وجود

... loading ...

وجود

لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے تاریخ کا فوری اعلان کا حکم

جمعه 10 فروری 2023 لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے تاریخ کا فوری اعلان کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں 90 روز میں انتخابات کروانے کا حکم دے دیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے سماعت کی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ جسٹس جواد حسن نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے اور اسی لیے الیکشن کا شیڈول فوری طور پر جاری کیا جائے۔ قبل ازیں سماعت کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود نے کہا تھا کہ گورنر کے وکیل شہزاد شوکت راستے میں ہیں، وہ آ رہے ہیں، جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو بھی بلایا تھا، وہ کہاں ہیں۔ دوران سماعت آئی جی پنجاب عثمان انور بھی لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ جسٹس جواد حسن نے آئی جی سے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب آپ الیکشن کے بارے میں کیا کہتے ہیں، جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ میں ابھی آیا ہوں، مجھے اس کیس کے بیک گراؤنڈ کا نہیں پتا، ہم نے اپنی تجاویز الیکشن کمیشن کو دے دی ہیں، انتخابات سے متعلق جو الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہو گا، ہم اس پر عمل درآمد کریں گے۔ جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بس آپ کی یقین دہانی چاہیے تھی، آئی جی پنجاب جانا چاہیں تو عدالت سے جا سکتے ہیں۔ اس دوران چیف سیکریٹری پنجاب نے کہا کہ ہم عدالت اور الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمل در آمد کرنے کے پابند ہیں، اس موقع پر عدالت نے چیف سیکریٹری کو بھی جانے کی اجازت دے دی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، انہوں نے استدلال کیا کہ یہ کیس صرف الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے ہے، تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے، الیکشن کمیشن کو اس کیس میں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن الیکشن کی تاریخ دے، اس کیس میں صدر پاکستان کو بھی فریق نہیں بنایا گیا، عدالت نے کل خود کہا کہ اس طرح کا آرڈر جاری نہیں کریں گے جس پر عمل درآمد نہ کرا سکیں، درخواست میں وفاقی حکومت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا جس نے فنڈز جاری کرنے ہیں۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ سے رابطہ کیا انہوں نے ججز دینے سے انکار کر دیا کہ کیسز کی تعداد زیادہ ہے، پولیس، عدلیہ سمیت دیگر اداروں نے عملہ دینے سے انکار کر دیا ہے، الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے، ہمارے پاس فنڈ نہیں ہیں۔ جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ الیکشن کرانے کے لیے اسٹاف بھی چاہیے ہوتا ہے جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ جی اسٹاف بھی چاہیے ہوتا ہے اور اسٹاف کو دینے کے لیے فنڈ بھی چاہئیں ہوتے ہیں، ہمیں الیکشن کرانے کے لیے 14 ارب روپے کی ضرورت ہے، الیکشن کی تاریخ یا گورنر نے دینی ہے یا صدر نے دینی ہے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قانون میں الیکشن کی تاریخ موخر ہو سکتی ہے، اگر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک دن نہ ہوں تو شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے، پنجاب اسمبلی کے الیکشن پہلے ہوں اور قومی اسمبلی کے بعد میں تو پنجاب میں نگران حکومت نہیں ہوگی، اگر پنجاب میں نگران حکومت نہیں ہوگی تو شفاف انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کی تاریخ دے گا، اگر یہ کہیں لکھا ہوگا تو میں عدالت سے باہر چلا جاؤں گا۔ گورنر پنجاب کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کا جواب عدالت میں جمع ہوچکا ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ کا جواب ایک درخواست میں آیا ہے، وکیل گورنر پنجاب نے کہا کہ میرے پاس ایک ہی درخواست آئی تھی، اس جواب کو باقی درخواستوں میں تصور کیا جاسکتا ہے، اگر اسمبلی گورنر تحلیل نہ کرے تو خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے۔ وکیل گورنر پنجاب نے کہا کہ گورنر نے آرٹیکل 105 کے تحت ایڈوائس پر عمل کرنا ہوتا ہے، اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرتا ہے تو گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کا پابند ہے، اگر اسمبلی خود بخود تحلیل ہوتی ہے تو گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے، آئین یہ نہیں کہتا کہ اسمبلی کی خود بخود تحلیل پر گورنر نے الیکشن کی تاریخ دینی ہے۔ جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ اگر اس کا جواب آئین میں نہیں تو کیا صدر مملکت کو کہا جاسکتا ہے، وکیل گورنر نے جواب دیا کہ آرٹیکل 48 کے مطابق صدر کا وہی کردار ہے جو گورنر کا ہے، نگران کابینہ کا تقرر گورنر ایڈوائس پر کرتا ہے۔ اس موقع پر گورنر کے وکیل نے تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر تاریخ دینے کے پابند ہی نہیں تو درخواستیں مسترد ہو جانی چاہیے۔ تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے جواب الجواب پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں الیکشن ہوں گے، چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب نے بھی کہہ دیا کہ وہ پھرپور معاونت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں، الیکشن کی تاریخ نہ دینے کو خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے ذریعے تاریخ کا اعلان کیا جاتا ہے، صدر تاریخ دینے سے انکار نہیں کر رہے، اگر عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے۔ دوران سماعت پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے الیکشن کرانے کے لیے پیسے نہیں ہیں، یہ بیان انتہائی غیر سنجیدہ ہے، الیکشن کمیشن کا یہ بیان بین الاقوامی سطح پر مضحکہ خیز ہے، عدالت سے کہا جا رہا ہے کہ پیسوں کی وجہ سے الیکشن نہیں ہو سکتے، عالمی سطح پر پاکستان کا امیج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کل کو کہا جائے گا کہ ان کے پاس الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں، یہ ملک ہمارا ہے، ہم نے یہاں پر ہی رہنا ہے، اس موقع پر تحریک انصاف نے فنڈز کی عدم دستیابی کا معاملہ ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی استدعا کی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کی تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں 90 روز میں انتخابات کروانے کا حکم دے دیا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر