... loading ...
پاک فوج کے ترجمان میجر بابر افتخار نے ایک بار پھر کہا ہے کہ سیاست دانوں کی طرف سے نامناسب بیانات دیے جا رہے ہیں، بار بار کہہ رہے ہیں فوج کو سیاست سے دور رکھیں ،کچھ عناصر چاہتے ہیں مسلح افواج اور عوام کے درمیان محبت، اعتماد کے رشتہ میں کسی طرح سے دراڑ ڈالی جائے، یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، آرمی چیف کی تقرری سے متعلق باتیں بالکل بھی مناسب نہیں، تقرری آئین اور قانون کے مطابق ہو جائے گی اس موضوع کو بحث نہ بنائیں ، الیکشن کرانے سے متعلق ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں کو کرنا ہے، فوج کا کوئی کردار نہیں، سکیورٹی چیلنجز بہت زیادہ ہیں، ملکی حفاظت کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہے، تنقید پر کسی کو پرابلم نہیں۔ سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق تنقید نہیں پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،سکیورٹی کے معاملے پر ہماری ضرورت پڑی تو فوج اپنی خدمات دینے کیلئے تیار ہے، ملک کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہیں،ملک پر کوئی آنچ نہیں دیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے اس میں سب کچھ واضح ہے، سینئر سیاستدانوں کی طرف سے مختلف مواقعوں پر نامناسب بیانات دئیے جا رہے ہیں، کافی عرصے سے برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، بار بار کہہ رہے ہیں کہ فوج کو سیاست سے دور رکھیں، ملک میں سکیورٹی کے چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہماری افواج سرحدوں اور اندرون ملک اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں، تمام فوکس ان تمام ذمہ داریوں پر ہے، سیاسی حالات میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں، میں میڈیا، سیاستدانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق باتیں بالکل بھی مناسب نہیں ہے، تقرری کا طریقہ کار آئین اور قانون میں واضع کر دیا ہے، تقرری آئین اور قانون کے مطابق ہو جائے گی، اس موضوع کو بحث بنانا اور بات چیت کرنا اس کو متنازع بنانے کے مترادف ہے، آرمی چیف کی تقرری سے متعلق ایک بار پھر درخواست ہے اس کو موضوع بحث نہ بنائیں۔سیاستدانوں کی جانب سے الیکشن کروانے کے مطالبے کے سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ الیکشن کرانے سے متعلق ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، سیاست کا ہمارے ساتھ تعلق نہیں، ایک سال سے واضح طور پر عمل کر کے دکھایا ہے، کسی بھی ضمنی انتخابات، بلدیاتی انتخابات سمیت دیگر سیاسی معاملات دیکھ لیں ہم نے واضح طور پر ان چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھا، اب اس کی تصدیق تمام سیاستدان کر رہے ہیں،سیاسی صورتحال میں مداخلت کی باتیں مناسب نہیں، یہ کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتی۔لانگ مارچ خونی ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس پر کوئی کمنٹ نہیں کرنا چاہتا، ملک کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہیں،ملک پر کوئی آنچ نہیں دیں گے۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان جو ایک محبت ، اعتماد کا رشتہ ہے اس میں کسی طرح سے دراڑ ڈالی جائے،یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، ڈس انفارمیشن لیب اس کی مثال ہیں جو پندرہ سال سے یہ حرکتیں کر رہی تھیں، فوج اور عوام کے رشتے میں کوئی دراڑ نہیں آ سکتی۔انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے بیان جاری کرنا بدقسمتی ہے، یہ کسی ایک پولیٹیکل پارٹی کیلئے نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے کچھ ایسے بیانات دیئے ہیں جس کا تعلق سینئر فوجی قیادت اور ادارے سے متعلق ہے اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں،اس پر بار بار تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بار بار مطالبہ کر رہے ہیں سیاسی گفتگو سے پاک فوج کو باہر رکھیں۔ انہوںنے کہاکہ 74 سال سیاستدانوں کا بھی یہی مطالبہ ہے، ادارے نے جب فیصلہ کیا ہے اور واضح طور پر بتا دیا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، سکیورٹی چیلنجز بہت زیادہ ہیں، ملکی حفاظت کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہیترجمان پاک فوج نے کہا کہ کوئی سمجھتا ہے خدانخواستہ فوج میں دراڑ ڈال سکتا ہے، اس کو فوج کا پتہ نہیں، پاک فوج کے جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں، سب جوان آرمی چیف کی طرف دیکھتے ہیں، ادارے میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ تنقید پر کسی کو پرابلم نہیں ہے، سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق تنقید نہیں، پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، کچھ عرصے سے بار بار ترجمان پاک فوج کی حیثیت سے بات کر رہے ہیں کہ ملک پر ہائبرڈ وار فیئر مسلط کی جا رہی ہے، ہائی لیول کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے،تمام سیاستدان، میڈیا سمیت ادارے سمجھیں کہ ہمیں متنازع نہ بنائیں۔پشاور کور سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر کسی بھی رینک پر اہم عہدہ کمانڈ ہوتی ہے، چاہے کسی بھی کور کی کمانڈ ہو، کور کی کمانڈ آرمی چیف کے بعد سب سے اہم ہوتی ہے،70 فیصد فوج لائن آف کنٹرول (ایل او سی)، پاک افغان، پاک ایران بارڈر سمیت مختلف جگہوں پر تعینات ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔الیکشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی اٰر نے کہا کہ جلد الیکشن کا فیصلہ سیاستدانوں نے کرنا ہے، فوج کا کوئی کردار نہیں، سینئر سیاستدانوں کی حیثیت ہے وہ آپس میں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں، سیاسی معاملے میں فوج کو جب بھی بلایا گیا ہے معاملہ متنازع ہوا ہے، ہم نے اس فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی چیزوں سے ہم نے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے، الیکشن کی سکیورٹی کے معاملے پر ہماری ضرورت پڑی تو فوج اپنی خدمات دینے کیلئے تیار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فوج سیاستدانوں کو ملاقات کے لیے نہیں بلاتی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ واضح کر چکے ہیں، ملاقات کیلئے بار ہاسیاستدانوں کی طرف سے درخواست کی جاتی ہے، آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ میں کبھی خود ملنے نہیں گیا، اگر سیاستدان ملنا چاہتے ہیں تو اس پر ملنا پڑتا ہے، ساری کی ساری ذمہ داری محترم سیاستدانوں پر ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ امریکا سے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس طرح کی معلومات نہیں ہے، ان کے دوروں کو اوپن نہیں رکھا جاتا، دورہ سے متعلق بیک گراؤنڈ میں چلتی رہتی ہیں، انٹیلی جنس شیئرنگ ہوتی ہے جس طرح کے سکیورٹی چیلنجز ہمارے ریجنز میں چل رہے ہیں ان کا تعلق بلواسطہ اور بلاواسطہ ہمارے ریجن کے ساتھ بنتا ہے، تمام ممالک کے انٹیلی جنس چیفس کے ساتھ اور ہمارے انٹیلی جنس چیف کی ملاقاتیں ہوتی ہیں اس کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ بھی ہوتی ہے، اس لیے ابہام پیدا نہیں کرنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے جوان اور آفیسرز عزیز و اقارب اور سوسائٹی سے کٹ کر نہیں بیٹھے، غلط قسم کی بات چیت ادارے کے بارے میں ہوتی ہے تو جوانوں پر یہ معلومات پہنچتی ہے، اس طرح کے بیانات کے اثرات ادارے کے مورال پر ہوتا ہے، رینک اینڈ فائل متاثر ہوتا ہے، کئی بار سن چکا ہوں کہ جوانوں کی بہت عزت کی جاتی ہے، ادارے میں جوانوں، آفیسرز کو یقین ہے اس پر لیڈر جو بیٹھا ہے وہ اس کے ساتھ بیٹھا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں آفیسرز اور جوانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، میجر ، کرنل ، بریگیڈر، جنرل سمیت ہر رینک میں جوان شہادت کے رتبے پر فائز ہوا، تنقید کرنے والوں کو پتہ نہیں فوج کام کیسے کرتی ہے۔ ہمارے جوانوں کو آرمی چیف اور کور کمانڈر پر بھروسہ ہوتا ہے۔آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ملک کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاک فوج کی سینٹر آف گریویٹی چیف آف آرمی سٹاف ہے،یہ سب کو کلیئر ہونا چاہیے، سپہ سالار کی تعیناتی اور ان کی ذات پر جب کوئی بات کی جاتی ہے اس کا اثر پوری فوج پر ہوتا ہے، اس طرح کی بات بلاوجہ اور بلاجواز اور بحث میں تعیناتی کو لیکر آنے منفی اثر پڑتا ہے، اسی لیے بار بار کہا جاتا ہے کہ فوج، اس کے ماضی کے کردار اور قیادت کو ٹیلی ویژن پر موضوع بحث بنایا جاتا ہے، اس لیے درخواست کرتے ہیں فوج کو اس کی قیادت کو اس معاملات میں نہ لایا جائے۔
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...
7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...
ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...
امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...
پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...