وجود

... loading ...

وجود

سلامتی کمیٹی اجلاس، خط کے مفروضے پر ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں، مولانا فضل الرحمن کا مطالبہ

منگل 05 اپریل 2022 سلامتی کمیٹی اجلاس، خط کے مفروضے پر ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں، مولانا فضل الرحمن کا مطالبہ

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان ایک خط کے مفروضے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے، سیکیورٹی ادارے سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں پھر الیکشن ہوں تاکہ دھاندلی نہ ہوسکے، اپوزیشن کی رائے نہیں لی گئی اور اسمبلی تحلیل کردی گئی اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور پارلیمنٹ کی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی، لہذا انتخابی اصلاحات کی جائیں، پھر ملک میں انتخابات ہوں تاکہ دھاندلی کا راستہ روکا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا غیر آئینی کھیل اسی بنیاد پر کھیلا گیا کہ جس طرح پہلے دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے دوبارہ اسی طرح دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایک مفروضے کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر کی غیر آئینی رولنگ پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی، ایک طرف بڑے با اصول بنتے ہیں، دوسری جانب وزیراعظم کے تمام وسائل استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ملی بھگت سے ہو رہے ہیں، یہ سب ملے ہوئے ہیں، صدر، وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں، یہ کھیل ناقابل برداشت ہے اور ہم اس کو چلنے نہیں دیں گے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے اس نا اہل وزیراعظم کو اوندھے منہ زمین پر گرادیا ہے کہ طویل عرصے تک چہرے سے گرد کو جھاڑتا رہے گا، ہم نے اس کو اس طرح گھائل کردیا ہے کہ طویل عرصے تک زخموں کو چاٹتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کس بنیاد پر ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں، آؤ اپنی کارکردگی کی بات کرو، ایک ایسے خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بارے میں سیکیورٹی کمیٹی کہہ چکی کہ اس میں بیرونی سازش کا عنصر نہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ خط پر ہماری وضاحت سے سیکیورٹی کے ادارے مطمئن تھے۔انہوںنے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملے پر ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں، یہ بیان دینا کہ ہم غیر جانب دار ہیں، کافی نہیں، کس نے ساڑھے تین سال تک ایک ناجائز حکومت کو سہارا دیا، اس بات کو نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔انہوںنے کہاکہ عدالت اسمبلی کی کارروائی پر بات نہیں کرسکتی لیکن اگر کارروائی آئین کے خلاف ہے اور اس کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے تو پھر اس معاملے کو عدالت سن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب 1988 میں ہماری بلوچستان کی اسمبلی توڑی گئی تو عدالت نے اس کو 24 گھنٹے میں بحال کردیا، کچھ چیزیں بہت واضح ہوتی ہیں، ان واضح چیزوں پر عدالتی کارروائی دنوں تک ملتوی ہونا یہ بھی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ گزشتہ روزجو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا، وہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کے بغیر ہوا، ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو واضح ہونا چاہیے، ہم شکوک و شبہات کی نفی نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جو ادارے آج اپنے سینے پر غیر جانب داری کا بیج لگانے کے خواہش مند ہیں، اس پر ہم خوش ہیںلیکن گزشتہ ساڑھے تین سال جو اسٹیبلشمنٹ اس ناجائز حکمران کا سہارا رہی، اس جرم کا کیا کریں گے، اس کردار کو کس طرح زیر بحث لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم اپنا احتساب کریں، ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے ایک ناجائز حکمران کے لیے جانب داری کا سہارا کیوں لیا، آج اسی غیر جانب داری کو جاری رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے سیکیورٹی کے اداے عوامی بحث سے باہر نکلیں، اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے، اگر اداے خود کو اس بحث میں اتارتے ہیں تو وہ خود اپنے گریبان میں جھانک کر سوچے گیں ، ہم سے کیا گلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک صفاف شفاف نطام کی جانب جانا چاہتے ہیں، تاکہ واضح ہو کہ کسی ادارے کا پاکستان کے انتخابی نطام میں کوئی کردار نہیں ہے۔2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف ہم نے احتجاج کیا ، اس وقت سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے تھا، اس وقت نوٹس لیا جاتا تو ملک اتنے مسائل کا شکار نہیں ہوتا جن کا اس وقت شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک خط کے ذریعے ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ہیرو نہیں بن سکتے، وہ زیرو ہوچکے ، انہوں نے ملک کو اور اس کی معیشت کو زیرو کردیا اور اب ان میں دوبارہ کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود کو وزیر اعظم کہہ سکیں یا سرکاری وسائل استعمال کریں، صدر مملکت کو باور کرادینا چاہتاہوں کہ پارلیمنٹ اور عوام کا ‘موڈ’ آپ کے مواخذے کا بھی ہے۔انہوں نے صدر مملکت کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ بھی اسی ناجائز اور تسلط پر مبنی ریجیم کا حصہ ہیں، ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے، صدر نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فوراً اسمبلی تحلیل کردی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے مراسلے کو سیکیورٹی کمیٹی کے راز کو جس طرح افشاں کی، انہوں نے حلف سے غداری کی، ہمارے اداروں کو سوچنا ہوگا کہ کیا پاکستان اس طرح کے مفروضوں پر مبنی الزامات اور پاکستان کی وفادار قیادت کو غداری کی جانب دھکیلنے کا متحمل ہوسکتا ہے، اس کے نتائج کیا ہوں گے، ملک کس طرف جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ الیکشن کی طرف ا?ؤ، وہ الیکشن سے بھاگتے رہے ہیں، انہیں تحریک عدم اعتماد نے الیکشن کی جانب دھکیلا ہے، ہمت ہے تو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرو، سوال گندم، جواب چنا، یہ کھیل نہں چلے گا، ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر بلاتے ہیں، ان کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے، ہم عوام ہیں، وہ دھوکہ اور سراب ہیں، ان کی حیثیت ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سامنے آچکی ہے۔انہوںنے کہاکہ خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہیں کرو، بتاؤ آپ کی کارکردگی کیا ہے، تم نے ملک میں ایسے حالات پیدا کردیے کہ عوام آج اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں رہے، کس منہ سے عوام میں جاؤگے۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن چاہتے ہیں ، مگر اس وقت آئین کو مجروح کردیا گیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آئین کی عزت بحال ہو، پھر اصلاحات کے بعد انتخابات ہوں، اس طرح الیکشن میں جانا ایسے ہے جیسے ایک گدلے پانی سے نکلے دوسرے میں چلے گئے۔انہوںنے کہاکہ اس معاملے پر ہم نرم رویہ اختیار نہیں کرسکتے، سڑکوں پر عوام کی رائے سامنے آچکی ہے فوج، عدلیہ اور تمام ادارے اس کا احترام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام کو دھوکہ دے کر، فراڈ کرکے جشن منانے کی بات کرتی ہے، انہوں نے کہا 10 لاکھ لوگ اسلام آباد لاؤنگا، مشکل سے 10 ہزار لوگ جمع کرسکے، انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن کارکن اسلام آباد آئیں گے، ایک کارکن نہیں آیا، اب جشن وہ نہیں ہم منائیں گے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر