وجود

... loading ...

وجود

جماعت اسلامی کا حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک کا اعلان، اسٹیٹ بینک کے گھیراؤ کا اشارہ

اتوار 02 جنوری 2022 جماعت اسلامی کا حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک کا اعلان، اسٹیٹ بینک کے گھیراؤ کا اشارہ

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ آج ہمارا اسٹیٹ بینک اب ہمارا نہیں، گورنر اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کو جوابد ہے، اس سے استعفیٰ لیا جائے، اگر گورنر سٹیٹ بنک کو نہ ہٹایا گیا تو ہم سٹیٹ بنک کا گھیراؤ کر سکتے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کرپٹ حکمرانوں اور سودی نظام کی وجہ سے ہے۔آج ملک میں مہنگائی اور سودی نظام کے خلاف اعلان بغاوت کرتے ہیں۔ سودی نظام یہودی نظام معیشت ہے،اس کو مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان کو سودی اور کرپٹ نظام کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ قائداعظم نے خود سود کے خلاف اسلامی نظام معیشت کی بات کی تھی۔ آئین پاکستان بھی سودی نظام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ آئین پاکستان کا تقاضا ہے ملک میں سودی نظام نہ ہو۔ سودی نظام کے علمبردار سود خور حکمران ہیں۔ سودی نظام کا وجود آج امریکہ و برطانیہ میں ختم ہو رہا اور جاپان نے شرح سود کو صفر کر دیا لیکن ہمارے ملک کے معاشی نظام کو ایک سازش کے تحت سود کی زنجیروں میں چکڑا گیا۔سودی نظام معیشت کی وجہ سے پاکستان کا ہر بچہ مقروض ہے۔ ملکی آمدنی کا 35 سے 40 فیصد سودی قرضوں کی واپسی میں چلا جاتا ہے، لیکن حکومت مدینہ کی اسلامی ریاست کے جھوٹے دعوے کرتی ہے۔ 75 سالوں کا تجربہ کہتا ہے ملک سودی نظام کی وجہ سے ترقی نہیں کر سکا۔ سینیٹ سے بغیر سود اوپن تجارت کا بل پیش ہو کرمشترکہ طور پر منظور بھی ہوا، لیکن حکومت قومی اسمبلی میں اس کو پیش نہیں کرنا چاہتی۔ حکومتی ناکامی کے ساتھ اپوزیشن کی ناکامی اور ملی بھگت پہلے دن سے واضح ہے۔ ایکسٹینشن، ایف اے ٹی ایف سے منی بجٹ تک اپوزیشن نے ہر موقع پر سہولت کاری کا کام کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان میچ پہلے دن سے فکس ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گاکہ اپوزیشن عوام کے مسائل پر بات کرنے کی بجائے حکومت کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ ڈیل اور ڈھیل کے چکر میں قوم کا جینا حرام کر دیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں سود کے خلاف جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام سے نائب امراء جماعت اسلامی پروفیسر محمد ابراہیم، میاں محمد اسلم، فرید احمد پراچہ، پنجاب شمالی کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم اور اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ میں ہزاروں افراد سمیت خواتین بچے اور تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ شریک ہوئے۔سراج الحق نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے میرے ساتھ مدینہ منورہ میں بیٹھ کر سودی نظام کے خاتمے کا وعدہ کیا۔ مسجد نبوی میں سود کے خاتمے کا وعدہ کر کے مکر گئے، جو مسجد نبوی میں بیٹھ کر وعدہ پورا نہیں کر سکا، قوم ان کے وعدوں پر کیوں اعتبار کرتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ملک کے 90 فیصد عوام سودی نظام کی وجہ سے بھوکے اور ننگے ہیں۔ 22 کروڑ کی آبادی میں صرف 30 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ لوگ اس لیے ٹیکس نہیں دیتے کہ ملک پر کرپٹ حکمران مسلط ہیں۔ سود کے خاتمے کے لیے ماؤں اور بہنوں نے اپنے زیورات قربان کیے۔ قوم اب کرپٹ حکمرانوں پر اعتبار نہیں کرتی۔ مہنگائی کے طوفان میں لوگ ٹیکس کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ شرم کی بات ہے 18 فیصد مزید ٹیکس لگا کر کہتے ہیں اس سے کون سی مہنگائی آئے گی۔ شرم سے عاری حکومت نے مساجد کے بجلی کے بلوں میں ٹی وی کا بل شامل کر دیا۔ یہ خود کہتے تھے پٹرول، چینی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وزیراعظم چور ہے۔ اب تو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی کہتے ہیں دوائی خریدی تو معلوم ہوا مہنگائی ہے۔ مہنگائی کا ادراک ہونے کے لیے کیا سب وفاقی وزراء کا بیمار ہونا ضروری ہے؟ تاکہ ان بہرے لوگوں کو معلوم ہو ملک میں کتنی ہوشربا مہنگائی ہے۔ آج پورے پنجاب میں کھاد ناپید، کسان سراپا احتجاج ہیں، ان کی صدائیں سننے والا کوئی نہیں۔ فصلوں کی کم پیداوار سے غذائی قلت جیسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس حکومت نے کشمیر کو بیچ کر انڈیا کے حوالے کیا اور ملکی تاریخ کو ناقابل برداشت نقصان پہنچایا۔ امیر جماعت نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں گھبرانا نہیں، سکون قبر میں ملے گا۔ حکومت نے سٹیٹ بنک آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے جوکہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہی نہیں غیروں کے حوالے کرنا ہے۔ ملکی معیشت کو گروی رکھنا سنگین غداری ہے، آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ ملکی معیشت کو گروی رکھنے پر سٹیٹ بنک کے گورنر کو برطرف کیا جائے اور اگر نہ کیا تو اسلام آباد کا گھیراؤ کریں گے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دو کروڑ سات لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ ریٹائرڈ ججوں اور جرنیلوں کو دوبارہ سرکاری ملازمتوں سے نوازا گیا ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ ایک کروڑ نوکریوں میں کتنے لوگوں کو روزگار دیااور پجاس لاکھ گھروں میں سے کتنے گھر بنائے۔ وزیراعظم نے روزگار دینے کی بجائے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا اور لاکھوں لوگوں سے ان کے گھر کی چھت چھین لی۔ خان صاحب آج لنگر خانوں میں لوگوں کا رش دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ سود خور حکومت نے سرکاری ملازمین کو سود پر گاڑیاں دیں۔ جتنے سرکاری ملازمین کو سود پر گاڑیاں اور گھر ملے ہیں کہتا ہوں ایک روپیہ سود ادا نہ کریں۔ حکومت نے ہیلتھ کارڈ اور راشن کارڈ کو بھی اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ یہی کام پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور جرنیلوں نے کیا ہے۔ ڈرامہ بازی کرنے والی پیپلزپارٹی خود این آراو کر کے اقتدار میں آئی اور نواز شریف نے خود فوجی گملوں میں پرورش پائی۔ اب یہ لوگ کس منہ سے اسٹیبلشمنٹ کو مائنس کرنے کی بات کرتے ہیں۔ لوگوں سے کہتا ہوں جماعت اسلامی کا ساتھ دو۔ 2022ء کا پہلا دن ہے آج سے مہنگائی، بے روزگاری اور سودی نظام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں۔ وزیراعظم کو کہتا ہوں اب بس کر دو، حکومت چھوڑ دو، تم نے یہ ملک کرپٹ مافیاز کے حوالے کیا۔ ہمارے دفتروں، بنکوں اور ایوانوں سمیت وزیراعظم ہاؤس میں سب جگہ مافیاز بیٹھے ہیں۔ ان مافیاز نے پی آئی اے، سٹیٹ بنک، سٹیل مل اور معیشت کو کھا لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2022 حکومت کا آخری سال ہے۔ جماعت اسلامی کراچی سے چترال، گوادر سے اسلام آباد تک حکومت کے مخالف تحریک کا اعلان کرتی ہے اور یہ تحریک اب فیصلہ کن ہوگی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر