وجود

... loading ...

وجود

پاکستان ، افغانستان نے باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنالیا، افغان صدارتی نمائندہ

پیر 08 مارچ 2021 پاکستان ، افغانستان نے باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنالیا، افغان صدارتی نمائندہ

پاکستان کیلئے افغانستان کے صدر کے نمائندہ خصوصی عمر دائود زئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے امن عمل پر باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنایا ہے جس کی سربراہی دونوں ممالک کے خصوصی نمائندے کر رہے ہیں ، انہوںنے پاکستانی فوجی ترجمان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا پاکستان افغانستان میں طالبان کے دوبارہ کنٹرول کی حمایت نہیں کرتا اور یہ کہ افغانستان کا موجودہ ریاستی ڈھانچہ آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا ،امید ہے افغان صدر اشرف غنی رمضان سے پہلے پاکستان کا دورہ کرینگے ۔یاد رہے کہ 19نومبر کو وزیر اعظم عمران خان کے دورہ افغانستان کے دور ان جاری کئے گئے ایک مشترکہ اعلان میں دونوں گروپس بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا ، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں امن عمل سے متعلق باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیاگیا ہے اس سے پہلے پاکستان امریکہ اور طالبان کے ساتھ امن عمل سے متعلق مذاکرات کیا کرتا تھا ۔این این آئی کے ساتھ اسلام آباد میں ایک خصوصی انٹرویومیں دائود زئی نے کہاکہ امن عمل کے علاوہ دونوں نے سکیورٹی معاملات میں تعاون کیلئے بھی ایک گروپ تشکیل دیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ امن عمل پر مشترکہ گروپ کی پہلی میٹنگ چند دن پہلے اسلام آباد میں ہوئی تھی جس میں پاکستانی حکام نے افغانستان میں جنگ بندی سے متعلق اپنے کر دار کی مکمل یقین کرائی تھی ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے 19نومبر کو ہونے والے دورہ افغانستان کو دونوں ممالک نے ایک تاریخی دورہ قرار دیا تھا جس میں ماضی کی نسبت بات چیت واضح اور مختلف ہے اس دورے میں عمران خان نے افغان صدر ، ان کی ٹیم اور افغانوں سے کہا کہ افغانستان میں جنگ اور افغانوں کا قتل عام اور مشکلات سے ان کو بہت تکلیف پہنچی ہے اور یہ جنگ ختم ہو نی چاہیے اور پائیدار امن آنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان نے جوپاکستان سے توقعات وابستہ کی ہیں پاکستان ان سے زیادہ کریگا اور افغان رہنما بتائے کہ پاکستان کیا کرسکتا ہے ؟۔ دائودزئی نے کہاکہ اس کے بعد کئی پیغامات کا تبادلہ ہوا اور وزرائے خارجہ کی سطح پرمذاکرات کی تجویز آئی ،پھر دونوں وزرائے خارجہ اس پر متفق ہوگئے کہ نمائندہ خصوصی کی سطح پر مذاکرات ہوں اور ایک گروپ آپس میں بیٹھ جائے اور افغانستان اپنے مطالبات کی ایک لسٹ پاکستان کے حوالے کرے اور میرا دورہ اس مقصد کیلئے تھا بالخصوص امن پر توجہ تھی اور اس سلسلے میں ہم نے اپنی تجاویز کی لسٹ پاکستان کے حوالے کر دی ۔انہوںنے کہاکہ لسٹ میں دو اہم مطالبات ہیں جس میں ہم نے افغانستان میں جنگ بند کر نے کا مطالبہ کیااور پاکستان کو اپنا اثرورسوخ استعمال کر نے کی درخواست کی ہے کہ طالبان کو بغیر کسی رکاوٹ کے مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں اس سوال پر کیا پاکستان طالبان کو قائل کر سکتے ہیں جس طرح افغانستان چاہتا ہے تو دائود زئی نے کہاکہ اگر پاکستان طالبان پر کنٹرول کی بات نہیں کرتا اور اثرورسوخ رکھتا ہے تو ہم کہتے ہیں یہ بھی ٹھیک ہے اور اپنے اثرورسوخ سے فائدہ اٹھا کر طالبان کو قائل کرے ۔اس سوال پر کہ جنگ بندی سے متعلق ان کی پاکستان سے کیا توقعات ہیں تو افغان صدارتی نمائندے نے بتایاکہ وزیر اعظم کے دورہ کابل میں صدر اشرف غنی نے ان سے جنگ بندی میں تعاون کی درخواست کی تھی ۔انہوںنے کہاکہ جب طالبان کے قطر دفتر کے سربراہ ملا برادر نے پاکستان کا دورہ کر نا تھا تو عمران خان نے طالبان کے ساتھ ملاقات سے پہلے صدر غنی کو فون پر یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جنگ بندی کا معاملہ شدومد سے طالبان کے ساتھ اٹھائیں گے اور اگرطالبان نے نرمی دکھائی تو وہ اجلاس ہی سے صدر غنی کو فون کر کے اس کی اطلاع دینگے لیکن جب فون نہیں گیا تو کابل میں یہ یقین پیدا ہوگیا کہ طالبان نے اپنے موقف میں لچک نہیں دکھائی ۔دائود زئی نے کہاکہ انہوںنے پاکستان کو تجویز دی تھی کہ تشدد میں کمی کی اصطلاح استعمال کے بجائے پاکستانی رہنما سرکاری بیانات میں جنگ بندی کا واضح طورپر مطالبہ کریں جس پر پاکستان نے ان سے اتفاق کیا ۔دائود زئی نے پاکستانی فوج ترجمان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوںنے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے دوبارہ کنٹرول کا حامی نہیں ہے ، افغان صدارتی نمائندے کے مطابق یہ بیان مثبت پیشرفت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں یہ محسوس ہورہاہے کہ افغانستان تبدیل ہو چکا ہے اور یہ 90کی دہائی والا افغانستان نہیں اور پاکستانی فوجی ترجمان نے یہ بیان حالات کا جائزہ لیکر دیا ہوگا ۔دائود زئی کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ نہ طالبان اور نہ افغان فورسز لڑائی میں جیت سکتے ہیں لہذا مذاکرات اور امن ہی مسئلے کا واحد راستہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ کابل کے دور ان دونوں ممالک امن عمل اور سکیورٹی کے معاملات پر دو مشترکہ گروپس بنانے پر متفق ہوگئے تھے انہوںنے تسلیم کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی بحالی میں کافی پیشرفت ہوئی ہے ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ انہیں امید ہے کہ صدر اشرف غنی رمضان سے پہلے پاکستان کا دورہ کرینگے ۔


متعلقہ خبریں


قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

مضامین
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار وجود هفته 24 جنوری 2026
سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر