وجود

... loading ...

وجود

کے ڈی اے،کےایم سی،ایس بی سی اے سمیت کوئی ادارہ نہیں چل رہا،سپریم کورٹ برہم،وزیراعلیٰ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب

پیر 25 اکتوبر 2021 کے ڈی اے،کےایم سی،ایس بی سی اے سمیت کوئی ادارہ نہیں چل رہا،سپریم کورٹ برہم،وزیراعلیٰ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب کر لیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعلی سندھ سے استفسار کیا ہے کہ ہم یہاں مسائل سننے نہیں آئے حل بتائیں، آپ ہر بات میں وفاقی حکومت کی بات کر رہے ہیں، اگر وفاق یہاں آکر بیٹھ گیا تو پھر آپ کیا کریں گے۔ پیرکوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل بینچ نے تجاوزات کے خاتمے، سرکلر ریلوے، اورنگی اور گجرنالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت کی جبکہ نسلہ ٹاور سے متعلق بھی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس چیف جسٹس نے کہا کہ وہ حیدرآباد سے ہو کر آئے ہیں، دھول مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، یہ صرف کراچی کا نہیں پورے سندھ کا معاملہ ہے، بہتری نظر نہیں آتی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین عدالت میں پیش ہوئے۔انہوں نے گجر نالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا جی بتائیں کیاپیش رفت ہوئی؟ گجرنالہ متاثرین کی بحالی کے لئے ابتک کیاکیا؟ عملی طورپرگراؤنڈپرکیاہورہاہے ، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ جمع کرادی، کچھ مالی ایشوزآرہے ہیں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا ہورہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سے کہیں فوری پہنچیں۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ بلائیں وزیراعلیٰ سندھ کوابھی ان سے ہی پوچھیں گے، آپ لوگ عدالت کامذاق اڑارہے ہیں؟ یہ کیارپورٹ پیش کی ہے آپ نے؟عدالت کے طلب کرنے پر پروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ پارکوں ،کھیل کے میدانوں پر قبضہ ہوچکا ہے، سڑکوں پر سائن نہیں ہیں، گلستان جوہر، یونیورسٹی روڈ ٹوٹا ہوا ہے، آپ بتائیں کیا پلان ہے آپ کا؟۔چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سے استفسار کیا کہ اتنے عرصے سے شہر کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں،کیا ہو رہا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا کیسے بہتر ہوگا، کوئی ایک چیز نہیں جس میں بہتری آرہی ہو، سہراب گوٹھ سے جاتے ہوئے کیا حالات ہیں، کیا لوگ شہر میں داخل ہوتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں،آپ کہیں گے یونیورسٹی روڑ بنا دی، یونیورسٹی روڈ پر سب رفاہی پلاٹوں پر قبضہ ہوچکا، آپ قصبہ مافیا سے کسی قسم کی رعایت نہ کریں، ان پر رحم کھانے کی ضرورت نہیں۔ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے، آپ کا وزیر عوام کے لیے کچھ نہیں کرتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے ماتحت اداروں میں کیا ہو رہا ہے؟ ماسٹر پلان مانگ رہے ہیں وہ نہیں مل رہا، وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ انتظامی مسائل ہیں، کے ڈی اے با اختیار ادارہ ہے،قانون موجود ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ بتائیں کراچی کون چلا رہا ہے، کیونکہ سبھی ادارے مفلوج ہیں، کے ڈی اے، کے ایم سی اور ایس بی سی اے سمیت کوئی ادارہ نہیں چل رہا، کیا کراچی خود ہی چل رہا ہے، سندھ حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیے، آپ کا کام تو صوبے چلانا ہوتا ہے، آپ کے ماتحت شہری اداروں کا کام ہے جو وہ نہیں کر رہے، جس کو بلاتے ہیں سب یہی کہتے ہیں کوئی کام نہیں کرنا،شہر میں کثیر المنزلہ عمارتیں بن رہی ہیں، آپ دوسرا بڑا صوبہ ہیں، آپ حکومت ہیں، پیسے لانے کے سیکڑوں راستے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب یہ صرف کراچی کا نہیں پورے سندھ کا معاملہ ہے، میں کل حیدر آباد سے ہو کر آیا ہوں دھول مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ابھی ہم انڈونیشیا گئے تھے کراچی سے بڑا ہونے کے باوجود سرسبز تھا۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ بتائیں کیا پلان ہے آپ کا؟ ہماری سڑکیں دیکھیں کہیں سائن وغیرہ کچھ نہیں ہے،کچھ دن پہلے میں گلستان جوہریونیورسٹی روڈ سے آیا سارے روڈ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نالہ متاثرین کو متبادلہ جگہ دینے کا کہا تھا،سندھ حکومت نے ہاتھ کھڑے کرلیے ہیں، اتنے سارے کاموں کے لیے پیسے ہیں متاثرین کے لیے؟ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں عدالت کا شکر گزار ہوں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں،میں بتانا چاہتا ہوں 6 سال سے وزیر اعلیٰ ہوں،میں اس شہر میں ہی پیدا ہوا ہوں،ہم نے جو روڈ بنائے انکی فٹ پاتھ پر دکانیں الاٹ کردی گئی تھیں،ہمیں تجاوزات کے لیے ویسے ہی کام کرنا چاہیے،اس سال کچھ بہتری ہوئی ہے بارشوں میں بھی دیکھا ہوگا، انتظامی مسائل ہیں، مجھے ٹائم دیں میں عدالت کو بتانا چاہتا ہوں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں شارع فیصل بنایا ہے یونیورسٹی روڈ بنایا ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ادارے ہونے چاہئیں جو اس شہر کو چلا سکیں،ادارے ہوں جو اس شہر کو دیکھ سکیں، کے ڈی اے، کے ایم سی وغیرہ،حکومت کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کام کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ کے ڈی اے کاڈی جی آیا کہ میں نے حکم امتناع لیا ہوا ہے تب ہی عہدے پر ہوں۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ یہ ادارے با اختیار ہیں، قانون موجود ہے،چیف جسٹس نے ا س پر کہا کہ ویل، بہتری نظر نہیں آتی،جواب میں وزیر اعلی نے کہاکہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ سول اداروں کے پاس اختیارات نہیں، ہم نے اداروں کو اختیارات دے رکھے ہیں، ہمیں اکیس گریڈ کے افسران درکار ہیں، وفاق سے سولہ میں سے چار افسران تعینات ہیں، ایک ایک آفسر سے تین تین عہدے چلوا رہے ہیں، وفاق کو متعدد بار کہہ چکے کہ افسران تعینات کریں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ گزشتہ سال تاریخی بارش ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی، نالہ متاثرین کی بحالی کا کام ہم نے وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر کیا ہے،انہوں نے کہاکہ ہم بھی متاثرین کی بحالی چاہتے ہیں، وفاق سے 36 ارب روپے آباد کاری کے لیے مانگے،ہمیں وفاق کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا،پہلی بار ہوا تاریخ میں وفاق سے کم ریونیو ملا ہے، ریاستوں کے لیے وسائل کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، واقعی دس ارب سندھ حکومت کے لیے کوئی مسلہ نہیں، متاثرین کے لیے پی سی ون بن چکا، ایک ارب روپے شروع میں جاری کرنے کی کوشش کریں گے، دو سال میں متاثرین کو بحال کر دیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تیس چالیس سال سے سندھ حکومت نے کسی ہائوسنگ اسکیم کا اعلان نہیں کیا،مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس سال کچھ بہتر ریونیو آ رہا ہے وفاق سے گزشتہ مالی سال میں کم پیسے ملے ،ہمیں پتہ ہے لوگوں کے کیا مسائل ہیں لوگوں کو مہنگائی کا سامنا ہے۔جسٹس قاضی امین نے کہاکہ ابھی وہ پیسے آئے نہیں ہیں آپ پیسے مانگ رہے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سندھ حکومت آٹھ ارب ایک دن میں جنریٹ کرسکتی ہے، مراد علی شاہ نے کہاکہ دس ارب روپے کی ضرورت ہے کابینہ نے ایک ارب کی فوری منظوری دی ہے۔چیف جسٹس نے مراد علی شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہاں مسائل سننے نہیں آئے حل بتائیں،گرائونڈ پر کچھ ہے تو بتائیں،وزیر اعلی نے بتایا کہ پی سی ون بنا لیا ہے، عدالت جیسے حکم دے گی ہم عمل درآمد کریں گے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمیں پلان دیں کرنے کیا جارہے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہمیں کوئی رپورٹ نہیں دی گئی،مراد علی شاہ نے کہاکہ دس ارب صوبے کے لئے کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپکے پیچھے وزیر بلدیات کھڑے ہیں انہیں بلا کر پوچھ سکتے ہیں،مگر ان کے پاس کچھ ہے نہیں بتانے کو سوائے ٹی وی پر بیان دینے کے،وہ اختیارات پتہ نہیں آپ کے پاس بھی ہیں یا نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بہت افسوس کی بات ہے متاثرین کی بحالی کے ہمارے پاس فنڈ نہیں ، جسٹس قاضی امین نے کہاکہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں مگر آپ شرائط عائد نہیں کرسکتے،ہم پورے ملک کی سپریم کورٹ ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جنھیں جرائم پیشہ لوگوں نے وہاں بٹھایا،ان لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جوان بچیاں ہیںآپ وزیر اعلی ہیں آپ سکون کی نیند کیسے سو سکتے ہیں۔مراد علی شاہ نے جواب دیا کہ ہم کریں گے دس ارب کوئی مسئلہ نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کا بیان ریکارڈ کریں گے کہ متاثرین کی بحالی کا کام کریں گے،کوئی اگر مگر نہیں بس بحالی کا کام کریں۔وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن تین ماہ سے غیر فعال ہے،سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کررکھا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ اس کیس کا نمبر دے دیں دفتر میں ہم لگوا دیتے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ بہت ساری چیزیں ہیں جو اوپن کورٹ میں نہیں کہہ سکتا، چیف جسٹس پاکستان نے اس پر کہاکہ پھر کبھی موقع ملا تو سنیں گے،ہم سب کچھ قانون کے مطابق ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہاں لوگوں نے سڑکوں پر قبضہ کرلیا ہے انتظامیہ کہاں ہے ؟کیا یہ گورنمنٹ آف لا ہے؟ہم عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہر مسئلے کا حل ہے آپ دیکھ لیں آپ کچھ نہیں کر رہے،آپ وفاقی حکومت وفاقی حکومت کہہ رہے ہیں وہ آکربیٹھ جائے گی توآپ کہاں جائیں گے،مراد علی شاہ بولے کہ میں وہ بات کرنا نہیں چاہتا، سیاسی بات ہوجائے گی۔جسٹس گلزار نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب ، وزیراعلی سندھ کہہ رہے ہیں کہ وفاق تعاون نہیں کر رہا،آپ وفاقی حکومت سے ہدایت لے کر بتائیں۔جسٹس قاضی امین نے کہاکہ جو افسران انہیں چاہئیں ان کو دیں،چیف جسٹس پاکستان بولے کہ ایسا لگ رہا ہے وفاقی حکومت بھی مفلوج ہے، بڑی تقریریں کرتے تھے گراس روٹ لیول کی حکومت کی،گراس روٹ لیول کی حکومت کہاں ہے؟کوئی بتانے کے لئے تیار نہیں ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے مراد علی شاہ سے کہاکہ ڈی جی کے ڈی اے تین ماہ پہلے آیا تھا تبادلہ کردیا ہے کیا کام کرے گا وہ؟ کے ڈی اے کے ڈائریکٹر آپکے پیچھے کھڑے ہیں ان سے پوچھ لیں،وزیر اعل نے کہاکہ میں دیکھ لیتا ہوں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اور بھی کئی افسران ہیں جن کیایک ایک دو دو ماہ میں تبادلے کر دئیے جاتے ہیں۔وزیر اعلی نے کہاکہ ڈی جی کے ڈی اے کے پاس دو چارج ہیں،وزیر تعلیم مکمل فعال سیکریٹری تعلیم چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری بھی پرابلمز حل کریں لوگوں کی پرابلم حل کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جتنی بھی سوک ایجنسیز ہیں سب غیر فعال ہیں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ جی بالکل ہمیں لوگوں نے منتخب کیا ہے،سماعت مکمل ہونے کے بعد وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سپریم کورٹ سے واپس روانہ ہوگئے۔ضیاء الدین اسپتال کے وکیل انور منصور خان بھی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ آپ کے اسپتال کے اطراف تو سب قبضے ہو چکے ہیں۔ کے ڈی اے کے علاقے کا یہ حال ہے۔وکیل انور منصور خان نے بتایا کہ ہم نے قبضہ نہیں کیا، لوگ وہاں گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ یہی ہمارا موقف ہے کہ اردگرد قبضے ہیں۔چیف جسٹس نے ڈی جی کے ڈی اے سے سوال کیا کہ یہ بتائیں، سٹرک پر گھر کیسے بنے؟ یہ سب 3 سال کے اندر اندر ہوا۔ گلستان چلے جائیں، 90 فیصد کراچی گرے اسٹرکچر پر ہے۔جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ کراچی تو کسی بھی وقت گر جائے گا۔ آپ لوگ دفتر میں صرف چائے پینے جاتے ہیں ، یہ ہے میٹرو پولیٹن سٹی؟۔جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ڈی جی کے ڈی اے سے سوال کیا کہ پھر آپ کر کیا رہے ہیں؟۔ڈی جی کے ڈی اے آصف میمن نے عدالت کو بتایا مسئلہ یہ ہے کہ عہدوں پر کوئی رہتا نہیں، محمد علی شاہ او پی ایس افسر کو ڈی جی بنا دیا تھا۔ لوگ سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے کر آجاتے ہیں۔چیف جسٹس نے آصف میمن سے پوچھا کلفٹن میں کتنے رفاعی پلاٹس ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ کلفٹن میں 3 ہزار کے قریب رفاعی پلاٹس ہیں۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے جاری حکم امتناع ختم کردیے، عدالت نے تمام تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ جعلی لیز پر قائم مکانات، کمرشل تعمیرات فوری گرائی جائیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر