وجود

... loading ...

وجود

پی ٹی آئی کا 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان

اتوار 19 مارچ 2023 پی ٹی آئی کا 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجتماع ایک ریفرنڈم ہوگا ، اگر میں اسلام آباد سے نہ نکلتا وہاں سیدھا سیدھا خون تھا، اور سب کے ہاتھ  سے سب کچھ نکل جانا تھا، وہاں قتل عام ہونا تھا اور یہ آگ سارے ملک میں پھیل جانی تھی، اس وقت یہ حالات ہیں اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو سب کے ہاتھ سے نکل جائے گا، مجھے یہ نظر آیا ہے اگر اسلام آباد میں کچھ ہو جاتا تو یہ بات آگے چلی جانا تھی اور کسی سے کنٹرول نہیں ہونا تھا، مجسٹریٹ صاحب کو بھی عقل آ گئی ہے اور انہوں نے گاڑی  میں حاضری لگوا لی، اب وقت آ گیا ہے ہم ایک ایک پولیس افسر کے خلاف کیس کر رہے ہیں، جس طرح میرے گھر پر ہلہ بولا گیا لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کا کیس کر رہے ہیں، ظل شاہ کے قتل کا محسن نقوی پر کیس ہوگا آئی جی پر بھی کیس ہوگا، سب پر کیس کریں گے،آپ کہہ رہے ہیں عمران خان کو جیل میں ڈالیں گے یہ رک جائے گا، قتل کا پلان بنا ہوا ہے اس کے بعد سوچا ہے کیا ہوگا، لندن میں بیٹھا شخص کہہ رہا ہے کہ بینظیر بھٹو شہید ہوئی تھیں تو حالات ٹھیک ہونے میں پندرہ دن لگے تھے ، یہ نہیں رہے گا تو ایک مہینہ لگ جائے گا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں گھر میں تباہی کی گئی ،گھر کولوٹا گیا ، چیزیں توڑی گئیں، میرے گھر میں جو کچھ ہوا ہفتے کے روز مجھے بڑا غصہ تھا، اگر میں ہفتے کے روز آپ سے مخاطب ہوتا تو شاید غصے میں وہ باتیں بھی کر جاتا جو نہیں کرنی چاہئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قوم مجھے پچاس سال سے جانتی ہے، میری زندگی پبلک ہے، کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے جو میں تھا قوم جانتی ہے، کمزوریاں بھی تھیں، اللہ نے عزت بھی دی، کوئی چیز قوم سے چھپی نہیں رہی، میں وہ پاکستانی ہوں جسے قوم نے کبھی پاکستان کا قانون توڑتے نہیں دیکھا ،عمران خان کا نام میچ فکسنگ میں نہیں آیا۔ عمران خان نے کہا کہ قوم سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا عمران خان نے کیا جرم کیا ہے ، میرے اوپر96مقدمات ہو چکے ہیں، دہشتگردی، قتل ، توہین مذہب، غداری کے مقدمات ہیں، گھر سے نکلتا ہوں مقدمات ہو جاتے ہیں، میرے اوپر کیس وہ کر رہے ہیں جوسب سے بڑے مجرم ہیں ، ان کی ساکھ یہ ہے کہ ان کی چوری پر بین الاقوامی طور پر کتابیں چھپی ہوئی ہیں، انہیں سابق آرمی چیف نے مسلط کیا ِ،انہیں ملک پر بٹھا کر غداری کی گئی ، یہ میرے اوپر ہر طرح کے کیسز کر رہے ہیں ہر قسم کا حربہ استعمال کر رہے ہیں کہ کسی طرح عمران خان راستے سے ہٹ جائے ،میرے اوپر جو قاتلانہ حملہ انہوںنے کرایا ان کے پیچھے ان کا ہینڈلر تھا اب یہ نگران حکومت کے ذریعے کور اپ کر رہے ہیں،جو آصف زرداری کو باپ مانے اس کا کردار کیا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ فیصلے کر رہے ہیں اگر وہ آج نہیں جاگیں گے تو آپ ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہوں گے ۔ان کا بس یک نکاتی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح انتخابات نہ ہو ں ، اس کے لئے ہر طرح کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ میں نے اسلام آباد میں صرف حاضری لگانی تھی ، جس جگہ مقدمے کی سماعت تھی وہ ایسا علاقہ ہے جہاں پر دو دفعہ دہشتگردی کے حملے ہو چکے ہیں جہاںجج اور وکلاء بھی شہید ہوئے ، یہ مجھے ڈیٹھ ٹریپ میں لے کر جانا چاہتے تھے ۔پولیس اور رینجرز کی فوج ایک مجسٹریٹ کے وارنٹ لے کر عملدرآمد کرانے پہنچ گئی ،رانا ثنا اللہ کے بھی وارنٹ نکلے ہوئے ہیں لیکن اس کا کہتے ہیں وہ ہمیں ملتا نہیں ہے کہ وہ کہاں پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح زمان پارک کا حملہ کیا گیا ،آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ،اصل گولیاں ،ربڑ کی گولیاں اور کارتوس چلائے گئے ۔ حالانکہ میں نے کہہ دیا تھا کہ میں18مارچ کو جارہا ہوں، اس کیلئے شورٹی بانڈ بھی دیا ، یہ انصاف کے لئے وہاں نہیں لے کر جارہے تھے ، یہ مجھے اس لئے پکڑنے آئے تھے کہ وہاں سے بلوچستان لے جانا تھا مجھے اس وقت تک جیل میں رکھنا تھا جب تک انتخابات نہیں ہو جانے تھے،جھوٹوںکی شہزادی جھوٹوں کی ملکہ کا لیول پلینگ فیلڈ یہ ہے کہ مجھے کسی طرح راستے سے ہٹا دیا جائے ،اس کے سزا یافتہ والد کے کیسز ختم کر کے اسے یہاں لائو یہ لیول پلینگ فیلڈ ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں جو لڑکے تھے انہیں ڈر تھا کہ یہ بد نیت لوگ ہیں ، یہ عمران خان کو جیل میں ڈالیں گے اور اس طرح تشدد کریں گے جس طرح اعظم سواتی اورشہباز گل سے کیا اس لئے وہ مرنے کے لئے بھی تیار ہو گئے ۔ وہ اس لئے کھڑے ہوگئے کیونکہ ان کو خوف تھا کہ یہاں قانون نافذ کرنے کے لئے نہیں آرہے اغواء کرنے آرہے ہیں قتل کریں گے،انہوںنے ہی ارشد شریف کو قتل کیا ۔میں نے دو دفعہ کہا کہ میں جانے کے لئے تیار ہوں لیکن وہ مرنے کے لئے تیار ہو گئے ، انہیں اپنی لاء انفورسٹمنٹ ایجنسیز پر شک ہے ،اس لئے وہ یہاں کھڑے ہو گئے۔عمران خان نے کہا کہ میں اپنی اہلیہ کو خدا حافظ کہہ کر نکلا تھا کہ یا انہوں نے مجھے جیل میں ڈالنا ہے یا قتل کرنا ہے ۔راستے میں ایک حادثہ بھی ہوا جس میں اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔انہوں نے ساری موٹر وے کو بند کیا ہوا تھا ،ایک لین کھول رکھی تھی ، جہاں سے میں نکلتا پیچھے سے لوگوں کو روک دیتے تھے۔ بے جا رکاوٹوں کی وجہ سے مجھے عدالت کے دروازے پر پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ گئے ، اس دوران آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی لوگوں پر تشدد کیا گیا ۔ جب ہم عدالت پہنچے تو آدھا گھنٹہ تک عدالت کے دروازے پر روکے رکھا ، یہ مجھے اکیلا کر کے جوڈیشل کمپلیکس میں لے جانا تھا یا تو یہ مجھے مجھے قتل کرنا یا گرفتار کر کے بلوچستان لے جانا چاہتے تھے ۔انہوں نے وہاں پر لوگوں سامنے سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی ، یہ لوگوں کو اشتعال دلوا رہے تھے کہ کسی طرح یہ کچھ رد عمل دیں اور کچھ ایکشن ہو ، میں تو گاڑی میں بیٹھا مجھے کیا پتہ تھا کہ باہر کیا ہو رہاہے لیکن مجھے یہ نظر آرہا کہ افرا تفری مچی ہوئی ہے، مجھے پتہ تھا کہ اگر میں عدالت نہ پہنچا تو انہوں نے پھر وارنٹ نکال دینے ہیں ۔ بڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا تو سامنے پولیس ہی پولیس تھی اوراور نا معلوم افراد بھی نظر آرہے تھے، مجھے اندازہ ہو گیا ہے ان کی نیت حاضری لگوانے کی نہیں ہے ، انہوں نے مجھے قتل کرنا یا پکڑنا تھا ، یہاں بھی پولیس نے لاٹھی چارج کیا کہ لوگ اشتعال میں آئیںرد عمل دیں ، اس دوران عمران نیچے اترے تو قتل کریں اور کہیں گے کہ انتشار ہو گیا اور یہ مارا گیا ۔یہ خوفزدہ ہیں ڈرے ہوئے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اگر میں زندہ رہ گیا یہ جیت نہیں سکتے ، میں جیل میں چلا گیا تو واپس آیا تو ان کا کیا ہوگا،دو خاندا ن جن کے ڈالرز باہر پڑے ہوئے ہیں اور بھی کچھ لوگ ہیں جو ڈرے ہوئے ہیں یہ کیا کر دے گا ،اس خوف میں ایک ہی راستہ ڈھونڈا ہے کہ مجھے راستے سے ہٹائیں۔عمران خاننے کہا کہ میں نے لوگوں کا جو جذبہ اور شکلیں دیکھی ہیں ان پر کسی طرح کا خوف نہیں تھا ان کا خوف ختم ہو چکا ہے ،اگر میں وہاں سے گاڑی باہر نہ نکالتا تو وہ ہونا تھا جس میں سیدھا سیدھا خون تھا،اور سب کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جانا تھا،وہاں قتل عام ہونا تھا اور یہ آگ سارے ملک میں پھیل جانی تھی ، اس وقت یہ حالات ہیں اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو سب کے ہاتھ سے نکل جائے گا ، مجھے یہ نظر آ یا ہے اگر اسلام آباد میں کچھ ہو جاتا تو یہ بات آگے چلی جانا تھی اورکسی سے کنٹرول نہیں ہونا تھا، مجسٹریٹ صاحب کو بھی عقل آ گئی ہے اور انہوںنے گاڑ میں حاضری لگوا لی ۔عمران خان نے کہا کہ میرے گھر پر ہلہ ہوا بولا گیا ، انہیں معلوم تھا کہ میں اسلام آباد گیا ہوا ہوں لیکن پولیس فورس آگ ئی ،گھر میں صرف بشریٰ بیگم ،دو تین ملازم ،ایک چوکیدار تھا ایک خانسامہ تھا، باہر جو لڑکے کھڑے تھے جب انہوںنے یہ سب کچھ دیکھا تو وہ اندر آگئے جس پر انہوںنے بے پناہ تشدد کی۔عمران خان نے کہا کہ میں پولیس افسران سے سب سے پوچھنا چاہتا ہوں، آرمی افسران ،ملک کے ججز ، ملک کے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں مجھے یہ بتائیں ہمارے دین کے اندر جو چادر اور چار دیوار کی عزت ہے کیا اگر آپ کے گھر میں ایسا ہوتا کہ پولیس کو پتہ ہوتا آپ گھر میں نہیں ہے سرچ وارنٹ کے بغیر دیواریں توڑ کر آتے ایک پردہ دار خاتون جو دنای دار نہیں پردہ دار ہے اس نے نہ کبھی سیاست ہے نہ کسی سے تعلق ہے تو آپ پر کیا گزرے گی ۔دنیا میںیہ روایت ہے گھر کی خاتون جس کا کسی سے لینا دینا نہیں اگر اس طرح اس کے ساتھ کیا جائے تو آپ پر کیا گزرے گی ، پولیس افسران بتائیں اگر آپ میں غیرت ہے ، اکثریت غیرت مند لوگ ہیں ان کے اوپر کیا گزرے گی ۔پولیس ہلہ بول دیتی ہے ، گھر کو لوٹ رہے ہیں، پولیس کا یہ کام ہے گھر کو لوٹیں، ان میں کوئی شرم اور غیرت نہیں ہے ، کیا اس ملک اس لئے بنا تھا ، ایسا تو بنانا ریپبلک میں بھی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں طے ہوا تھا ایک ایس پی اور ایک طرف سے ہمارا نامزد نمائندئہ ہوگا اور جو تفتیش اور تلاشی درکار ہو گی وہ کرائی جائے گی ، ایک مجسٹریٹ کے حکم پر پولیس کی فوج آ گئی ہے لیکن ہائیکورٹ کے جج صاحب جو آڈر کرتے ہیں اس پر عمل نہیں ہوتا ۔یہ بد نیت اور بے غیرت ہیں ، انہوں نے انسداد دہشتگردی عدالت سے سرچ وارنٹ لیتے ہوئے بھی حقائق چھپائے ،سرچ وارنٹ کے نام پر لوٹ مار کی ، اس میں لکھا ہوا کہ ایک انچارج اورلیڈی پولیس کے ساتھ آنا ہے اور انہوںنے آ کر سرچ کرنا تھی،یہ کہہ رہے ہیں شراب کی بوتلیں ںکلاشنکوفیں اورپیٹرول بم نکلے ہیں ،پیٹرول بم بنانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ،بوتل میں پیٹرول ڈالو اورپھینک دیا ، نقل کے لئے عقل چاہیے ہوتی ہے ،پلاسٹک کی بوتل میں بھی کبھی پیٹرول بم بنا، ساری دنیا میں تمہارا مذاق اڑے گا،بیوقوف بھی بے غیرت بھی ہو ۔عمران خان نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے ہم ایک ایک پولیس افسر کے خلاف کیس کر رہے ہیں،جس طرح میرے گھر پر ہلہ بولا گیا لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کا کیس کر رہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کو سمجھ نہیں آتی اس طرح کی نگران حکومت بنائی ہے، کیا زرداری کا بیٹا غیر جانبدارنگران بنے گا ، جس کا کوئی کردا ر نہیں ہے جس کی اخلاقیات نہیں ، وہ غیر جانبدار رہ کر انتخابات کرانے کے سوا باقی سارے کام کر رہا ہے ۔الیکشن کمیشن آپ اپنی بے عزتی کرارہے ہیںکس طرح ننگا کرا رہے ہیں۔ اس طرح کی انتقامی کارروائیاں کبھی کسی نگران حکومت نے کی ہیں ۔ جتنا ظل شاہ پر کیا گیا ، ظل شاہ کے قتل کا محسن نقوی پر کیس ہوگا آئی جی پر بھی کیس ہوگا ، سب پر کیس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو کہنا چاہتا ہوں آپ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے ، ساری قوتیں ایک طرف ہیں ، نا معلوم افراد بائو ڈال رہے ہیں خدا کے واسطے ملک کو بچائیں صرف عدالتیں ہی ملک کو بچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹوںکی جو ملکہ ہے وہ پاکستان مین انتشار پھیلا رہی ہے ،پشتونوں کو کہہ رہے دہشتگرد آ گئے ہیں، انہوں نے اپنے مفادات کے لئے جاگ پنجابی جاگ سندھو دیش کے نعرے لگائے ، جب انہیں ضرورت پڑتی ہے یہ تقسیم کرتے ہیں۔تحریک انصاف قوم بنا رہی ہے ،پنجابی پشتون سندھ اور بلوچستان آزاد کشمیر بلتستان سے لوگ آئے ہوئے تھے ، ملک کے لوگ ظلم کے خلاف قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑی ہو رہے ہیں ، قوم جاگ رہی اور اندھیرے میں جاگی ہوئی قوم نظر آرہی ہے ،خوف کا بت تور رہی ہے ، جان قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن غلامی قبول نہیں کرے گی ۔انہوںنے کہا کہ جیل میں ڈال دو اس کو چھوڑ دو جھوٹوں کی ملکہ کا حکم سنا جارہا ہے ،حکم کون سن رہا ہے جو لندن پلان کا حصہ ہے وہ سن رہے ہیں،پاکستان کی سب کے ہاتھ سے گیم نکلنے لگی ہے اور ہم اس کے قریب پہنچ رہے ہیں، میرا کیا باہر کے لوگوں پر کنٹرول تھا ، میں تو پر امن آئین کے درمیان جدوجہد رکھتا ہوں ، لیکن جب آپ انتشار پھیلا دیں گے پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گی ،سری لنکا کو بھول جائیں یہ بات ایران کے انقلاب کی طرف بڑھ جائے گی ، آج لاہور میں آٹے کی بوریاں لوٹی گئی ہیں، حالات کو کوئی کنٹرول کر سکتا ہے ،جو حالات دیکھ رہا ہوں انہیںکوئی کنٹرول نہیں کر سکتا ،راستہ ایک ہی صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کرایا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم بدھ کے روز مینار پاکستان پر جلسہ کریں گے ، یہ جلسہ نہیں ریفرنڈم ہ ہوگا ، انہیں معلوم ہو جائے گا قوم کس طرف کھڑی ہے، چور،جرائم پیشہ ٹولہ اور ان کے ہینڈلر کس طرف کھڑے ہیں،عوام تب تک بھیڑ بکریاں رہتی ہیں جب تک ان میں شعور نہیں ہوتا، جب شعور کا جن بوتل سے نکل آتا ہے وہ واپس نہیں ڈالا جا سکتا، اب آپ اس کو کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔ آپ کہہ رہے ہیں عمران خان کو جیل میں ڈالیں گے یہ رک جائے گا، قتل کا پلان بنا ہوا ہے اس کے بعد سوچا ہے کیا ہوگا۔ لندن میں بیٹھا شخص کہہ رہا ہے کہ بینظیر بھٹو شہید ہوئی تھیں تو حالات ٹھیک ہونے میں پندرہ دن لگے تھے ، یہ نہیں رہے گا تو ایک مہینہ لگ جائے گا، انہوں نے تو باہر بھاگ جانا ہے، پولیس والوں نے رہنا ہے آپ کو حساب دینا پڑے گا، سب کو حساب دینا پڑے گا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر