... loading ...
سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو، ایک کی اکثریت سے نیب آرڈیننس 1999میں 2022 میں پی ڈی ایم حکومت کے دور میں ہونے والی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام نیب مقدمات پرانی پوزیشن پر بحال کردیے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ نیب عدالتیں قانون کے مطابق نیب ریفرنسز کا فیصلہ کریں۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ نیب عدالتیں جتنے بھی ریفرنس دائرہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے واپس کیے گئے تھے انہیں ایک ہفتے کے اندر پرانی سطح پر بحال کریں۔ عدالت کی جانب سے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 2022 نیب میں نیب قانون میں ہونے والی کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کی 10 میں سے 9 شقوں کو کالعدم قرار دے دیا جبکہ جسٹس سید منصور علی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ بھی لکھا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جمعہ کے روز ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ نیب ترامیم کے خلاف چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ دن سوا بارہ بجے فیصلہ سنائے گا۔ تاہم چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ پورے 1 بجے کمرہ عدالت میں داخل ہوا اور فیصلے کا آپریٹو حصہ پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فیصلہ دو، ایک کی اکثریت سے سنایا جا رہا ہے، جسٹس سید منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف کیسز بحال کر دیے جبکہ نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت دے دی گئی۔ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قرار دی ہیں ، عدالت نے نیب کو 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بے نامی کی تعریف سے متعلق نیب ترمیم اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تعریف تبدیل کرنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی گئی، سپریم کورٹ نے مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ نیب پر ڈالنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 500 ملین کی حد تک کے ریفرنس نیب دائرہ کار سے خارج قرار دینے کی شق کالعدم قرار دی جاتی ہے تاہم عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں سروس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کی شق بحال رکھی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کالعدم قرار دی گئی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کارروائی کرے، آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی، پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔فیصلے میں احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کیے جاتے ہیں، عوامی عہدوں کے ریفرنس ختم ہونے سے متعلق نیب ترامیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن 14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔ عدالت نے 50 کروڑ کی حد سے کم ہونے پر ختم ہونے والے تمام مقدمات بحال کردیے اور کہا کہ تمام ختم انکوائریز، کیسز بحال کیے جاتے ہیں، تمام کیسز نیب عدالتوں اور احتساب عدالتوں میں دوبارہ مقرر کیے جائیں۔ عدالت نے نیب کو 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے، نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد شاہد زبیری، ایڈیشل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمان، اسپیشل پراسیکیوٹر نیب ستار محمد اعوان، پی ٹی آئی وکلاء شعیب احمد شاہین، توفیق آصف، نعیم حیدر پنجوتھا کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ جبکہ وکلاء اورصحافیوں کی بھی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ یاد رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2022 میں ہونے والی نیب ترامیم کے خلاف درخواست دائر کی تھی، سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر 53 سماعتیں کیں۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے 5 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اس حوالے سے جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ریٹائرمنٹ سے پہلے اس اہم کیس کا شارٹ اینڈ سویٹ آرڈرسنا کر جاؤں گا۔واضح رہے کہ جون 2022 میں چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی احتساب بیورو(نیب) آرڈیننس میں نیشنل اکانٹیبلٹی بیورو (سیکنڈ امینڈمنٹ) ایکٹ 2022 کے تحت کی گئی ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ فیصلے سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے جعلی اکاؤنٹ کیسز واپس احتساب عدالت کو منتقل ہو جائیں گے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی کیس اسپیشل جج سینٹرل سے احتساب عدالت کو واپس منتقل ہوگا۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری اورسابق وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کا توشہ خانہ کیس واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف نیب ریفرنس بھی واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹرسلیم مانڈوی والا کے خلاف کڈنی ہل ریفرنس اور سابق وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا۔ سابق وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاؤر کیسز بھی بحال ہوں گے۔ نیب ترامیم کیس میں چیف جسٹس پاکستان کے پوچھے گئے سوال کا جواب حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے 9 ستمبر کو جمع کروایا تھا۔ تحریری جواب پانچ صفحات پر مشتمل تھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی معاون کے ذریعے سوال بھجوایا تھا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کے خلاف کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز دی تھی۔
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...
موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...
عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...