وجود

... loading ...

وجود

ایم کیوایم کی سندھ کے ساتھ وفاق سے بھی علیحدگی کی تیاری

جمعه 01 جولائی 2022 ایم کیوایم کی سندھ کے ساتھ وفاق سے بھی علیحدگی کی تیاری

ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی صابرقائم خانی نے کہا ہے کہ جو وعدے کیے وہ پورے ہوتے نظر نہیں آرہے، سندھ کے سے ساتھ وفاق سے بھی علیحدگی کے امکانات ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی صابرقائم خانی نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی مخلص نہیں اورنہ ہی وفادار ہے، پیپلز پارٹی میں محبت اور ملنے کے رحجان کابھی فقدان نظرآتاہے۔رہنما ایم کیوایم نے کہاکہ پی پی قیادت کااحساس باتوں کی حدتک ہے عمل نہیں کرتے، پیپلزپارٹی والے ایم کیو ایم کو اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھتے ہیں، پی پی والے ایسے نہ کریں توسندھی قوم توان سے آزادہوناچاہتی ہے۔صابرقائم خانی نے کہا کہ ہم سیاسی اتحاد کا ازسرنو جائزہ لینے کادروازہ ہروقت کھلارکھتے ہیں، بعض اوقات لوگ سمجھتے ہیں شاید ایم کیوایم کوجلدی ہوتی ہے ، ہمیں لگادھوکہ ہو رہا ہے تو پہلے الٹی میٹم دیتے ہیں پھرعلیحدہ ہوتے ہیں۔انھوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پی پی کو کہہ دیا آپ نے جو وعدے کیے وہ پورے ہوتے نظر نہیں آرہے، سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ وفاق سے علیحدگی کے بھی امکانات ہیں، افسوس ہوتا ہے کہ عوام کی رائے کو مینج کرکے ووٹرز کو روکا جائے۔رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے معاہدہ کرنا ایم کیوایم کیلئے مشکل مرحلہ تھا، مخالفت بہت تھی ، ابھی ہم ان کو ٹائم دے رہے ہیں مگرانہیں بھی خیال کرنا چاہیے، یہ توسندھی قوم کی بھی خدمت نہیں کر رہے۔صابرقائم خانی نے کہا کہ جو اختلافات پیدا ہوتے ہیں وہ طرزحکومت سے ہوتے ہیں، غلط حلقہ بندیوں سے دیہی نمائندگان صوبے پرحکومت کرتے ہیں، دیہی سندھ والوں نے اپنے علاقوں کو تو کبھی ترقی دینی ہی نہیں، اس کے ساتھ شہری سندھ کو بھی مسائل میں مبتلا کردیتے ہیں۔حلقہ بندیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی حلقہ بندیاں غیرمناسب اورسیاسی بنیادپر ہیں، خرابیاں صرف بلدیاتی نہیں بلکہ صوبائی حلقوں میں بھی اسی طرح ہیں، من پسندحلقہ بندیوں سے مطلوبہ نتائج لینا چاہتے ہیں، حکومت صرف ایک پارٹی نہیں بلکہ پورے صوبے اور ملک کی ذمہ دار ہے۔رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ سندھ میں پہلی تقسیم توذوالفقاربھٹو نے کی تھی،ہم نے سبق نہ سیکھا، بھٹولسانی بل اورکوٹہ سسٹم لائے اوراسی کے ردعمل میں ایم کیوایم بنی، جب بھی پی پی سے اتحاد کرتے ہیں تو ووٹرز کے ذہنوں میں سوالات اٹھتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ہم بات ایک کرتے ہیں اورپھر معاہدہ کرنا پڑجاتاہے،ہم نے کہا جومعاہدے وفاق ،سندھ میں کیے خلوص نیت سے پورے کریں،پہلی بار معاہدے میں دوسری جماعتیں بھی ضمانتی ہیں، اس بارسب جماعتوں کو پتہ چلے گا ہماری علیحدگی کی وجہ پیپلزپارٹی ہے۔انھوں نے کہا کہ فواد چوہدری کی بات سے ہٹ کر ہم توہمیشہ کہتے ہیں ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنائیں، ایڈمنسٹریٹو یونٹس اوران کے گورنرز ہونے چاہئیں تاکہ تقسیم مساوی ہو، ایک کونے میں بیٹھا وزیراعلی پورے صوبے کونہیں چلاسکتا۔کراچی کے مسائل سے متعلق رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ کراچی کے وسائل سے ملک چلتاہے مگر پی پی اسکی خودمختاری نہیں چاہے گی، بینظیربھٹونے بھی کہاتھا کہ ڈسٹرکٹ گورنرز لگنے چاہئیں ، دیکھتے ہیں جس لیڈرکے نام پرووٹ لیتے ہیں اسکی بات کب مانتے ہیں۔صابرقائم خانی نے کہا کہ ایم کیوایم بھی ایسے ہی ٹوٹی جیسے دوسری جماعتیں کسی کے اشارے پر ٹوٹتی ہیں، بڑے لیڈروں نے موروثی سیاست چلا رکھی ہے،یہ جمہوریت نہیں، دادا، باپ، بیٹا ،پوتوں اورنواسوں تک جماعتوں کی سربراہی پہنچ جاتی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے وفاقی حکومتی اتحاد سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایمل ولی خان کی زیرِ صدارت اے این پی کی مرکزی قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں حکومتی اتحاد کے لیے کیے گئے وعدوں اور ان پر عمل درآمد سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اے این پی رہنمائوں نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی تجویز دے دی۔اس حوالے سے ایمل ولی خان نے حتمی فیصلوں کے لیے مرکزی قیادت کا اجلاس عیدالاضحیٰ کے بعد طلب کر لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اے این پی رہنمائوں نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اختیار پارٹی سربراہ کو دے دیا ہے۔اے این پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کو شکایت ہے کہ حکومت کی جانب سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہ ہو سکا۔اے این پی قیادت کو یہ شکایت بھی ہے کہ کسی بھی حکومتی فیصلے پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر