وجود

... loading ...

وجود

جنرل باجوہ نے فضل الرحمن کو ڈیزل کہنے سے منع کیا ، وزیر اعظم

هفته 12 مارچ 2022 جنرل باجوہ نے فضل الرحمن کو ڈیزل کہنے سے منع کیا ، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ نے فضل الرحمن کو ڈیزل کہنے سے منع کیا ہے،خطرناک ڈیزل ، شکل سے نظر آنے والا ڈاکو اور شوباز تین چوہے میرا شکار کرنے کیلئے نکلے ہیں،تحریک عدم اعتماد پر ایک ان سوئنگ یارکر سے تینوں کی وکٹیں گراؤں گا، تینوں ڈاکو مجھ سے این آر او مانگ رہے ہیں ،اپوزیشن کے لوگ نوٹوں کے تھیلے، 15 سے 20 کروڑ روپے لے کر گھوم رہے ہیں، ہمارے اراکین قومی اسمبلی کو کہہ رہے ہیں اپنا ضمیر بیچ دو، ساری قوم کے سامنے تماشا ہو رہا ہے،حکومت گرانا تو میرے لیے آسان چیز ہے، مجھے اپنی جان بھی دینی پڑے تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، جانور نیوٹرل ہوتا ہے اس میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی، تحریک عدم اعتماد سے ایک دن پہلے ڈی چوک میں انسانوں کا سمندر ہوگا ۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ غریب سے غریب انسان بھی اگر کسی کے آگے نہیں جھکے گا تو لوگ اس کی عزت کریں گے جبکہ امیر سے امیر آدمی بھی اگر کسی کے آگے جھکتا ہے تو کوئی اس کی عزت نہیں کرتا، انسان جب کسی کے آگے جھکتا ہے تو وہ اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے اور جب قوم کسی کے سامنے جھکتی ہے تو اس قوم کی کوئی عزت نہیں کرتا اور اس ملک کے پاسپورٹ کی عزت نہیں کرتا۔جلسے میں کارکنوں کی جانب سے ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگانے پر انہوں نے کہا کہ ابھی میری جنرل باجوہ سے بات ہورہی تھی، انہوں نے کہا ہے کہ فضل الرحمن کو ڈیزل نہ کہیں لیکن جنرل باجوہ میں تو انہیں نہیں کہتا البتہ عوام نے اس کا نام ڈیزل رکھ دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ دنیا صرف خوددار قوم کی عزت کرتی ہے، وہ قوم جو اپنی عزت نہیں کرتی، دنیا اس کی عزت نہیں کرتی، میں نے جب سے سیاست شروع کی یہی کہا کہ ہم پاکستان کو ایک خوددار قوم بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا منشور تھا کہ ہم اپنے ملک کو فلاحی ریاست بنائیں گے اور اپنے ملک میں عدل و انصاف کا نظام لائیں گے، طاقتور کو قانون کے نیچے لائیں گے، 25سال پہلے یہ تین چیزیں میرے منشور کا حصہ تھیں اور ہم نے یہ منشور مدینہ کی ریاست سے لیا تھا۔عمران خان نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں 30 سے 35سال سے ملک پر حکومت کررہے ہیں، اگر آج ہمارے سبز پاسپورٹ کی دنیا میں عزت نہیں تو یہ ان تینوں کی وجہ سے ہے کیونکہ انہوں نے ہمارے ملک کو مقروض کیا اور بڑی بڑی عالمی طاقتوں کے سامنے جھکے۔انہوںنے کہاکہ 2008 سے 2018 میں پاکستان میں 400ڈرون حملے ہوئے، ہمارے شہری، عورتیں، بچے اور بے قصور مارے گئے، یہ زرداری اور نواز شریف اقتدار میں تھے لیکن انہوں نے ایک مرتبہ اس حملے کی مذمت نہیں کی اور یہ نہیں کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں نے اس لیے مذمت نہیں کی کیونکہ ان کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے شہریوں پر ہونے والے ظلم کی مذمت نہیں کی، صرف آہ کی جماعت ان حملوں کے خلاف مظاہرے کر کے ان کی مذمت کررہی تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ جس جماعت کے بھی سربراہ کا پیسہ ملک سے باہر پڑا ہو وہ کبھی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنائیگا، وہ کبھی ایسی پالیسی نہیں بنائے گا جس سے وہ اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت کرے۔انہوں نے کہاکہ ابھی ڈیزل نے کہا کہ ہم اقتدار میں آ کر ادارے ٹھیک کریں گے مطلب ہم فوج کو ٹھیک کریں گے، آج اگر پاکستان بچا ہوا ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک مضبوط فوج ہے۔انہوںنے کہاکہ آج ہمارے اسلامی ممالک میں تباہی آئی ہوئی ہے، جب ایک ملک کے پاس اپنی حفاظت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی تو وہ آزاد نہیں رہ سکتے، اس لیے اگر آج ہمارے دشمنوں نے ملک کو توڑا نہیں تو اس کی وجہ ہماری فوج ہے، مسلمان دنیا میں ہماری سب سے طاقتور فوج ہے۔عمران خان نے کہا کہ اس کے پیچھے یہ پڑے ہوئے ہیں، ڈیزل نے کہا ہے کہ ہم ادارے ٹھیک کریں گے، آپ تینوں نے جس ادارے کو ہاتھ لگایا ہے تو آپ نے سارے ادارے تباہ کردئیے ہیں، عدالتوں پر حملہ کیا، ججز کو خریدا، ڈنڈوں سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھگایا، ٹیلیفون کال کر کے ججوں سے فیصلے لیے، میڈیا میں لفافہ صحافت شروع کی اور رشوت دی۔انہوں نے نواز شریف کا نام لیے بغیر ان کا حوالیہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چھانگا مانگا کی سیاست شروع کی، سیاستدانوں کی قیمتیں لگائیں ، اس آدمی نے لفافہ صحافت شروع کی، آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کو بی ایم ڈبلیو گاڑی سے رشوت دینے کی کوشش کی تو وہ آج فوج کو ٹھیک کریں گے۔انہوںنے نواز شریف کے حوالے سے کہاکہ انہوں نے کشمیریوں پر ظلم کرنے والے نریندر مودی کو شادی پر بلایا تو کیا یہ فوج ٹھیک کریں گے یا وہ ڈیزل جس نے امریکی سفیر کے پاس بیٹھ کر کہا کہ میں آپ کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں مجھے بھی ایک موقع دے دیں یا وہ آصف زرداری پاکستانی فوج کو ٹھیک کرے گا جو میموگیٹ میں امریکیوں کو خط لکھتا ہے کہ مجھے اپنی فوج سے بچا لوں، کیا وہ فوج کو ٹھیک کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ کیا شہباز شریف فوج کو ٹھیک کرے گا جو یہ کہتا ہے کہ عمران خان نے بہت غلط کیا کہ یورپی یونین کی مذمت کی، یہ بھی ٹائی سوٹ پہن کر ان سے کہتا ہے کہ مجھے موقع دیں، میں آپ کی بڑی اچھی خدمت کروں گا۔اپوزیشن کی تحریک عدم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ آپ نے وہ کیا جس کی کپتان اللہ سے دعا کررہا تھا کہ یہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں کیونکہ ہر تھوڑے دن بعد سنتے تھے کہ دھرنا دینے آرہے ہیں، حکومت اگلے مہینے جا رہی ہے، شکر ہے کہ آپ نے تحریک عدم اعتماد لا کر ایک ہی مرتبہ مجھے موقع دیا کہ میں ایک گیند سے تین وکٹیں گراؤں گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سے ایک دن پہلے ساری قوم دیکھے گی کہ ڈی چوک میں انسانوں کا سمندر ہو گا۔انہوںنے کہاکہ میرا مقابلہ ان تین ڈاکوؤں سے ہے، یہ تینوں ڈاکو مجھ سے این آر او مانگ رہے ہیں، یہ کہتے ہیں عمران خان اگر تم ہمارے کرپشن کے کیس بند نہیں کرو گے تو ہم تمہاری حکومت گرا دیں گے، میں ان کو کہتا ہوں حکومت گرانا تو میرے لیے آسان چیز ہے، مجھے اپنی جان بھی دینی پڑے تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، میں ان کے خلاف جہاد کررہا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ جب تک میرے جسم میں جان ہے میں اس ملک میں انصاف کی جنگ لڑوں گا اور ان کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔انہوںنے کہاکہ جب اچھا برا ہوتا ہے تو اللہ نے تو ہمیں اجازت ہی نہیں دی کہ ہم نیوٹرل ہو جائیں، جانور نیوٹرل ہوتا ہے کیونکہ جانور میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی، انسان اچھائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کل اپوزیشن کے لوگ نوٹوں کے تھیلے، 15 سے 20 کروڑ روپے لے کر گھوم رہے ہیں، ہمارے اراکین قومی اسمبلی کو کہہ رہے ہیں کہ اپنا ضمیر بیچ دو، ساری قوم کے سامنے تماشا ہو رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ حکومت کیسے گرائیں گے کیونکہ نمبر تو ان کے پاس ہیں ہی نہیں، یہ کوشش کررہے ہیں کہ ہمارے ایم این اے کے ضمیر کو خریدیں، دنیا کے مہذب معاشرے میں کونسا سیاستدان اپنا ضمیر بیچتا ہے۔انہوںنے کہاکہ مغرب میں کسی کا ضمیر خریدنے کا کوئی تصور بھی نہیں ہے اور اگر کسی پر شک پڑ جائے تو پھر وہ معاشرے میں اپنا منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہتا، ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ ان چوروں نے 35 سال حکومت کرکے اچھے اور برے کی تمیز ختم کر دی ہے، سینٹ کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی پی ٹی آئی کے رکن کو پیسے دینے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی، مغرب میں اگر ایسا واقعہ پیش آتا تو اس کا ذمہ دار جیل میں ہوتا، وزیراعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے ایک دن پہلے قوم کو اس لئے ڈی چوک میں بلا رہے ہیں تاکہ اپوزیشن کو یہ پیغام دیا جائے کہ ہماری قوم زندہ ہے اور وہ اچھائی کے ساتھ کھڑی ہے اور بدی کو ختم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف کے چپڑاسی کے بینک اکائونٹ سے بھی پونے چار ارب روپے نکلے ہیں، شہباز شریف جب نیب میں پیش ہوتا ہے تو اس کی کمر میں درد ہو جاتا ہے اور جب اسمبلی میں تقریر کرتا ہے تو اس کی تقریر ختم ہی نہیں ہوتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے جن ارکان کو رقوم کی پیشکشیں ہو رہی ہیں وہ مجھے بتا دیتے ہیں، میں نے ان سے کہا ہے کہ حرام کا پیسہ ہے کبھی اپنا ضمیر نہ بیچنا۔ انہوںنے کہاکہ عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اگر یہ پیسے دیتے ہیں تو بے شک لے لو، اس پیسے سے کوئی یتیم خانہ یا لنگر خانہ کھول دینا اور غریبوں کی مدد کرنا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا میچ آپ کا کپتان جیتے گا اور پھر دیکھنا کہ اس کے بعد ان ڈاکوئوں سے میں کیا سلوک کرتا ہوں۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مراد سعید نے کہاکہ ماضی میں ڈرون حملے ہوتے تھے لیکن رکوانے کے بجائے سابقہ حکمرانوں نے حملے کرانے پر آمادگی ظاہر کی اور یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کے دورمیں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پوری پاکستانی قوم کے ہر دلعزیز راہنما ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا پر بات کر کے پاکستانی قوم بلکہ پوری اسلامی دنیا کی ترجمانی کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی اور پاکستانی راہنما کو یہ توفیق نہیں ہوئی ، وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کی شاہراہ پر گامز ن ہے ، مشکل حالات کے باوجود معاشی اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کرنے جارہے ہیں ، آپ سب کو شرکت کی دعوت ہے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر