... loading ...
وفاقی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر ملکی انحصار کم کرنے کیلئے پرتعیش اور غیر ضروری اشیا کی درآمدات پر پابندی عائد کردی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے اس بات کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں آج جو مہنگائی ہے اس کی وجہ سابق وزیراعظم عمران خان کا عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے کیا گیا معاہدہ ہے، جس پر ان کی حکومت کے دستخط ہیں ، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے اندر اس وقت عوامی حکومت ہے اور جس کے اندر وفاق کی تمام اکائیاں اور تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کی معیشت 4 سال میں جس جگہ پہنچائی گئی، جس طرح پاکستان کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، معیشت کو تباہ اور مہنگائی کی شرح کو بڑھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں 1947 سے لے کر2018 تک حکومتوں نے جتنا قرضہ لیا گیا اور جتنا گزشتہ 4 سال میں قرض لیا گیا وہ اس کا 80 فیصد بنتا ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ قرض 25 ہزار سے 43 ہزار ارب کردیا گیا ہے، غذائی مہنگائی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 2.3 فیصد پر تھی لیکن آج وہ لوگ سوال کر رہے ہیں جنہوں نے غذائی مہنگائی کو 16 فیصد پر پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 2018 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگیا اور ترقی کی شرح 6 فیصد پر پہنچی تھی، جس کو پہلے منفی کیا گیا اور 4 سال ہچکولے کھاتی رہی۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال ایک امپورٹڈ حکومت، امپورٹڈ کابینہ، امپورٹڈ مشیر اور امپورٹڈ ترجمان کی حکومت تھی تو پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ترقی کی شرح 6 فیصد تھی تو اس وقت سی پیک، 11 ہزارمیگاواٹ بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے، منصوبوں کی مشینری آئی تھی اور اس وقت ڈالر مستحکم تھا لیکن سیاسی عدم استحکام مچا کر 3 دفعہ کے منتخب وزیراعظم کو اقامے کے اوپر نکالا گیا تو ڈالر 105 روپے پر تھا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو ڈالر 115 روپے پر تھا۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ آج جو سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر 4 ہفتوں کی حکومت سے سوال کرتے ہیں ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور تھوڑی شرم کرنی چاہیے کہ ڈالر 189 میں ان کی حکومت میں گیا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کی جو بدحالی ہے وہ آپ کے دور میں ہوئی، جب عدم اعتماد کی کامیابی تھی تو اس وقت 193 پر انٹربینک پر ڈالر تھا، تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت اوروزیراعظم نے آئی ایم ایف عمران خان کے دستخط شدہ معاہدے پر ملا۔انہوں نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر پچھلی حکومت نے دستخط کیے، عمران خان نے ان شرائط پر دستخط کیے، جس کی وجہ سے آج پاکستان میں مہنگائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جتنا بیس لائن معاہدہ ہے اور شرائط طے شدہ ہیں، اس پر عمران خان کی حکومت کے دستخط ہیں اور وہ لوگ جو صبح، دوپہر اور شام ملکی معیشت پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان پر عمران خان نے خود اعتماد نہیں کیا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ اسد عمر کو عمران خان نے ایک دن میں دو دو مرتبہ وزارت دے کر تبدیل کی گئی، ہر روز وزیرخزانہ بدلا جاتا تھا اور آج وہی لوگ دوسروں پر معیشت کا سوال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نوازشریف کی واحد حکومت نے جس نے پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف کے پروگرام کو 2015 میں مکمل کیا تھا اور ملک کے اندر معاشی پالیسیوں کو آزادانہ طور پر چلانے کے لیے اور مختلف منصوبے متعارف کروا کر 2018 میں پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے منشور میں مہنگائی کم کرنا ہے اور یہ جو 90 دن میں کرپشن ختم کرنے آئے تھے انہوں نے کرپشن کے ذریعے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کارٹیلز، مافیاز اور امپورٹڈ حکومت نے 4 سال پاکستان کے عوام کو لوٹا، اس کے بعد جتنے امپورٹ ہو کر آئے تھے اور سب ایکسپورٹ ہو کر پاکستان سے باہر چلے گئے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ اب ایک معاشی منصوبے کے ذریعے، جس کے ذریعے بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو اور ملک کے اندر ایسے مالی انتظامات کیے جائیں، اس کے لیے ایک مکمل منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ وزیراعظم ہے جس کو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ٹی وی سے پتہ نہیں چلتا، جو صبح اٹھ کر یہ نہیں کہتا ہے کہ آج ڈالر کی قیمت کیا ہے تو مجھے ٹی وی سے پتہ چلی، یہ وزیراعظم پاکستان کے عوام کی مشکل کے سدباب کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تمام غیرضروری لگژری اشیا کی درآمدات پر پابندی لگائی جارہی ہے، تمام وہ اشیا جو عام عوام کے استعمال میں نہیں ہیں اور جنہیں غیرضروری اشیا کہا جاتا ہے، ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کھانے کی اشیا، تزئین و آرائش کی تمام اشیا اور تمام امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ملک ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، ملک کے اندر 4 سال جو معاشی دہشت گردی کی گئی ہے اس کے لیے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے اندر ہنگامی صورت حال ہے، اس وقت پاکستانیوں کو ایک معاشی منصوبے کے تحت قربانی دینی پڑے گی اور یہ تمام چیزیں دو مہینوں کے لیے ہیں، جو اس کا غیرملکی ذخائر پر فوری اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سالانہ ان تمام چیزوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ 6 ارب ڈالر کا اثر پڑے گا، اولین ترجیح درآمدات پر جو انحصار پر اس کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات سے متعلق معاشی پالیسی متعارف کروائی جارہی ہے، اس سے مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا، مقامی سطح پر تیار ہونے والی صارفین کی اشیا کے استعمال میں اضافہ ہوگا، مقامی صنعت ترقی کرے گی، اس سے قمای سطح پر روزگار ملے گا، گزشتہ 4 سال میں 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے، تمام امپورٹڈ کابینہ، ترجمان اور مشیر جن کو یہاں نوکریاں دی گئیں، اب ان کی شکلیں بھی نظر نہیں آتیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے غیرملکی زرمبادلہ اور ڈالر کی قیمت میں استحکام آئے گا، کرنٹ اکاونٹ خسارہ اور ملک کا قرضوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔ جن اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ا ن میںگاڑیاں،موبائل فونز،گھریلو مصنوعات،ڈرائی فروٹ،فروٹس،کراکری کے تمام آئٹمز،پرائیویٹ ہتھیار،جوتے،لائٹنگ کی اشیا،ڈیکوریشن کی چیزیں،سینیٹری ویئر،دروازے،ونڈو فریم،فش،فروزن فوڈز،کارپٹ،ٹشو پیپر،فرنیچر،میک اپ،شیمپو،کنفیکشنری،میٹرس،سلیپنگ بیگز،ہیٹر،سن گلاسز،آئس کریم،سگریٹ،چمڑا،چاکلیٹ،موسیقی کے آلات شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک ٹولا مسلط تھا اور ان کی معاشی دہشت گردی تھی لیکن موجودہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ان آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کر کے اقدامات کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 4 سال کی حکومت وفاق اور خیبرپختونخوا میں 9 سال حکومت رہی اور ان 9 برسوں میں احتساب کمیشن اور نیب کے تمام کیسز پر تالا اور ایسا احتساب جس میں عمران خان کا نام آتا تھا، جو آج بھی خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں، اس ہیلی کاپٹر کیس کو تالا لگایا۔سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی پر تالا اور 4 سال مسلط رہنے والی حکومت آج کہتی ہے کہ مہنگائی کیوں ہوئی تو عمران خان صاحب 2.3 فیصد سے 16 فیصد مہنگائی آپ نے کی، تاریخی قرض، معاشی دہشت گردی اور اپنی سیاست کے لیے بغیر فنڈ سبسڈی آپ نے دی۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت میں اگر تعریف میں کمی آتی تھی تو وزیرخزانہ بدل دیا جاتا تھا، جب فرح گوگی کے پاس پیسوں کی کم بوری آتی تھی تو پنجاب کے اندر تقرری اور تبادلہ کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، وزیراعظم روز یہ کہتا تھا کہ ٹماٹر ، آلو اور چینی کی قیمت ٹھیک کرنے اور سستا کرنے نہیں آیا، چینی کو برآمد کیا اور پھر درآمد کیا جس کی وجہ سے چینی 120 روپے کلو تک گئی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کرانا پاکستان کے اندر حکومت پاکستان کا کام ہے، اس وقت الیکشن وہ کرائیں گے جو ملک اور عوام کو ریلیف دینا جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ پاکستان کے اندر الیکشن کب ہوں گے، روئیں، چیخیں یا پیٹیں، اگر آپ کو الیکشن کرانا ہوتا تو عدم اعتماد سے پہلے کرادیتے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد الیکشن کا ہوتا تو اسمبلیاں تحلیل کرتے مگر آپ کو پتہ یا خیال تھا کہ اتحادیوں کے پاوں پڑیں گے اور آپ کے مطابق جو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو تھا اس کے پاں پڑیں گے تو اتحادی آپ کے ساتھ رہیں گے، اسی لیے آپ اس اقتدار کے ساتھ چمٹے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کرانے کا اعلان مسلم لیگ (ن)، اتحادی حکومت اور جماعتوں کا ہوگا اور جب دل کرے گا الیکشن کرائیں گے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان صبح، دوپہر اور شام عدالتوں کو دھمکیاں دیتے رہے، آپ نے عدالتوں کو کہا رات کو کیوں کھلیں، عدالتیں آئینی شکنی اور پارلیمان پر حملہ کرنے کے خلاف کھلیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے دو تین ہفتے سپریم کورٹ کو دھمکی دو اور اس کے بعد جب آپ کے حق میں فیصلے آئیں تو سب ٹھیک ہے لیکن جب کوئی ایسا آئی جو چند گھنٹوں کے لیے آپ کو خوشیاں منانے کے لیے کافی ہو تو آپ اس طرح کی باتیں کریں، ان کا کہنا تھا یہ سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے ہیں اور معزز ججز نے یہ فیصلے خود دیئے ہیں کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، نیب کی جتنی کاروائی ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ خواجہ محمد سعد رفیق کے کیس کا فیصلہ موجود ہے، فیصلے میں واضح طور پر کیا گیا ہے کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور نیب کے اندر جو نیب گردی کی جاتی ہے وہ ہم نے چار سال دیکھا کہ وزیر اعلان کرتے تھے اور اگلے روز نیب ان کو گرفتار کرتا تھا جن کے بارے میں وزیر اعلان کرتے تھے۔ نیب تو نیب، نیازی گٹھ جوڑ، عمران خان کاذیلی ادارہ تھا، اوراس کے بارے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے موجود ہیں کہ یہ کس طرح استعمال کیا جاتا رہا اور اس کے حوالہ سے یہ بھی کہا گیا کہ قانون سازی بھی ہونی چاہیئے ، میرے خیال میں گزشتہ حکومت نے چھ نیب ترمیمی آرڈیننس نکلالے اور جو آخری آرڈیننس ہے وہ بھی دو جون کو غالباً ختم ہو رہا ہے جس میں موجودہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ختم ہورہی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا انٹرویو موجود ہے کہ کس طرح اداروں کو استعمال کر کے اور ان اداروں کے سربراہان کو استعمال کر کے اور ان پر دبائو ڈال کرسیاسی مخالفین کے خلاف یہ کیسز بنائے گئے، ہماری قانونی ٹیم اس پر مشاورت کررہی ہے ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا ہے ہم اپنا مئوقف بھی پیش کریں گے اور ایگزیکٹو کی کاروائی کے حوالہ سے بھی انفارمیشن مانگی گئی ہے وہ سپریم کورٹ کے آگے ہم پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں اگر کسی کے پاس معاشی پلان ہے، اگر عوام کو بے روزگاری، مہنگائی اور اس معاشی تکلیف سے کوئی نکال سکتا ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ وزیراعظم ان تمام چیزوں کو سستا کرنے آیا ہے، مہنگائی کرنے کے بہت آسان فیصلے ہوتے ہیں لیکن چیزوں کو سستا کرنے کے لیے دن رات محنت کرنا پڑتی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ جتنا شور کریں اور دھمال ڈالیں پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ آپ کا مقصد انتشار پھیلانا، ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال قبل بھی کنٹینر پر چڑھے رہے جہاں سول نافرمانی کی کالیں دیں، بل جلائے، پولیس والوں کے سر پھاڑے، 4 سال حکومت میں رہ کر آئینی اور ریاستی ادارے استعمال کر کے اپوزیشن اور میڈیا کے اوپر اپنی طاقت کا استعمال کرکے جیل میں ڈالا۔انہوں نے کہا کہ آپ صبح، دوپہر اور شام دوسروں کو چور کہہ کر اپنی چوری، نالائقی اور نااہلی سے نظر نہیں ہٹا سکتے، آپ اپنی فرنٹ مین فرح گوگی اور شہزاد اکبر کی چوری اور ڈاکے سے نظر نہیں ہٹواسکتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ توشہ خانہ کی چوری سے نظر نہیں ہٹواسکتے، ملک کے اندر معاشی تباہی، مہنگائی، بے روزگاری اور قرضے کا بوجھ آپ کا دیا ہوا ہے، جس کا گند ہم صاف کر رہے ہیں، وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ایک یا دو روز میں قوم سے مفصل خطاب کریں گے۔
کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...
اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...
چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...
اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...
نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...
متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...
پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...
انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...
نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...
سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...
امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...