وجود

... loading ...

وجود

عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر کہے بس اب بہت ہوگیا،تحریک انصاف

منگل 18 فروری 2025 عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر کہے بس اب بہت ہوگیا،تحریک انصاف

 

1971میں جنرل یحییٰ نے کہا تھا کہ سب ٹھیک ہے ، تب ہی سقوط ڈھاکا ہوا ، گوریلا جنگ جاری ہے ، مسلح افواج کے سربراہان سے کہتا ہوں تحقیقات کریں کیوں اتنے زیادہ پاک فوج کے جوان شہید ہورہے ہیں؟

اسٹیٹ عوام ہوتی ہے ، اسٹیٹ، قومی اسمبلی ، سینٹ ، صوبائی حکومتیں ہوتی ہے (عمرایوب)عمران خان نے پاورفل آدمی کو کچھ لیٹر لکھے جن میں لکھا کہ فوج، عوام کے درمیان خلیج نہیں ہونی چاہیے ،( چیئرمین پی ٹی آئی)

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے ، عدلیہ کو کہنا چاہیے کہ بس اب بہت ہوگیا، انسداد دہشت گری عدالت کے ججوں کو کھڑے ہونا ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، سینیٹر شبلی فراز اور سلمان اکرم راجا نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج تین ایشو پر عوام سے بات کرنا چاہیں گے ، ایک سال پورا ہونے کو آیا، پی ٹی آئی کو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا، نیشنل اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پاس 180 سیٹیں آئی تھیں، پنجاب میں بھی اکثریت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی انسان ہو، وہ یہ جانتا ہے کہ 2024کے الیکشن ریگڈ تھے ، ہم نے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا، نہ کمیشن بنا نہ عدلیہ نے نوٹس لیا، ہماری 74 پٹیشنز میں سے کوئی ایک بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم آج بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم اپنا آئینی حق واپس لیں گے ، جعلی مینڈیٹ کے ساتھ بنی حکومت نے آئینی ترامیم پاس کروائی تھی، پی ٹی آئی کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ چھبیسویں ترمیم پر فیصلہ کیا جائے ، اس کا فیصلہ وہ جج صاحبان کریں جو ترمیم سے پہلے تعینات تھے ، اس سے پہلے ہم نے مذاکرات کے لئے بھی کہا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خان صاحب نے کمیٹی بھی بنائی لیکن مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے ، حکومت نے راہ فرار اختیار کی اور موقع ضائع ہو گیا، اس وقت پی ٹی آئی پاکستان کی نمبر ون پارٹی ہے ، خان صاحب نے کچھ لیٹر لکھے پاورفل آدمی کو، خان صاحب نے لکھا کہ فوج اور عوام کے درمیان خلیج نہیں ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر نہیں ملتا، یہ جمہوریت کے لئے اچھی بات نہیں ہے ۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی تک رسائی بند کردی گئی ہے ، توشہ خانہ ٹو کیس میں سماعت عجیب طریقے سے ملتوی کی گئی، عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے ، عدلیہ کو کہنا چاہیے کہ بس اب بہت ہوگیا، انسداد دہشت گردی عدالت کے ججوں کو کھڑے ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، حسان نیازی، میاں محمود الرشید سمیت زیر حراست تمام قیدی سیاسی قیدی ہیں، ان سب کو رہا ہونا چاہیے ، پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں ہے ، یہاں کوئی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہے ۔عمر ایوب خان نے کہا کہ میں تمام حکومتی وزراء کو چیلینج کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مہنگائی کے معاملے پر مناظرہ کرلیں، بجلی، آٹا، گیس، چینی، سب مہنگا ہوگیا، لوگوں کی قوت خرید کم ہوگئی ہے ، یہ دنیا کے سب سے جھوٹے لوگ ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اوپن خط لکھا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی وزیراعظم رہ چکے ہیں وہ دوبارا وزیراعظم ہوں گے ، ان کے تجربے کا فائدہ اٹھانا چاہیے ، ان کے ویژن اور تجربے سے فائدہ اٹھائیں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی پوری قوم کو متحد کرسکتا ہے ۔عمر ایوب خان نے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، بلوچستان کے 8اضلاع میں کوئی پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرا سکتا، بلوچستان کے ممبران قومی اسمبلی ڈرے ہوئے ہیں، 1971 میں جنرل یحییٰ نے کہا تھا کہ سب ٹھیک ہے اور تب ہی سقوط ڈھاکا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ گوریلا جنگ جاری ہے ، مسلح افواج کے سربراہان سے کہتا ہوں تحقیقات کریں کیوں اتنے زیادہ پاک فوج کے جوان شہید ہورہے ہیں؟ قوم کو اس کا جواب دیں، اسٹیٹ عوام ہوتی ہے ، اسٹیٹ، قومی اسمبلی ، سینٹ ، صوبائی حکومتیں ہوتی ہے ۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پہلی بار آئی ایم ایف کا اس نوعیت کا وفد پاکستان میں آیا ہے ، آئین اور قانون کی بالادستی جب تک نہیں ہوگی تو کوئی یہاں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، یہ چیز سب کو نظر آرہی ہے ، یہی بات بانی چیئرمین پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں، ہمیں چیف جسٹس آف پاکستان نے دعوت دی ہے جوڈیشل ریفارز کی میٹنگ میں، ہم انشاء اللہ اس میں جائیں گے ۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو ملک کو جوڑ سکتے تھے انہیں توڑا گیا، 8 فروری کو درندگی کی گئی، پٹن نے ہوشربا رپورٹ جاری کی، سوچ ٹی وی نے الیکشن 2024 سے متعلق شاندار ڈاکیومنٹری بنائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ووٹ کاسٹ کیا، پہلے دھاندلی فریقین کرواتے تھے ، الیکشن کا دن تقریبآ ٹھیک گزرا، لیکن اس کے بعد کارروائی ڈالی گئی، ہر پولنگ اسٹیشن پر ڈبے کھولے گئے ، فارم 45 کو بدلا گیا، پولنگ سٹیشن سے پریزائیڈنگ افسران نے ووٹ والے ڈبے اور فارم 45 رٹرننگ افسران کے دفاتر میں منتقل کیے ۔ان کا کہنا تھا کہ گنتی دونوں اُمیدواروں کی موجودگی میں ہونی چاہیے ، رٹرننگ افسران کے دفاتر میں ہم بیٹھے ہوئے تھے تو کہا گیا گولی چل گئی ہے ، ہمیں گریبانوں سے پکڑ کر وہاں سے باہر پھینکا گیا، گولی کس نے چلائی ؟؟ کوئی تحقیق نہیں ہوئی، یہی عمل 90 فیصد پاکستان میں ہوا۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کہا گیا باقی عمل خفیہ طور پر ہوگا، فارم 45 کے ساتھ ایک فارم 46 ہوتا ہے جس پر پریزائڈنگ افسر یہ لکھتا ہے کہ کتنے بیلٹس استعمال ہوئے ، کتنے ووٹ ڈلے اور کتنے ضائع ہوئے ، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹس پر آج بھی فارمز ایسے ملیں گے جہاں فارم 46 اور 45 میں ڈالے گئے ووٹ کچھ اور ہیں اور مجموعی نتیجہ کچھ اور ہے ۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا رکارڈ ہی پڑھ لیں تو سب عیاں ہو جائے گا، اس انتخاب کو بے دردی سے لوٹا گیا،اس رپورٹ کا مطالعہ کریں، سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے ، یہ ڈاکا چھپ نہیں سکتا، پاکستان کی آواز کو سلب کیا گیا، ممکن نہیں ہے کہ ایک ہی حلقے میں قومی اسمبلی کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد ہو اور صوبائی اسمبلی کا ٹرن آؤٹ 40فیصد ہو۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ اسمبلی قانونی جواز نہیں رکھتی، ہماری پٹیشنز سنی نہیں جا رہیں، میں نے تمام مواد الیکشن کمیشن میں فائل کیا، الیکشن کمیشن نے ہمارا مذاق اڑایا، کہا گیا آپ راتوں رات 400 فارمز بنا لائے ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہم کچھ نہیں کریں گے ، الیکشن ٹریبونل بنے ، پنجاب جیسے 12 کڑور آبادی والے صوبے میں 2 ججوں کو الیکشن ٹریبونل کے طور پر تعینات کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا مزید جج تعینات کیے جائیں، نام دینے پر اصرار کیا گیا، جسٹس شہزاد احمد خان نے جن ناموں پر اتفاق کیا، اس پر ہم سب تسلی رکھتے تھے ، اس کے جواب میں حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، قاضی فائز نے اس کے خلاف فیصلہ دیا۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر