئے طاقت کے توازن کا آغاز
جو طاقت کے مظاہرے کے طور پر شروع ہوا، وہ اب تزویراتی غلطی کی کتابی مثال بن چکا ہے۔
یہ ایک نئی بازدار حقیقت کا اشارہ تھا:یہ صرف ایک حکمت ِعملی کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی دھچکا ہے۔
اقتدار پہ قابض وہ اقلیت ، جو پہلے تذبذب میں تھی،اب نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے ۔۔
پردہ ہٹ گیا ہے۔
توازن بدل گیا ہے۔
افسانہ دم توڑ چکا ہے۔
خواب ختم ہو گیا ہے۔
اب وقت ہے کہ مقتدر حلقے وہ سچ تسلیم کریں،جومیڈیا نہیں بولتا:کپتان اب وہ کپتان نہیں رہا،جسے ماضی میں نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔
آج کپتان کا وقار، درستگی، اور اعتماد ۔۔۔شہرت کی نہج پہ کھڑا ہے
یہ اس قوم کی تصویر ہے جس نے مورچہ سنبھالا ۔۔۔۔اور اس کی لکیر دوبارہ کھینچ دی۔
آئیے امن کو فروغ دیں ۔۔ایک سچ اور وقار کو تسلیم کر کے۔
یہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے سے عزت، نرمی، اور فہم کے ساتھ پیش آئیں ۔۔۔غرور یا لاعلمی کے ساتھ نہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف وجود جمعه 29 اگست 2025
روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف

طاقت کا زعم وجود جمعه 29 اگست 2025
طاقت کا زعم

سوشل میڈیا کا مفید استعمال، ریاستی ذمہ داریاں، سیرت النبی ۖکی روشنی میں وجود جمعه 29 اگست 2025
سوشل میڈیا کا مفید استعمال، ریاستی ذمہ داریاں، سیرت النبی ۖکی روشنی میں

کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ وجود جمعرات 28 اگست 2025
کیا کھچڑی پک رہی ہے؟

جب زوال آتا ہے تو۔۔۔۔ وجود جمعرات 28 اگست 2025
جب زوال آتا ہے تو۔۔۔۔

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر