... loading ...
برلن کے تمام اداروں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک اور برتاؤ میں اسٹرکچرل تعصب بنیادی مسئلہ قرار، حقائق جاننے اور مسئلہ کے حل کیلئے جرمن حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ کمیشن کی رپورٹ اور تجاویز سامنے آ گئیں۔ جرمن حکومت کی طرف سے تشکیل دیے گئے ایک پینل نے کہا ہے کہ دارالحکومت برلن کے تمام اداروں میں ہی مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے۔ اس پینل نے اس صورتحال میں بہتری کے لیے متعدد تجاویز بھی دی ہیں۔ جرمن حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ ایک کمیشن نے رواں ماہ ہی ایک رپورٹ جاری کی، جس میں کہا ہے کہ برلن کے تمام اداروں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک اور برتاؤ میں اسٹرکچرل تعصب ایک مسئلہ ہیں۔ فروری 2020 میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک انتہا پسند کی طرف سے جرمن شہر ہنا میں کیے گئے ایک حملے کے بعد برلن حکومت نے ایک کمیشن ترتیب دیا تھا۔ اپنی نوعیت کے اس اولین کمیشن کا مقصد ایسے واقعات کے اسباب و سدباب کے حوالے سے تجاویز ترتیب دینا تھا۔ اس حملے میں ایک انتہا پسند نے تارکین وطن پس منظر کے حامل آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ بعد ازاں اس نے اپنی والدہ کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ دو سال کی تحقیق کے بعد اس کمیشن نے اپنی رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ برلن میں اقلیتی برادریاں ایسے سازگار حالات میں زندگی بسر نہیں کر رہی ہیں، جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے۔ جرمن دارالحکومت میں مختلف مذاہب کے افراد کے مابین ہم آہنگی اور بقائے باہمی کو ایک اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا ہے تاہم اس رپورٹ کے مطابق حقیقت برعکس ہے۔ جرمن حکومت کے تشکیل کردہ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جرمن اکثریت میں یہ عمومی (نسل پرستانہ) رویہ پایا جاتا ہے کہ اس شہر میں غربت اور اسلام کے مابین ایک بڑا تعلق ہے جبکہ برلن کی مسلم کمیونٹی کا خیال ہے کہ وہ کم ہنر یافتہ تارکین وطن ہیں۔ ان کیفیات کے نتیجے میں برلن کے تمام مسلمانوں کو براہ راست تو نہیں بلکہ ایک ساختیاتی (اسٹرکچرل) نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس رپورٹ میں مسلمانوں کے خلاف جرائم اور نامناسب رویوں کے بارے میں عمومی آگاہی نہ ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب انٹیلی جنس ادارے مسلم اداروں کی نگرانی کرتے ہیں تو اس میں شفافیت کی کمی ہوتی ہے۔ اس اقلیت کے مسائل کو میڈیا میں بھی کم توجہ دی جاتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکارف پہننے والی خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دیگر خواتین کے مقابلے میں مسلم خواتین جب جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا دعوی کرتی ہیں تو انہیں کم توجہ ملتی ہے یا ان دعوئوں کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ برلن میں مسلم آبادی اگرچہ قدرے پسماندہ ہے لیکن ان کی تعداد کم نہیں ہے۔ جرمن دارالحکومت میں مسلم آبادی کا تناسب 10 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ برلن میں تین اعشاریہ آٹھ ملین سے زائد مسلمان آباد ہیں، جن میں سے زیادہ تر کئی نسلوں سے اس ملک میں سکونت پزیر ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برلن کی اتنی بڑی آبادی کے مسائل کو حل کرنے کی فوری کوشش کرنا چاہیے۔ اس صورتحال سے نمٹنے خاطر اس کمیشن کی طرف پیش کردہ تجاویز میں چار امور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اور کرمنل جسٹس کے اداروں کے علاوہ ثقافتی زندگی اور تعلیم کے شعبے میں عمومی رویوں اور اعمال کو بدلنے کی بات کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں اصرار کیا گیا ہے کہ ان شعبوں میں کام کرنے والوں کی خصوصی تربیت کی ضرروت ہے جبکہ پولیس، ججوں اور اساتذہ کو ان کی پروفیشنل ڈیولپمنٹ پر بھی توجہ دینا چاہیے تاکہ وہ تعصب کی کسی بھی قسم کو زیادہ بہتر طریقے سے پہچان سکیں۔ برلن میں ترک ایسوسی ایشن(ٹی بی بی)کے ترجمان سافٹر سانار کا کہنا ہے کہ بعض اوقات نسل پرستانہ رویے عدم حساسیت کی وجہ سے بھی رونما ہو جاتے ہیں، ”نسل پرستانہ جملہ بولنے والا ہر شخص نسل پرست نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ نسل پرستانہ رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سافٹر سانار کے بقول جرمنی میں نسل پرستی کا نظریہ قدرے نیا ہے۔ ان کے بقول ریاستی ملازمین کے لیے یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ اگر ان میں سے کوئی نسل پرستی کا مرتکب ہو گا تو اس کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...
پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...