وجود

... loading ...

وجود

اداروں کی توہین کے الزامات کا جواب آج جہلم جلسے میں دوں گا، عمران خان

منگل 10 مئی 2022 اداروں کی توہین کے الزامات کا جواب آج جہلم جلسے میں دوں گا، عمران خان

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اداروں کی توہین کے الزامات کا جواب (آج) منگل کو جہلم جلسے میں دوں گا، نواز شریف، مریم نواز فوج پر حملے کرتے ہیں اور ہم پر الزام لگائے جارہے ہیں، شہباز شریف اور اس کا بھائی اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں،بزدل جب تک ملک میں تھا تو چوں چوں کرتا تھا، باہر جاکر فوج کو برا بھلا کہتا ہے، سندھ ہاؤس میں منڈی لگی، کوئی سوموٹو نہیں لیا گیا،اگر ایماندار لوگوں کو لایا جاتا تو شاید ہم تسلیم کربھی لیتے مگر ان چوروں کی حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ پارٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک پر کرپٹ ٹولہ مسلط ہے، یہ چور ملک کو لوٹنے آتے ہیں اور لندن کے مہنگے ترین علاقے میں اربوں روپے کے گھروں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلط حکمران اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں، یہ غدار ملک کو لوٹنے کیلئے آتے ہیں، کرپٹ، چور، غدار ہمارے اوپر بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ عمران خان نے فوج کی توہین کردی ہے، میر جعفر اور میر صادق سے متعلق میں نے کوئی نئی بات نہیں کی، شہباز شریف اور اس کا بھائی اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ شہباز شریف کا بڑا بھائی باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف بات کرتا ہے، بزدل جب تک ملک میں تھا تو چوں چوں کرتا تھا، باہر جاکر فوج کو برا بھلا کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی فوج پر اٹیک کرتی ہے مگر کیونکہ وہ خاتون ہے اس لیے اس کو کچھ نہیں کہا جاتا اور یہ ہمیں کہتے ہیں کہ فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کرمنل ہیں، قاتل کو وزیر داخلہ بنادیا ہے، آج سارے کرمنلز اقتدار میں آ کر بیٹھ گئے ہیں،یہ حکمران کہیں بھی عوامی مقامات پر جائیں، لوگ ان کے خلاف غدار اور چور کے نعرے لگائیں گے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کو شرم آنی چاہیے کہ مسجد نبوی ۖکے واقعہ کے خلاف میرے خلاف ایف آئی آر درج کرادی۔ انہوں نے کہا کہ 20 مئی کے بعد اسلام آباد آنے کی کال دوں گا، اسلام آباد آ کر کیا کرنا ہے وہ میں آنے کے بعد بتاؤں گا، لوگ تیار بیٹھے ہیں، جو لوگ اسلام آباد نہیں آ سکتے، وہ اپنے علاقوں میں نکلیں، میں سیاست نہیں، جہاد کر رہا ہوں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم ایک صرف چیز چاہتے ہیں، ہم صرف الیکشن چاہتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ انہوں نے منصوبہ بنایا ہوا ہے کہ عمران خان کو گرفتار کرنا ہے، یہ جو بھی پلان کریں گے اپنا نقصان کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ایک تو ہماری حکومت گرائی گئی، دوسرا چوروں، لٹیروں کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا، اگر ایماندار لوگوں کو لایا جاتا تو شاید ہم تسلیم کربھی لیتے مگر ان چوروں کی حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ انڈر سیکریٹری لیول کا بندہ ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام کے دلوں کو یہ بات لگی ہے کہ وہاں اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں منڈی لگی ہوئی تھی، ضمیروں کی خرید و فروخت جاری تھی مگر کوئی سوموٹو ایکشن نہیں لیا گیا، کسی کو کوئی فکر نہیں ہے کہ ملک کی جمہوریت تباہ کی جا رہی ہے، اخلاقیات تباہ کی جا رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ باقی معاملات پر تو بڑی جلدی جلدی ایکشن لیے جاتے ہیں تاہم اس انتہائی اہم معاملے پر اب تک کوئی ایکشن نہیں ہے، دیکھتے ہیں کل کیس لگتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف کی تقریر کا جواب (آج) منگل کو جہلم کے جلسے میں دوں گا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ملک بھر میں تحریک انصاف کی رکنیت سازی مہم کے حوالے سے ایپ کا آغاز کیا۔ پارٹی کی رابطہ ایپ کی تعارفی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہاں موروثی سیاست چل رہی ہے باپ وزیراعظم اور بیٹا وزیراعلیٰ بن گیا اور رشتے داروں کو دیگر عہدوں پر بٹھادیں جیسے کہ ان کے خاندان کے سوا کسی اور شخص میں کوئی صلاحیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل پاکستان تحریک انصاف کی ممبر بنے۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف وہ پارٹی بنے جس میں میرٹ ہو، میں پی ٹی آئی کو ایسی پارٹی بنانا چاہتا ہوں جو ہمارے جانے کے بعد بھی بطور ایک ادارہ چلتی رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پارٹی بنانے کے لیے سب سے اہم چیز میرٹ ہے، دنیا میں جس ملک نے بھی ترقی کی ہے اس نے میرٹ کی بنیاد پر ترقی کی ہے، میرٹ کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں جمہوریت کی ترقی اور بادشاہت کے زوال کی وجہ یہ ہی میرٹ کا نظام ہے کیونکہ جتنی زیادہ میرٹ ہو اتنی ہی زیادہ جمہوریت ہوتی ہے جبکہ بادشاہت میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ رشتے داریوں کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے وہ دنیا میں پیچھے ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ چین بھی اپنے میرٹ کی وجہ سے آگے بڑھا ہے کیونکہ ان کے پاس دنیا کا بہترین نظام موجود ہے جو میرٹ پر لوگوں کو اوپر لے کر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم نے بڑی محنت سے ایپ بنائی ہے، جب ایپ لانچ کرینگے تو ایک دم لوڈ پڑے گا مسئلے بھی آئیں گے، پہلے نمبر پر ممبر شپ پھر تحریک انصاف کو ادارہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2018میں بھی مشکل تھا، 800ٹکٹس دئیے تھے، ہم نے کئی جگہ غلط ٹکٹ دے کر اپنا نقصان کرایا لیکن اب ہم ماڈرن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے پاس ہر قسم کا ڈیٹا آجائے گا، الیکشن کمیشن، امیدوار کی ویری فکیشن کا بھی ڈیٹا آجائیگا، جب ہم انتخابی ٹکٹس دینگے تو اس سلسلے میں بھی فائدہ ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ زندہ قوم وہی ہوتی ہے جو خوددار ہوتی ہے، جو سیاسی طور پر باشعور ہوتی ہے، سب سے بڑا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب قوم نیوٹرل ہوجاتی ہے، کیونکہ قوم جب نیوٹرل ہوجاتی ہے تو وہ تیترہوتی ہے نہ بٹیر، جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جب قوم سیاسی طور پر باشعور ہوجاتی ہے تو وہ اپنے جمہوری حقوق کیلئے کھڑی ہوتی ہے، انصاف اور اپنے مسائل کے لیے کھڑی ہوتی ہے، اپنی خودداری کے لیے اور امپورٹڈ حکموت نا منظور کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ خودداری کی وجہ سے قوم جاگ اٹھی ہے، پوری دنیا میں تحریک انصاف کو پذیرائی مل رہی ہے، یہ بہت اچھا وقت ہے اور یہ ملک کیلئے خوش آئندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رابطہ ایپ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بھی ہے، اوورسیز پاکستانی ہمیشہ سے پاکستان کا اثاثہ ہیں تاہم موجودہ حکومت کوشش کررہی ہے کہ اوورسیز کسی طرح ووٹ نہ دیں۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کی جانب سے بھیجے جانی والی ترسیلات زر کے ذریعے ملک چل رہا ہے مگر انہیں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر