وجود

... loading ...

وجود

جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، مریم نواز

بدھ 08 مارچ 2023 جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے 2 سال مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے اور 4 سال عمران حکومت کی حمایت کے ذریعے ملک تباہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے، ان کا کورٹ مارشل کیا جانا چاہیے، ہائبرڈ نظام لانے والوں کو سب سے بڑی سزا ووٹ کو عزت دو کی شکل میں عوامی آگاہی مہم سے ملی ہے، عمران خان کی ریٹائرڈ آرمی چیف پر تنقید بزدلی کی نشانی ہے، ہم آج بھی حاضر سروس کا کھلے عام نام لیتے ہیں، ثاقب نثار اب بھی متحرک ہیں، ججز کی آڈیو لیک سے سچائی پر مہر ثبت ہوگئی ہے، ججز کا محاسبہ کیسے ہوگا؟ جب جنرل باجوہ آرمی چیف بنے تو وزیراعظم ہاؤس میں ان کی فیملی کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی ۔ ایک انٹرویومیں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا کہ غیر آئینی کردار ادا کرنے پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو نشانِ عبرت بنانا چاہیے تاکہ آئندہ پھر کسی کو اس قسم کی جرآت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جب جنرل فیض حمید حاضر سروس ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو وہ ان کے خلاف عدالت گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے درخواست جمع کرائی تھی اور ثبوت پیش کیے تھے جس میں سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ جنرل فیض اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی صاحب کے گھر گئے تھے اور ان کو کہا تھا کہ نواز شریف اور مریم کو آپ نے سزا دینی ہے اور ضمانت نہیں دینی اور آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے آن کیمرہ بیان دیا اور کہا کہ آپ کو کیسے پتا کہ سزا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 2 سال کی محنت ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ دو2 سال جو وہ (جنرل فیض) محنت کرتے رہے اور اس کے بعد جو عمران کو لانے کے بعد 4 سال اس ملک کو تباہ و برباد کرنے کی محنت کی ہے اس پر نہ صرف ان کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے بلکہ ان کو نشانِ عبرت بھی بنانا چاہیے تاکہ آئندہ پھر کسی کو اس قسم کی جرات نہ ہو۔ مریم نواز نے کہا کہ ہائبرڈ نظام’ لانے والوں کو سب سے بڑی سزا ‘ووٹ کو عزت دو’ کی شکل میں عوامی آگاہی مہم سے ملی ہے۔  مریم نواز نے اکتوبر 2020 میں گوجرانوالہ جلسے سے نواز شریف کے خطاب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لمحے کو فخر سے دیکھتی ہیں جب نواز شریف نے نام لے کر ایک پیج کو للکارا تھا اور پورا اسٹیڈیم ایک کونے سے دوسرے کونے تک عوام کے نعروں سے گونج اٹھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن سے جو آگاہی عوام میں بیدار ہوئی اور جو عمران کی حکومت ختم ہوئی اس میں نواز شریف کی بہادری اور اس جرات کا بہت اہم کردار تھا جو حاضر سروس لوگوں کے خلاف کی تھی۔ مریم نواز نے کہا کہ آج بھی ہم کھلے عام نام لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اب بھی حاضر سروس لوگوں کے نام لیے ہیں اور میں نے ان کی تصاویر بھی لوگوں کو دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ میں نے یہ کام تب نہیں کیا جب کوئی جانے والا کمزور ہو جاتا ہے، ایسا تو کوئی بزدل شخص ہی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مسائل پاکستان کی سیاست یا پاکستان کے نظام کو لاحق ہیں ان کی نشاندہی مسلم لیگ نے تب کی جب ایسے عناصر پوری طاقت اور اختیار میں تھے۔ مریم نواز نے کہا کہ ٹرک کی جو کہانی آڈیو لیک میں آئی ہے وہ صرف ٹرک کی کہانی نہیں بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پرویز الہٰی صاحب کی آڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ جج کا نام لے کر کہہ رہے ہیں کہ اس کے سامنے ہمارا کیس لگوا دو اور ان کو یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں تو اس سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ وہ مراسم بہت پرانے بھی ہیں اور بہت مضبوط بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات صرف ٹرک، ملاقات یا بینچ فکسنگ کی نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ اس معاملے نے صرف اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے مہر لگائی ہے جو بہت دیر سے عوام کے سامنے ہے۔ مسلم لیگ (ن) یہ کہتی ہے کہ جب بھی مسلم لیگ کی کوئی درخواست دائر ہوتی ہے یا پارٹی کا کوئی مقدمہ آتا ہے تو اس میں وہی بینچز بنتے ہیں اور یہ بات اب زبان زدِ عام ہوچکی ہے کہ جب بینچ بنتا ہے تو بینچ بنتے ساتھ ہی لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ فیصلہ کیا آئے گا تو اس واقعے سے اس سازش کا بھانڈہ پھوٹا ہے جس کے بارے میں کچھ لوگ تو جانتے تھے تاہم جو لوگ ناواقف تھے ان کے سامنے بھی سب کچھ واضح ہوچکا ہے کہ انصاف کے دو معیار ہیں۔ ایک مسلم لیگ (ن) کے لیے اور ایک دوسری جماعت کے لیے۔عدلیہ کے محاسبے سے متعلق انہوںنے کہاکہ عوامی محاسبہ اس لیے ضروری ہے کہ جب تک عوام میں آگاہی نہیں تھی تو کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی۔ انصاف کے جو دو معیار ہیں اس کی نشاندہی کرنا ہمارا کام ہے۔ اس ملک کی قسمت سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کے ہاتھ میں ہیں۔ لوگوں کو سب پتا ہونا چاہیے کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔ جب عوامی سطح پر کوئی بات آجاتی ہے تو پھر اس سے آپ بھاگ نہیں سکتے،پھر اداروں پر بھی اس چیز کا دبائو پڑتا ہے اور پڑنا بھی چاہیے کہ جو اداروں کو بدنام کرنے والی کالی بھیڑیں ہیں ان کا احتساب کیا جائے،کوئی بھی سزا اور جزا سے اوپر نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کو قیمت ادا کرنا ہوگی۔اس سوال پر کہ ثاقب نثار، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید سے کبھی ملاقات ہوئی تو مریم نواز نے کہا کہ ان کی ثاقب نثار سے تو شاید کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تاہم جنرل باجوہ صاحب سے ایک ملاقات ضرور ہوئی تھی جب وہ چیف بنے تھے،پہلی مرتبہ چیف بننے کے بعد جب وہ وزیرِاعظم ہائوس تشریف لائے تھے تو میری ان سے ملاقات ہوئی تھی اور اس وقت ان کی فیملی بھی ساتھ تھی۔مریم نواز نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو قوم کا سب سے بڑا مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی متحرک ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان (ثاقب نثار) کا بیان دیکھ رہی تھی اور جس طرح کی اب وہ باتیں کررہے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ آج بھی متحرک ہیں اور وہ اس وقت جتنا بھی جھوٹ بول لیں، قوم ان کے بارے میں سب کچھ اچھی طرح جانتی ہے تاہم میں یہ سمجھتی ہوں کہ ثاقب نثار صاحب اس قوم کے سب سے بڑے مجرم ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر بیٹھے تھے مگر ایک کرنل اور ایک بریگیڈیئر ان کو ہدایات دیا کرتے تھے۔ جنرل فیض ان کو ہدایات دیتا تھا اور انہوں نے اس سے ملاقات سے انکار نہیں کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ ثاقب نثار نے قوم پر جو ظلم کیا اور جو کچھ انہوں نے ایک منتخب وزیرِاعظم نواز شریف کے ساتھ کیا اس سے بڑا ظلم یہ تھا کہ انہوں نے ایک نااہل، نالائق اور ہر طرح سے بدکردار شخص کو لاکر قوم پر مسلط کردیا۔ پھر صرف مسلط نہیں کیا بلکہ اس کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ بھی دیدیا۔ انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار اب عوامی اجتماع میں جانے کے قابل نہیں ہیں،وہ شادیوں پر جب جاتے ہیں تو چھپتے پھرتے ہیں اور شاید یہی ان کیلئے سب سے بڑی سزا ہے تاہم میں یہ سمجھتی ہوں کہ ایسے کرداروں کو عبرت کا نشان بنائے بغیر یہ قوم ترقی نہیں کرسکتی اور نہ اس ملک کی سمت درست ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

پی ٹی آئی نے نامزر امیدوار کے علاوہ کسی کو کاغذات جمع کروانے سے روک دیا الیکشن کمیشن کا سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری سابق وفاقی وزیر و مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے امیدوار فائنل کردیا۔ ذرائع کے مطابق پا...

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان وجود - منگل 07 اپریل 2026

ہم پر امن لوگ ، احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ، اگر ہمیں روکا گیا تو جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج ہوگا حکومت جلسے کا این او سی دے، ہر انتظام ہم خود کریں گے،پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کردیا...

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان وجود - پیر 06 اپریل 2026

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی حافظ نعیم الرحمان ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تواس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی، گفتگو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات کے ...

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 06 اپریل 2026

پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا،غلط پالیسیوں سے پٹرول،ڈیزل مہنگا ہوا عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ پختونخوا کاامن جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون "ڈالر...

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا وجود - پیر 06 اپریل 2026

جارحیت جاری رہی تو خطے کو امریکا، اسرائیل کیلئے دوزخ بنادیں گے،ایران کا دوٹوک جواب مزید جارحیت کا جواب خطے میں شدید رد عمل کی صورت میں دیا جائیگا، ترجمان ابراہیم ذوالفقاری ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا،ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ...

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر