وجود

... loading ...

وجود

چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس: بے نتیجہ مشق، دباؤ میں لانے کا حربہ

پیر 10 اپریل 2023 چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس: بے نتیجہ مشق، دباؤ میں لانے کا حربہ

باسط علی
۔۔۔۔۔

٭ حکومت کی جانب سے کوئی بھی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بذریعہ صدر ہی جاسکتا ہے، ریفرنس کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس بھی چیف جسٹس کو ہی طلب کرنا ہوتا ہے


٭ کسی جج کے خلاف ریفرنس کے مراحل مکمل ہو نے پرسپریم جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے متعلقہ جج کو انکوائری نوٹس ملتا ہے، جس پر وہ سپریم کورٹ میں اس ریفرنس کو چیلنج کر سکتے ہیں


٭ حکومت نے چیف جسٹس عمر عطابندیال پردباؤ ڈالنے کی ایک منظم مہم اختیا رکررکھی ہے، استعفے کا مطالبہ، ریفرنس اور سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل اسی کا حصہ ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے خلاف مسلم لیگ نون نے ایک منظم مہم برپا کر رکھی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اپنے ہی ادارے کے اندر اور باہر سے مسلسل نشانہ بنائے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس کے خلاف سب سے پہلے مریم نواز نے گفتگو کا آغاز کیا۔ لندن واپسی کے بعد وہ ایک نئے بیانئے کی تلاش میں تھی۔ ابتدا میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ وہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کو نشانا بنانے والی ہیں۔ اس حوالے سے ایک دوبیان بھی اُن سے منسوب ہوئے مگر پھر یہ اطلاع گردش میں آئی کہ پہلے جنرل(ر) باجوہ کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا گیا کہ وہ موجودہ بندوبست کے حوالے سے تمام ثبوت سامنے لاسکتے ہیں۔ اور اگر وہ زد میں آئے تو محفوظ پھر کوئی بھی نہیں ہوگا۔ دوسری جانب سے بھیجے جانے والے پیغام میں باور کرایا گیا کہ اُن کی جانب سے جو اقدامات بھی اُٹھائے گئے وہ سب ”باس“ کے احکامات کا نتیجہ تھے۔ چنانچہ اُن کے پاس بھی ”کہنے“اور”دکھانے“ کو بہت کچھ ہیں۔ ان مبینہ اطلاعات کی تصدیق سے پہلے ہی ایک اثر یہ دیکھنے میں آیا کہ مریم نواز کی تقاریر سے دونوں ریٹائرڈ جرنیلوں کا ذکر غائب ہو گیا۔ تاہم وہ سپریم کورٹ کے حاضر جج صاحبان کو اسٹیبشلمنٹ کے قائم مقام ثابت کرنے پر تُلی رہیں اور اُنہیں عمران خان کے ”سہولت کار“کے طور پر ظاہر کرنے کی تکرار کرنے لگی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا ہی بیانیہ تھا۔ جس کی مضحکہ خیز حد تک تکرارسیاسی اور قانونی مبصرین کو حیران کرنے لگی۔ مگر سیاسی تجزیہ کار ساتھ یہ بھی تجزیہ کرتے رہے کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ نون کے پاس کسی بھی بیانئے کی کمی کے باعث یہ مجبوری ہے کہ وہ عدلیہ کو ہی نشانے پر رکھتے ہوئے رخصتی کی راہ لیں۔ مگر یہ سب کچھ اتنا سادہ بھی نہیں۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے اندر جاری کشمکش کی تب تک خبریں سرگوشیوں میں ہی سہی سامنے آنے لگی تھیں۔ آج سپریم کورٹ کی یہی اندرونی کشمکش حکومت اور مسلم لیگ نون کے لیے گرجنے برسنے کا ساز گار ماحول مہیا کررہی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نوے روز کے اندر انتخابات کے جائز آئینی سوال پر فیصلے نے اس اندرونی اور بیرونی کھیل کو مہمیز کیا ہے۔ اندرونی طور پر اس جائز آئینی سوال کے جواب کی تلاش کے بجائے اِسے طریقہ کار کی بحث میں الجھا کر طرح طرح کے اختلافی نوٹ دیے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار پر سوالات پیدا کیے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور 14/ مئی کو انتخابات کے واضح حکم کے باوجود حکومت نے اس فیصلے کو سرے سے تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا ہے۔ اس حوالے سے لندن میں موجود مسلم لیگ کے سربراہ نوازشریف نے براہ راست بھی اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے سپریم کورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان تین ججز(چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن) کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جانا چاہئے۔ نوازشریف کے بعد مریم نواز نے بھی اسی نوعیت کے مطالبے کو دُہرانا شروع کردیا۔ بعد ازاں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ”سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطابندیال سمیت دیگر دو ججز کے خلاف ریفرنس زیر غور ہیں“۔
حکومت نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے خلاف مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی ایک منظم مہم اختیا رکررکھی ہے جس میں ایک طرف سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 منظوری کے لیے صدر مملکت کے پاس بھیجنا ہے جسے صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ہے۔دوسری طرف وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کی ایک دھواں دار پریس کانفرنس میں چیف جسٹس سے استعفے کا مطالبہ ہے۔ اس مطالبے کی تکرار تیرہ جماعتی حکومتی اتحاد کے دیگر رہنماؤں سے بھی کرائی جا رہی ہے۔ جن میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی پیش پیش ہیں۔اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے بھی یہی مطالبہ دُہرا دیا ہے۔ اس دوران میں حکومت اپنے زیر اثر وکلاء تنظیموں اور بار کونسلوں سے بھی اس مطالبے کی حمایت کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم اس دوران میں اصل سوال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف جوڈیشل ریفرنس دائر کرنے کا ہی ہے۔ واضح رہے کہ مقتدر حلقوں کے زیراثر سمجھے جانے والے ایک وکیل راجہ سبطین نے دو روز قبل پنجاب کے پی انتخابات کیس کو بنیاد بناتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی برطرفی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک درخواست بھی دائر کردی ہے۔ اس تناظر میں چیف جسٹس کے خلاف جوڈیشل ریفرنس دائر کرنے کا طریقہ اور نتیجہ دونوں ہی کا جاننا اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے نوازشریف، مریم نواز اور راناثناء اللہ سمیت حکومتی حلقوں کی تمام خواہشات اور بیانات کے برعکس اس کا قانونی طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی بھی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں اگر جائے گا تو وہ بذریعہ صدر ہی جاسکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 209(5)بی کے تحت مس کنڈکٹ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے، مگر وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت ہی مس کنڈکٹ پر کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیج سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس ضمن میں اہم نکتہ یہ ہے کہ جج کے خلاف کوئی بھی ریفرنس اس بنیاد پر نہیں بن سکتا کہ اُس کا فیصلہ قابل قبول ہے یا نہیں، یا پھر پسندیدہ ہے ناپسندیدہ۔ درحقیقت کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس کے لیے کسی مِس کنڈکٹ کا ہونا ضروری ہے۔اگر فیصلوں کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کی کوئی بھی گنجائش ہوتی تو کسی بھی جج کے خلاف ہر فیصلے پر دوسری متاثرہ پارٹی ریفرنس دائر کر رہی ہوتی۔
حکومت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس بھیجنے کے لیے وزیراعظم کی ایڈوائس کے باوجود صدر مملکت کے دفتر کا کردار انتہائی اہم ہونے کے باعث حکومت کے لیے یہ راستا تو بے حد دشوار محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ وکیل سبطین خان کی جانب سے جمع کرائے گئے ریفرنس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ مگر اس معاملے میں بھی طریقہئ کار حکومت کے لیے کسی ”خوش خبری“ کا سامان نہیں کررہا۔ سبطین خان نے 7اپریل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی برطرفی کے لیے ریفرنس جمع کروایا۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ”یہ ریفرنس دو رکنی بینچ کے کہنے پر ازخود نوٹس کی تحقیقات کے لیے دائر کیا جارہا ہے“۔ ریفرنس کے مطابق”سینئر ججوں کو بینچ میں نظر انداز کرنا اور من پسند ججوں پر مشتمل بینچ بنانا چیف جسٹس کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔۔27فروری کو دو ججوں کی معذرت کے بعد اختلاف کرنے والے مزید دو ججوں کو نئے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، یکم مارچ کا فیصلہ تین دو کی نسبت سے تھا اور اگر جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو بینچ کا حصہ رہنے دیا جاتا تو یکم مارچ کا فیصلہ وہ نہ آتا جو چیف جسٹس چاہتے ہیں اور شاید چیف جسٹس کو اس کا ادراک تھا اس لیے انہوں نے جان بوجھ کر اختلاف کرنے والے دو ججوں کو بھی نئے بینچ میں شامل نہیں کیا۔۔۔حالیہ تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال مِس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے آرٹیکل 209 شق چھ کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے“۔مذکورہ موقف پر غور کرنے سے ہی اندازا ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ”مس کنڈکٹ“ کی ناگزیر شرط پوری کرنے کے لیے کس قدر زور صرف کیا جارہا ہے۔ جبکہ چیف جسٹس نے اس معاملے میں جو کچھ بھی کیا وہ اُن کے اختیارات کے واضح اور طے شدہ قانونی طریقے کے دائرے میں آتا ہے۔ اس کے باوجود اسی ریفرنس کو کارروائی کے لیے بنیاد بنا بھی لیا جائے تو اس سے کچھ بھی برآمد ہونے کی کوئی توقع اس لیے نہیں کی جاسکتی کیونکہ کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد اس کا بھی ایک طریقہ کار موجود ہے۔ کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے بعد سب سے پہلے سپریم جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے ریفرنس میں موجود مواد کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کیا ریفرنس میں ایسا مواد موجود بھی ہے کہ نہیں، جو مس کنڈکٹ کے ذمرے میں آتا ہے۔ مگر اس میں بھی ایک دشواری یہ ہے کہ ریفرنس کے جائزہ کے لیے مذکورہ کمیٹی کا اجلاس چیف جسٹس کو ہی بلانا ہوتا ہے۔ چاہے وہ ریفرنس خود چیف جسٹس کے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔ چیف جسٹس اپنے ہی خلاف ریفرنس کمیٹی کا اجلاس بُلانے کے بعد صرف یہ کرتے ہیں کہ وہ خود اُس ریفرنس کی جائزہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے۔ چنانچہ سب سے پہلے تو چیف جسٹس کی جانب سے ریفرنس کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی طلبی کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ اجلاس جلدیا بدیر بلا بھی لیا جائے تو پھر موجودہ حالات میں چیف جسٹس کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کے باعث جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن کمیٹی میں شامل ہوں گے اور اگر جسٹس اعجازالاحسن کے خلاف بھی ریفرنس ہوتا ہے تو فہرست میں ان کے بعد کا سینئر ترین جج شامل ہو گا۔
مذکورہ طریقے پر اجلاس کے انعقاد کے بعد سپریم جوڈیشل کمیٹی یفرنس کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات صدر کو بھیجے گی۔ یہاں ایک بار پھر صدر کے اختیار کا سوال پیدا ہو جاتا ہے، کیونکہ صدر بھی اس مرحلے اور موقع پر اپنا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔ مذکورہ طریقہ کار پر اگر غور کیا جائے تو سب سے پہلے چیف جسٹس کا اپنے ہی خلاف ریفرنس پر جائزہ کے لیے کمیٹی کے اجلاس کا انعقاد ایک سوال ہے۔ پھر اگر اجلاس بلا لیا جائے تو جائزہ کمیٹی سے مواد کے مس کنڈکٹ کے ذمرے میں تصدیق کا مرحلہ دوسرا سوال ہے۔ پھر اگر یہ بھی ہو جائے تو صدر کے دفتر میں اس کا قابل پزیرائی ہونا تیسرا بڑا سوال ہے۔اس دوران جتنا وقت لگ سکتا ہے، اس میں چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ آجائے گی۔ تب تک موجودہ حکومت کے مستقبل پر بھی کچھ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا۔ نیز اس عرصے میں طاقت ور حلقوں کی حکمت عملی برقرار رہنے کی بھی کوئی پیش گوئی ممکن نہیں۔
مزید برآں مذکورہ ریفرنس کے حوالے سے ایک اور طریقہ بھی موجود ہے۔ کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس کے مذکورہ تمام مراحل مکمل ہو جائے توسپریم جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے متعلقہ جج کو ایک انکوائری نوٹس ملتا ہے۔ متعلقہ جج ایسی صورت میں نوٹس ملنے کے فوراً بعد سپریم کورٹ میں اس ریفرنس کو چیلنج کر سکتا ہے۔ چنانچہ ریفرنس کو چیلنج کرنے کے بعد جب تک اس درخواست کا فیصلہ نہ ہو جائے ریفرنس کی کارروائی روک دی جاتی ہے۔ یہی کچھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اپنے خلاف ریفرنس میں ہوا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کی تھی جس پر لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔
جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے مذکورہ طریقہ کار پر غور کیا جائے تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف کسی ریفرنس کو نتیجہ خیز بنانا تقریباً ناممکن لگتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کی طرف سے اگر ریفرنس کا براہ راست ڈول ڈال گیا تو بھی اس ریفرنس کے بذریعہ صدر جانے کے مسئلے کا کوئی فوری حل نکالنا ممکن نہیں لگتا۔ اس پورے معاملے کے درست تناظر میں اب یہ بات قطعی طور پر کی جا سکتی ہے کہ حکومت اس کھیل میں اپنا غصہ نکالنے، نوازشریف اور مریم نواز کی خواہشات پوری کرنے کے علاوہ کوئی نتیجہ حاصل کرنے کے قابل نہیں ہے۔ البتہ مرکزی ذرائع ابلاغ کے ذریعے رونق میلہ لگانے، چیف جسٹس کے خلاف ایک محاذ گرمائے رکھنے اور اُنہیں دباؤ میں لانے کے لیے یہ حربہ کچھ اتنا بُرا بھی نہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک) وجود - جمعرات 25 جون 2026

ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک)

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا وجود - جمعرات 25 جون 2026

مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

مضامین
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں! وجود جمعه 26 جون 2026
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں! وجود جمعه 26 جون 2026
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب وجود جمعه 26 جون 2026
شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب

سیاسی استحکام سے محرومی وجود جمعرات 25 جون 2026
سیاسی استحکام سے محرومی

کربلا، مشعل راہ وجود جمعرات 25 جون 2026
کربلا، مشعل راہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر