وجود

... loading ...

وجود

پاکستان اسٹاک ایکس چینج کریش کرگئی، سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب روپے ڈوب گئے

جمعه 03 دسمبر 2021 پاکستان اسٹاک ایکس چینج کریش کرگئی، سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب روپے ڈوب گئے

پاکستان اسٹاک ایکس چینج جمعرات کو کریش کرگئی اور تاریخ کی چوتھی بڑی مندی ہوئی ہے جس میں سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب روپے ڈوب گئے۔ سود کی شرح میں مزید نمایاں اضافے کے خدشات سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج جمعرات کو کریش کی صورتحال سے دوچار رہا۔ مہنگائی اور تجارتی خسارہ بڑھنے سے سرمایہ کاروں نے خوف زدہ ہوکر دھڑا دھڑ حصص فروخت کیے جس سے کاروبار کے ابتداء سے ہی مارکیٹ بدترین مندی کی لپیٹ میں رہی اور انڈیکس کی 45000 اور 44000 پوائنٹس کی نفسیاتی حدیں گرگئیں۔ مندی کے سبب 93 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب 26 کروڑ 74 لاکھ 75 ہزار 411 روپے ڈوب گئے۔ نومبر کے دوران افراط زر کی شرح 11.5 فیصد تک پہنچنے کی وجہ سے بینکوں کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو تین چھ اور بارہ ماہ کے ٹریڑری بلوں کی نیلامی میں 10.53فیصد سے 11.51 فیصد کی بلند شرح کی پیشکشوں نے اسٹاک مارکیٹ کو کاروبار کے آغاز سے ہی کریش کی صورتحال سے دوچار کیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ 14دسمبر کی نئی مانیٹری پالیسی میں سود کی شرح 50 یا 100 کے بجائے 150 بیسس پوائنٹس بڑھ جائے گی۔کاروباری دورانیے میں ہنڈریڈ انڈیکس 2096پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 43272 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا تھا لیکن دوپہر سوا 2بجے مخصوص شعبوں میں نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری سرگرمیوں کے باعث مندی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوئی لیکن انڈیکس کے تمام سیکٹرز میں نہ رکنے والی فروخت کی شدت کی وجہ سے مندی کی شدت میں دوبارہ اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں دوبارہ 2307پوائنٹس کی مندی ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر بعض مخصوص حصص میں خریداری کی وجہ سے مندی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 2134.99 پوائنٹس کی کمی سے 43234.15پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای 30انڈیکس 877.90پوائنٹس کی کمی سے 16697.96 پوائنٹس, کے ایم آئی 30انڈیکس 3195.55 پوائنٹس کی کمی سے 69549.76 پوائنٹس اور کے ایم آئی پی ایس ایکس انڈیکس 1079.91پوائنٹس کی کمی سے 21075.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری دورانیے میں ہنڈریڈ انڈیکس 4.62 فیصد تک گرگیا تھا۔اگر کے ایس ای 30 انڈیکس مقررہ ریگولیٹری دورانیے میں 5 فیصد تک گرتا تو پی ایس ایکس انتظامیہ مارکیٹ کو مزید مندی سے بچانے کی غرض سے ایک گھنٹے کے لیے ٹریڈنگ کو بند کرسکتی تھی لیکن مقررہ دورانیے کے بعد 30 انڈیکس میں 5.51 فیصد کی کمی واقع جس سے ٹریڈنگ کی ممکنہ بندش کا خطرہ ٹل گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نومبر کے دوران ملکی درآمدات 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھیں جبکہ تجارتی خسارہ بھی پانچ ارب ڈالر تجاوز کرنے کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے جیسے عوامل کے باعث لسٹڈ کمپنیوں کی پیداواری وکاروباری لاگت میں بھی ڈھائی سے تین فیصد کے ممکنہ اضافے سے ان کی آمدنیوں پر بھی منفی اثرات ہوں گے لہذا اقتصادی محاذ پر ایسی منفی خبروں نے سرمایہ کاروں میں مایوسی کی فضاء پیدا کردی ہے جس کی وجہ وہ مارکیٹ میں تازہ سرمایہ کاری کے بجائے مارکیٹ سے انخلا کو ترجیح دے رہے جو مارکیٹ میں بدترین مندی کا باعث بن گیا ہے۔کاروباری حجم بدھ کی نسبت 61 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 38 کروڑ 67لاکھ 53ہزار 13 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 365کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 16کے بھاؤ میں اضافہ 338کے داموں میں کمی اور 11کی قیمتوں میں استحکام رہا۔جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور فوڈزکے بھاؤ 1400روپے بڑھ کر 20400روپے اور شیلڈ کارپوریشن کے بھاو 19.31 روپے بڑھ کر 293.77روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ 171.54روپے گھٹ کر 5350روپے اور رفحان میظ کے بھاؤ 124روپے گھٹ کر 9775 روپے ہوگئے۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو کیپیٹل مارکیٹ کی تاریخ میں چوتھی بڑی تاریخ ساز مندی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل 11 مارچ 2017ء کو کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس میں 2153 پوائنٹس کی پہلی بڑی مندی رونما ہوئی تھی جبکہ 16 مارچ 2020ء کو 100 انڈیکس میں 2375 پوائنٹس کی دوسری بڑی مندی ہوئی تھی۔اسی طرح 18 مارچ 2020ء کو 2201 پوائنٹس کی تیسری بڑی مندی ہوئی تھی۔ جمعرات 2 دسمبر 2021ء کی مندی مالی سال 2020ـ21ء کی دوسری بڑی مندی جبکہ کیلینڈر سال 2021ء کی پہلی بڑی مندی ریکارڈ کی گئی ہے۔


متعلقہ خبریں


آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

پی ٹی آئی نے نامزر امیدوار کے علاوہ کسی کو کاغذات جمع کروانے سے روک دیا الیکشن کمیشن کا سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری سابق وفاقی وزیر و مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے امیدوار فائنل کردیا۔ ذرائع کے مطابق پا...

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان وجود - منگل 07 اپریل 2026

ہم پر امن لوگ ، احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ، اگر ہمیں روکا گیا تو جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج ہوگا حکومت جلسے کا این او سی دے، ہر انتظام ہم خود کریں گے،پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کردیا...

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

مضامین
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر