وجود

... loading ...

وجود

قوانین کو آرڈی نینس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

جمعرات 24 فروری 2022 قوانین کو آرڈی نینس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

٭جماعت اسلامی کے علاہ ساری جماعتیں الزامات اور ٹرولنگ میں ملوث ہیں، سوشل میڈیا پر جو کچھ ہو رہا ہے سیاسی جماعتیں اور ورکرز اس بات کے ذمہ دار ہیں

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے پیکا ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر دوران سماعت آئندہ سماعت تک ایف آئی اے کے سیکشن 20 پر حکم امتناع میں توسیع کر تے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کی طرف سے ہدایات لینے اور دلائل کیلئے مہلت کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی اور ریمارکس دئیے ہیں کہ جو کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے سیاسی جماعتیں اور ورکرز اس بات کے ذمہ دار ہیں، جب سیاسی جماعتیں اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں بنائیں گی تو پھر اختلاف رائے سے کیوں ڈرتے ہیں؟ میڈیا ٹیمز سے یہ سب کراتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر الزام کیوں لگایا جا رہا ہے، میرے خیال میں صرف جماعت اسلامی اس کا حصہ نہیں ہے، جماعت اسلامی کے علاہ ساری جماعتیں الزامات اور ٹرولنگ میں ملوث ہوتی ہیں، پیکا آرڈیننس آئین سے متصادم ہے کیوں نہ کالعدم کردیں،قانون پبلک آفس ہولڈرز کے تحفظ اور آزادی اظہار کو دبانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) ترمیمی آرڈیننس کے خلاف تمام درخواستیں یکجا کر دیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار رضوان قاضی پی ایف یو جے کے ایڈووکیٹ عادل عزیز قاضی کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے،جبکہ وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ خان نیازی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود، ڈپٹی اٹارنی جنرل سہد طیب شاہ اور دیگر بھی عدالت پیش ہوئے،اس موقع پر پی ایف یو جے کے فنانس سیکرٹری جمیل مرزا، نائب صدر فرحت فاطمہ، طارق عثمانی اور دیگر بھی موجودتھے، پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر بھی پیش ہوئے،عدالت نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ عدالت کو معلوم ہے کہ دنیا ہتک عزت کے قانون کو فوجداری قانون سے نکال رہی ہے،عدالت میں جو کیس آیا وہ اس عدالت کے لیے شاکنگ تھا،حکمران جماعت کی ایک رکن اسمبلی نے پڑوسی سے ماحولیاتی ایشو پر شکایت کی، ایف آئی اے نے ہراساں کیا، کسی کو ڈر نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف اس قانون کو استعمال کر رہی ہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں،یہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ جمہوری ملک میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے،ابھی یہ پروسیڈنگز چل رہی تھیں کہ یہ معاملہ اب عدالت کے سامنے آ گیا، عدالت کے لیے یہ بات تشویش ناک ہے کہ قوانین کو آرڈی نینس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا،یہ عدالت پیکا ایکٹ کا سیکشن 20 کاالعدم قرار کیوں نا دے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دنیا میں عدالتیں ایسا کر چکی ہیں، اگر ایگزیکٹو کو اپنی پرائیویٹ ساکھ کا اتنا خیال ہے تو اس میں سے پبلک آفس ہولڈرز کو نکال دیں،ہر پبلک آفس ہولڈر کی طاقت پبلک میں اس کی ساکھ ہوتی ہے،ایسی پارٹی جس کی اپنی طاقت ہی سوشل میڈیا تھا اس نے ایسا کیا، پولیٹیکل پارٹیز اور پولیٹیکل ورکرز اس بات کے ذمہ دار ہیں جو کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے،جب پولیٹیکل پارٹیز اپنی سوشل میڈیا ٹیمز بنائیں گی تو پھر وہ اختلاف رائے سے کیوں ڈرتے ہیں؟،اداروں کا بنیادی حق نہیں ہوتا ہے وہ اس میں کیسے آ سکتے ہیں؟،سول قوانین کو زیادہ بہتر بنائیں، عدالت بھی آپ کی مدد کرے گی،ہتک عزت کا مقدمہ بہتر کر لیں، اس کا فیصلہ نوے دن میں ہو،عدالت کے سامنے واحد سوال یہ ہے کہ سیکشن 20 کو کیوں نہ کاالعدم قرار دیا جائے؟، اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ اسے غیر آئینی قرار دے، میرے خیال سے یہ غیر آئینی نہیں،قانون کا غلط استعمال کو دیکھنا ہے کہ اس کے کچھ سیف گارڈز ہونے چاہئیں،میں اس کے دفاع کے لیے تیار ہوں مگر یہ بات بھی کہتا ہوں کہ ایف گارڈ ہونے چاہئیں،میرے ذہن میں ایک پلان ہے اور وزیراعظم سے بھی ملاقات ہوئی ہے،بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جہاں ہتک عزت کے قوانین کو ڈی کریمنلائز نہیں کیا گیا،اگر کوئی کسی پردہ نشین خاتون کو کہے کہ وہ جادو ٹونہ کرتی ہیں یا چھت پر گوشت پڑا ہے،کیا یہ آزادی اظہار رائے ہے؟،جنہوں نے یہ قانون بنایا تھا انہوں نے بھی اس کو چیلنج کیا گیا ہے،لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی اسے چیلنج کیا گیا ہے،بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہاکہ ن لیگ کی جانب سے بھی درخواست دائر کی گئی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اپوزیشن کی تو سینیٹ میں اکثریت ہے ، آپ کے پاس اختیار ہے آپ اس کو مسترد کر سکتے ہیں،آپ پارلیمنٹ جا کر اپنا کردار ادا کریں، عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، سیاسی جماعتوں کی درخواستوں پر کارروائی نہیں کریں گے،آل سٹیک ہولڈر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ہے اس کو سنیں گے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ کسی کے بیڈ روم کی وڈیو بنا کر وائرل کرنا یا جعلی وڈیو اپلوڈ کرنا ٹھیک ہے؟، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ پیکا ایکٹ میں ترمیم سے قبل کا سیکشن 20 بھی دیکھ لیں،عدالت کے سامنے جتنے کیسز آئے ہیں اس میں ایف آئی اے نے پبلک آفس ہولڈرز کے لیے اختیار کا غلط استعمال کیا،آپ ایف آئی اے کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ شکایت پر کسی کو پکڑ لے اور ٹرائل تک بندہ اندر رہے،عدالت کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ پیکا آرڈیننس ڈریکونین قانون ہے، ایف آئی اے کو لوگوں کی شہرت بچانے پر لگادیا گیا، کیا ایف آئی اے کو اور کوئی کام نہیں؟، عدالت کا فرض ہے کہ پارلیمنٹ کا حترام کرے،آپ نے آرڈی نینس بنایا، سینیٹ کو اسے منظور یا مسترد کرنے دیں،آرڈی نینسز کو اس لیے منظوری دی گئی ہے کہ 33 سال ملک آرڈی نینسز پر چلتا رہا ہے،کچھ عدالتی فیصلوں میں آئین کے آرٹیکل 89 کے حوالے سے تشریح کی گئی ہے،آپ کہتے ہیں ایف آئی اے جا کر گرفتار کرے گا اور ٹرائل کے اختتام تک وہ قید رہے گا،یہ ایک ڈریکونین قانون ہے،آپ نے تو اسے نیب کے قانون سے بھی زیادہ worst کر دیا ہے،اس کے ذریعے تو آپ سیلف سینسر شپ کر رہے ہیں،اس کے بعد تو لوگوں نے ڈر کے مارے کچھ کرنا ہی نہیں ہے،یہ آپ نے ایف آئی اے کو کس کام پر لگا دیا ہے، آپ نے پبلک آفس ہولڈرز کی ذاتی ساکھ کی حفاظت پر لگا دیا ہے،اس سے زیادہ بدمعاشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے ایس او پیز پیش کیے مگر عمل نہ کیا،سیاسی قیادت اپنے فالوورز کو قابل اعتراض گفتگو پر سراہتی ہے،اداروں کے سوشل میڈیا اکانٹس کیسے ہیں؟،حقیقت بہت تلخ ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب پوری دنیا ہتک عزت کو فوجداری قانون سے نکال رہی ہے،ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا تو عدالت نے اس پر کچھ نہیں کیا، برسراقتدار پارٹی کی ایک رکن پارلیمنٹ نے اپنے پڑوسی کے خلاف ماحولیاتی مسئلے پر ایف آئی اے میں شکایت کی،ایف آئی اے نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انکو ہراساں کیا، اس عدالت نے ایف آئی اے کو بلا کر سمجھایا کہ بنیادی حقوق اور آزادی اظہار کا خیال رکھا جائے،عدالت نے کہا کہ یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ریاست آواز دبانے کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہی ہے،ایف آئی اے صرف حکومت کے خلاف تنقید کرنے والوں کو اٹھاتی رہی،ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ جمہوری ملک میں ہو رہا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ اگر حکومت کو پرائیویٹ لوگوں کی ہتک کا اتنا خیال ہے تو پبلک آفس ہولڈرز کو اس سے نکال دیں، مجھے چیف جسٹس ہوتے ہوئے تنقید سے نہیں گھبرانا چاہیے،ہر پبلک آفس ہولڈر کی ساکھ اس کے فیصلوں اور اسکے اعمال سے ہوتی ہے،یہ عدالت کافی عرصے سے اس معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے،سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما سوشل میڈیا پر ہونے والے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں،جب آپ خود یہ چاہتے ہیں تو پھر تنقید سے کیوں ڈرتے ہیں، ایک سیاسی ورکر نے ایک پبلک آفس ہولڈر کے خلاف تقریر کی اور چھ ماہ جیل میں رہا،یہ قانون پبلک آفس ہولڈرز کے تحفظ اور آزادی اظہار کو دبانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے،ایک آرڈیننس کے ذریعے اس ایکٹ کو مزید ڈریکونین بنا دیا گیا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ اس آرڈیننس کے بعد لوگوں نے تو ڈر کے مارے کچھ لکھنا ہی نہیں ہے،یہ آپ نے ایف آئی اے کو کس کام پر لگا دیا ہے،ایف آئی اے نے پبلک کی خدمت کرنی ہے، آپ نے ایف آئی اے کو پبلک آفس ہولڈرز کی خدمت کیلئے لگا دیا ہے،ایف آئی اے نے اس عدالت اور سپریم کورٹ کے سامنے اپنے ایس او پیز پیش کیے،اس سے زیادہ بدمعاشی کیا ہو سکتی ہے کہ انہوں نے پھر ایس او پیز کی خلاف ورزی کی،سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر چلنے والی چیزوں کی ذمہ دار ہیں،اداروں نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس بنا رکھے ہیں، اداروں کے سوشل میڈیا اکاونٹس کیوں ہونے چاہئیں، پھر آپ اسی سوشل میڈیا کے خلاف قانون لے آتے ہیں، یہی سیاسی جماعتیں اپنی سوشل میڈیا ٹیمز سے یہ سب کراتے ہیں،پھر سوشل میڈیا پر الزام کیوں لگایا جا رہا ہے،میرے خیال میں صرف جماعت اسلامی اس کا حصہ نہیں ہے،جس طرح لاہور سے دو صحافیوں کو اٹھایا گیا اسکی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی،لاہور کے دو صحافیوں کو جس طریقہ سے اٹھایا گیا، انہیں بتایا بھی نہیں گیا کہ ایسا کیوں کیا؟،یہ تو بہت سادہ سا معاملہ ہے، جب آرڈی نینس بن جائے تو دونوں ایوانوں سے منظوری ہوتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں رولز پڑھ کر بتاں گا، دونوں ہاسز نہیں، ایک ہاس سے بھی منظوری لی جا سکتی ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا نہیں ہے، اگر ایک ہاوس بھی آرڈی نینس کو مسترد کر دے تو وہ مسترد تصور ہو گا،ایف آئی اے نے محسن بیگ کے گھر پر چھاپہ مار کر لیپ ٹاپ وغیرہ اٹھا لیے،ایف آئی اے نے دو صحافیوں کو بغیر نوٹس اٹھایا اور وہ کافی عرصہ غائب رہے،ایف آئی اے سے پوچھا کہ کیوں گرفتار کیا گیا تو بتایا کہ کمپلینٹ موصول ہوئی تھی،ایک صحافی کو وی لاگ میں کتاب کا حوالہ دے کر ہسٹری بیان کرنے پر گرفتار کیا گیا، اب کوئی ہسٹری بھی بیان نہیں کر سکتا؟ستر سالوں میں ہم ملک کو اس جگہ لے آئے اور اب ڈرتے ہیں کہ کوئی بات بھی نہ کرے، برطانیہ میں بادشاہت بچانے کے لیے ہتک عزت کے قانون کو کریمنلائز کیا گیا تھا جو بعد میں ختم کر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہاکہ برطانیہ میں تو احتساب عدالتیں بھی نہیں ہیں، وہاں کے حکمران بعد میں کہیں بھاگ بھی نہیں جاتے،چیف جسٹس نے کہاکہ جو ماحول بنا ہوا ہے اور معاشرے میں جتنی نفرت ہے اس میں آپ کیا توقع کرتے ہیں؟، آپ کو اندازہ ہے کہ آپ نے ترمیم میں پبلک باڈیز کی reputation کو بھی بچانے کی کوشش کے گئی،ایسا نہیں ہے کہ کسی نے کوئی تنقید کی تو وہ فوری گرفتار ہو جائے گا،عدالت کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سوشل میڈیا پر کیا ٹرینڈ چل رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں تو نیب کے قانون میں بھی اس بات کے خلاف تھا کہ گرفتاری کا اختیار نہیں ہونا چاہئے،چیف جسٹس نے کہاکہ جتنا نقصان نیب اور اس کے قانون نے پہنچایا ہے، اس وقت کچھ کہنا نہیں چاہتے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ اس قانون کا اطلاق سیاسی تقاریر پر نہیں ہو گا،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ یہ بات واضح کریں کہ کسی تقریر پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا، بلال غوری نے ایک کتاب سے پڑھ کر تاریخی حقائق بیان کیے اور ایف آئی اے نے کارروائی کی،اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ بات بالکل غلط ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ پبلک باڈیز یا اداروں کا کون سا بنیادی حق ہوتا ہے؟ انہیں تو تنقید سے گھبرانا ہی نہیں چاہئے،اس آرڈی نینس کو پڑھیں تو نظر آتا ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے،یہ بھی بتائیں کہ ایسی کیا جلدی تھی کہ آرڈی نینس لے کر آئے؟، لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ بلکہ اس دن قومی اجلاس کا اجلاس ہونا تھا جسے ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس نے کہاکہ یوگنڈا میں بھی ہتک عزت کو فوجداری قانون سے نکال دیا گیا ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ بیلجئم، جرمنی، آئس لینڈ میں یہ ہتک عزت کا جرم کریمنلائز ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ وہاں کی عدالتوں کے فیصلے بھی پڑھ لیں،کوئی اپوزیشن رکن شکایت کرے کہ حکومتی رکن نے یہ بات کی ہے تو کیا آپ انہیں گرفتار کریں گے؟ عادل عزیزقاضی ایڈووکیٹ نے کہاکہ کینیا جیسے ملک نے بھی اس قانون کو ختم کیا، لیکن ہمارے ملک میں اس کو فوجداری میں شامل کردیاگیا، لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ یہ روز سیاستدانوں کو چور ڈاکو کہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں اس کے بھی خلاف ہوں، ایسا نہیں کہنا چاہئے، جو ہو اسے بھی نہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ جو بھی حکومت میں رہا ہے انھوں نے کبھی فریڈم آف پریس کو نہیں مانا،لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہمارے بڑے جگری ہیں، اٹارنی جنرل نے کہاکہ سندھ میں سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا گیا، عدالت نے کہاکہ ایف آئی اے سیکشن 20 کو صرف وی لاگ پر کتاب کا حوالہ دینے پر ایپلائی کررہے،آجکل تو آپ لوگ صحافیوں کے سورسز تک پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ صحافیوں سے ان کا سورس نہیں پوچھا جاسکتا اور نہ ہونا چاہیے،چیف جسٹس نے کہاکہ اظہار رائے پر قدغن کی وجہ سے آدھا ملک ہم سے چلا گیا،جہاں اظہار رائے کی آزادی نہیں وہاں ترقی ممکن نہیں،یہ عدالت ایف آئی اے کو صرف پبلک آفس ہولڈر کو تحفظ کے لئے نہیں چھوڑے گی،اس عدالت نے بین الاقوامی سٹینڈرڈز آپ کے سامنے رکھیں ہیں،آپ کو کیا ضرورت ہے کہ آپ عدلیہ کی ساکھ کو تحفظ دے،اگر لوگوں کا ہم پر اعتماد ہوگا تو کسی کی دھمکیوں سے کچھ نہیں ہوگا،ہر بندے کو آئینی سے اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے،اگر سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا سے مسئلہ تو خود اقدامات کرے،سیاسی جماعتیں بھی سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکیں ، عدالت نے اٹارنی جنرل کو الاقوامی قوانین سے عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ ایف آئی اے کا کیا ہوگا، وہ کہیں گے ایس او پیز کے تحت گرفتار کیا، اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں ایف آئی اے کو ڈیفنڈ نہیں کرونگا، اس عدالت کا آرڈر موجود ہے، پی ایف یو جے وکیل عادل عزیز قاضی نے کہاکہ کہ نیا کی عدالت نے بھی اس حوالے سے فیصلہ دیا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بڑے ممالک کا حوالہ دے،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی درخواستوں کو خارج کرتے ہیں،سیاسی جماعتیں اگر ذمہ داری پوری کرے تو عدالتوں میں آنا ہی کہ پڑے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ ڈی جی ایف آئی اے کو ترمیمی آرڈیننس پر کام نہ کرنے کا کہا ہے،لطیف کھوسہ نے کہاکہ میرے کلائنٹ محسن بیگ کے کمپیوٹر تک اٹھا لیے گئے، عدالت نے کہا کہ وہ ایف آئی اے کیس میں گرفتار نہیں ہوئے،محسن بیگ کو اس ایف آئی آر میں گرفتار کرنے دیں پھر دیکھتے ہیں، عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ پیکا سے متعلق کیسز کی سماعت 10 مارچ تک کے لئے ملتوی کردی۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر