... loading ...
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل63 اے کی تشریح کیلئے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت آج (منگل کو) مکمل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ عدالت کے کندھے اتنے کمزور نہیں، یہ کندھے آئین پاکستان ہے۔ آئین کے تحفظ اور تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے کہ صدارتی ریفرنس میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے، دوران سماعت ریمارکس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن والاعمل دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے، آئین جمہوریت کوتحفظ اور فروغ دے کر سیاسی جماعت کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ اکثر انحراف پر پارٹی سربراہ کارروائی نہیں کرتے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے سیاسی جماعت کے نظام کو بچاتا ہے۔ دوران سماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے وکیل مصطفی رمدے اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ آج اٹارنی جنرل اشتر اوصاف دلائل دیں گے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کیلئے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کا آغاز کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو لاہور میں تاخیر ہوگئی ہے اور وہ لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں؟ تو عامر رحمن کا کہنا تھاکہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آ رہے ہیں 3 بجے تک پہنچ جائیں گے، پنجاب کے کچھ معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے, اس دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں، یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہاکہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے، اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی، مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا، ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے۔ یہ دونوں وکلا صاحبان ایک فریق کے وکیل ہیں۔ ایک سرکار کے وکیل ہیں دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں۔ اب لگتا ہے آپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ساڑھے گیارہ بجے دیگر مقدمات قربان کر کے سماعت کے لیے کیس مقرر کیا۔ ہم آئین کے آرٹیکل تریستھ اے کے حوالے سے فیصلہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک انتہائی اہم ایشو ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل تین بجے پہنچ رہے ہیں تو چار بجے تک سن لیتے ہیں ہم رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یہ خدمت کا کام ہے جوہم کرنا چاہتے ہیں عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے، اٹارنی جنرل کو تین بجے سن لیں گے۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ عدالت تو چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ اس دوران معاون وکیل سعد ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان سترہ مئی کو واپس آجائیں گے۔ مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے یہ بینچ دستیاب نہ ہو۔ چیف جسٹس نے پھر کہا کہ پورا ہفتہ لارجر بینچ دستیاب ہے لیکن معذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے۔ مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں وہ تحریری طور پر بھی دلائل دے سکتے ہیں۔ اس پر معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان سے رابطہ کر کے عدالت کو آگاہ کرونگا۔ چیف جسٹس نے معاون وکیل سے کہا کہ مخدوم علی خان کو پیغام دے دیں بینچ کا ہر رکن انکا بڑا احترام کرتا ہے۔ یہ کیس آئینی تشریح کا بڑا اہم مقدمہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج ایڈوکیٹ جنرلز اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل)کے وکیل کو سن لیتے ہیں اوراٹارنی جنرل کا بھی انتظار کریں گے۔ بی این پی کے وکیل مصطفی رمدے نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے میں مںحرف ارکان کے خلاف کارروائی کا تمام طریقہ کار موجود ہے اگر آرٹیکل تریسٹھ اے میں طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کی طرف طرف دیکھ سکتی تھی ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے پارٹی موقف سے انحراف خالصتا سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کرنے کی سزا کافی ہے، مصطفی رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے کیونکہ ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کر چکا ہے، مصطفی رمدے نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف جبکہ آدھے ارکان نے دوسری طرف ووٹ دیا،اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،ایک سیاسی جماعت کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو اسی جماعت کے صدر کی جانب سے صدارتی ریفرنس لایا گیا، چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ آئین جمہوریت کو فروغ اور تحفظ دیتا ہے اور سیاسی جماعت کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ اکثر انحراف پر پارٹی سربراہ کارروائی نہیں کرتے۔ آئین کی افراد سے کمٹمنٹ نہیں ہے بلکہ آئین سیاسی جماعت کو مضبوط کرتاہے، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک نظریاتی سیاسی جماعت ہے اس کے ارکان نے پالیسی سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ بھی کرتا ہے اور پارٹی کے رکن کو چار چیزوں پر پالیسی کا پابند کرتا ہے۔ مصطفیٰ رمدے نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ارکان کو پارٹی کی پالیسی کا پابند کرکے انحراف سے منع کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرتا ہے تو ایسی صورتحال میں اس رکن کو کوئی سزا تو نہ ہوئی۔ مصطفی رمدے نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، ا س لیے عدالت پارٹی سربراہان کے کنڈکٹ کو بھی سامنے رکھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے۔ مصطفی رمدے نے کہاکہ ہماری سیاسی جماعتوں میں اتنی جمہوریت نہیں ہے۔ سیاسی پارٹی سربراہ کی ڈکٹیر شپ ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر ہر رکن اپنی مرضی کرے گا تو ملک میں جمہوریت کا فروغ کیسے ہو گا؟ کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے؟ آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے توکیا دس پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟ کیا چند افراد کو پارٹی ہائی جیک کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ مصطفیٰ رمدے کا کہنا تھا کہ عدالت کی آبزرویشن بڑی اہم ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ انفرادی شخصیت کون ہے؟ آئین آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے کہ وہ مرضی سے ووٹ دیں لیکن کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا۔ اس لیے عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کیا آرٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا۔ کیا سزا بڑھانے سے پارٹی سربراہ کی آمریت میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا سینیٹ الیکشن میں کیا ہوا سب نے دیکھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم سینیٹ الیکشن والاعمل دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارٹی کے موقف سے انحراف سے بہتر ہے منحرف ارکان استعفی دے دیں، استعفی دینے سے سیاسی سسٹم بھی بچ جائے گا، استعفی دینے والے کو عوام ووٹ دیں تو وہ دوبارہ آجائے گا، آئین کی تشریح کریں گے اور تشریح کیلئے معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، ضمیر کے مطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا، اس کا مطلب ہے کہ آئین ضمیر کے مطابق ووٹ دینے والے کے اقدام کو بھی قبول نہیں کرتا، مصطفی رمدے نے دلائل میں کہا کہ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد ہوئی، پارٹی سربراہ نے کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا، آزاد کشمیر میں وزیراعظم تبدیل ہوا پارٹی سربراہ نے کسی کے خلاف ایکشن نہیں لیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آئین انحراف کی اجازت دیتا ہے؟ کیا یہ جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ انحراف کس قسم کا ہے، ووٹ شمار ہوگا یا نہیں ہوگا، مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ ووٹ شمار نہ کرنے کی دلیل پر سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید نے زور نہیں دیا یہ لوگ پارلیمنٹ میں آئین کو بدلنے کی بجائے اپنا وزن عدالت کے کندھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہیں ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے آئین کا تحفط اور تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ مصطفی رمدے نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو کالعدم کردیتا ہے تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا اس اقدام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے؟ مصطفی رمدے نے کہا کہ میں یہ بالکل نہیں کہہ رہا میں حقیقت بتا رہا ہوں، آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے رکن کو ڈی سیٹ کرتا ہے کہیں اختلاف پر ووٹ دینے سے نہیں روکتا اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آرٹیکل تریسٹھ اے کی زبان بڑی واضح ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح میں واقعات کو بھی دیکھنا ہوگا، جسٹس جمال خان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دو سو ممالک میں سے 32 ملکوں میں انسداد انحراف قانون ہے اوران 32 ممالک میں صرف 6 ملکوں میں اس قانون پر عمل ہوتا ہے ان 6 ممالک میں انحراف پر ارکان کو ڈی سیٹ کیا گیا ہے، اگر انحراف غلط کام ہے تو آئین انحراف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ مصطفی رمدے ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ریفرنس سیاسی مفاد کے لیے بھیجا گیا ہے, آرٹیکل تریسٹھ اے سے آرٹیکل 95 کو غیر موثر نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کو اپنے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے؟ آرٹیکل 95 ارکان کو پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے، چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ دلیل سے آپ نے سیاسی پارٹی کو ختم کردیا۔ اس طرح سے سیاسی پارٹی چائے (ٹی) پارٹی بن جائے گی۔ ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے لیکن کیا سیاسی جماعت کا سربراہ اپنی پارٹی کے ساتھ ہوئے غلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردے توکیا یہ آئین کے خلاف ہو گا؟ کیا سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس دوران وکیل بابراعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے۔ مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ اگر اختلاف پر ارکان استعفی دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہو گا۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا۔ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے۔ اس دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل ساڑھے تین چار بجے تک پہنچ جائیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر چار بجے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل منگل کو پیش ہوں گے۔ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل دیں چیف جسٹس نے کہا کہ کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل بٹ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کو آرٹیکل باسٹھ کے ساتھ ملا کر پڑھا جانا چاہئے۔ آئین کی کوئی شق خوبصورتی کے لیے نہیں، ان دونوں آرٹیکلز کوایک ساتھ پڑھا جائے تو اس کے سنگین نتائج ہونگے، پارلیمنٹ کے بعد بھی دو فورمز نے انحراف کا جائزہ لینا ہے، اگر کوئی اسمبلی میں نہ آئے تو یہ بھی انحراف ہے، چاہے کسی نے گن پوائنٹ پرروک لیا ہو، جسٹس جمال خان نے سوال کیا کہ اگر وزیراعظم اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو کیا پھر بھی رکن چاہے کہ وہی وزیر اعظم رہے۔ شمائل بٹ نے کہا کہ مانتے ہیں آرٹیکل تریسٹھ اے میں طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ فورم ہے، جسٹس جمال خان نے سوال کیا کہ کیا پارٹی سربراہ کی شکایت پر الیکشن کمیشن کسی رکن کے کردار کو غلط یا صحیح کہہ سکتا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے شمائل بٹ کے دلائل مکمل ہوئے تو کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کردی گئی۔
کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...
5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...
وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...
پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...
کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...
مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...
گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...