وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

آج پھر تصویریں سونے نہیں دیتیں؟

پیر 14 جون 2021 آج پھر تصویریں سونے نہیں دیتیں؟

یہ برماکے مسلمانوںکی حالت ِ زارکا نوحہ ہے یامیرے بندلبوںکی چیخیں ، میںنہیں جانتا۔ لیکن ظلم کے خلاف آوازبلندکرنے کی کوشش کی ہے۔ شاید عالمی ضمیر جاگ اٹھیںآج دل پھرسے مضطرب ہے۔ بے قراری،بے سکونی حواس پر طاری ہے ۔ میرے چاروں طرف فضا میں خون کی بو رچی ہوئی محسوس ہورہی ہے، جیسے سانس لینا بھی دوبھرہوگیاہو۔ میرے ارد گرد آہوں،سسکیوں اور بین کرتی آوازیں حا وی ہوتی جارہی ہیں ۔میں خوفزدہ ہوں ذرا سی آہٹ پر بھی سہم سہم جاتاہوں کبھی بچوں کی چیخیں۔کبھی نوجوان لڑکیوں کی آہ و بکا۔کبھی مردوں کی بے بسی کی ان کہی کہانیاں ، کبھی عورتوںکا شور ،خوف ڈر اوردرد میں ڈوبی آوازیں اور کبھی حملہ آوروںکے قہقہے۔ نفرت میں ڈوبے تحقیر آمیز جملے سماعتوںسے ٹکرارہے ہیں ، ایک حشر بپاہے۔
میں جس طرف بھی نظردوڑاتاہوں تصویریں ہی تصویریں دکھائی دیتی ہیں۔ خون میں رنگین،دردمیں ڈوبی چیختی چلاتی تصویریں۔ احساس یوںہورہا ہے جیسے ان کے دردکی کسک میرے سینے سے اٹھ رہی ہو۔جیسے ان کے خون کے چھینٹوںسے میرا وجود لہو لہوہے۔کئی تصویریں میری آنکھوںمیں جیسے پیوست ہوکررہ گئی ہیں۔میں گھبراکر کسی اور جانب دیکھنا چاہتاہوں لیکن چندتصویریں ماحول پرغالب آچکی ہیں۔ ایک تصویر میں انسانی ہڈیوںکا ڈھیر لگاہواہے۔ غالباً ایسے ہی انسانی کھوپڑیوں کے مینارہلاکو خان نے بغدادمیں لگائے تھے ۔ یہ بھی کبھی گوشت پوست کے انسان تھے لیکن اب انسانی ہڈیوںکا ڈھیرہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا جرم محض یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔اپنے نبی ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں ۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان ہے۔ایک اور تصویرمیں ایک شخص کوپیٹرول چھڑک کر زندہ جلادیاگیاہے ۔ جان بچانے کی فطری خواہش میں وہ چیختا چلاتا بھاگتا پھررہاہے اور اس کا تعاقب ایک فوجی گن اٹھائے کررہاہے۔ایک تصویر بھلائے نہیں بھولتی ایک نوجوان کے ٹکڑے ٹکڑے لاش کو اس کے لواحقین جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہاتھ،بازو،ٹانگیں اور جسم کے ان گنت ٹکڑے دیکھ دیکھ کر بے رحم کو بھی رحم آجائے لیکن برما کے سفاک قاتلوںکو ذرا بھی ترس نہیں آتا۔ایک تصویرپر برما کے غریب مسلمانوںکا ’’جرم‘‘ لکھا دیکھا۔ساڑھے سات کروڑ کی آبادی کے ملک برما میں مسلمانوں کی تعداد صرف7لاکھ ہے یعنی اس ملک میں مسلمان 10%سے بھی کم ہیں۔ 1962ء میں جب فوج نے اقتدارپرقبضہ کیا تو انہوںنے برما کے مسلمانوںکو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرنے سے انکارکردیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا شروع کردیئے برماکے صوبے اراکان میں مسلمانوںکی اکثریت ہے فوجی حکومت کی جانب سے ان کو موبائل فون استعمال کی بھی اجازت نہیں ہے۔
3؍ جون کوبرما کے دارالحکومت رنگون میں11 مسلمانوں کو بسوںسے اتار کر بے دردی سے قتل کردیا گیا جس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران فوج اور بدھ مت کے انتہا پسندوںکی فائرنگ سے 3000سے زائد مسلمان شہیداور سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔نوجوان لڑکیوں اور بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ صوبہ اراکان کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے ۔ برما کے مسلمانوں نے پناہ کے لئے ادھرکا رخ کیا تو بنگلہ دیشی حکومت نے نہ صرف انہیں پناہ دینے سے انکارکردیا بلکہ قافلوںمیں لوٹ مارکی گئی ۔جوان لڑکیوںکو اغواء کرلیا گیا ۔اب تلک ایک لاکھ سے زائد مسلمانوںکو برمی فوج اور بدھ انتہا پسندوں نے قتل کردیاہے۔ 6000مسلم بستیوں کو نذر ِ آتش کردیا گیا۔ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں ۔اب روہنگیا کے مسلمانوںپر عرصہ ٔ حیات تنگ ہے۔ مساجدکو مسمارکیا جارہاہے۔ کئی آبادیاں جلا دی گئیں ۔اپنی جان بچاکر پڑوسی ممالک جانے والی برماکی دوشیزائوںکی عصمت دری کی جارہی ہے۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ برما کے مسلمانوں پر یہ ظلم بربریت بدھ کے پیروکارکررہے ہیں۔ بدھ مت کو امن کی علامت سمجھا جاتاہے ۔ ان کے مذہبی پیشوا ہمیشہ امن کا پرچارکرتے ہیں۔ مغربی میانمار میں مسلم کش واقعات میں ہزاروں افرادکو موت کے گھاٹ اتاردیا گیاہے ۔برماکی فوجی حکومت نے مسلمانوںکیلئے بیرونی امداد اور اقوام متحدہ کی طرف سے امدادپر پابندی لگادی ہے۔ میانمار میں فوج نے اقتدارپر قبضہ کرکے حکمرانوںکو گرفتارکرلیا۔ ایسے حکومت بدل گئی لیکن مسلمانوں کے حالات نہیں بدلے ۔آج میرے آس پاس بکھری دردمیں ڈوبی،چیختی چلاتی تصویریں حقیقت کی نقاب کشائی کررہی ہیں ۔ایک تصویرمیں ڈھانچے ہی ڈھانچے دیکھ کر کئی کہی ان کہی کہانیاں تصور میں ابھر آتی ہیں۔اللہ معاف
کرے ایک تصویردیکھ کررونگٹے کھڑے ہوگئے ۔سینکڑوں مسلمانوںکوزندہ جلادینے کی خوفناک تصویر قطار درقطار جلی کوئلہ بنی لاشیں۔ جیسے لاتعدادبدھ کے مجسمے پڑے ہوں۔یااللہ یہ کیسے سفاک قاتل ہیں جنہوںنے ہنستے بولتے انسانوںکو آگ کی بھینٹ چڑھاڈالا۔ایک تصویر میں نوجوان لڑکی خون کی آنسورورہی ہے جس کے خاندان کے سات افرادکو بدھ دہشت گردوںنے شہید کردیا۔ ایک اور تصویرنے دل دہلا دیا انسان کی سربریدہ،پابریدہ اوربازو بریدہ ٹکڑے جیسے آرے سے کسی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہو ۔یہ تصویر دیکھ کر کوئی خیال کرسکتاہے کہ آج کے انتہائی تہذیب یافتہ دورمیں کوئی اتنا ظالم بھی ہو سکتاہے۔ایک اور تصویر بھلائے نہیں بھولتی دو معصوم سے بچے پھانسی پر جھول رہے ہیں، ان کے چہروںپر فرشتوںکا سا تقدس ہے ۔ برما کے انتہا پسندوںنے ان بچوںکو جیتے جی گلے میں رسیاں ڈال کر انہی کے گھروںکو پھانسی گھاٹ بنادیا۔ایک اور تصویر حواس پر چھائی ہوئی ہے ۔ اسکول یونیفارم میں ملبوس ننھے منے طالبعلموںکی لاشیں بے گورو کفن شہرکے چوراہے میں پڑی ہوئی ہیں۔تصویریں ان گنت تصویریں کسی میں مسلمان بستی میں آگ کے شعلے آسمانوں سے باتیں کررہے ہیں ۔ کسی میں بدھ بلوائی مسلمانوںپر حملے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔کسی تصویرمیں نوجوانوںکو پیٹ کے بل لٹاکر ان کے ہاتھ اور پائوںکو اجتماعی طور پرباندھ رکھاہے ۔ بے بسی کی انتہا ان کے چہروںپر عیاں ہے ۔میرے آس پاس پھیلی تصویریں غم کا نوحہ ہیں۔ مسلمانوںکی بے حسی کا نمونہ ۔ یہ تصویریں انسانوں کے لیے عبرت بھی ہیں لیکن انہیں دیکھ کر انسانی حقوق کی تنظیموں،بڑے بڑے عالمی رہنمائوں اور مسلم
حکمرانوں کے ضمیرکاامتحان بھی ہیں جن کا فرض بنتاہے کہ وہ برما کے مسلمانوںپرہونے والے ظلم کو روکیں۔ اس کے خلاف آواز بلندکریں۔ پاکستانی میڈیا بھی اس سلسلہ میںمجرمانہ غفلت کا مرتکب ہورہاہے جوفلمیں خبروںکو دلفریب انداز میں دکھاتاہے لیکن برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے چشم پوشی کی جارہی ہے۔یہ سوچتے سوچتے میں سونا چاہتاہوں نیند آنکھوںسے کوسوں دورہے ۔ میری سماعتوںپر شور بڑھتاہی جارہاتھاجیسے بہت سے جلاد تعاقب میںہوں ۔ اسی اثناء میںتیزہوا سے بہت سی تصویریں اڑکر میرے دامن میں آگریں جیسے کوئی پناہ گزیں ہونا چاہے یا جائے اماں ڈھونڈرہاہو۔ پھر عجیب بات ہوئی ساری کی ساری تصویریں مجسم ہوگئیں۔ میرے چاروں اطراف بچے، نوجوان،لڑکے، بوڑھے،عورتیں ،لڑکیاں آکھڑی ہوئیں وہ چیخ رہی تھیں چلارہی تھیں ۔ان کی آنکھوںمیں بلا کا درد،کرب ہی کرب تھا۔ معصوم سی بچیاں اورپیارے سے ننھے فرشتے جنہیں دیکھ کر بے اختیار پیارآجائے، ہاتھ جوڑ کر اپیل کرنے لگے ،ہمیں ظالموںسے بچالو۔ بے رحم قاتلوںسے بچا لو۔ ایک باوقار خاتون بولی سوچ کیا رہے ہو۔ دوسری بولی ہماری جان پر بنی ہوئی ہے۔ یہ سورہے ہیں ایک پیاری سی بچی نے میرادامن تھام لیا ۔ایک فرشتے کی صورت والے بچے نے میرے کندھے کو جھنجوڑکر کہاہم ایک ہی نبی ﷺ کے امتی ہیں۔ ان میں کوئی تمہارا کلمہ گو بھائی ہے ۔کوئی بہن کوئی بیٹے جیسا۔کیا ہماری مدد نہ کرو گے۔اسی دوران ایک عورت چیختی ہوئی بولی ہماری مددنہ کی تو قیامت کے روز اپنے نبی ﷺ کا سامنا کیسے کرو گے۔یہ باتیں ،آہ وبکا سن کر میرا جسم لرزنے لگا، پورا وجود پسینے میں شرابورہوگیا ۔پھر ماحول میں بارودکی بو پھیلتی چلی گئی ، درودیوار خون کے چھینٹوںسے لت پت ہوگئے۔چیخیں ،ہائے، بھگڈر،مرگئے ،شور۔ہمیں ظالموںسے بچالو۔ بے رحم قاتلوںسے بچا لو ،کی کربناک آوازیںسن کرجیسے آنکھ کھل گئی ہو ۔ڈرتے ڈرتے اپنے آس پاس دیکھا تو لاشوںکے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔کئی زخمیوںکے لبوںپر کلمے کا وردجاری تھا اپنی بے بسی ۔ امت مسلمہ کی بے کسی اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی پر میں پھوٹ پھوٹ کررونے لگاہوں۔شاید یہ رونا مسلمانوںکا مقدر بن گیا ہے ۔دل سے ایک ہوک اٹھی ۔خداکرے مسلمان خواب ِ غفلت سے جاگ جائیں توشاید پھر کسی کے شعور،لاشعورمیں تصویریں نہ در آئیں ۔ایسی تصویریں جنہیں دیکھ کروحشت ہوتی ہے۔ رونا آتا ہے۔ قرار لٹ جاتاہے ،میرے جیسے کسی شخص کو یہ کہنے کا یارا نہ رہے کہ مجھے یہ تصویریں سونے نہیں دیتیں۔لیکن میں سوچ سوچ کر تھک گیاہوں میرے پاس کسی دکھ کا مداوا نہیں۔ جی چاہتاہے اپنا گریبان چاک کرکے دور کہیں دور چلا جائوں۔جہاں میرے خوابوںمیرے خیالوں میں بھی یہ تصویریں نہ آسکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین