وجود

... loading ...

وجود

غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمدات پرپابندی

جمعرات 19 مئی 2022 غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمدات پرپابندی

وفاقی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر ملکی انحصار کم کرنے کیلئے پرتعیش اور غیر ضروری اشیا کی درآمدات پر پابندی عائد کردی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے اس بات کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں آج جو مہنگائی ہے اس کی وجہ سابق وزیراعظم عمران خان کا عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے کیا گیا معاہدہ ہے، جس پر ان کی حکومت کے دستخط ہیں ، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے اندر اس وقت عوامی حکومت ہے اور جس کے اندر وفاق کی تمام اکائیاں اور تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کی معیشت 4 سال میں جس جگہ پہنچائی گئی، جس طرح پاکستان کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، معیشت کو تباہ اور مہنگائی کی شرح کو بڑھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں 1947 سے لے کر2018 تک حکومتوں نے جتنا قرضہ لیا گیا اور جتنا گزشتہ 4 سال میں قرض لیا گیا وہ اس کا 80 فیصد بنتا ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ قرض 25 ہزار سے 43 ہزار ارب کردیا گیا ہے، غذائی مہنگائی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 2.3 فیصد پر تھی لیکن آج وہ لوگ سوال کر رہے ہیں جنہوں نے غذائی مہنگائی کو 16 فیصد پر پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 2018 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگیا اور ترقی کی شرح 6 فیصد پر پہنچی تھی، جس کو پہلے منفی کیا گیا اور 4 سال ہچکولے کھاتی رہی۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال ایک امپورٹڈ حکومت، امپورٹڈ کابینہ، امپورٹڈ مشیر اور امپورٹڈ ترجمان کی حکومت تھی تو پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ترقی کی شرح 6 فیصد تھی تو اس وقت سی پیک، 11 ہزارمیگاواٹ بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے، منصوبوں کی مشینری آئی تھی اور اس وقت ڈالر مستحکم تھا لیکن سیاسی عدم استحکام مچا کر 3 دفعہ کے منتخب وزیراعظم کو اقامے کے اوپر نکالا گیا تو ڈالر 105 روپے پر تھا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو ڈالر 115 روپے پر تھا۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ آج جو سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر 4 ہفتوں کی حکومت سے سوال کرتے ہیں ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور تھوڑی شرم کرنی چاہیے کہ ڈالر 189 میں ان کی حکومت میں گیا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کی جو بدحالی ہے وہ آپ کے دور میں ہوئی، جب عدم اعتماد کی کامیابی تھی تو اس وقت 193 پر انٹربینک پر ڈالر تھا، تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت اوروزیراعظم نے آئی ایم ایف عمران خان کے دستخط شدہ معاہدے پر ملا۔انہوں نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر پچھلی حکومت نے دستخط کیے، عمران خان نے ان شرائط پر دستخط کیے، جس کی وجہ سے آج پاکستان میں مہنگائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جتنا بیس لائن معاہدہ ہے اور شرائط طے شدہ ہیں، اس پر عمران خان کی حکومت کے دستخط ہیں اور وہ لوگ جو صبح، دوپہر اور شام ملکی معیشت پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان پر عمران خان نے خود اعتماد نہیں کیا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ اسد عمر کو عمران خان نے ایک دن میں دو دو مرتبہ وزارت دے کر تبدیل کی گئی، ہر روز وزیرخزانہ بدلا جاتا تھا اور آج وہی لوگ دوسروں پر معیشت کا سوال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نوازشریف کی واحد حکومت نے جس نے پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف کے پروگرام کو 2015 میں مکمل کیا تھا اور ملک کے اندر معاشی پالیسیوں کو آزادانہ طور پر چلانے کے لیے اور مختلف منصوبے متعارف کروا کر 2018 میں پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے منشور میں مہنگائی کم کرنا ہے اور یہ جو 90 دن میں کرپشن ختم کرنے آئے تھے انہوں نے کرپشن کے ذریعے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کارٹیلز، مافیاز اور امپورٹڈ حکومت نے 4 سال پاکستان کے عوام کو لوٹا، اس کے بعد جتنے امپورٹ ہو کر آئے تھے اور سب ایکسپورٹ ہو کر پاکستان سے باہر چلے گئے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ اب ایک معاشی منصوبے کے ذریعے، جس کے ذریعے بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو اور ملک کے اندر ایسے مالی انتظامات کیے جائیں، اس کے لیے ایک مکمل منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ وزیراعظم ہے جس کو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ٹی وی سے پتہ نہیں چلتا، جو صبح اٹھ کر یہ نہیں کہتا ہے کہ آج ڈالر کی قیمت کیا ہے تو مجھے ٹی وی سے پتہ چلی، یہ وزیراعظم پاکستان کے عوام کی مشکل کے سدباب کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تمام غیرضروری لگژری اشیا کی درآمدات پر پابندی لگائی جارہی ہے، تمام وہ اشیا جو عام عوام کے استعمال میں نہیں ہیں اور جنہیں غیرضروری اشیا کہا جاتا ہے، ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کھانے کی اشیا، تزئین و آرائش کی تمام اشیا اور تمام امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ملک ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، ملک کے اندر 4 سال جو معاشی دہشت گردی کی گئی ہے اس کے لیے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے اندر ہنگامی صورت حال ہے، اس وقت پاکستانیوں کو ایک معاشی منصوبے کے تحت قربانی دینی پڑے گی اور یہ تمام چیزیں دو مہینوں کے لیے ہیں، جو اس کا غیرملکی ذخائر پر فوری اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سالانہ ان تمام چیزوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ 6 ارب ڈالر کا اثر پڑے گا، اولین ترجیح درآمدات پر جو انحصار پر اس کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات سے متعلق معاشی پالیسی متعارف کروائی جارہی ہے، اس سے مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا، مقامی سطح پر تیار ہونے والی صارفین کی اشیا کے استعمال میں اضافہ ہوگا، مقامی صنعت ترقی کرے گی، اس سے قمای سطح پر روزگار ملے گا، گزشتہ 4 سال میں 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے، تمام امپورٹڈ کابینہ، ترجمان اور مشیر جن کو یہاں نوکریاں دی گئیں، اب ان کی شکلیں بھی نظر نہیں آتیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے غیرملکی زرمبادلہ اور ڈالر کی قیمت میں استحکام آئے گا، کرنٹ اکاونٹ خسارہ اور ملک کا قرضوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔ جن اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ا ن میںگاڑیاں،موبائل فونز،گھریلو مصنوعات،ڈرائی فروٹ،فروٹس،کراکری کے تمام آئٹمز،پرائیویٹ ہتھیار،جوتے،لائٹنگ کی اشیا،ڈیکوریشن کی چیزیں،سینیٹری ویئر،دروازے،ونڈو فریم،فش،فروزن فوڈز،کارپٹ،ٹشو پیپر،فرنیچر،میک اپ،شیمپو،کنفیکشنری،میٹرس،سلیپنگ بیگز،ہیٹر،سن گلاسز،آئس کریم،سگریٹ،چمڑا،چاکلیٹ،موسیقی کے آلات شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک ٹولا مسلط تھا اور ان کی معاشی دہشت گردی تھی لیکن موجودہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ان آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کر کے اقدامات کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 4 سال کی حکومت وفاق اور خیبرپختونخوا میں 9 سال حکومت رہی اور ان 9 برسوں میں احتساب کمیشن اور نیب کے تمام کیسز پر تالا اور ایسا احتساب جس میں عمران خان کا نام آتا تھا، جو آج بھی خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں، اس ہیلی کاپٹر کیس کو تالا لگایا۔سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی پر تالا اور 4 سال مسلط رہنے والی حکومت آج کہتی ہے کہ مہنگائی کیوں ہوئی تو عمران خان صاحب 2.3 فیصد سے 16 فیصد مہنگائی آپ نے کی، تاریخی قرض، معاشی دہشت گردی اور اپنی سیاست کے لیے بغیر فنڈ سبسڈی آپ نے دی۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت میں اگر تعریف میں کمی آتی تھی تو وزیرخزانہ بدل دیا جاتا تھا، جب فرح گوگی کے پاس پیسوں کی کم بوری آتی تھی تو پنجاب کے اندر تقرری اور تبادلہ کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، وزیراعظم روز یہ کہتا تھا کہ ٹماٹر ، آلو اور چینی کی قیمت ٹھیک کرنے اور سستا کرنے نہیں آیا، چینی کو برآمد کیا اور پھر درآمد کیا جس کی وجہ سے چینی 120 روپے کلو تک گئی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کرانا پاکستان کے اندر حکومت پاکستان کا کام ہے، اس وقت الیکشن وہ کرائیں گے جو ملک اور عوام کو ریلیف دینا جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ پاکستان کے اندر الیکشن کب ہوں گے، روئیں، چیخیں یا پیٹیں، اگر آپ کو الیکشن کرانا ہوتا تو عدم اعتماد سے پہلے کرادیتے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد الیکشن کا ہوتا تو اسمبلیاں تحلیل کرتے مگر آپ کو پتہ یا خیال تھا کہ اتحادیوں کے پاوں پڑیں گے اور آپ کے مطابق جو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو تھا اس کے پاں پڑیں گے تو اتحادی آپ کے ساتھ رہیں گے، اسی لیے آپ اس اقتدار کے ساتھ چمٹے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کرانے کا اعلان مسلم لیگ (ن)، اتحادی حکومت اور جماعتوں کا ہوگا اور جب دل کرے گا الیکشن کرائیں گے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان صبح، دوپہر اور شام عدالتوں کو دھمکیاں دیتے رہے، آپ نے عدالتوں کو کہا رات کو کیوں کھلیں، عدالتیں آئینی شکنی اور پارلیمان پر حملہ کرنے کے خلاف کھلیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے دو تین ہفتے سپریم کورٹ کو دھمکی دو اور اس کے بعد جب آپ کے حق میں فیصلے آئیں تو سب ٹھیک ہے لیکن جب کوئی ایسا آئی جو چند گھنٹوں کے لیے آپ کو خوشیاں منانے کے لیے کافی ہو تو آپ اس طرح کی باتیں کریں، ان کا کہنا تھا یہ سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے ہیں اور معزز ججز نے یہ فیصلے خود دیئے ہیں کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، نیب کی جتنی کاروائی ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ خواجہ محمد سعد رفیق کے کیس کا فیصلہ موجود ہے، فیصلے میں واضح طور پر کیا گیا ہے کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور نیب کے اندر جو نیب گردی کی جاتی ہے وہ ہم نے چار سال دیکھا کہ وزیر اعلان کرتے تھے اور اگلے روز نیب ان کو گرفتار کرتا تھا جن کے بارے میں وزیر اعلان کرتے تھے۔ نیب تو نیب، نیازی گٹھ جوڑ، عمران خان کاذیلی ادارہ تھا، اوراس کے بارے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے موجود ہیں کہ یہ کس طرح استعمال کیا جاتا رہا اور اس کے حوالہ سے یہ بھی کہا گیا کہ قانون سازی بھی ہونی چاہیئے ، میرے خیال میں گزشتہ حکومت نے چھ نیب ترمیمی آرڈیننس نکلالے اور جو آخری آرڈیننس ہے وہ بھی دو جون کو غالباً ختم ہو رہا ہے جس میں موجودہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ختم ہورہی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا انٹرویو موجود ہے کہ کس طرح اداروں کو استعمال کر کے اور ان اداروں کے سربراہان کو استعمال کر کے اور ان پر دبائو ڈال کرسیاسی مخالفین کے خلاف یہ کیسز بنائے گئے، ہماری قانونی ٹیم اس پر مشاورت کررہی ہے ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا ہے ہم اپنا مئوقف بھی پیش کریں گے اور ایگزیکٹو کی کاروائی کے حوالہ سے بھی انفارمیشن مانگی گئی ہے وہ سپریم کورٹ کے آگے ہم پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں اگر کسی کے پاس معاشی پلان ہے، اگر عوام کو بے روزگاری، مہنگائی اور اس معاشی تکلیف سے کوئی نکال سکتا ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ وزیراعظم ان تمام چیزوں کو سستا کرنے آیا ہے، مہنگائی کرنے کے بہت آسان فیصلے ہوتے ہیں لیکن چیزوں کو سستا کرنے کے لیے دن رات محنت کرنا پڑتی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ جتنا شور کریں اور دھمال ڈالیں پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ آپ کا مقصد انتشار پھیلانا، ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال قبل بھی کنٹینر پر چڑھے رہے جہاں سول نافرمانی کی کالیں دیں، بل جلائے، پولیس والوں کے سر پھاڑے، 4 سال حکومت میں رہ کر آئینی اور ریاستی ادارے استعمال کر کے اپوزیشن اور میڈیا کے اوپر اپنی طاقت کا استعمال کرکے جیل میں ڈالا۔انہوں نے کہا کہ آپ صبح، دوپہر اور شام دوسروں کو چور کہہ کر اپنی چوری، نالائقی اور نااہلی سے نظر نہیں ہٹا سکتے، آپ اپنی فرنٹ مین فرح گوگی اور شہزاد اکبر کی چوری اور ڈاکے سے نظر نہیں ہٹواسکتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ توشہ خانہ کی چوری سے نظر نہیں ہٹواسکتے، ملک کے اندر معاشی تباہی، مہنگائی، بے روزگاری اور قرضے کا بوجھ آپ کا دیا ہوا ہے، جس کا گند ہم صاف کر رہے ہیں، وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ایک یا دو روز میں قوم سے مفصل خطاب کریں گے۔


متعلقہ خبریں


آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر