وجود

... loading ...

وجود

مہنگائی کا جن بے قابو، پی ڈی ایم کا ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان

پیر 18 اکتوبر 2021 مہنگائی کا جن بے قابو، پی ڈی ایم کا ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے مہنگائی کیخلاف ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پورے ملک سے عام آدمی کی چیخ و پکار آسمان کو پہنچ رہی ہے، آئے روز مہنگائی بم گرائے جارہے ہیں، عام آدمی خودکشی پر مجبور ہوگیا ہے، بارہ ربیع الاول کی تقریبات سے فارغ ہونے کے بعد ہر ضلعی ہیڈ کوارٹرز سے مظاہرے کیے جائیں گے، جادوگر اور ڈنڈے کے مقابلے میں جیت ہمیشہ ڈنڈے کی ہوتی ہے ۔اتوار کو یہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقا ن عباسی ، محمود خان اچکزئی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے ۔ اس موقع پر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، پٹرولیم منصوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کااظہار کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور زیر غو آئے ۔ ملاقات کے بعد جمعیت علما اسلام (ف) و پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شاہد خاقان عباسی اور محمود خان اچکزئی ،شاہ اویس احمد نورانی،ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ اور دیگر بھی انکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ مشاور ت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ بارہ ربیع الاول کے بعد دو ہفتے کیلئے حکومت کی ناقص پالیسیوں مہنگائی بیروزگاری معاشی بدحالی کیخلاف مظاہروں کئے جائینگے، ضلعی اور صوبائی تنظیموں کو متحرک کیا جائیگا اور عوام کو ان مظاہروں میں بھرپور شرکت کی دعوت دی جاتی ہے ،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل سربراہان کے مشورے سے بیان جاری کیا جارہا ہے، پورے ملک سے عام آدمی کی چیخ و پکار آسمان کو پہنچ رہی ہے آئے روز مہنگائی بم گرائے جارہے ہیں عام آدمی خودکشیوں پر مجبور ہوگیا ہے پی ڈی ایم کے موثر اقدام کی ضرورت تھی ہم اگلے دو ہفتوں کے لئے پورے ملک میں مظاھروں کا اعلان کررہے ہیں بارہ ربیع الاول کی تقریبات سے فارغ ہونے کے بعد ہر ضلعی ہیڈکوارٹرز سے مظاھرے کیے جائیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم کی صوبائی اور ضلعی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ ہر شعبہ زندگی سے وابسطہ افراد ان میں شریک ہوںفرعون کے جادوگروں اور موسیٰ علیہ سلام کے ڈنڈے میں جب مقابلہ ہوا تو موسیٰ علیہ سلام کا ڈنڈا جیتا ،تعویز جعلی نکلا ہے اور محبوبہ گلے پڑ گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ شہباز شریف سمیت پی ڈی ایم کے اکابرین سے فون پر رابطہ ہوا ہے ،اختر مینگل سے رابطہ ہوا وہ دبئی میں تھے پیپلزپارٹی کو دعوت دینے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تحریک جب ایک رخ پر چل نکلتی ہے تو یہ تاثر کیوں دیا جاتا ہے کہ تقسیم ہے ،پی ڈی ایم اور اپوزیشن میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ،وزیراعظم عمران خان کی سول بالا دستی کی تحریک کی دعوت پر ساتھ دیں گے صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان کو وزیر اعظم کہنے پر میں آپ سے احتجاج کرتا ہوں ہم عمران خان کا کسی قسم کا ساتھ نہیں دینگے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم اس کے بعد اگلے مرحلہ کا اعلان کرے گی مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں بھرپور مہم چلائی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ پیر کو مسلم لیگ سیکرٹریٹ میں سربراہ اجلاس ہوگامہنگائی سمیت دیگر امور پر فیصلے کئے جائیں گے ،مہنگائی سے نجات کے لئے قوم کو گھروں سے نکلنا ہوگا،پی ڈی ایم ہر محاذ پر لڑنے کے کئے تیار ہے پوری قوم سے اپیل ہے ان مظاھروں اور مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوںنے کہاکہ ہم ایسے حکمرانوں کو جو قوم کے لئے عذاب ہیں انکو ملک پر مزید مسلط نہیں ہونے دینا چاہتے ،ملکی قرضے پچیس ہزار ارب سے بڑھ کر پینتالیس ہزارارب ہوگیا ہے ،معاشی شرح نمو پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تھا جو اب منفی میں جا رہا ہے، کرپٹ جعلی حکمرانوں کو قوم پر مسلط کونے کا حق نہیں،عوام پٹرولیم مصنوعات کے بوجھ تلے دب گئے ہیں،پندرہ جون سے ابتک تیس روپے ستر پیسے پٹرول بڑھ گیا ہے ،حکومت ملک و قوم کے مفادات کے تحفظ کی بجائے آئی ایم ایف کی چوکیدار بن گئی ہے ،قوم کی قیادت غلامانہ ذہنیت کے لوگوں کے پاس ہے ،پی ڈی ایم کہہ چکی ہے کہ سلیکٹڈ نااہل اور نالائق اور کرپٹ ترین حکومت ہے سلیکٹڈ یا سلیکٹرزپٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے تمام اشیا سو فیصد مہنگی ہوگئی ہیں اسکا ذمہ دار کون ہے؟


متعلقہ خبریں


مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز وجود - اتوار 05 اپریل 2026

ملک بھر میں توانائی کی بچت کیلئے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز صوبائی حکومتیں کی چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جاری ، ذرائع وزارتِ توانائی نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں چی...

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

مضامین
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا ! وجود اتوار 05 اپریل 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا !

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر