وجود

... loading ...

وجود

غداری کا مقدمہ بنا کر مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،عمران خان

هفته 04 جون 2022 غداری کا مقدمہ بنا کر مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے سازش کے تحت ہماری حکومت کو گرایا گیا، جب سازش کرنے والوں نے دیکھا کہ قوم سازش کو سمجھ چکی تو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان پر غداری کا مقدمہ کرکے اس کو راستے سے ہٹائیں، کیا نواز شریف اور آصف علی زرداری مجھ پر غداری کا مقدمہ چلائیں گے؟جیل میں ڈالنے کی باتیں کی جا رہی ہیں،جیل تو چھوٹی چیز ہے،میں اپنی جان دینے کیلئے تیار ہوں بیرونی سازش کے تحت ہم پر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی، بھارت اور اسرائیل ہمارے ملک کو کمزور کرنا اور ٹوڑنا چاہتے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے ہر چیز کی قیمت پر اثر پڑے گا مگر انہیں کوئی پروا نہیں، جب ہمیں آئی ایم ایف نے قیمتیں بڑھانے کا کہا تو ہم نے قیمتیں مزید کم کر کے عوام کو ریلیف دیا، ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم عمران خان نے بونیر میں تحریک انصاف کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھ پر غداری کا مقدمہ چلانے کی بات کی جار ہی ہیں، کیا نواز شریف اور زرداری مجھ پر غداری کا مقدمہ چلائیں گے؟ آصف علی زرداری نے حسین حقانی کے زریعے امریکہ کو کہا تھا کہ اسے فوج سے بچائیں،کیا زرداری مجھ پر غداری کا مقدمہ کرے گا؟عمران خان نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ مجھ پر کیس کر کے جیل میں ڈال دیا جائے، جیل تو چھوٹی چیز ہے،میں تو اپنی جان دینے کیلئے تیار ہوں، انھوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے،، کچھ چیزوں کی وضاحت ہونی ہے،میری قوم مجھے چالیس سال سے جانتی ہے،ہمیشہ پرامن احتجاج کیا ہے نہیں چاہتے رینجرز،پولیس اور فوج سے تصادم ہو۔ حکومت کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا عوام مہنگائی کے سمندر میں ڈوب جائیں گے،بیرونی سازش کے تحت امپورٹڈ حکومت مسلط ہوئی، شریف خاندان اور زرداری سازش کا حصہ بنے،پوری دنیا میں اس حکومت کیخلاف احتجاج ہوئے،دنیا میں ایک ہی نعرہ لگا”امپورٹڈ حکومت نامنظور” جب ہماری حکومت گرائی گئی تو بھارت میں خوشیاں منائی گئیں،بھارت میں ایسے خوشیاں منائی گئیں جیسے شہباز شریف نہیں شہباز سنگھ تھا،شریف خاندان کے بھارت کی بزنس کمیونٹی سے بڑے گہرے تعلقات ہیں، نریندر مودی نے کشمیریوں پر سب سے زیادہ ظلم کیا، اسے نوازشریف نے شادی پر بلایا، نواز شریف بھارت گیا حریت رہنماوں سے ملاقات نہیں کی، نریندر مودی جب پاکستان کے آرمی چیف کو دہشتگرد اور نواز شریف کو دوست کہتا تھا،سابق وزیراعظم نواز شریف کے منہ سے ایک بار بھی کلبھوشن کا نام نہیں نکلا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو ملک کی بہت بڑی بیماری قرار دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری کو پیسے کی بیماری ہے، زرداری جب پیسہ دیکھتا ہے اس کی کانپیں ٹانگنا شروع ہو جاتیں ہیں۔ سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر کو حکم دیا کہ عمران خان کو ہٹاو، دھمکی دی کہ اگر نہ ہٹایا تو نتائج بھگتنا ہوں گے،ڈونلڈ لو نے کہا اگر چیزی بلاسم آئے تو معاف کر دینگے،سات مارچ کو مراسلہ اور آٹھ مارچ کوتحریک عدم اعتماد جمع ہو جاتی ہے،ہمارے اتحادی بھی ایک دم تبدیل ہوجاتے ہیں،سلامتی کمیٹی میں مراسلہ دکھایا گیا، صدر مملکت نے مراسلہ کے حوالے سے خط چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھا ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں روزانہ مہنگائی کا بڑا شور مچایا جاتا تھا،کانپیں ٹانگنے والے بلاول نے مہنگائی کے خلاف مارچ کیا تھا،کوئی کہتا تھا آٹا اور کوئی کہتا تھا گیس کی قیمت بڑھا دی ہے،اللہ کا حکم ہے سچ نہیں چھپ سکتا، پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں آٹے کی قیمت 326 روپے بڑھی، ان کے صرف دو ماہ 422 روپے آٹا کی قیمت بڑھی ہے،گھی کے نرخ میں فی کلو 213 روپے اضافہ ہوا جبکہ ان کے دو ماہ میں 200 روپے فی کلو قیمت بڑھی، پیٹرول 56 روپے 90 پیسے بڑھا، ان کی حکومت میں 60 روپے بڑھ گیا ہے۔ جلسہ سے خطاب میں لوڈ شیڈنگ کا ذکر کرتے ہوئے چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ملک میں انتہا کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے،ہماری حکومت میں ساڑھے تین سال میںفی یونٹ چھ روپے قیمت بڑ ھی،انھوں نے د و ماہ میں دس روپے فی یونٹ بڑھا دی ہے،آئی ایم ایف ہمیں بھی پیٹرول،ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا کہتا تھا،ان میں اور ہم میں فرق ان کی تمام جائیدادیں، بچے باہر ہیں، ان کا پاکستان میں کوئی سٹیک نہیں،ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا، عوام مہنگائی کے سمندر میں ڈوب جائیں گے پٹرول کی قیمت جب بڑھے گی تو ہر چیز کی قیمت بڑھے گی، ہم نے پڑول کی قیمت کو دس روپے کم کر کے عوام کو ریلیف دیا، ہماری حکومت نے پیٹ کاٹ کر عوام کو بچایا،میرا جینا مرنا پاکستان ہے، باہر کوئی جائیدار نہیں،یہ باہر سے ڈکٹیشن لیکر فیصلے کرتے ہیں، اگر میرا بھی پیسہ باہر پڑا ہوتا تو انہیں ابسولیٹیلی ناٹ نہ کہتا، یہ کبھی امریکہ کے خلاف بات نہیں کرینگے۔ الطاف حسین کو سب سے بڑا دہشتگرد قرار دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الطاف حسین نے کراچی میں سب سے زیادہ قتل کرائے،کیا برطانیہ ہمیں الطاف حسین پر ڈرون حملہ کرنے کی اجازت دے گا ؟،2008 سے 2018 تک 400 ڈرون حملے ہوئے، خواتین، بچے مارے گئے مگر ان پیسے کے غلاموں نواز شریف اور آصف زرداری کے منہ سے یہ بات نہیں نکلی کہ یہ حملے انسانی حقوق کے خلاف ہیں، انہوں نے کبھی ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی۔ نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو وہ 22 مرتبہ نجی دورے پر برطانیہ گیا، آصف زرداری 50 مرتبہ نجی دورے پر د بئی گیا جب کہ میں نے ایک بھی نجی دورہ نہیں کیا کیونکہ پاکستان میرا گھر ہے، یہ امریکا اور آئی ایم ایف کے غلام ہیں، ان کے پیسے باہر پڑے ہیں اس لیے یہ کبھی ان کے خلاف بات نہیں کریں گے، ہمارے ملک میں ڈرون حملوں سے مرنے والوں کی کبھی کوئی تحقیقات نہیں ہوتی تھی، نواز شریف اور زرداری ان کیساتھ ملے ہوئے تھے۔عمران خان نے کہا کہ آج نیوٹرل سے پوچھنا چاہتا ہوں جب آپ نے نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا تو بہت اچھی چیز ہیں،بتایا تھا ساز ش کا سن رہا ہوں اگر کامیاب ہو گئی تو ملک کا بڑا نقصان ہوگا، شوکت ترین سے کہا تھا کہ انہیں ملکی معاملات بارے آگاہ کرو، اگر ملکی معیشت گرناشروع ہوجائے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا ہے، عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں کورونا کے باوجود ملکی معیشت ترقی کر رہی تھی جب کہ ان کی حکومت میں مئی کے مہینے میں تجارتی خسارے میں 4 ارب ڈالرکا اضافہ ہوگیا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی بہت زیادہ کمی ہوئی ہے، روپے کی قدر میں کمی ہوئی،ڈالر 200 روپے سے اوپر چلا گیا ہے، اس سے ابھی ملک میں مزید مہنگائی آئے گی۔ کارکنوں نے ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے تو عمران خان نے کہا بونیر کے جذبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اللہ جسے چاہے عزت اور ذلت دیتا ہے جیسے ہی تقریر شروع کرتا ہوں ڈیزل کے نعرے شروع ہو جاتے ہیں، فضل الرحمان سوچو! اللہ نے تمہیں اتنی ذلت کیوں دی یہ دین کے نام پر سیاست کرتا ہے، جیسے ہی لوگ فضل الرحمان کو دیکھتے ہیں انہیں ڈیزل یاد آ جاتا ہے۔


متعلقہ خبریں


آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

مضامین
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن وجود جمعرات 05 فروری 2026
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

بلوچستان حملے اورسازشیں وجود جمعرات 05 فروری 2026
بلوچستان حملے اورسازشیں

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے ! وجود جمعرات 05 فروری 2026
سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر