وجود

... loading ...

وجود

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا

اتوار 10 اکتوبر 2021 آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ اتوار کو جہاز گروانڈ کوٹلی میں نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شہریوں اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی ۔نماز جنازہ میں، صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی،سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان ،جنرل سیکرٹری پی پی پی راجہ فیصل ممتاز راٹھور،سابق اسپیکر شاہ غلام قادر ،وزیرمال چوہدری اخلاق،وزیر ہائر ایجوکیشن ظفراقبال ملک،، صدر مسلم کانفرنس شفیق جرال، سابق وزراء ملک نواز، ڈاکٹر محمود ریاض،نجیب نقی ، راجہ صدیق،سابق ممبر کشمیرکونسل عبدالخالق وصی،ممبر الیکشن کمیشن فرحت علی میر،سابق صدارتی مشیر سردار عبدالمنان گوہر،سابق مشیر ملک کرامت ،سابق ڈی جی سیاسی امور ملک ذوالفقار،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو احسان خالد کیانی،ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہراقبال خان،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر سردار آفتاب،کمشنر مظفرآبادڈویژن مسعود الرحمن ،کمشنر میر پور ڈویژن چوہدری رقیب ،ڈی آئی جی میرپور ڈویژن چوہدری سجاد،راجہ عارف ،سابق امیدوار اسمبلی ملک محمد یوسف سمیت صحافیوں ،وکلائ،سیاسی کارکنوں اورمختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی نماز جنازہ سے قبل کوٹلی پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سردار سکندر حیات خان کی ریاست کے لیے خدمات پر انہیں سلامی دی نماز جنازہ جناب قبلہ حاجی پیر صاحب کے صاحبزادے بدرالسلام نے پڑھائی۔نماز جناز ہ کے بعد میت فتح پور تھکیالہ روانہ کر دی گئی ۔سردار سکندر حیات خان کو ان کے آبائی آبائی علاقے فتح پور تھکیالہ، نکیال میں سپردخاک کیاجائے گا۔سکندر حیات طویل عرصے سے علیل تھے۔ ان کا انتقال 87 برس کی عمر میں ہفتے کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔سکندر حیات خان آزاد کشمیر کی دو مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر جبکہ ایک مرتبہ صدر رہ چکے ہیں۔سردار سکندر حیات خان کے بیٹے اور سابق وزیر سردار فاروق سکندر خان نے ہفتے کی رات سوشل میڈیا پر پوسٹ سے ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔سردار سکندر حیات خان 1985 سے 1990 تک اور پھر 2001 سے 2006 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم جبکہ 1991 سے 1996 کے دوران صدر کے عہدے پر فائز رہے۔سردار سکندر حیات خان کشمیر کے ایک سیاسی خاندان میں یکم جون 1934 کو پیدا ہوئے۔ معروف سیاسی رہنما سردار فتح محمد خان کریلوی ان کے والد تھے۔سکندر حیات خان نے اپنی ابتدائی تعلیم آزاد کشمیرکی ضلع کوٹلی میں واقع اپنے گاوں کریلہ فتح پور تھکیالہ اور پونچھ شہر سے حاصل کی۔بعد ازاں انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے 1956 میں گریجویشن کی۔ انہوں نے 1958 میں پنجاب یونیورسٹی کے لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔سردار سکندر حیات نے اپنا سیاسی سفر ریاستی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس سے شروع کیا۔ 1970 میں وہ کوٹلی بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی منتخب ہوئے۔بعدازاں 1972 میں وہ آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد وزیر کے عہدے پر فائز ہوئے۔سکندر حیات خان 1970 سے 2001 تک اپنے آبائی انتخابی حلقے سے الیکشن میں مسلسل کامیابی حاصل کرتے رہے۔سکندر حیات 1976 سے 1978 کے درمیان آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر جبکہ 1978 سے 1988 تک صدر کے عہدے ہے فائز رہے۔1985 میں پاکستان وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 1990 سے 1991 کے دوران وہ قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے اور اس کے بعد صدر منتخب ہو گئے۔سکندر حیات 25 جولائی 2001 کو ایک مرتبہ پھر آزاد کشمیرکے وزیراعظم منتخب ہو گئے اور پانچ برس تک اس عہدے پر فائز رہے۔وہ 2006 کے بعد عملی سیاست سے علیحدہ ہو گئے تھے لیکن 26 دسمبر 2010 کو آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی شاخ کے قیام کے بعد وہ مسلم کانفرنس سے اپنی طویل سیاسی رفاقت ختم کر کے مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے تھے۔سردار سکندر حیات خان اس سال 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے قبل دوبارہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں شامل ہو گئے تھے۔ انہیں پارٹی کا سپریم ہیڈ بنایا گیا تھا۔ان کی وفات پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے تعزیتی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ سردار سکندر حیات خان کی کشمیر کاز اور کشمیری عوام کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود نے بھی سردار سکندر حیات کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ آزاد کشمیرکے وزیراعظم سردارعبدالقیوم خان نیازی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ سردار سکندر حیات کے انتقال کا سن کر دل دکھی ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی ریاست کی عوام کی خدمت میں گزاری۔ تحریک آزادی اور آزاد کشمیر کی عوام کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم اور راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے تعزیتی ٹویٹ میں لکھا کہ میں سیاست میں 40 سال سے زائد عرصہ ان کے رفیق سفر رہا، اونچ نیچ بھی آتی رہی مگر ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے بھی اپنے ٹویٹ میں سکندر حیات خان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔۔اطلاعات ونشریات کے وزیرچودھری فوادحسین نے بھی آزادجموں کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردارسکندرحیات خان کی وفات پرگہرے دکھ اورافسوس کااظہارکیاہے۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

مضامین
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز

اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی

نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا! وجود اتوار 12 اپریل 2026
نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا!

دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر