وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان ہائیکورٹ کا حلقہ بندی تبدیل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

پیر 18 دسمبر 2023 بلوچستان ہائیکورٹ کا حلقہ بندی تبدیل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قراردیا ہے کہ ہم کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گے جس سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 8فروری 2024کو ہونیو الے عام انتخابات کے حوالہ سے جاری شیڈول متاثرہواورسے نقصان پہنچے ۔ الیکشن پروگرام جاری ہونے کے بعد ہر قسم کی مقدمہ بازی ختم ہوجانی چاہیئے اور غیر مئوثر ہو جانی چاہیئے۔الیکشن کاانعقاد وقت پر ہونا ہے۔الیکشن پروگرام آگیا ہے اس لئے ہائی کورٹ کے حکم کو بھی نہیں مانا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرڈر دیا ہے کہ ہائی کورٹس کا حلقہ بندیوں میں کوئی کام نہیں۔عدالت نے بلوچستان کے ضلع ژوب اور شیرانی کے صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی بی 1اورپی بی2کی حلقہ بندیوں کے حوالہ بلوچستان ہائی کورٹ کا حکم معطل کرتے ہوئے متاثرہ فریق کی اپیل منظور کرلی۔ جبکہ قائم مقام چیف آف پاکستان جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پتا نہیں سارے کیوں چاہتے ہیں کہ الیکشن لمبا ہو، معاملے کو چلنے دیں۔ جبکہ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اس درخواست کو مثال بنا کر ہم الیکشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں درخواستوں کا فلڈ گیٹ نہیں کھولنا چاہتے، الیکشن کمیشن کا امتحان ہے کہ 8فروری کوفری اینڈ فیئر الیکشن ہوگا۔ جبکہ جسٹس سید منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اس پراسیس کے نتیجہ میں انتخابات ڈی ریل ہو سکتے ہیں، جب الیکشن پروگرام آجائے توپھر ہر چیز رک جاتی ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بلوچستان کے ضلع ژوب اورشیرانی کی صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پرحلقہ بندیوں کے حوالہ سے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف گل خان اوردیگر کی جانب سے سعید الرحمان اوردیگر کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی۔ اپیلون میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی پارٹی بنایا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے دوران سماعت ڈی جی لاء محمد ارشد، ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل لاء خرم شہزاد اوردیگر پیش ہوئے جبکہ درخواست گزاروں اورمدعا علیحان کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، افنان کریم کنڈی ایڈووکیٹ اور معصوم خان کاکڑ بطور وکیل پیش ہوئے۔ وکیل افنان کریم کنڈی کی جانب سے حلقہ بندیوں کے حوالہ سے 6دسمبر کو بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوئی اور 12دسمبر کو آرڈر آگیا، اب تک تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ عبداللہ زئی، بابر اور مرگاقبزئی ایک ہی حلقے میں شامل ہوتے ہیں۔ 2022میںضلع شیرانی بنایاگیا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ انتخابی شیڈول کا پہلے ہی اعلان کیا جاچکاہے۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے سوال کیا کہ کیا وفاق کا کوئی نمائندہ موجود ہے۔ اس پر بتایا گیا کہ وفاق کا نمائندہ موجود نہیں تاہم الیکشن کمیشن حکام موجود ہیں۔ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن محمدارشد نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے اعتراض سن کر حکم جاری کیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ حلقہ بندیوں کے خلاف ہائی کورٹس میں کتنی درخواستیں زیر التواء ہیں، ہم چاہتے ہیں الیکشن تاخیر کاشکار نہ ہوں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا ہے اور پھر 15دسمبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن شیڈول جاری کیا گیا ہے ، اگر ہم بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ مان لیں تو کیا الیکشن پروگرام ڈی ریل ہو گا کہ نہیں۔ اس پر ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کا کہنا تھا ڈی ریل ہو گا۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹس کو ایسے معاملات میں احتیاط سے مداخلت کرنی چاہیئے۔ جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کس بنیاد پر الیکشن کمیشن کو کیس ریمارنڈ کیا ہے۔ اس پر سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ مختلف وجوہات ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں کس نے درخواست دائر کی تھی۔ اس پر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ میں نے درخواست دائر کی تھی، پی بی 1اورپی بی2دوحلقے ہیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کا کہنا تھاکہ ہماراسوال ہے کہ یہ کرنے سے الیکشن شیڈول متاثر ہو گا کہ نہیں، ہم ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے الیکشن شیڈول متاثر ہو اور الیکشن شیڈول کو نقصان ہو۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ درخواست منظور کرتے ہیں تو پھر جو سارے کیس ریمانڈ ہوں گے وہ دوبارہ ہائی کورٹس میں جائیں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ عدالت کوئی ایسی مثال قائم نہیں کرے گی کیونکہ اس کے نتیجہ میں آنے والے دنوں میں مزید درخواستیں آئیں گی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ الیکشن پروگرام شروع ہونے میں ابھی دوروز باقی ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہم اس کیس کو مثال نہیں بننے دیں گے کہ اس کے نتیجہ میں فلڈ گیٹ کھل جائے، الیکشن کاانعقاد وقت پر ہونا چاہیئے، الیکشن کسی صورت متاثر نہیں ہونے چاہیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے انعقاد کے حوالہ سے 8فروری کی تاریخ سپریم کورٹ نے دی ہے۔ جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کیسے الیکشن کمیشن کے آرڈر کے اوپر بیٹھ گئی اورایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا، کس قانون کے تحت اہائی کورٹ کہہ سکتی ہے کہ کس علاقہ کو کس کے ساتھ جوڑ دیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ قانون الیکشن کمیشن کو اختیاردیتا ہے اورآرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ کیسے اس اختیار کوتبدیل کرسکتی ہے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ الیکشن پروگرام جاری ہونے کے بعد ہر قسم کی مقدمہ بازی ختم ہوجانی چاہیئے اور غیر مئوثر ہو جانی چاہیئے، الیکشن پروگرام آگیا ہے اور اس لئے ہائی کورٹ کے حکم کو بھی نہیں مانا گیا، ہم نے کسی اصول کو دیکھناہے۔ڈی جی لاء الیکشن کمیشن محمد ارشد نے بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے کوئی حکم جاری نہیںکیا۔ سید منصور علی شاہ کا درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا نئی حلقہ بندیوں کے حوالہ سے اب آئندہ انتخابات کاانتظار کریں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ہائی کورٹس کا حلقہ بندیوں میں کوئی کام نہیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ جب الیکشن پروگرام آجائے توپھر ہر چیز رک جاتی ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ حلقہ بندیوں کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ مخصوص کیسز میں حلقوں میں ووٹرز کا فرق10فیصد سے زیادہ بھی ہوسکتاہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن کا امتحان ہے کہ 8فروری کوفری اینڈفیئر انتخابات ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں سے متعلق تمام مقدمے بازی غیر موثر ہوچکی ہے۔ کسی انفرادی شخص کو ریلیف دینے کیلئے پورے انتخابی عمل کو متاثرنہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اس حوالے سے لکیر کھینچ کر حد مقرر کرنی ہے۔قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے حکمنامہ لکھواتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اپیل منظوکر لی اور بلوچستان ہائی کورٹ کا حکم معطل کردیا۔ واضح رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچستان کی 2 صوبائی نشستوں شیرانی اور ژوب میں الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کر دی تھی۔الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر