وجود

... loading ...

وجود

جوہر ٹاؤن میں ہونے والابم دھماکا بھارتی دہشتگردی تھا،مشیر قومی سلامتی

پیر 05 جولائی 2021 جوہر ٹاؤن میں ہونے والابم دھماکا بھارتی دہشتگردی تھا،مشیر قومی سلامتی

وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والابم دھماکا بھارتی دہشت گردی تھا، واردات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے ،فون اور دیگر جو آلات ملے ہیں اس کا فورنزک تجزیہ ہوا ہے ، مرکزی ماسٹر مائنڈ اور معاونین کا تعلق بھی بھارت سے جڑتا ہے ،ہمارے پاس ان کے جعلی نام، اصل شناخت اور وہ کہاں موجود ہیں، تمام چیزوں کی نشان دہی ہوچکی ہے ، حملے والے دن ہمارے تفتیشی ڈھانچے پر ہزاروں منظم سائبر حملے ہوچکے ہیں،حملے پر ہونے والے اخراجات کی شروعات بھی بھارت سے ہو رہی ہے ، بینک اکائونٹس موجود ہیں، پاکستان میں تیسرے ملک کے ذریعے پیسے بھجوائے گئے ،ہمسایہ ریاست کے عمل دخل پر کوئی شک نہیں، وقت آگیا ہے دنیا اصل مجرم کی طرف اپنی نظر دوڑائے ،بھارت کے اصل چہرے کو سامنے لائیں گے ،لاہور دھماکے سے توجہ ہٹانے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں ڈرون حملے کا ڈرامہ کیا گیا،اتنے ثبوت ملنے کے بعد بھی دنیا خاموش رہے تو ثابت ہوجائیگا اس کی دلچسپی امن میں نہیں ہے ۔ وہ اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور آئی جی پنجاب انعام غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ آئی جی پنجاب نے اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ بات کی تھی تو بتایا تھا کہ ہمارے پاس اطلاع اور ثبوت ہیں کہ کوئی غیرملکی خفیہ ایجنسی بھی ملوث ہے ۔معید یوسف نے کہا کہ آج میں کسی ابہام کے بغیر وثوق سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سارے حملے کے تانے بانے بھارت کی پاکستان کے خلاف اسپانسر شپ دہشت گردی سے جڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے فون اور دیگر جو آلات ملے ہیں اس کا فورنزک تجزیہ ہوا ہے ، مرکزی ماسٹر مائنڈ اور معاونین کا تعلق بھی بھارت سے جڑتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ جو ماسٹر مائنڈ ہے اس کا تعلق ہمیں بالکل واضح طور پر معلوم ہے ، وہ بھارت کا شہری ہے ، بھارت میں رہتا ہے اور را سے اس کا بالکل واضح طور پر تعلق ہے ۔مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے حملے کے ماسٹر مائنڈ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ان کے جعلی نام، ان کی اصل شناخت اور وہ کہاں موجود ہیں، ان تمام چیزوں کی نشان دہی ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہ کارروائیاں پہلی دفعہ نہیں ہیں، ہم بار بار یہ بات کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے ، اگر کسی کو یہ سوال، ابہام یا شک ہے کہ چلیں بھارت کے اندر سے ہوا لیکن کیا ریاست ملوث ہے تو میں یہ بتاوں کہ پہلے عموماًایسی چیز ہوتی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ جس دن یہ حملہ ہوا ہے ، اس دن ہمارے تفتیشی ڈھانچے پر ہزاروں منظم سائبر حملے ہوچکے ہیں، ہم جس ہائبرڈ وار فیئر کی بات کرتے ہیں جو دنیا ہمارے خلاف کر رہی ہے ، یہ اس کی ایک مثال ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس دن سائبر حملے کیے گئے اور اس لیے کیے گئے کہ ہم جو تفتیش کررہے ہیں اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کی نشان دہی کر رہے ہیں، وہ فعال نہ ہوسکیں، اس میں دارڈیں آئیں اور وقت اتنا مل جائے کہ یہ نیٹ ورک ادھر ادھر ہوجائے اور اس جگہ سے نکل جائے ۔معید یوسف نے کہا کہ انہوں نے کوشش کی لیکن ان کو وقت نہیں ملا کیونکہ ہم سائبر سیکیورٹی پر بھی کام کرکے اتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے یہ کامیابی ہمیں حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی قسم کی کوئی شک نہیں ہے کہ جوہری ٹاون کا دھماکا اور یہ سائبر حملے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک ہی سوچ اور منصوبے کا حصہ ہیں کیونکہ وہ اس تعداد میں کیے گئے ، جس سے کسی قسم کا شک نہیں رہ جاتا کہ اس میں ہماری ہمسایہ ریاست کی عمل د خل موجود ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پچھلے سال نومبر میں ایک جامع ڈوزیئر دیا تھا اور اسی طرح پریس کانفرنس کی تھی، دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز اور بڑے ، مضبوط اور اہم ممالک کو تمام معلومات اس سطح تک دی کہ کون کہاں سے فون کر رہا تھا، بھارت کے کون سے بینک سے پیسے منتقل ہورہے تھے ، کون سے فون کے ریکارڈ تھے جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھی اسی تسلسل میں ایک اور کڑی ہے ، جہاں ہمارا دشمن یہ کام بدستور کرتا جارہا ہے ۔ مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ اس حملے پر ہونے والے اخراجات کی شروعات بھی بھارت سے ہو رہی ہے ، بینک اکائونٹس موجود ہیں، پاکستان میں تیسرے ملک کے ذریعے پیسے بھجوائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا ہمیں بار بار فیٹف، یہ اور وہ بات کرتے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ اصل مجرم کی طرف اپنی نظر دوڑائیں اور واقعی ہی یہ سیاسی نہیں بلکہ ٹیکنیکل پلیٹ فارمز ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دنیا میں بہت سے اور ادارے ہیں جن کا کام ہے ان چیزوں کی نشان دہی کریں تو اب کارروائی کرنے کے لیے آپ کو اسے زیادہ ثبوت نہیں چاہئیں جو ہمیں اس سارے واقعے سے ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عید گل کا بنیادی تعلق افغانستان ہے ، اس کے بعد یہ پاکستان میں بسا اور اس کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ بھی ہے ، اسی لیے ہم کہتے ہیں افغان ہمارے بہن اور بھائی ہیں اب ان کی باعزت واپسی ہو۔ انہوںنے کہاکہ دنیا ہمیں بار بار سوالر کرتی ہے کہ یہاں ایسے افغان موجود ہیں جنہیں پکڑنا ضروری ہے جو افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں اور ہم کہتے رہے ہیں کہ جہاں 30 لاکھ مہاجرین موجود ہوں انہی میں یہ اپنے آپ کو سمو لیتے ہیں۔معید یوسف نے کہا کہ یہ بندہ کسی مہاجر کیمپ میں نہیں بلکہ پاکستان میں عام پنجاب میں رہتا تھا، اس لیے بجائے ہم پر انگلی اٹھانے کے ہم چاہتے ہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق ان کی باعزت واپسی ہو اور جب ان کی واپسی ہوجائے تو پھر ہم سے سوال کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ پاکستان تمام قانونی اور سیاسی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو منظر عام پر لایا جائیگا اور ہمیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے جن ملزمان کی ضرورت ہے ، ان کولانے کے لیے بھی تمام کوششیں کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا اصل چہرہ جیسے پہلے دنیا کے سامنے لائے ہیں اسی طرح دوبارہ بھی لے کر آئیں گے ۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ لاہور کی دہشت گردی میں براہ راست بھارت ملوث تھا، بھارت کی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو سپورٹ کررہی ہے ، پاکستان میں موجود گینگ کے تمام لوگ ہماری گرفت میں ہیں۔پریس کانفرنس کے آغاز میں آئی جی پنجاب سے جوہر ٹائون دھماکے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 23 جون کو صبح 11 بج کر 9 منٹ پر جوہر ٹاون کے بلاک ای میں وی وی آئی ای ڈی دھماکا ہوا تھا۔انہوںنے کہاکہ دھماکے کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق اور 2 پولیس افسران سمیت 22 زخمی ہوئے ، 12 گاڑیوں اور 7 گھروں کو شدید نقصان ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کے فوری بعد پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ سی ٹی ڈی دھماکے کے 16گھنٹے کے اندر اندر پورے پلان تک پہنچ گئی تھی،کچھ لوگ باہر بیٹھ کر پوری کارروائی پلان کررہے تھے اور فنانس کررہے تھے ، کچھ لوگوں نے پاکستان میں تمام کارروائی پر عمل کیا،دھماکے میں ملوث 56 سال کا پیٹرکراچی کا رہنے والا ہے ، پیٹر زیادہ تر باہر ممالک میں رہا ہے اور اس کے رابطے تھے ۔ انعام غنی نے بتایا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا بندوبست پیٹر نیکیا، دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی گئی تھی، گاڑی کے انجن اور چیچز نمبرکو ٹیمپرکیا گیا تھا، ملزمان نے دھماکے سے پہلے گاڑی چلا کر ٹیسٹ بھی کی تھی،پیٹرکا تمام ٹیلی فونک اور واٹس اپ ڈیٹا موجود ہے ،گاڑی میں دھماکا خیز مواد پیٹر نے نصب کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 21 تاریخ کو گاڑی میں دھماکاخیز مواد نہیں تھا، 21 تاریخ کو عید گل نے گاڑی کے ذریعے ریکی کی،22 تاریخ کو بھی ملزم عید گل نے رکشے میں علاقے کی ریکی کی، ملزم پنجابی بولتا تھا، کسی کو علاقے میں گھومنے پر شک نہیں ہوا، جس دن دھماکا ہوا ملزم اسلام آباد سے گاڑی لے کر آیا،ملزم عید گل کی بیوی نے بھی اس کی مدد کی، ملزم اسلام آباد سے موٹر وے کے ذریعے گاڑی لے کر پہنچا، ملزم نے موٹروے پر 12 گھنٹے سفر کیا، ایک جگہ ریسٹ بھی کیا۔ انہوںنے کہاکہ ملزم نے کالے رنگ کی 2010 کے ماڈل کی گاڑی زیر تعمیر عمارت کے گھر کے نیچے گاڑی کھڑی کی،دھماکے سے پولیس پکٹ بھی نشاہ بنی، ہمارے جوان زخمی ہوئے ، دھماکے میں 20 کلو گرام دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا، دھماکے کے بعد گاڑی کا ایک ٹکڑا بھی موقع پر موجود نہیں تھا،دھماکے سے گاڑی کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوگئے تھے ، عموما دھماکے میں ایسا نہیں ہوتا، یہ شخص بہت ماہر تھا۔معید یوسف نے کہاکہ بھارت کے اصل چہرے کو سامنے لائیں گے ، لاہور دھماکے سے توجہ ہٹانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ڈرون حملے کا ڈرامہ کیا گیا،اتنے ثبوت ملنے کے بعد بھی دنیا خاموش رہے تو ثابت ہوجائیگا کہ اس کی دلچسپی امن میں نہیں ہے ۔


متعلقہ خبریں


اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن وجود - پیر 19 جنوری 2026

سندھ حکومت نے فوری طور پر آگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے،وزیر اطلاعات سندھ کتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ آگ بھجانے کے بعد ہی لگایا جائے گا،نجی ٹی وی سے گفتگو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ میں کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروا...

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا وجود - پیر 19 جنوری 2026

نفاذ یکم فروری سے کیا جائیگا،جب تک گرین لینڈ نہیں مل جاتا ٹیرف بڑھتا ہی جائیگا معاہدہ نہ ہونے پر یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا،امریکی صدر گرین لینڈ ملنے میں رکاوٹ اور ساتھ نہ دینے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا باقاعد...

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

مضامین
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر