وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

بدھ 21 جولائی 2021 مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

آہ یہ دن بھی دیکھنے تھے، حج کے دن گزرے جاتے ہیں۔ مگر دو ارب مسلمانوں کی یہ عبادت سفاکانہ طبّی تصورات کی بھینٹ چڑھا دی گئی ۔ فہم عامہ(کامن سینس) کے معمولی سوالات کے جواب دینے سے قاصر عالمی صحت کے ادارے ایک مخصوص ایجنڈا مسلط کرنے پر تُلے ہیں۔ مسلمانوں کی حقیقی عبادت گاہ بھی نشانے پر ہے۔مگر” جدیدیت” کے بیٹے اور” ترقی” کے دیوانے اللہ سے بے نیاز ہوگئے۔ ان کا نیا خدا عالمی ادارہ صحت کی منحوس عمارت میں رہتا ہے۔خدا پرستی کا سب سے پہلا مرکز اور معبود کو پکارنے کا سب سے قدیم طریقہ اب اللہ کی رضا کا ذریعہ نہیں۔ کورونا وبا کے نام پر طاری مصنوعی ماحول میں ضوابط کی پیروی اب جدیدیت کی نئی ”عبادت ” ہے۔ ہم سب ڈبلیو ایچ کے کعبے کے آگے سجدہ ریز ہیں۔ اس کے مسلط کردہ ضوابط اب دنیا کا نیا عقیدہ ہے۔ جدیدیت پر ایمان کے ان مظاہر میں حقیقی عبادت کا کوئی تصور شیطان کی پیروی جیسا خطرناک کام بنادیا گیا ہے۔ کیا کیفیت رہی ہوگی جب علامہ اقبال نے فرمایا:

عجم کے خیالات میں کھو گیا
یہ سالک مقامات میں کھو گیا
بجھی عشق کی آگ ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں ، راکھ کا ڈھیر ہے

جادو کیا ہوتا ہے، وہی جو سرچڑھ کر بولے! جدیدیت کا جادو ایسا ہی ہے، سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کورونا وبا پر منطقی، طبی اور حقیقی سوالات اُٹھائے جائیں تو آپ جاہل تصور کیے جاتے ہیں۔ جدیدیت کا جادو یہی ہے۔ مغرب سوال اُٹھانے کو علم کہتا ہے۔ فلسفے کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ اللہ پر ایمان کو بھی عقل کی حاکمیت میں دینے والا جدید فلسفہ مذہب پر سوال اُٹھانے کو عین علم قرار دیتا ہے۔ مگر اپنی دنیا پر سوال اُٹھانے نہیں دیتا۔ اُسے وہ جہالت کے ہم معنی بنادیتا ہے۔ جادو یہی ہے کہ اسلامی تحریکوں کے کارکن بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ سوال اُٹھانے نہیں دیتے۔ اعداد وشمار کو ان دیکھا کرتے ہیں۔ عام اموات کو کورونا کی تعبیر دیتے ہیں۔ عبادتوں پر الحاد کے پیروکاروں کے ضوابط تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آہ کن لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑگیا؟ اسلامی تحریکوں کے سربراہ اب سرجیکل لباس پہن کر تصویریں کھنچواتے ہیںکہ جدیدیت کے خدا جان لیں ، ہم اُن کے پیروکار ہیں۔ اللہ کے نہیں۔ یہ دنیا دو اسکیموں پر ہے۔ ایک انسان کو خدا مان کر مغرب کی بنائی ہوئی اسکیم سے چلنے والی دنیا۔ دوسری انسان کو اللہ کا بندہ قرار دینے والے معبود کی بنائی دنیا۔ دونوں دنیاؤں کے چلنے چلانے کے ضوابط الگ الگ ہیں۔ ایک دنیا کا اعلان ہے، بل گیٹس کے ضوابط پر تمہارے شب وروز طے ہوں گے۔ دوسری دنیا کا اعلان ہے کہ اللہ کی ذات سے سب کچھ ہونے پر ایمان اور مخلوق سے اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہ ہونے کا یقین دراصل زندگی کو حقیقی معنی دیتا ہے۔ مسلمان فیصلہ کرلیں، وہ آج کل کس دنیا میں رہتے ہیں۔

حج دراصل مغرب کی بنائی ہوئی اسکیم سے چلنے والی دنیا کی ناکامی کا بلیغ اعلان کرتا ہے۔ یہ مغرب کے عقیدۂ ترقی کی حقیقی تذلیل کرتا ہے۔ مغرب اپنی ترقی کے اوج پر جن دعووں کے ساتھ بسیرا کرتا ہے، وہ حج کے روحانی اور معنوی ثمرات کے آگے پھیکے، ہلکے، جھوٹے، چھوٹے اور کھوکھلے پڑ جاتے ہیں۔ مغرب کے عقیدۂ ترقی سے جنمتا ہر دعویٰ دراصل بنی نوع انساں کے لیے ایک مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ علوم میں ارتفاع، ٹیکنالوجی میںارفع ہونے کے مغربی اعلان سے جس دعوے نے جنم لیا تھا، وہ فاصلوں کے سمٹنے اور دنیا کو ایک عالمی گاؤں بنادینے سے عبارت تھا۔ جہاں بحروبر کا امتیاز ختم اورقوموں ،ملکوں کا فرق معدوم ہو جاتا ہے۔ دنیا کی تمام آبادی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور مربوط ہوجاتی ہے۔ مگر اس مغربی دعوے کے ساتھ ایک مسئلہ بھی اُبھر آیاکہ دل اور دماغ میں فاصلہ نہ ختم ہونے والا پیدا ہو گیا۔ مختلف قوموں کے درمیان برگشتگی کے سرد نہ ہونے والے جذبات جنم لینے لگے۔ دنیا یکسانیت کے زعم میں اٹھی تھی ، مگر اس نے امن کے بجائے جنگیں برپا کرنا شروع کردیں۔ چنانچہ دنیاجتنی تیزی سے ترقی کرتی جارہی ہے، اُتنی تیزیں سے جنگوں کی لپیٹ میں بھی جارہی ہیں۔

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

درحقیقت اس مسئلے نے یہ سمجھایا کہ قومیں اور نسلیں ترقی سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔ بلکہ یہ ایک روحانی تقاضا ہے۔ انسانوں کے گروہوں، نسلوں ، قوموں ، زبانوں اور جغرافیائی خلیجوں کو ایک زبردست اجتماعی یگانگت کے تصور سے دور کیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسا ولولہ انگیز تصور جسے ملکی سرحدیں اور جغرافیائی حدیں تحلیل کرنے پر قادر نہ ہو۔ ظاہر ہے تب انسان کے اعضاء نہیں ، بلکہ اُن کی روحوں کو مخاطب کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قادرِمطلق کی جانب سے یہ عمل حجاز کے چٹیل اور وادی غیر ذی زرع میں شروع کیا گیا۔ جہاں رخ کرنے والے مختلف ملکوں ، نسلوں اور قوموں سے ہونے کے باوجود ایک تصور میں بندھ جاتے ہیں۔ ترقی کی گمراہیوں سے دامن بچاتے ہوئے اپنی روحوں کو ہم آہنگ کرتے ہیں۔ ایک خالق کے آگے اپنی دنیوی پہچانوں سے پاک اور اپنی حقیقی پہچان یعنی عبدیت کے رنگ سے رنگ جاتے ہیں۔پھر زبانوں کا فرق باقی نہیں رہتا، نسلوں کا امتیاز جاتا رہتا ہے، قوموں کا جنون کافور ہونے لگتا ہے ۔ اللہ اللہ اب یہ وقت، رازونیازِ عبد ومعبود کا ہے۔

راز ونیازِ عبدومعبود میںکہیںکوئی تار یا بے تار جیبی فون کی ضرورت نہیں، یہاں زبان کی کوئی قید نہیں۔رابطے کے لیے کسی درمیان دار کی حاجت نہیں۔ یہ صرف دل کے عقیدے اور روح کے جذبے سے پکارنے اور سننے کا عمل ہے۔ یہ ملاقات ہے۔ دنیا و آخرت کی سب سے افضل ملاقات ۔ عبدومعبود کے درمیان ، خالق ومخلوق کے مابین۔ نہ وائر نہ وائر لیس، نہ فون نہ موبائل۔ بس ایمان کا ذریعہ ہی سب سے موثر ہے۔ اس عمل میں ملک اکٹھے ہیں۔قومیں مربوط ۔نسلیں اور زبانیںاپنے فرق سے بے نیاز ۔گورے کی کالے پر کوئی برتری نہیں، بادشاہ کا لباس ، فقیر کے لباس سے مختلف نہیں۔ محمود کو ایاز پر کوئی سبقت نہیں۔ انسانی اخوت اور نسلی مساوات اپنی اصلی صورت میں موجزن ہے ۔ یہ اسلام کی برکت ہے، یہ فریضۂ حج کی ادائیگی ہے۔ لبّیک، اللّٰھم لبّیک،لبّیک لاشریک لک لبّیک!!

اللہ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا یہ پہلا گھر اپنے عابدوں سے دور کیوں ہوگیا؟ عشق کی آنکھوں سے بہتے آنسو ، خشک کیوں ہوگئے؟محبت کے شعلوں سے اُٹھتی آہیں سرد کیوں پڑ گئیں؟دل سے نکلتی صدائیں سکوت کے ویرانوں میں مدہم کیوںپڑرہی ہیں؟کیا مقدس ندائیں گلوں میں پھنسی رہیں گی؟ کیا حج کا ترانہ زبانوں پر بے اظہار مچلتا رہے گا؟ہزاروں سال سے جاری راز و نیاز ِعبدو معبود کا الٰہی مقام اب بل گیٹس کی مرضی سے کھلے گا۔ اب مسلمانوں کی عبادتوں پر مغرب کے بدمعاشوں کے ضوابط کی پہرے داری ہوگی۔ مغربی آقا فرمان جاری کرتے ہیں کہ کورونا وبا ہے، چنانچہ آبِ زم زم اب انسان نہیں روبوٹ بانٹیں گے۔ تب جدیدیت کے تقاضے فتووں میں ڈھلنے لگتے ہیں۔ خطبوں میں گونجتے ہیں۔ اماموں کی منطق میں گویائی پاتے ہیں۔ یہاں فرقے فرق پیدا نہیں کرتے۔ بے دماغی طعنہ نہیں بنتی۔ شاہ دولہ کے چوہوں کی کوئی پھبتی سنائی نہیں دیتی۔ ایک وائرس کا راستا کسی سپر پاؤر کا ایٹمی بھی پروگرام روک نہیں پاتا۔چند لوگ رات کی تاریکیوں میں چمگاڈروں کے جاگنے کے وقت نئی دنیا کے نظام الاوقات طے کرتے ہیں، معبود کو پکارنے کی اجازت دینے نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر مسلم ملکوں کے حکمران کسی تحقیق کا روگ نہیں پالتے۔ اپنا کوئی ورلڈ ویو نہیں بناتے۔ نئی دنیا میں اپنے مقام کا تعین کرنے کے لیے اپنی کوئی دنیا نہیں بناتے۔ اپنی زندگی کا کوئی ثبوت نہیں دیتے۔ ان کی دولت اچھے محلوں ، بڑی گاڑیوں اور اللوں تللوں کے لیے ہیں۔ کسی تحقیق کے لیے نہیں۔ اپنے ارادے کو آزاد بنانے کے لیے نہیں۔ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لیے نہیں۔ عیاشیوں کے لیے اپنی زندگی سے دستبردار ہونے والے مسلم حکمرانوں کایہ جتھہ کردار میں کسی بیمار کے منہ سے نکلنے والی قے سے بدتر ہوچکا۔ ان کامتعفن وجود مسلمانوں کے لیے خطرہ بن گیا۔ آج کا خطبۂ حج ان سے نجات کا اعلان ہونا چاہئے اور کچھ نہیں!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین