وجود

... loading ...

وجود

فوج ڈیجیٹل دہشت گردوں کے سامنے کھڑی ہے، ترجمان پاک فوج

منگل 23 جولائی 2024 فوج ڈیجیٹل دہشت گردوں کے سامنے کھڑی ہے، ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ 9 مئی کرنیوالے، سہولت کار اور منصوبہ سازوں کو ڈھیل دیں گے تو ملک میں فسطائیت پھیلے گی،بہت زیادہ کنفیوژن ہے کہ عزم استحکام کیا ہے؟ عزم استحکام کا مقصد دہشتگردوں اور کریمنل نیکسس کو توڑنا ہے۔فوج ڈیجیٹل دہشت گردوں کے سامنے کھڑی ہے ۔یہ ملٹری آپریشن نہیں، ہمارا مسئلہ ہے کہ انتہائی سنجیدہ مسائل کو بھی ہم سیاست کی نذر کردیتے ہیں اورایک سیاسی مافیا اس کیخلاف کھڑا ہوگیا ہے،بڑھتے جھوٹ اور پروپیگنڈے کے پیش نظر ہم تواتر سے پریس کانفرنس کریں گے،واقعہ پر انتشاری ٹولے نے پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی ، فوج نے ایس او پیز کے مطابق بالکل درست رسپانس دیا،بنوں ٹریڈرز نے کہا ہم نے امن مارچ کرنا ہے ،جب مارچ ہوا تو کچھ مخصوص منفی عوامل شامل ہوئے اورریاست مخالف نعرے لگائے، پتھراؤ کیا، اس میں مسلح لوگ بھی شامل تھے، انہوں نے فائرنگ کی اور ایک عارضی دیوار کو گرایا ، سپلائی ڈیپو کو بھی لوٹا،نور ولی آڈیو میں کہہ رہا ہے سکول، ہسپتال، گھر اڑاؤ،دہشتگردی کے خلاف کارروائی پاکستان کی جنگ ہے اور یہ ہماری سالمیت کیلئے ضروری ہے،روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے تیل کی اسمگلنگ سے بنائے جاتے ہیں، 50 سے 60 فیصد غیر قانونی سگریٹ بکتے ہیں، اربوں روپے کی اس میں مافیا ہے، ابھی چمن میں حکومت، ریاست نے کہا ہم اس پر ون ڈاکومنٹ رجیم (پاسپورٹ) لگائیں گے، تو وہاں پر ذاتی مفادات ہیں، چاہے وہ سیاسی یا غیر سیاسی ہیں،فیک نیوز اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا کوئی احتساب بھی نہیں،فوج دہشت گردوں اور ڈیجیٹل دہشت گردوں کے سامنے کھڑی ہے،فلسطین میں نسل کشی کسی صورت قابل قبول نہیں۔پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد بعض اہم امور پر افواج کا مؤقف واضح کرنا ہے، جیسا کہ علم میں ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں مسلح افواج کے خلاف منظم پروپیگنڈا، جھوٹ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور ان سے منسوب من گھڑت خبروں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اس لیے ان معاملات پر بات کرنا ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ کاؤنٹر ٹیررارزم کی مد میں اس سال سیکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر اب تک 22 ہزار 409 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، اس دوران 398 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے روزانہ 112 سے زائد آپریشن افواج پاکستان، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دے رہے ہیں، اس کے دوران انتہائی مطلوب 31 دہشتگردوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، رواں سال 137 افسر اور جوانوں نے ان آپریشن میں جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ان بہداروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے قیمتی جانیں ملک کی امن و سلامتی پر قربان کی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بڑھتے ہوئے جھوٹ اور پراپیگنڈے کے دوران یہ ضروری ہے کہ ایسی پریس کانفرنس باقاعدگی سے منعقد کریں تاکہ نا صرف کسی بھی صورتحال پر مؤقف کی وضاحت ہوسکے بلکہ جان بوجھ کر پھیلائی گئی افواہوں اور جھوٹ کا بر وقت سدباب کیا جاسکے۔پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے آپریشن عزم استحکام سے متعلق پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ اس پر بہت زیادہ کنفیوژن ہے کہ عزم استحکام کیا ہے؟ ہمارا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ہم انتہائی سنجیدہ مسائل کو بھی ہم سیاست کی نظر کردیتے ہیں، عزم استحکام اس کی ایک مثال ہے، میں کہوں گا کہ عزم استحکام ایک ہمہ گیر اور مربوط کاؤنتر ٹیررازم مہم ہے، یہ ملٹری آپریشن نہیں ہے، عزم استحکام کے اوپر 22 جون کو نیشنل ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے وزیر اعظم کی زیر صدارت، اس میں وزیر دفاع، نائب وزیر، وزیر انفارمیشن اور متعلقہ وزرا موجود تھے، سارے سوبے کے وزیر اعلیٰ بھی موجود تھے، چیف سیکرٹریز بھی تھے، متعلقہ سوسز چیف بھی موجود تھے، آرمی چیف بھی تھے اس کے بعد سارے متعلقہ افسران بھی تھے، اس اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری ہوا اور یہ کنفیوژن شروع ہوگئی۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ایپکس کمیٹی کے فورم نے کاؤنٹر ٹیررازم مہم پر تفصیلی جائزہ لیا اور نیشنل ایکشن پلان کے ملٹی ڈومینز کو دیکھا اور انہوں نے اس کے نفاذ میں خامیوں کی نشاندہی کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایک تفصیلی کاؤنٹر ٹیررازم اسٹریٹیجی کی ضرورت ہے، اس کے بعد وزیر اعظم نے ایک مزید متحرک کاؤنٹر ٹیررازم مہم کی منظوری دی، تو یہ ایک مہم ہے، اور اس مہم کو ہم آپریشن عزم استحکام سے لانچ کریں گے اس میں اتفاق رائے ہوگی، اس میں کوشش کی جائے گی کہ جو کوششیں چل رہی ہیں اس کو مؤثر قانون سازی کے ذریعے بااختیار بنایا جائیگا، ایک قومی سطح پر بیانیہ بنایا جائے گا اورفورم نے اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی پاکستان کی جنگ ہے اور یہ ہماری سالمیت کیلئے ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ فورم نے کہا کہ کسی کو بھی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس میں کون سے آپریشن کی بات ہورہی ہے؟ اور یہی ہے اس ڈاکومنٹ میں، یہ سب کے پاس ہی ہے، اس کے بعد ایک بیانیہ بنایا گیا کہ آپریشن ہورہا ہے، لوگوں کو بے دخل کیا جارہا ہے اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، جب یہ بیانیہ بنا تو صرف دو دن بعد 24 جون کو وزیر اعظم آفس ایک اور اعلامیہ جاری کرتا ہے اس میں کہا گیا عزم استحکام کو غلط سمجھا جارہا ہے اور اس کا راہ نجات، ضرب عضب سے غلط موازنہ کیا جارہا ہے، پہلے نو گو ایریاز تھے جہاں ریاست کی رٹ نہیں تھی تو اس لیے اسے ختم کرنے آپریشن کیا گیا، اس وقت نو گو ایریاز نہیں ہیں، اس لیے کوئی بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشن نہیں ہورہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عزم استحکام ملتی ڈومین، ملٹی ایجنسی، ہول آف دی سسٹم، نیشنل وژن ہے پاکستان میں استحکام قائم کرنے کیلئے یہ نیشنل ایکشن پلان کو دوبارہ متحرک کریگا اس کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کا مقصد دہشتگردوں اور کریمنل کے نیکسس کو توڑنا ہے، یہ دو دستاویزات ہیں تحریری تاہم پھر بھی عزم استحکام کو متنازع بنایا جارہا ہے، ایک بہت مضبوط لابی ہے جو چاہتی ہے کہ یہ جو مقاصد ہیں وہ پورے نا ہوں، اب وہ یہ کیوں چاہتے ہیں تو اس کے لیے ریوائزڈ ایکشن پلان دیکھیں۔انہوںنے کہاکہ 2014 میں جب اے پی ایس کا واقعہ ہوا تو تمام اسٹیک یولڈرز بیٹھے اور نیشنل ایکشن پلان بنایا 21 نکات کا، اس کے اثرات بھی سب نے دیکھے، آخری حکومت میں وزیر اعظم نے ایپکس کمیٹی میں ریوائزڈ نیشل ایکشن پلان 14 نکات والا منظور کیا، اس میں بھی سیاسی اتفاق رائے تھا کیوں ایک بہت بڑا سیاسی اور غیر قانونی مافیا کھڑا ہوگیا کہ ہم نے یہ کام نہیں ہونے دینا؟ اس کی پہلی چال یہ ہے کہ اس کو متنازع بنادیں وہ ان کے اندر ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ اگر ان 14 نکات کو دیکھیں تو اس میں جو کائنیٹکس سے متعلق پوائنٹ ہے وہ بہترین طریقے سے ہورہا ہے، جو فوج کی ذمہ داری ہے وہ ہورہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے ہی بتایا ہے، تو مسئلہ دیگر نکات میں ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ ضروری سمجھا گیا 2014 اور 2021 میں بھی کہ انسداد دہشتگردی کے محکمے بنائے جائیں، نیکٹا ہر سال ریوائزڈ نیشنل ایکشن پلان کی اپ ڈیٹ نکالتی ہے، اس اپ ڈیٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کی اسٹرینتھ 2437 ہے، جو فیلد آپریٹرز ہیں وہ 537 ہیں، دہشتگردی وہاں دیکھیں کتنی ہے، بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی تعداد 3438 ہے اور اس میں آپریشنل فیلڈ آپریٹرز 2776 ہے۔انہوںنے کہاکہ میں آپ کو مثالیں دے دیتا ہوں، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں لاکھوں کی تعداد میں پاکستان میں موجود ہیں یا نہیں؟ یہ اس غیرقانونی اسپیکٹرم کا پارٹ ہے نا؟ اس میں اربوں کا بزنس ہو رہا ہے نا؟ انہی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے اندر دہشت گرد بھی آپریٹ کرتے ہیں، جب ایک ملک میں، کچھ اضلاع میں، کچھ جگہوں میں یہ نارمل ہو کہ بغیر کاغذ کے گاڑی چل سکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس کا کوئی پتا نہیں کہ آگے نمبر کیا لگا ہے، اس کے درمیان میں دہشت گرد بھی آپریٹ کرتے ہیں، بے نامی پراپرٹیز، بے نامی اکاؤنٹس کیا یہ اس غیرقانونی اسپیکٹرم کا حصہ نہیں ہیں؟ اگر آپ اس کو برداشت کریں گے تو اس کے اندر دہشت گرد بھی آپریٹ کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جو سرحد ہے، افغانستان کے 6ممالک کے ساتھ بارڈر لگتے ہیں، پاکستان کے علاوہ تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان، چین، ایران کے ساتھ بھی اس کی سرحد ہے، جو افغانستان میں ترک، تاجک، ازبک بھی رہتے ہیں لیکن باقی ملکوں کے ساتھ تو وہ پاسپورٹ کے ساتھ جاتے ہیں، نارمل سرحد ہے، ویزہ سسٹم ہے، تو پھر ہماری سرحد پر کیوں تذکرے یا شناختی کارڈ دکھا کر اندر چلے جائیں، اس کو ایک سافٹ بارڈر رکھا ہے کیونکہ وہ غیرقانونی اسپیکٹرم کو فیسیلٹیٹ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2023 میں ایل سیز کو کم کیا کیونکہ ڈالرز کی قلت تھی، تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایکدم سے اربوں ڈالر کے لحاظ سے بڑھ گیا کیونکہ وہاں جو سامان جاتا ہے، وہ آپ کی مارکیٹوں میں بکتا ہے، بکتا ہے یا نہیں بکتا؟۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے تیل کی اسمگلنگ سے بنائے جاتے ہیں، 50 سے 60 فیصد غیر قانونی سگریٹ بکتے ہیں، اربوں روپے کی اس میں مافیا ہے، ہے یا نہیں ہے؟۔انہوں نے کہا کہ نارکو دیکھ لیں، ستمبر سے اب تک ہم ایک ہزار ٹن سے زیادہ غیر قانونی منشیات پکڑ چکے ہیںلیکن کتنی زیادہ مقدار افغانستان سے آرہی ہے، اس میں بھی اربوں روپیہ ہے، تو یہ جو غیرقانونی اسپیکٹرم ہے، اس کی ایک ریکوائرمنٹ ہے، جو سافٹ اسٹیٹ ہے، اور اس کا حل یہ نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان ہے، یہ نہ صرف دہشتگردی کا جواب ہے، یہ پوری ریاست اور سوسائٹی کو اوپر اٹھاتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر آپ غیرقانونی اسپیکٹرم کو کم کریں گے تو پھر معیشت بہتر نہیں ہوگی؟ یہ صرف دہشت گردی کا علاج تو نہیں ہے، مزید کہا کہ اس میں ذاتی مفادات ہیں، جو اس پر عملدرآمد نہیں ہونے دیتے اور وہ بہت سارا پیسہ بنا رہے ہیں اور اگر اس پیسے کا کچھ حصہ وہ اس سافٹ اسٹیٹ کی پائیداری (سسٹین) کرنے کے لیے لگادیں تو یہ برا کاروبار تو نہیں ہے، اور وہ لگاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عزم استحکام ایک مہم ہے صرف دہشتگردی کیلئے بلکہ یہ پورے ملک کے لیے مفید ہے اور اس کے اسٹیکس بہت ہائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی چمن میں حکومت، ریاست نے کہا کہ ہم اس پر ون ڈاکومنٹ رجیم (پاسپورٹ) لگائیں گے، تو وہاں پر ذاتی مفادات ہیں، چاہے وہ سیاسی ہے یا غیر سیاسی، انہوں نے وہاں پر احتجاج نہیں شروع کر دیا، آپ کے سامنے ہے، ایف سی والوں کو پتھر مارو، انسانی حقوق کی تنظیمیں آگئیں کہ لوگوں کو بٹھا دو، اور ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں اسمگلنگ کرنی ہے اور نیچے جو لوگ اس میں ملوث ہیں، انہیں تو بہت تھوڑا پیسا ملتا ہے، اوپر جو مافیا ہے، وہاں پر بہت اربوں روپے کی رقم جاتی ہے اور وہ لوگ یہاں پیسا نہیں رکھتے اور ڈالروں میں باہر لے جاتے ہیں، اس سے معیشت کو اور نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات نہیں کرنی کہ محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنایا جائے، یہ بات نہیں کرنی کہ مدارس کو ریگولیٹ کیا جائے اور ان کی رجسٹریشن کی جائے، جو اس غیر قانونی اسپیکٹرم کے سامنے کھڑا ہے، اس کی نشاندہی کر رہا ہے، اس کو روک رہا ہے، اس کے اوپر اٹیک کر دو، یہ آپ کے سامنے ہے، اسی وجہ سے جو بھی اس کا حصہ ہے اور اسپیکٹرم کی سرپرستی میں شامل ہے، وہ عزم استحکام کے خلاف لگا ہوا ہے۔بنوں واقعے میں فوج کے ملوث ہونے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 15 جولائی کو صبح کے وقت دہشتگردوں نے بنوں کینٹ پر حملہ کیا، ہماری فوج نے بھرپور جواب دیا اور ہمارے 8 جوان شہید ہوئے، ہمارے جوانوں نے ہمت کے ساتھ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، سپاہی سبحان گرینیڈ کے اوپر گرگیا جان بوجھ کر تاکہ کولیٹریل ڈیمیج نا ہو تو یہ بہادری ہے ہمارے سپاہیوں کی، دہشتگردوں نے وہاں اندھا دھند فائرنگ کی جس سے معصوم شہری بھی شہید ہوا، اگلے دن بنوں کے ٹریڈرز نے کہا کہ ہم نے امن مارچ کرنا ہے اور جب یہ مارچ ہوا تو کچھ مخصوص منفی عوامل شامل ہوگئے اور جب وہ بلاسٹ ہونے والی روڈ سے گزرے تو انہوں نے ریاست مخالف نعرے لگائے، پتھراؤ کیا، اس میں مسلح لوگ بھی شامل تھے، انہوں نے فائرنگ کی اور ایک عارضی دیوار کو گرایا اور سپلائی ڈیپو کو بھی لوٹا۔انہوںنے کہاکہ جس طرح کہا جارہا ہے کہ نہتے لوگوں پر فائر ہوا تو کیا وہ لوگ آٹا، گھی چوری کر رہے ہوتے اور مارچ کا مرکزی مقام تھا وہان بھی مسلح لوگ شامل ہوگئے اور وہاں بھی جانی نقصان ہوا فائرنگ سے، فوج نے ایس او پی کے تحت ہی کارروائی کی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ جب 9 مئی کا واقعہ ہوا تو ایک مخصوس گروہ، ایک انتشاری ٹولے نے یہ بات کی کہ فوج نے ان کو روکا کیوں نہیں، ان کو گولی ماردیتے کیونکہ انہوں نے ان کو گولی نہیں ماری اس کا مطلب یہ خود ان کو لے کر آئے، یہ بیانیہ ہر طرف چلایا گیا، فوج کا سسٹم بہت واضح ہے اور اس کے مطابق کام ہوتا ہے، اگر فوجی تنصیبات پو کوئی حملہ کرتا ہے تو پہلے تنبیہ دی جاتی ہے، اگر پھر بھی آتا ہے تو ہوائی فائر کی جاتی ہے اور پھر آگے کی کارروائی ہوتی ہے۔بعد ازاں انہوں نے بنوں واقعے کی کچھ ویڈیوز دکھاتے ہوئے کہا کہ دیکھیں کیسے لوگوں کے ہاتھوں میں پتھر دے دئیے گئے، دوسرے ممالک کے زخمی بچوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر چلائی گئیں کہ بنوں میں بچوں کو مارا گیا۔کالعدم ٹی ٹی پی کے نور ولی محسود کی مبینہ آڈیو لیک کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ یہ جو آڈیو کال ہے اس میں جو خارجی ولی ہے اس نے کیا کہا وہ صاف صاف سانئی دے رہا ہے، اس نے کہا کہ اسکول، کالج، گھروں کو اڑاؤ پر میرا نام نا آئے، یہ کونسا اسلام ہے جس میں اسکول کالج کو اڑانے کا کہا گیا ہے؟ اس سے ہمارا عزم مضبوط ہوتا ہے کہ عزم استحکام بہت ضروری ہے، ان دہشتگردوں کا اسلام سے تعلق نہیں۔ٹی ایل پی کے دھرنے پر وضاحت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ یہ ایک حساس اور اہم معاملہ ہے، فلسطین کے مسئلے پر فوج اور حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ یہ قتل عام ہے اور ناقابل قبول ہے، فارمیشن کماندر اور کور کمانڈر کانفرنس میں بھی اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے، پاکستان کے سفیر اقوام متحدہ میں منیر اکرم وہ بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں اور سب ان کو سراہتے ہیں کہ کیسے انہوں نے مغربہ ممالک کے رویے کو بے نقاب کیا، پاکستان نے فلسطین میں کئی ٹن امدادی سامان بھی غزہ میںبھجوایا ،یہ دھرنا جو ہوا تو حکومت اور ادارے اس حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس پر پروپیگنڈا ہوگیا کہ اسے فوج نے کروایا۔انہوں نے کہا کہ فیک نیوز اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا کوئی احتساب بھی نہیں، ایک اور فرنٹ جہاں پر ہنگامہ ہو لیکن اس کو حل کرلیا جائے تو اس پر بھی پروپیگنڈا ہوجاتا ہے، ہماری سوچ بہت منفی ہوگئی ہے۔آرمی چیف اور ایس آئی ایف سی کے ایک منصوبے سے نمٹنے سے متعلق سوال پر انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پر فوج اور قیادت کے خلاف جو بات چیت ہورہی ہے تو دو حصے ہیں اس کے کہ یہ کیا ہورہااور کیوں ہو رہا ہے؟ یہ ڈیجیٹل دہشتگردی ہے جس طرح دہشتگرد بم پکرتا ہے تو ڈیجیٹل دہشتگرد جھوٹ، فیک نیوز کے ذریعے اضطراب پھیلا کے اپنی مرضی مسلط کرتا ہے، ان کا تو کبھی پتا بھی نہیں ہوتا، بے نامی اکائونٹ ہوتے ہیں کہاں سے تانے بانے مل رہے کچھ نہیں پتا چلتا لیکن دونوں کا ہدف صرف فوج ہے، جو خارجی دہشتگرد ہے وہ بھی اور ڈیجیٹل دہشتگرد بھی فوج کو نشانہ بنا رہا ہے، دونوں ایک جیسا کام کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا خارجی دہشتگرد کو آپریشن کے ذریعے نیوٹرلائز کرتے ہیں اور ڈیجیٹل دہشتگرد کو قانون کے ذریعے روکا جاتا ہے،ہمارے ملک میں فوج کے خلاف بیہودہ بات چیت کی گئی، اس سال اس فیک نیوز پر کتنی کارروائی ہوئیں؟ بجائے اس کے کہ ان کے خلاف قانون آگے بڑھیں ان کو اسپیس دی جاتی ہے، آزادی رائے کے نام پر ان کو ہیرو بنادیا جاتا ہے،ہمارے ملک میں بہت بڑا حملہ ہوا، سب کے سامنے ہوا، ایک طرف ہمارا خارجی ٹولہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور دوسری طرف بھارت ہے جو کہ موقع کی طاق میں ہے کہ کب اس کی فوج کمزور ہو تو ہم اپنا کام کریں۔


متعلقہ خبریں


صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

مضامین
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال! وجود منگل 31 مارچ 2026
ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال!

بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر