... loading ...
قومی اسمبلی کے ایوان میں وزیراعظم منتخب ہونے کیلئے ایوان کے ارکان کی کل تعداد میں سے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے،172ووٹ حاصل کر نا ضروری ہے۔پاکستان میں وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئے وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے جس کیلئے قومی اسمبلی جانب سے شیڈول جاری کیا جا چکا ہے۔شیڈول کے مطابق قائد ایوان کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہوگئے سابق اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو متفقہ طور پر وزارت عظمی کا امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے اور سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، امین الحق، اسعد محمود، شاہدہ اختر علی، محسن داوڑ، علی وزیر، خالد مگسی، اسرار ترین، شاہ زین بگٹی، امیر حیدر ہوتی، خورشید شاہ، نوید قمر، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق سمیت کئی دیگر تائید و تجویز کنندگان کی جانب سے ایک درجن سے زائد کاغذات نامزدگی جمع کروائے ،شہباز شریف کے مقابلے میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔وزیرِاعظم کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں نئے وزیرِاعظم اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ آئین اور قانون میں موجود ہے، جس کی روشنی میں یہ مرحلہ انجام دیا جاتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے ایوان میں وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے ایوان کے ارکان کی کل تعداد میں سے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 342 ہے جبکہ وزیراعظم کو منتخب ہونے کے لیے 172 ارکان کے ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کا انتخاب سپیکر کراتا ہے،سابق ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی اور کئی وزرائے اعظم کے انتخاب کے مواقعوں پر ایوان میں خدمات انجام دینے والے طاہر حنفی نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت قائد ایوان کو قومی اسمبلی میں موجود مجموعی اراکین کی تعداد کی اکثریت کے ذریعے منتخب کی جاتا ہے لیکن اگر کوئی امیدوار وزیراعظم کے انتخاب کے دوران درکار واضح اکثریت یعنی 172 ووٹ حاصل نہ کر سکے تو پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ انتخاب کرایا جاتا ہے جس میں 172 ارکان کا ووٹ حاصل کرنے والا وزیر اعظم منتخب ہو جاتا ہے۔ان کے مطابق رولز میں درج ہے کہ اگر دوسرے مرحلے میں بھی کوئی امیدوار 172 ووٹ حاصل نہ کر سکے تو تیسرا رائونڈ کیا جاتا ہے جس میں ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت حاصل کرنے والا وزیراعظم منتخب ہو جاتا ہے۔طاہر حنفی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں سپیکر ایوان کے فیصلے کے بارے میں صدرِ مملکت کو آگاہ کرتا ہے۔ سیکرٹری اسمبلی گزٹ میں اس کو شائع کراتا ہے اور نئے قائد ایوان کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔قومی اسمبلی کی جانب سے یاد دہانی کے نوٹس کے طور پر جاری ہونے والے قواعد میں ارکان کو وزیراعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا ہے۔ان قواعد کے مطابق پاکستان کے وزیرِاعظم کا امیدوار بننے کے لیے مسلمان ہونا لازمی شرط ہے،اسمبلی ارکان کی جانب سے تجویز اور تائید کنندگان جو کہ خود بھی رکن اسمبلی ہوں، کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں جن کی جانچ پڑتال سپیکر قومی اسمبلی کرتا ہے۔قواعد کے مطابق سپیکر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدواروں کے کاغذات مسترد کر دے مگر اس کے لیے سپیکر کو وجہ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی حتمی طور پر منظور ہونے کے بعد وزیرِاعظم کے انتخاب کا عمل اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔قواعد میں وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے جس کے مطابق ووٹنگ شروع ہونے سے قبل سپیکر حتمی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتا ہے۔ اگر دو یا دو سے زائد امیدوار ہیں تو ان کے انتخاب کے لیے سپیکر ارکانِ اسمبلی کو الگ الگ لابیوں میں جانے کی ہدایت کرتا ہے۔جب ارکان اس متعلقہ لابیز میں چلے جاتے ہیں جہاں قومی اسمبلی میں موجود عملے کے ارکان کے ناموں کا اندراج کر لیتا ہے۔ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد عملہ تحریری طور پر ووٹنگ کی گنتی سے متعلق سپیکر کو آگاہ کیا جاتا ہے جو ایوان میں نتیجے کا اعلان کرتا ہے۔اگر وزیراعظم کے لیے ایک ہی امیدوار ہو اور اس کو 172 ارکان کی حمایت حاصل ہو تو سپیکر بلامقابلہ اس کی کامیابی کا اعلان کر دیتا ہے تاہم اگر اس کے حق میں 172 ارکان سامنے نہ آئیں تو وزیراعظم کے انتخاب کا تمام عمل نئے سرے سے شروع کیا جاتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...