وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف جس کو آرمی چیف بناتا ہے اس سے لڑائی ہو جاتی ہے، عمران خان

جمعه 18 نومبر 2022 نواز شریف جس کو آرمی چیف بناتا ہے اس سے لڑائی ہو جاتی ہے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہفتہ کے روز بتاؤں گا پنڈی کس روز پہنچنا ہے، اب تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا، نواز شریف ڈرا ہوا ہے کہ شاہد عمران خان آ گیا ہے تو پھر میرا احتساب شروع ہو جائے گا، نواز شریف جس کو آرمی چیف بناتا ہے اس سے لڑائی ہو جاتی ہے، آرمی چیف پروفیشنل آرمی کا سربراہ ہوتا ہے، وہ پنجاب پولیس کے آئی جی کی طرح بن نہیں سکتا، اس کی صرف یہ کوشش ہو گی کہ پہلے عمران خان کو کسی نہ کسی طرح فارغ کرو تاکہ عمران خان انتخابات نہ لڑے، نواز شریف کو جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ انتخابات جیت جائے گا یہ اس وقت تک انتخابات نہیں کرائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے حقیقی آزاد ی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے کہا کہ آج میں جاگی ہوئی اور با شعور قوم دیکھ رہا ہوں، قوم سمجھ گئی ہے کہ حقیقی آزادی مارچ کا مقصد کیا ہم نے 1947میں آزاد ی حاصل کی تھی اور اب وقت آ گیا ہے ہم حقیقی طور پر آزاد ہوں۔ حقیقی طور پر قوم اس وقت آزاد ہوتی ہے جب اس کے فیصلے اس کے ملک میں ہوتے ہیں اور کوئی بیرون ملک طاقت یا سپر پاور اس فیصلے نہیں کرتی، اپنے ملک کے منتخب نمائندے عوام کے مفادات اور ملک کی بہتری کے لیے فیصلے کرتے ہیں۔ اگر ہمیں روس سے سستا تیل ملتا ہے اگر بھارت روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے تو ہم کیوں اپنے لوگوں کے فائدے کے لیے سستا تیل نہیں خرید سکتے۔ صرف اس لیے کوئی ناراض نہ ہو جائے ہم اپنے لوگوں پر بوجھ ڈالتے ہیں، ہمیں خوف ہے بڑی طاقت ہم سے ناراض نہ ہو جائے یہ غلامی ہے، آزاد قومیں اپنے لوگوں کے لیے فیصلہ کرتی ہیں، اصل میں انسان کو آزاد انصاف کرتا ہے، جب انصاف ملتا ہے تو لوگوں کوحقوق مل جاتے ہیں، کوئی بھی طاقت ور اس پر ظلم نہیں کر سکتا۔ تھانہ کلچر پٹواری کلچر کی سیاست اس لیے ہے کیونکہ لوگوں کو تھانوں، پٹوار خانوں اور کچہریوں میں انصاف نہیں ملتا، لوگ انصاف کے لئے ایم این اے اور ایم پی اے کو ڈھونڈتے ہیں، جہاں حقیقی آزادی ہے وہاں کسی کو اراکین اسمبلی کو ڈھونڈنا نہیں پڑتا، وہاں کا نظام انصاف دیتا ہے۔ جو یہاں سے بیرون ممالک تجارت کرنے جاتے ہیں سرمایہ کاری کرنے جاتے ہیں انہیں اعتماد ہے کہ وہاں ان کی راہ میں کوئی رکاوٹیں نہیں آئیں گی رشوت نہیں مانگی جائے گی سرکاری محکمے زندگی مشکل نہیں کریں گے وہاں اس لئے سرمایہ کاری اور خوشحالی زیادہ ہے کیونکہ وہاں لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہے، ہماری حقیقی آزادی کی تحریک کا سب سے بڑا مقصد لوگوں کو انصاف دلا کر آزاد کرانا اور خوشحالی دلانا ہے۔ جب تک ایک ملک کے اندر قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی جب ایک ملک میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک قانون نہیں بن سکتا تب تک لوگ آزاد نہیں ہوں گے۔ اگر ملک کا سابق وزیر اعظم جسے لوگ پچاس سال سے جانتے ہیں، میرے علاوہ کسی کو لوگ پچاس سال سے نہیں جانتے، میں سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں میں اپنی ایف آئی آر نہیں کٹوا سکتا، ہماری اپنی پنجاب میں حکومت ہے پولیس حکومت کے نیچے ہے اس کے باوجود ایف آئی آر نہیں کاٹ رہے، اگر میرے ساتھ یہ ہو سکتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہے کیوں یہاں تھانہ اتنی بڑی چیز بن چکا ہے۔ ایم این اے ایم پی اے اپنے تھانیدار پولیس والے رکھوانے کی کوشش کرتے ہیں یورپ میں ایسا کیوں نہیں ہوتا کیونکہ وہاں پر عوام کے حقوق کی حفاظت ہے۔ نظام لوگوں کوغلام بنا دیتا ہے۔اوورسیز پاکستانی کیوں یہاں سرمایہ کاری نہیں کرتے کیونکہ انہیں پاکستان کے نظام انصاف پر اعتماد نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں جب وہ کاروبار شروع کریں گے تو پاکستان کا انصاف کا نظام ان کی حفاظت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا اعلان ہو بھی جائے تب بھی ہماری تحریک چلتی رہے گی، جب تک اس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں آئے گی جب تک طاقتور اور کمزور کے لئے ایک طرح کا قانون نہیں ہوگا تب تک یہ ملک آزاداور خوشحال نہیں ہوگا۔ اعظم سواتی نے صرف ایک ٹوئٹ کے ذریعے تنقید کی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج نے کہا کہ ایک تنقید پر ٹوئٹ پر آپ کسی کو غدار نہیں بنا سکتے لیکن جو اس کے ساتھ کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے، وہ معتبر آدمی ہے اس سے ہو سکتا ہے آپ سے بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے، ظلم کے سامنے کھڑا ہونا جہاد ہے، اللہ نے اسے عبادت کا درجہ دیا ہے، جوراہ حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو یہ جہاد ہے اگر اس میں جان دے دیتا ہے تو وہ شہید کہلاتا ہے، ارشد شریف حق پر کھڑا رہا اور اسے اپنی جان دینی پڑ گئی اس نے جان کی قربانی دی۔ ہم مطالبہ کریں کہ اس کی فیملی کو انصاف ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی عبادت سمجھ کر باہر نکلے ہیں میں اس کو جہاد سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں ہفتہ کے روز بتائوں گا میں پنڈی کب آؤں گا اور کس دن سارے پاکستان سے لوگ پنڈی آئیں اور حقیقی آزادی کی مارچ میں شرکت کریں اور پوری دنیا کو پتہ چلے کہ یہ جاگی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک شخص ڈاکہ مارے اورساری دولت لندن لے جائے اور جواب بھی نہ دے پیسہ کہاں سے آیا، سارا ٹبر باہر بیٹھ جائے اور وہاں بیٹھ کر پاکستان کے فیصلے کرے، چھوٹے اور غریب لوگ جیلوں میں بھرے ہوئے ہیں، مجھے کوئی طاقتور جیل میں نظر نہیں آیا۔ جب میں جیل میں تھا تو جو میرا کمرہ صاف کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا اس کا جرم کیا ہے اس کا جوجرم تھا اسے صرف چھ ماہ جیل میں گزارنے چاہیے تھے، وہ چھ سال سے جیل میں تھا کیونکہ عام آدمی کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، لوگ جیلوں میں مر چکے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور قصور ان کی غربت اور کمزوری تھی۔ ایک طرف وہ ہیں کہ اربوں روپے کا ڈاکہ مارو اور ڈیل کرو اور این آر او لے لو، پہلے مشرف سے لیا اور اب اس دور میں لے لو اور پھر پاکستان کے فیصلے کرنا شروع کر دو، مجرم اس ملک کے فیصلے کر رہے ہیں، نواز شریف نے سارے ملک کو داؤ پر لگا یا ہوا ہے، سب کو پتہ ہے کہ ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے عام انتخابات کے سوا کوئی راستہ نہیں، اگر معیشت کو تباہی سے بچانا ہے تو صاف اور شفاف انتخابات ہوں، جو حکومت آئے پانچ سال کے لئے آئے اور معیشت پھر اٹھے گی، لوگوں کو اس پر اعتماد ہو گا تب وہ پیسہ لگائیں گے کہ پانچ سال کے لیے ایک حکومت آئی ہے۔ آج نواز شریف انتخابات نہیں کرا رہا اس کو ملک کی فکر نہیں کیونکہ اس کا پیسہ تو باہر پڑا ہے، جب بھی ہمیشہ مشکل آتی ہے یہ باہر بھاگ جاتا ہے، اسے پتہ ہے اگر انتخابات کرائے گا وہ پٹ جائے گا ہار جائے گا، اس نے اپنی ذات کے لیے ملک کو داؤ پر لگا رکھا ہے، اس کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں ہے اس کے بچے برطانیہ میں پاسپورٹ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں بیٹا دس ارب کے محل میں رہتا ہے اور بتا نہیں سکتے پیسہ کہاں سے آیا، اس کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ انتخابات کا فیصلہ کرے، آرمی چیف کس کو بننا چاہیے اس کا فیصلہ وہ کرے، یہ وہ نواز شریف تھا جس نے ایک آرمی چیف کو مری کے گورنر ہاؤس کے اندر بی ایم ڈبلیو کی رشوت دینے کی کوشش کی جو اس نے مسترد کر دی تھی۔ ہم نے اپنی چوری نہیں بچانی ،میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کرنا، مجھے کرپشن کیسز کا خطرہ نہیں اس کو خطرہ ہے اس نے اربوں روپے کی چوری کی ہے جو باہر پڑے ہیں، یہ ڈرا ہوا ہے کہ شاید عمران خان آ گیا ہے تو پھر میرا حتساب شروع ہو جائے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آرمی چیف یہ کرے گا یا نہیں ، یہ جس کو آرمی چیف بناتا ہے اس سے لڑائی ہو جاتی ہے، آرمی چیف پروفیشنل آرمی کاسربراہ ہوتا ہے، وہ پنجاب پولیس کے آئی جی کی طرح بن نہیں سکتا۔ اس کی صرف یہ کوشش ہو گی کہ پہلے عمران خان کو کسی نہ کسی طرح فارغ کرو تاکہ عمران خان انتخابات نہ لڑے، اس نے کبھی بھی نیوٹرل امپائر کے ساتھ میچ نہیں کھیلا، یہ جم خانہ میں اپنے امپائر کھڑے کے میچ کھیلتا تھا، اس کی کوشش ہو گی کہ اس کے سارے کرپشن کیسزختم کرو، الیکشن کمیشن پہلے ہی اس کا ہے، اسے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ انتخابات جیت جائے گا یہ اس وقت تک انتخابات نہیں کرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج مشکل یہ ہے کہ پاکستان بڑی تیزی سے نیچے جارہا ہے، جب ہم تھے ڈیفالٹ رسک پانچ فیصد تھا جو آج 80 فیصد ہے، یہ فیصلہ باہر کی فنانس مارکیٹ کر رہی ہے، کوئی باہر سے سرمایہ کاری نہیں کرے گا کوئی باہر سے کمرشل بینک پاکستان کو قرضے نہیں دے گا، کیسے پاکستان کا ڈالر کا خلیج ختم ہوگا کیسے ہم اپنے قرضوں کی اقساط دیں گے۔ اگر پاکستان قرضے واپس نہ کر سکے تو روپیہ کتنا گرے گا اور مہنگائی کہاں جائے گی کیا وہ کوئی کنٹرول کر سکے گا۔ جو لندن میں بیٹھا ہوا ہے وہ اس لیے انتخابات نہیں کرائے گا کیونکہ اسے اپنی ذات کی فکر ہے، اس کا پاکستان میں کوئی اسٹیک نہیں، یہ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جارہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ چھ پولیس اہلکار دہشت گردی میں شہید ہوئے ہیں، جب سے یہ حکومت آئی ہے دہشت گردی بڑھنا شروع ہو گئی ہے، جب ہماری حکومت تھی اس وقت بھارت پرو حکومت تھی، آج جو افغانستان میں حکومت آئی ہے وہ پاکستان کے خلاف نہیں ہے، وہاں سے دہشت گردی نہیں آنی چاہیے۔ اس حکومت کے پاس سوچ ہی نہیں ،سوچ کے لئے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے، یہ معیشت کے بارے میں سوچتے ہیں نہ ملک کی سکیورٹی کا کرنا ہے اس بارے ان کی کوئی سوچے، ان کی خارجہ پالیسی کوئی پتہ نہیں، ان کی صرف یہ کوشش ہے کہ کسی طرح کرپشن کے کیسز اور تحریک انصاف کو ختم کیا جائے۔ عمران خان نے کہاکہ کسانوں کے آج ابتر حالات ہیں، ہماری جی ڈی پی کا19فیصد زراعت سے آتا ہے، ڈھائی کروڑ لوگوں کو زراعت سے روزگار ملا ہوا ہے، ہمارے دور میں کسانوں کی 2600 ارب روپے کی آمدن ہوئی جس کی وجہ سے ریکارڈ ٹریکٹرز اور موٹر سائیکل فروخت ہوئیں، معیشت اوپر گئی، چار اجناس ریکارڈ پیداوار ہوئی، شہباز شریف کی ترقی صرف اشتہارات میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ حالات کی وجہ سے شوگر ملز جنوری میں کرشنگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، شوگر ملز کا کہنا ہے کہ اگر انہیں چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو کسانوں کا معاشی قتل ہوگا۔ اگر کسان فصل کاٹے گا نہیں تو گندم کے لئے کھیت کیسے تیار ہوگا۔ پہلے ہی ملک میں 20لاکھ ٹن گندم کم ہے، پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت فوری طور پر امدادی قیمت کا اعلان کرے اور کرشنگ شروع کرائے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہفتہ کے روز ڈاکٹرز سے ملاقات ہے اور میں ہفتے کے روز بتاؤں گا پنڈی کب پہنچنا ہے، اب تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر