وجود

... loading ...

وجود

ارشد شریف کے قتل کی سازش پاکستان میں ہوئی، فیصل واوڈا کا دعویٰ

بدھ 26 اکتوبر 2022 ارشد شریف کے قتل کی سازش پاکستان میں ہوئی، فیصل واوڈا کا دعویٰ

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ سینئر صحافی ارشد شریف کا قتل ہوا ہے جس کی سازش پاکستان میں ہوئی، ارشد شریف اسٹیلشمنٹ سے رابطے میں تھا اور پاکستان آنا چاہتا تھا ،ارشد شریف کا کوئی ثبوت لیپ ٹاپ یا موبائل نہیں ملے گا، شواہد مٹا دیے گئے ہیں، ارشد شریف کا اس ملک اور دنیا سے جانا غیرت کی بات ہے، کوئی کھڑا ہو یا نہیں، کوئی ڈرے یا مرے میں ضرور کھڑا ہوں گا، لانگ مارچ میں خون ہی خون ،جنازے ہی جنازے نظر آرہے ہیں، لاشوں اور خون کا کھیل ملک میں بند ہونا چاہیے، میں نے ویڈیو بھی بنائی ہے اور نام بھی دے دیے ہیں، مجھے کچھ ہوا تو سازشی شخصیات بھی ماری جائیں گی۔بدھ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف کا اس ملک اور دنیا سے جانا غیرت کی بات ہے، کوئی کھڑا ہو یا نہیں، کوئی ڈرے یا مرے میں ضرور کھڑا ہوں گا، میرا وہ دوست0 بھی تھا اور میرا میزبان بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شہادت وہ ایک حادثہ نہیں ہے، آنے والے دنوں میں بہت کچھ بتاتا رہوں گا اب میں نہیں رکوں گا، اگر ارشد شریف کو گول لگ سکتی تو پھر گولی کسی کو بھی آپ اور مجھے بھی لگ سکتی ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف کا قتل ہوا ہے اور اس کی سازش پاکستان میں ہوئی ہے، ارشد شریف کا کوئی ثبوت لیپ ٹاپ یا موبائل نہیں ملے گا، شواہد مٹا دئیے گئے ہیں، اس کی تحقیقات کہاں پہنچتی ہے، خاص طور پر ہمارے نظام میں انصاف کا تو سب کو پتا ہے،جہاں حادثہ ہوا ہے ، وہاں کے حالات پاکستان یا پاکستان سے بدتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20گولیاں چلیں اور ارشد شریف کو 20 گولیاں ماری گئیں ایسا نہیں ہے، میرے خیال میں گاڑی کے اندر یا بہت قریب سے مارا گیا ہے، ارشد شریف کو دو گولیاں لگیں، جو سینے اور سر پر ہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ کہانی بنائی گئی بچہ اغوا ہوا اس کیلئے گولی ماری گئی، اس گاڑی کے اندر منصوبہ بندی سے قتل صرف ارشد شریف کا ہوا ہے کسی اور کا نہیں ہوا، جو خرم اور وقار نامی شخص آ رہے ہیں، یہ میرے اور آپ کے بس کا کام نہیں اور نہ پاکستان میں کسی اور سیاسی شخصیت کام ہو کہ وہ کینیا کے شہر میں دو گھنٹے دور ایک فارم ہاؤس کا انتظام کرے اور اس میں چھپائے اور دنیا میں کسی کو پتا نہ ہو اور یہ حادثہ پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں نے ویڈیو بنا کر ان لوگوں کے نام دے دیے ہیں، میں نے ویڈیو بھی بنائی ہے اور نام بھی دے دیے ہیں، بین الاقوامی اور قومی سطح پر دے دیے ہیں اور مجھے کچھ ہوا اور مارا گیا تو جو شخصیات اس سازش کا حصہ ہیں وہ بھی 3 گھنٹے کے اندر اسی طرح ماری جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کتنے بھی بڑے طاقت ور لوگ ہوں ان کو میرا بڑا واضح پیغام ہے، مجھے گولی لگی اور مرا تو تین سے 5 گھنٹے میں تمہیں بھی گولی لگے گی اور تم بھی مروگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازش اور ٹولہ بنایا گیا، ارشد شریف نہ بھاگنے والا اور نہ ملک چھوڑنے والا آدمی تھا، ان پر ایف آئی آرز کٹیں تاہم ارشد شریف ملک چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو سازشیوں نے ڈرایا، بتایا اور مجبور کیا اور وہ شخصیت تھی، جن پر یقین کرنا بنتا ہے اور ان کو یہاں سے نکال دیا گیا، جب نکال دیا گیا تو وہ دبئی پہنچا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ جب وہ دبئی پہنچا تو کہا گیا کہ کسی اسٹیبلشمنٹ یا کسی نامعلوم ادارے نے دبئی سے نکالنے کیلئے دباؤ اور وہاں سے نکال دیا، یہ بھی بالکل بے بنیاد اور جھوٹ ہے، جتنے دن ویزا تھا وہ اتنے دن دبئی میں رہا، جب ویزا ختم ہوگیا تو ان کو دبئی چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بتایا گیا کہ لندن چلے گئے ہیں تاہم وہ لندن بھی نہیں گئے تھے، پھر اس شخص نے جس پر وہ بھروسہ کر رہا تھا اور جو منصوبہ بندی کر رہا تھا اور سازش کر رہا تھا اور جس سازش کے حصے کے اندر آج پورا پاکستان پھنسا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس کو کہہ کے تھک گیا ہوں، آستینوں کے سانپ کے بارے میں بتا چکا ہوں، اپنے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو بتا چکا ہوں کہ یہ جو سازش رچائی جا رہی ہے، اس کے تانے بانے اور سازش کے فائدے اور مقاصد کچھ اور ہیں، سب کو الٹی پٹڑی پر چڑھا دیا گیا ہے۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان پرامن مارچ کرنے جا رہے ہیں، جو ہمارا جمہوری حق ہے لیکن میں واضح طور پر بتا رہا ہوں مجھے اس مارچ کے اندر خون ہی خون، موت ہی موت اور جنازے ہی جنازے نظر آرہے ہیں اور وہ جنازے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں معصوم پاکستانیوں کو چند لوگوں کی سازش کے تحت مرنے نہیں دوں گا اپنے آخری وقت تک کوشش کروں گا کہ ملک میں یہ خون اور لاشوں کا کھیل بند ہو۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف اپنے مقصد، بیانیے اور سوچ میں ایمان داری سے کھڑا تھا، اس کو موت کا ڈر تھا نہ اس کو پیسے سے خریدا جاسکتا تھا لیکن ان کو جو مقاصد بتائے گئے اس کے پیچھے سازش تھی۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ میں آئندہ دنوں میں ہفتوں میں نہیں وہ سب پردے چاک کردوں گا، مجھے اب فکر نہیں ہے، اپنے گھر والوں، بیوی بچوں اور ماں باپ کو بتا کر آیا ہوں اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تحفے میں ان کی لاشیں بھی ملیں گی، میں حلف میں بتا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تحفے میں ان کی لاشیں بھی ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو دبئی سے کینیا کوئی عام آدمی نہیں بھیج سکتا، کینیا میں وہ کیا کرتا رہا اس میں سازشی لوگ ہیں جو ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور میری پارٹی کو توڑنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک قتل ہے اور اس کو ڈراما کی شکل نہ دیں، دعوے سے کہہ رہا ہوں، کوئی ثبوت نہیں ملے گا۔ فیصل واڈا نے کہا کہ مارچ میں لوگوں کا خون دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھا اور وہ پاکستان آنے کو تیار تھا لیکن سازش کے تحت اس کی ذہن سازی کی گئی۔انہوں نے کہاکہ میں ارشد شریف سے اس دن سے مسلسل رابطے میں تھا جب وہ ملک سے باہر چلے گئے، میرا موبائل حاضر ہے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جو طاقت ور شخصیات اس میں ملوث ہیں وہ مجھ سے دور نہیں ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں سارے نام سال یا مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں بتاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر چند لوگ ہیں جو اس سازشی بیانیے کو مانتے ہیں تاہم وہ تحریک انصاف کا بیانیہ اور سازش نہیں ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ اس وقت میں کسی کی جان بچا رہا ہوں لیکن میں ان سب کا نام لوں گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جن کی جان کو خطرہ ہے، ان کا تعلق تحریک انصاف سے باہر کے لوگ بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہے، جو بھی ملوث ہیں آنے والے دنوں میں سب سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو فائدہ اٹھا رہے ہیں، انہی کیلئے یہ پریس کانفرنس کی ہے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر