وجود

... loading ...

وجود

غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمدات پرپابندی

جمعرات 19 مئی 2022 غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمدات پرپابندی

وفاقی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر ملکی انحصار کم کرنے کیلئے پرتعیش اور غیر ضروری اشیا کی درآمدات پر پابندی عائد کردی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے اس بات کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں آج جو مہنگائی ہے اس کی وجہ سابق وزیراعظم عمران خان کا عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے کیا گیا معاہدہ ہے، جس پر ان کی حکومت کے دستخط ہیں ، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے اندر اس وقت عوامی حکومت ہے اور جس کے اندر وفاق کی تمام اکائیاں اور تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کی معیشت 4 سال میں جس جگہ پہنچائی گئی، جس طرح پاکستان کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، معیشت کو تباہ اور مہنگائی کی شرح کو بڑھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں 1947 سے لے کر2018 تک حکومتوں نے جتنا قرضہ لیا گیا اور جتنا گزشتہ 4 سال میں قرض لیا گیا وہ اس کا 80 فیصد بنتا ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ قرض 25 ہزار سے 43 ہزار ارب کردیا گیا ہے، غذائی مہنگائی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 2.3 فیصد پر تھی لیکن آج وہ لوگ سوال کر رہے ہیں جنہوں نے غذائی مہنگائی کو 16 فیصد پر پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 2018 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگیا اور ترقی کی شرح 6 فیصد پر پہنچی تھی، جس کو پہلے منفی کیا گیا اور 4 سال ہچکولے کھاتی رہی۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال ایک امپورٹڈ حکومت، امپورٹڈ کابینہ، امپورٹڈ مشیر اور امپورٹڈ ترجمان کی حکومت تھی تو پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ترقی کی شرح 6 فیصد تھی تو اس وقت سی پیک، 11 ہزارمیگاواٹ بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے، منصوبوں کی مشینری آئی تھی اور اس وقت ڈالر مستحکم تھا لیکن سیاسی عدم استحکام مچا کر 3 دفعہ کے منتخب وزیراعظم کو اقامے کے اوپر نکالا گیا تو ڈالر 105 روپے پر تھا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو ڈالر 115 روپے پر تھا۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ آج جو سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر 4 ہفتوں کی حکومت سے سوال کرتے ہیں ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور تھوڑی شرم کرنی چاہیے کہ ڈالر 189 میں ان کی حکومت میں گیا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کی جو بدحالی ہے وہ آپ کے دور میں ہوئی، جب عدم اعتماد کی کامیابی تھی تو اس وقت 193 پر انٹربینک پر ڈالر تھا، تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت اوروزیراعظم نے آئی ایم ایف عمران خان کے دستخط شدہ معاہدے پر ملا۔انہوں نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر پچھلی حکومت نے دستخط کیے، عمران خان نے ان شرائط پر دستخط کیے، جس کی وجہ سے آج پاکستان میں مہنگائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جتنا بیس لائن معاہدہ ہے اور شرائط طے شدہ ہیں، اس پر عمران خان کی حکومت کے دستخط ہیں اور وہ لوگ جو صبح، دوپہر اور شام ملکی معیشت پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان پر عمران خان نے خود اعتماد نہیں کیا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ اسد عمر کو عمران خان نے ایک دن میں دو دو مرتبہ وزارت دے کر تبدیل کی گئی، ہر روز وزیرخزانہ بدلا جاتا تھا اور آج وہی لوگ دوسروں پر معیشت کا سوال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نوازشریف کی واحد حکومت نے جس نے پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف کے پروگرام کو 2015 میں مکمل کیا تھا اور ملک کے اندر معاشی پالیسیوں کو آزادانہ طور پر چلانے کے لیے اور مختلف منصوبے متعارف کروا کر 2018 میں پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے منشور میں مہنگائی کم کرنا ہے اور یہ جو 90 دن میں کرپشن ختم کرنے آئے تھے انہوں نے کرپشن کے ذریعے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کارٹیلز، مافیاز اور امپورٹڈ حکومت نے 4 سال پاکستان کے عوام کو لوٹا، اس کے بعد جتنے امپورٹ ہو کر آئے تھے اور سب ایکسپورٹ ہو کر پاکستان سے باہر چلے گئے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ اب ایک معاشی منصوبے کے ذریعے، جس کے ذریعے بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو اور ملک کے اندر ایسے مالی انتظامات کیے جائیں، اس کے لیے ایک مکمل منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ وزیراعظم ہے جس کو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ٹی وی سے پتہ نہیں چلتا، جو صبح اٹھ کر یہ نہیں کہتا ہے کہ آج ڈالر کی قیمت کیا ہے تو مجھے ٹی وی سے پتہ چلی، یہ وزیراعظم پاکستان کے عوام کی مشکل کے سدباب کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تمام غیرضروری لگژری اشیا کی درآمدات پر پابندی لگائی جارہی ہے، تمام وہ اشیا جو عام عوام کے استعمال میں نہیں ہیں اور جنہیں غیرضروری اشیا کہا جاتا ہے، ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کھانے کی اشیا، تزئین و آرائش کی تمام اشیا اور تمام امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ملک ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، ملک کے اندر 4 سال جو معاشی دہشت گردی کی گئی ہے اس کے لیے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے اندر ہنگامی صورت حال ہے، اس وقت پاکستانیوں کو ایک معاشی منصوبے کے تحت قربانی دینی پڑے گی اور یہ تمام چیزیں دو مہینوں کے لیے ہیں، جو اس کا غیرملکی ذخائر پر فوری اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سالانہ ان تمام چیزوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ 6 ارب ڈالر کا اثر پڑے گا، اولین ترجیح درآمدات پر جو انحصار پر اس کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات سے متعلق معاشی پالیسی متعارف کروائی جارہی ہے، اس سے مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا، مقامی سطح پر تیار ہونے والی صارفین کی اشیا کے استعمال میں اضافہ ہوگا، مقامی صنعت ترقی کرے گی، اس سے قمای سطح پر روزگار ملے گا، گزشتہ 4 سال میں 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے، تمام امپورٹڈ کابینہ، ترجمان اور مشیر جن کو یہاں نوکریاں دی گئیں، اب ان کی شکلیں بھی نظر نہیں آتیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے غیرملکی زرمبادلہ اور ڈالر کی قیمت میں استحکام آئے گا، کرنٹ اکاونٹ خسارہ اور ملک کا قرضوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔ جن اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ا ن میںگاڑیاں،موبائل فونز،گھریلو مصنوعات،ڈرائی فروٹ،فروٹس،کراکری کے تمام آئٹمز،پرائیویٹ ہتھیار،جوتے،لائٹنگ کی اشیا،ڈیکوریشن کی چیزیں،سینیٹری ویئر،دروازے،ونڈو فریم،فش،فروزن فوڈز،کارپٹ،ٹشو پیپر،فرنیچر،میک اپ،شیمپو،کنفیکشنری،میٹرس،سلیپنگ بیگز،ہیٹر،سن گلاسز،آئس کریم،سگریٹ،چمڑا،چاکلیٹ،موسیقی کے آلات شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک ٹولا مسلط تھا اور ان کی معاشی دہشت گردی تھی لیکن موجودہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ان آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کر کے اقدامات کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 4 سال کی حکومت وفاق اور خیبرپختونخوا میں 9 سال حکومت رہی اور ان 9 برسوں میں احتساب کمیشن اور نیب کے تمام کیسز پر تالا اور ایسا احتساب جس میں عمران خان کا نام آتا تھا، جو آج بھی خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں، اس ہیلی کاپٹر کیس کو تالا لگایا۔سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی پر تالا اور 4 سال مسلط رہنے والی حکومت آج کہتی ہے کہ مہنگائی کیوں ہوئی تو عمران خان صاحب 2.3 فیصد سے 16 فیصد مہنگائی آپ نے کی، تاریخی قرض، معاشی دہشت گردی اور اپنی سیاست کے لیے بغیر فنڈ سبسڈی آپ نے دی۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت میں اگر تعریف میں کمی آتی تھی تو وزیرخزانہ بدل دیا جاتا تھا، جب فرح گوگی کے پاس پیسوں کی کم بوری آتی تھی تو پنجاب کے اندر تقرری اور تبادلہ کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، وزیراعظم روز یہ کہتا تھا کہ ٹماٹر ، آلو اور چینی کی قیمت ٹھیک کرنے اور سستا کرنے نہیں آیا، چینی کو برآمد کیا اور پھر درآمد کیا جس کی وجہ سے چینی 120 روپے کلو تک گئی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کرانا پاکستان کے اندر حکومت پاکستان کا کام ہے، اس وقت الیکشن وہ کرائیں گے جو ملک اور عوام کو ریلیف دینا جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ پاکستان کے اندر الیکشن کب ہوں گے، روئیں، چیخیں یا پیٹیں، اگر آپ کو الیکشن کرانا ہوتا تو عدم اعتماد سے پہلے کرادیتے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد الیکشن کا ہوتا تو اسمبلیاں تحلیل کرتے مگر آپ کو پتہ یا خیال تھا کہ اتحادیوں کے پاوں پڑیں گے اور آپ کے مطابق جو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو تھا اس کے پاں پڑیں گے تو اتحادی آپ کے ساتھ رہیں گے، اسی لیے آپ اس اقتدار کے ساتھ چمٹے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کرانے کا اعلان مسلم لیگ (ن)، اتحادی حکومت اور جماعتوں کا ہوگا اور جب دل کرے گا الیکشن کرائیں گے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان صبح، دوپہر اور شام عدالتوں کو دھمکیاں دیتے رہے، آپ نے عدالتوں کو کہا رات کو کیوں کھلیں، عدالتیں آئینی شکنی اور پارلیمان پر حملہ کرنے کے خلاف کھلیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے دو تین ہفتے سپریم کورٹ کو دھمکی دو اور اس کے بعد جب آپ کے حق میں فیصلے آئیں تو سب ٹھیک ہے لیکن جب کوئی ایسا آئی جو چند گھنٹوں کے لیے آپ کو خوشیاں منانے کے لیے کافی ہو تو آپ اس طرح کی باتیں کریں، ان کا کہنا تھا یہ سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے ہیں اور معزز ججز نے یہ فیصلے خود دیئے ہیں کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، نیب کی جتنی کاروائی ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ خواجہ محمد سعد رفیق کے کیس کا فیصلہ موجود ہے، فیصلے میں واضح طور پر کیا گیا ہے کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور نیب کے اندر جو نیب گردی کی جاتی ہے وہ ہم نے چار سال دیکھا کہ وزیر اعلان کرتے تھے اور اگلے روز نیب ان کو گرفتار کرتا تھا جن کے بارے میں وزیر اعلان کرتے تھے۔ نیب تو نیب، نیازی گٹھ جوڑ، عمران خان کاذیلی ادارہ تھا، اوراس کے بارے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے موجود ہیں کہ یہ کس طرح استعمال کیا جاتا رہا اور اس کے حوالہ سے یہ بھی کہا گیا کہ قانون سازی بھی ہونی چاہیئے ، میرے خیال میں گزشتہ حکومت نے چھ نیب ترمیمی آرڈیننس نکلالے اور جو آخری آرڈیننس ہے وہ بھی دو جون کو غالباً ختم ہو رہا ہے جس میں موجودہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ختم ہورہی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا انٹرویو موجود ہے کہ کس طرح اداروں کو استعمال کر کے اور ان اداروں کے سربراہان کو استعمال کر کے اور ان پر دبائو ڈال کرسیاسی مخالفین کے خلاف یہ کیسز بنائے گئے، ہماری قانونی ٹیم اس پر مشاورت کررہی ہے ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا ہے ہم اپنا مئوقف بھی پیش کریں گے اور ایگزیکٹو کی کاروائی کے حوالہ سے بھی انفارمیشن مانگی گئی ہے وہ سپریم کورٹ کے آگے ہم پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں اگر کسی کے پاس معاشی پلان ہے، اگر عوام کو بے روزگاری، مہنگائی اور اس معاشی تکلیف سے کوئی نکال سکتا ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ وزیراعظم ان تمام چیزوں کو سستا کرنے آیا ہے، مہنگائی کرنے کے بہت آسان فیصلے ہوتے ہیں لیکن چیزوں کو سستا کرنے کے لیے دن رات محنت کرنا پڑتی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ جتنا شور کریں اور دھمال ڈالیں پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ آپ کا مقصد انتشار پھیلانا، ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال قبل بھی کنٹینر پر چڑھے رہے جہاں سول نافرمانی کی کالیں دیں، بل جلائے، پولیس والوں کے سر پھاڑے، 4 سال حکومت میں رہ کر آئینی اور ریاستی ادارے استعمال کر کے اپوزیشن اور میڈیا کے اوپر اپنی طاقت کا استعمال کرکے جیل میں ڈالا۔انہوں نے کہا کہ آپ صبح، دوپہر اور شام دوسروں کو چور کہہ کر اپنی چوری، نالائقی اور نااہلی سے نظر نہیں ہٹا سکتے، آپ اپنی فرنٹ مین فرح گوگی اور شہزاد اکبر کی چوری اور ڈاکے سے نظر نہیں ہٹواسکتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ توشہ خانہ کی چوری سے نظر نہیں ہٹواسکتے، ملک کے اندر معاشی تباہی، مہنگائی، بے روزگاری اور قرضے کا بوجھ آپ کا دیا ہوا ہے، جس کا گند ہم صاف کر رہے ہیں، وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ایک یا دو روز میں قوم سے مفصل خطاب کریں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر