وجود

... loading ...

وجود

نئے قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے، ووٹ کتنے درکار؟

پیر 11 اپریل 2022 نئے قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے، ووٹ کتنے درکار؟

قومی اسمبلی کے ایوان میں وزیراعظم منتخب ہونے کیلئے ایوان کے ارکان کی کل تعداد میں سے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے،172ووٹ حاصل کر نا ضروری ہے۔پاکستان میں وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئے وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے جس کیلئے قومی اسمبلی جانب سے شیڈول جاری کیا جا چکا ہے۔شیڈول کے مطابق قائد ایوان کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہوگئے سابق اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو متفقہ طور پر وزارت عظمی کا امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے اور سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، امین الحق، اسعد محمود، شاہدہ اختر علی، محسن داوڑ، علی وزیر، خالد مگسی، اسرار ترین، شاہ زین بگٹی، امیر حیدر ہوتی، خورشید شاہ، نوید قمر، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق سمیت کئی دیگر تائید و تجویز کنندگان کی جانب سے ایک درجن سے زائد کاغذات نامزدگی جمع کروائے ،شہباز شریف کے مقابلے میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔وزیرِاعظم کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں نئے وزیرِاعظم اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ آئین اور قانون میں موجود ہے، جس کی روشنی میں یہ مرحلہ انجام دیا جاتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے ایوان میں وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے ایوان کے ارکان کی کل تعداد میں سے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 342 ہے جبکہ وزیراعظم کو منتخب ہونے کے لیے 172 ارکان کے ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کا انتخاب سپیکر کراتا ہے،سابق ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی اور کئی وزرائے اعظم کے انتخاب کے مواقعوں پر ایوان میں خدمات انجام دینے والے طاہر حنفی نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت قائد ایوان کو قومی اسمبلی میں موجود مجموعی اراکین کی تعداد کی اکثریت کے ذریعے منتخب کی جاتا ہے لیکن اگر کوئی امیدوار وزیراعظم کے انتخاب کے دوران درکار واضح اکثریت یعنی 172 ووٹ حاصل نہ کر سکے تو پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ انتخاب کرایا جاتا ہے جس میں 172 ارکان کا ووٹ حاصل کرنے والا وزیر اعظم منتخب ہو جاتا ہے۔ان کے مطابق رولز میں درج ہے کہ اگر دوسرے مرحلے میں بھی کوئی امیدوار 172 ووٹ حاصل نہ کر سکے تو تیسرا رائونڈ کیا جاتا ہے جس میں ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت حاصل کرنے والا وزیراعظم منتخب ہو جاتا ہے۔طاہر حنفی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں سپیکر ایوان کے فیصلے کے بارے میں صدرِ مملکت کو آگاہ کرتا ہے۔ سیکرٹری اسمبلی گزٹ میں اس کو شائع کراتا ہے اور نئے قائد ایوان کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔قومی اسمبلی کی جانب سے یاد دہانی کے نوٹس کے طور پر جاری ہونے والے قواعد میں ارکان کو وزیراعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا ہے۔ان قواعد کے مطابق پاکستان کے وزیرِاعظم کا امیدوار بننے کے لیے مسلمان ہونا لازمی شرط ہے،اسمبلی ارکان کی جانب سے تجویز اور تائید کنندگان جو کہ خود بھی رکن اسمبلی ہوں، کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں جن کی جانچ پڑتال سپیکر قومی اسمبلی کرتا ہے۔قواعد کے مطابق سپیکر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدواروں کے کاغذات مسترد کر دے مگر اس کے لیے سپیکر کو وجہ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی حتمی طور پر منظور ہونے کے بعد وزیرِاعظم کے انتخاب کا عمل اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔قواعد میں وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے جس کے مطابق ووٹنگ شروع ہونے سے قبل سپیکر حتمی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتا ہے۔ اگر دو یا دو سے زائد امیدوار ہیں تو ان کے انتخاب کے لیے سپیکر ارکانِ اسمبلی کو الگ الگ لابیوں میں جانے کی ہدایت کرتا ہے۔جب ارکان اس متعلقہ لابیز میں چلے جاتے ہیں جہاں قومی اسمبلی میں موجود عملے کے ارکان کے ناموں کا اندراج کر لیتا ہے۔ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد عملہ تحریری طور پر ووٹنگ کی گنتی سے متعلق سپیکر کو آگاہ کیا جاتا ہے جو ایوان میں نتیجے کا اعلان کرتا ہے۔اگر وزیراعظم کے لیے ایک ہی امیدوار ہو اور اس کو 172 ارکان کی حمایت حاصل ہو تو سپیکر بلامقابلہ اس کی کامیابی کا اعلان کر دیتا ہے تاہم اگر اس کے حق میں 172 ارکان سامنے نہ آئیں تو وزیراعظم کے انتخاب کا تمام عمل نئے سرے سے شروع کیا جاتا ہے۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر