وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں30 کھرب 56 ارب روپے کابجٹ پیش

هفته 15 جون 2024 سندھ میں30 کھرب 56 ارب روپے کابجٹ پیش

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 25-2024کیلئے30 کھرب 56 ارب روپے کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا ہے،سندھ حکومت نے تنخواہوں میں 22 سے 30 فیصد ،پنشن میں 15 فیصد اضافے،کم از کم اجرت 37,000 روپے مقررکرنے اورسالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 959 ارب روپے کا اعلان کیاہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے ایوان میں 12 ملین کسانوں کو ہاری کارڈ منصوبے کے تحت 8 ارب روپے مالی مدد فراہم کرنے اورسولرائزیشن منصوبے کیلئے 5 ارب روپے ،ملیر ایکسپریس وے کورنگی میں ایک انکلیوو کمپلیکس کی تعمیرکیلئے 5 ارب روپے کا بھی اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ بجٹ میں بنیادی طور پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور غریبوں کیلئے سماجی تحفظ سے متعلق منصوبوں کواہمیت دی گئی ہے۔ صوبے کی کل متوقع آمدنی تین ٹریلین روپے ہے جسکی اکثریت وفاقی منتقلی 62 فیصد اوراس کے بعد صوبائی وصولیاں 22فیصد پر مبنی ہوگی جبکہ 22 ارب روپے کی کرنٹ کیپٹل ، 334 ارب روپے کی غیر ملکی پراجیکٹ امداد، 77ارب روپے کی PSDP ودیگر وفاقی گرانٹس، 6 ارب روپے کی غیر ملکی گرانٹس اور 55 ارب روپے کیری اوور کیش بیلنس کے ذریعہ حاصل ہوگا۔ 662 ارب روپے کی صوبائی وصولیوں میں 350 ارب روپے کی سروسز پر سیلز ٹیکس، 269 ارب روپے کے جی ایس ٹی کے علاوہ ٹیکس اور 42.9 ارب روپے کی صوبائی نان ٹیکس وصولیاں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سند ھ نے بجٹ تقریر میں کہاکہ 63فیصد یعنی 1.9ٹریلین روپے کرنٹ ریونیو کی طرف جاتا ہے، 6 فیصد یعنی 184 ارب روپے کرنٹ کیپٹل کیلئے اور بقیہ 31 فیصد یعنی 959 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے رکھے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تنخواہوں کا سب سے بڑا حصہ 38 فیصد ہے، اس کے بعد مختلف پروگراموں کیلئے گرانٹس 27 فیصد ہیں۔ غیر تنخواہ کے اخراجات 21فیصد جوکہ آپریشنل اخراجات، منتقلی، سود کی ادائیگی اور دیگر پر مشتمل ہیں۔ ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کے فوائد موجودہ اخراجات کے 14 فیصد بنتا ہے ۔ کرنٹ کیپٹل اخراجات میں 42 ارب روپے کی بجٹ کی رقم قرضوں اور دیگر کی ادائیگی کیلئے جبکہ 142.5ارب روپے سرکاری سرمایہ کاری کیلئے شامل ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں صوبائی اے ڈی پی شامل ہے جس میں 493 ارب روپے کی فارن پراجیکٹ اسسٹنس، 334 ارب روپے کی فارن پراجیکٹ اسسٹنس، 77 ارب روپے کی PSDP کے ذریعے دیگر وفاقی گرانٹس اور 55 ارب روپے کی ڈسٹرکٹ ADP شامل ہیں۔سندھ کے صوبائی بجٹ میں سماجی خدمات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے۔ تعلیم کے لیے 519 ارب روپے جس میں 459ارب روپے موجودہ آمدنی کے اخراجات کیلئے مختص ہیں، صحت کیلئے334 ارب روپے ہے جس میں 302 ارب روپے موجودہ اخراجات کیلئے مختص ہیں۔ لوکل گورنمنٹ 329 ارب روپے کے مجوزہ بجٹ کے ساتھ ٹاپ تھری میں شامل ہے۔آئندہ مالی سال 25-2024میں مقامی کونسلوں کا بجٹ 121ارب روپے سے بڑھا کر 160ارب روپے کر دیا گیاہے بجٹ میں بنیادی انفرااسٹرکچر کے اہم شعبوں کیلئے ترقیاتی بجٹ مختص کرنے کااعلان کیا گیا ہے جن میں زراعت کیلئے 58ارب روپے ، توانائی کیلئے 77 ارب روپے ، آبپاشی کیلئے 94 ارب روپے ،ورکس اینڈ سروسز کیلئے 86 ارب روپے اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کیلئے 30 ارب روپے ، ٹرانسپورٹ کیلئے 56 ارب روپے، ایس جی اینڈ سی ڈی کیلئے 153 ارب روپے اورامن وامان کیلئے 194 ارب روپے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کا صوبائی بجٹ سماجی اور معاشی بہبود باالخصوص حالیہ سیلاب متاثرین کے لیے کئی اہم امدادی اقدامات شامل ہیں۔34.9ارب روپے سماجی سرمایہ کاری کیلئے رکھے ہیں جو متوسط آبادی کی براہ راست مدد فراہم کرے گی۔ بجٹ میں شہریوں پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے 116ارب سبسڈی پروگرام شامل ہیں محفوظ پناہ گاہ کیلئے ہاؤسنگ اسکیموں کے تحت 25 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ سندھ بجٹ میں ہاری کارڈ کے تحت کسانوں کومالی امداد کے لیے آٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے 12 ملین کسانوں کو مالی مدد ملے گی ۔ملیر ایکسپریس وے کے ساتھ کورنگی میں ایک کمپانڈ کے اندر تعلیم، بحالی، تربیت، رہائش، طبی خدمات، تفریح اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے ایک انکلیوو کمپلیکس بنانے کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پولیس کے لیے پہلی بار 485پولیس اسٹیشن کیلئے مخصوص بجٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے پیٹرول، مرمتی کام اور کمیونٹیز کی خدمت کیلئے روزانہ کے اخراجات کو پورا کر سکیں۔ بجٹ میں سولرائزیشن کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے کیلئے ایک حب کینال جیسی نئی نہر کی تعمیر کے لیے فورکیلئے 5 ارب روپے کا اعلان کیا گیاہے۔ مزدور کارڈ کے تحت5ارب روپے کا فلاحی پروگرام سندھ میں مزدوروں کو مدد فراہم کرے گا۔ سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بجٹ میں زراعت کیلئے 11ارب روپے، سماجی تحفظ کیلئے 12 ارب روپے، یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کیلئے 3.2 ارب روپے، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ کیلئے 2ارب روپے اور ڈی ای پی ڈی(DEFD) کیلئے 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 190 ارب روپے ہے میں سے 35 ارب روپے سندھ بھر کی یونیورسٹیوں کیلئے باقی گرانٹس بڑے ہسپتالوں اور طبی اداروں SIUT، NICVD، انڈس ہسپتال، SICHN اور ٹراما سینٹرز کوفراہم کی جائیں گی۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر